Home
Image

چئیرمین نیپرا (NEPRA) اسلام آباد کے نام کھلے خط میں آئی پی پیز کے حوالے سے اٹھائے گئے 13 سوالات

1- جب قومی گرڈ، اضافی بجلی تقسیم کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا تھا تو ضرورت سے زیادہ پاور پلانٹس کیوں لگائے گئے، اور ان کی کیپیسٹی ادائیگیاں اب عوام کیوں دیں؟

2- پاور معاہدوں میں ڈالر انڈیکسیشن کیوں دی گئی، اور کرنسی کی قدر میں کمی کا خمیازہ سرمایہ کاروں کی بجائے عوام کیوں بھگتیں؟

3- کیا حکومتی ضمانتوں (Sovereign Guarantees)، ڈالر انڈیکسیشن اور کیپیسٹی پیمنٹس جیسی گارنٹیوں کے بعد بھی آئی پی پیز کو دیے جانے والے 15 سے 18 فیصد ‘ڈالر انڈیکسڈ ریٹرن آن ایکویٹی (ROE) کا جواز کیا ہے؟ کیا یہ ان کے رسک پروفائل سے مطابقت رکھتا ہے کہ جہاں سرمایہ کار کا کاروباری خسارہ رہا ہی نہیں ہو؟ کیا یہ ملکی معیشت اور صارفین کی سکت کے مطابق ہے؟

4- ایندھن کی قیمت میں اضافہ مکمل طور پر صارفین پر منتقل کرنا کس حد تک منصفانہ ہے، جبکہ بجلی کے پیداواری معاہدوں میں Risk Sharing کا اصول سرمایہ کار اور ریاست دونوں پر لاگو ہونا چاہیے تھا؟

5- کم استعمال کے باوجود پاور پلانٹس کو بھاری کیپیسٹی پیمنٹس کی ادائیگیوں کا قانونی اور اخلاقی جواز کیا ہے، اور کیا یہ فیصلے عوامی مفاد اور ملک کی حقیقی توانائی ضروریات کے مطابق تھے؟

6- پاکستان کے پاور سیکٹر میں ‘ایگریگیٹ ٹیکنیکل اینڈ کمرشل (ATC) لاسز کو ٹیرف کا حصہ بنانے کی قانونی حیثیت کیا ہے؟ کیا یہ ‘کاسٹ آف سروس’ کے بنیادی اصول کی خلاف ورزی نہیں ہے کہ ریاست اپنی انتظامی ناکامی اور بجلی چوری کا بوجھ ایک ایسے شہری پر ڈالے جو اپنے حصے کا بل ایمانداری سے ادا کر رہا ہے؟

7- کیا موجودہ کمرشل قوانین اور انٹرنیشنل انویسٹمنٹ فریم ورک میں ایسی کوئی قانونی گنجائش یا ‘ایگزیٹ کلاز’ موجود ہے کہ وسیع تر قومی مفاد کی خاطر ان پاور معاہدوں کی مالی تفصیلات کو پبلک کر کے پارلیمانی اور عوامی آڈٹ کے لیے پیش کیا جا سکے؟

8- ٹیرف اور لائسنسنگ کے فیصلوں میں NEPRA ریگولیٹری اتھارٹی اور حکومتی پالیسیوں کے درمیان توازن کیسے برقرار رکھتا ہے، اور ایسی کون سی مثالیں ہیں جہاں NEPRA نے عوامی مفاد کی خاطر حکومتی دباؤ کو مسترد کیا ہو؟

9- آئی پی پیز کے خلاف نیب (NAB) کی تحقیقات اور ماضی میں ہونے والے سیٹلمنٹ معاہدوں (Settlement Agreements) کے نتیجے میں کتنی ریکوری ممکن ہوئی، اور کیا ان تحقیقات کے ثمرات NEPRA نے ٹیرف میں کمی کی صورت میں عوام تک منتقل کیے ہیں؟

10- جب نیٹ میٹرنگ کے ذریعے عوام اپنی جیب سے سولر بجلی پیدا کر کے سسٹم کو دے رہے ہیں، تو اس پالیسی کو Discourage کرنے کا کیا جواز ہے، خصوصاً جب نیشنل گرڈ لوڈ شیڈنگ ختم کرنے میں اب بھی ناکام ہے؟

11- بجلی کے نرخ میں اضافے کی منظوری دیتے وقت نیپرا کس ‘معاشی ماڈل’ کے تحت صارفین کی قوتِ خرید کا اندازہ لگاتا ہے، اور کیا کبھی کسی اضافے کو صرف اس بنیاد پر مسترد کیا گیا کہ عوام اسے ادا کرنے کی سکت نہیں رکھتے؟

12- عوامی سماعتوں (Public Hearings) میں موصول ہونے والی آراء و تجاویز کو ریگولیٹری فیصلوں کا حصہ بنانے کے لیے NEPRA کے پاس کیا طریقہ کار ہے، اور ان کی ‘کامیابی کی شرح’ کیا ہے؟

13- کیا وجہ ہے کہ پاکستان کے پاور سیکٹر سے متعلقہ قانونی تنازعات جب بین الاقوامی فورمز (جیسے لندن کورٹ آف انٹرنیشنل آرٹریشن) پر گئے، تو وہاں آئی پی پیز کے حق میں فیصلے ہوئے اور ریاستِ پاکستان کو ناکامی کا سامنا کرنا پڑا؟

🔲 عوامی تحقیقاتی سلسلہ | قسط 24
موضوع: پاکستان کا بجلی کا نظام کیسے ٹھیک ہو گا؟]
[چئیرمین نیپرا کے نام کھلا خط]

🔺 جب ادارے حقائق کی فراہمی سے گریزاں ہوں تو پھر سچ تک پہنچنا عوام کی ذمہ داری ہے۔

محترم وسیم مختار چیئرمین نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (NEPRA) اسلام آباد،

السلام علیکم

یہ خط کسی ایک فرد کی ذاتی رائے نہیں بلکہ اُن لاکھوں کروڑوں بجلی صارفین کے احساسات اور سوالات کی نمائندگی کرتا ہے جو ہر ماہ بڑھتے ہوئے بجلی کے بلوں، ان کے پیچیدہ ٹیرف، آئی پی پیز کے غیر شفاف معاہدوں، اور حکومتی پالیسی کے باعث مسلسل معاشی دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔ یہ ایک سنجیدہ عوامی مسئلہ ہے جس کے اثرات گھریلو زندگی سے لے کر کاروباری و صنعتی سرگرمیوں تک واضح طور پر محسوس کیے جا رہے ہیں۔
یہ سوالات عرصہ دراز سے پاور سیکٹر، خصوصاً آئی پی پیز، پر تحقیق کرنے والے تھنک ٹینک کے پلیٹ فارم SyedShayan.com کے تحت مرتب کیے گئے ہیں، جس کا مقصد ایک ذمہ دارانہ، تحقیق کے ذریعے عوام کو اصل صورتحال سے آگاہ اور باخبر رکھنا ہے۔

نیپرا ایکٹ کے تحت اتھارٹی پر شفافیت، غیر جانبداری، اور صارفین کے مفاد کے تحفظ کی واضح ذمہ داری عائد ہوتی ہے، اس لیے یہ خط ایک سنجیدہ عوامی سوال نامہ ہے جس پر وضاحت دینا ناگزیر ہے۔

ہم مؤدبانہ طور پر گزارش کرتے ہیں کہ پیش کیے گئے ان سوالات کے جوابات تحریری اور قانونی حوالوں کے ساتھ، نیپرا کی ویب سائٹ پر جاری کیے جائیں، یا سول سوسائٹی کے نمائندگان، ماہرین، اور متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کی موجودگی میں ایک کھلی عوامی نشست (Public Hearing) کے ذریعے فراہم کیے جائیں، تاکہ آئینِ پاکستان کے تحت شہریوں کے ‘حقِ معلومات’ (Right to Information) کی فراہمی کو یقینی بنایا جا سکے۔

اب ہم اپنے 13 سوالات آپ کے سامنے رکھ رہے ہیں۔ ہمیں معلوم ہے کہ آپ ایک پیشہ ور انجینئر ہیں اور آپ نے اپنی پیشہ ورانہ زندگی محنت اور ذمہ داری کے ساتھ گزاری ہے۔ آپ کے تجربے اور شعبۂ توانائی میں آپ کی طویل وابستگی کے پیش نظر یہ توقع کی جاتی ہے کہ آپ عوامی اہمیت کے ان سوالات کا مدلل اور تحریری جواب دیں گے۔ ہمارا مقصد ان سوالات پر شفاف وضاحت حاصل کرنا ہے جو براہِ راست بجلی کے صارفین، قومی خزانے، اور پاور سیکٹر کی ساکھ سے متعلق ہیں۔

ہمیں یہ بھی اندازہ ہے کہ پاور سیکٹر کے برسوں پرانے مسائل، غلط فیصلوں اور کمزور پالیسیوں کا ایک بھاری بوجھ آپ کو ورثے میں ملا ہے۔ لیکن اسی منصب کا تقاضا ہے کہ عوام کے ان 13 بنیادی سوالات کا واضح جواب دیا جائے۔

️ پہلا سوال:

1)کیپیسٹی پیمنٹس، اضافی صلاحیت، اور گرڈ کی حد (Capacity Payments System Constraint)

کیا یہ حقیقت ہے کہ ملک میں بجلی کی اوسط طلب عموماً 15 سے 18 ہزار میگاواٹ کے درمیان رہتی ہے، جبکہ نصب شدہ پیداواری صلاحیت (Installed Capacity) تقریباً 45 ہزار میگاواٹ تک پہنچ چکی ہے؟ اگر ایسا ہے، تو اس قدر وسیع سرپلس صلاحیت کی منصوبہ بندی کن بنیادوں پر کی گئی؟ نیز، ایسے پاور پلانٹس کی منظوری کیوں دی گئی جن کی بجلی منتقل کرنے کے لیے قومی گرڈ سسٹم میں سرے سے گنجائش ہی موجود نہیں تھی؟ کیا ٹرانسمیشن سسٹم کی حدود (Constraints) کے باعث پیدا نہ ہونے والی بجلی کا مالی بوجھ کیپیسٹی پیمنٹس کی صورت میں عوام پر منتقل کرنا ایک منصفانہ ریگولیٹری پالیسی ہے؟

براہِ کرم درج ذیل نکات پر وضاحت کی جائے۔

ملک کی حقیقی اوسط طلب (Average Demand) اور بلند ترین طلب (Peak Demand) کے مستند اعداد و شمار کیا ہیں؟

موجودہ کل نصب شدہ پیداواری صلاحیت کے مقابلے میں قومی گرڈ کی عملی ترسیلی حد (Transmission Capacity) کتنی ہے؟

سسٹم کی تکنیکی حدود یا طلب میں کمی کے باعث سالانہ کتنی پیداواری صلاحیت زیرِ استعمال نہیں آپاتی؟

اس اضافی صلاحیت اور ترسیلی نظام کی بدانتظامی کا بوجھ فی یونٹ ٹیرف پر کتنا پڑتا ہے؟

کیا نیپرا نے کبھی ان منصوبہ سازوں یا اداروں کا احتساب کیا جنہوں نے سسٹم کی صلاحیت دیکھے بغیر ان معاہدوں کی توثیق کی؟

️ دوسرا سوال:

2) ڈالر انڈیکسیشن، معاہدوں کی شرائط اور حالیہ ترامیم

‏ (Dollar Indexation, Contract Basis Recent Review)

کیا یہ حقیقت ہے کہ متعدد پاور پرچیز ایگریمنٹس (PPAs) میں منافع، قرض کی واپسی اور آپریشنل اخراجات (OM) کو ڈالر کی قدر سے منسلک (Dollar Indexed) کیا گیا؟ اگر ہاں، تو اس کی حتمی منظوری کس پاور پالیسی اور نیپرا کے کس ریگولیٹری فریم ورک کے تحت دی گئی؟ نیز، کیا ایک خودمختار ریگولیٹر کے طور پر نیپرا نے ان شرائط کی منظوری دیتے وقت ملکی کرنسی کی قدر میں کمی اور صارفین کی سکتِ خرید کے تناسب کا جائزہ لیا تھا؟

براہِ کرم درج ذیل نکات پر وضاحت کی جائے۔

ڈالر انڈیکسیشن کی اصل منظوری کس پالیسی یا ریگولیٹری فریم ورک کے تحت دی گئی اور اس وقت کرنسی رسک (Currency Risk) کا امپیکٹ اسیسمنٹ کیوں نہیں کیا گیا؟

گزشتہ 25 برسوں میں صرف ڈالر انڈیکسیشن کی شق کی وجہ سے صارفین پر مجموعی طور پر کتنا اضافی مالی بوجھ پڑا؟

مجموعی طور پر کتنے پاور معاہدے اب بھی مکمل یا جزوی طور پر ڈالر انڈیکسیشن کے حامل ہیں؟

حالیہ مذاکرات میں کن آئی پی پیز کے معاہدوں سے ڈالر انڈیکسیشن ختم، کم یا تبدیل کی گئی ہے اور اس تبدیلی کے لیے نیا فارمولا کس اصول کے تحت وضع کیا گیا ہے؟

اس حالیہ نظرثانی کے نتیجے میں صارفین کو فی یونٹ یا سالانہ بنیاد پر کتنا حقیقی ریلیف ملے گا؟

کیا نیپرا، سی پی پی اے جی (CPPA-G) یا پاور ڈویژن اس پورے عمل کی کیلکولیشنز، قانونی بنیاد اور امپیکٹ اسیسمنٹ رپورٹ عوامی سطح پر جاری کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں؟

️ تیسرا سوال:

3) ریٹرن آن ایکویٹی (ROE) اور منافع کی ضمانت (Return on Equity & Guaranteed Returns)

کیا حکومتی ضمانتوں (Sovereign Guarantees)، ڈالر انڈیکسیشن اور کیپیسٹی پیمنٹس جیسی مکمل گارنٹیوں کی موجودگی میں، آئی پی پیز کو 15 سے 18 فیصد (اور بعض صورتوں میں 30 فیصد تک) ‘ڈالر منسلک’ ریٹرن آن ایکویٹی (ROE) دینے کا کوئی جواز موجود ہے؟

کیا یہ شرحِ منافع ان منصوبوں کے ‘رسک پروفائل’ سے مطابقت رکھتی ہے جہاں سرمایہ کار کا کاروباری خسارہ گارینٹڈ ختم ہو چکا ہو، اور ویسے بھی کیا یہ ملکی معیشت و صارفین کی سکتِ خرید کے مطابق ہے؟

براہِ کرم درج ذیل نکات پر وضاحت کی جائے۔

مختلف پاور پالیسیوں کے تحت منظور شدہ ROE کا عالمی معیار (Benchmark) کیا تھا؟

کیا نیپرا نے ‘ونڈ فال پرافٹس’ (Windfall Profits) یا حد سے زائد منافع کا کبھی کوئی باضابطہ ‘سو موٹو’ جائزہ، آڈٹ یا فرانزک اسیسمنٹ کیا؟

اگر ایسا کوئی جائزہ لیا گیا، تو اس کے نتیجے میں اب تک کتنی ریکوری، ایڈجسٹمنٹ یا ٹیرف میں کمی کی گئی؟

کیا مستقبل میں ROE کو حقیقی رسک، پاس تھرو پروٹیکشنز اور ملکی معاشی حالات کے ساتھ منسلک کرنے کا کوئی واضح پالیسی فریم ورک موجود ہے؟

️ چوتھا سوال:

4) ایندھن کی قیمت کا بوجھ اور عوامی مفاد

‏(Fuel Cost Pass Through & Risk Allocation)

کیا موجودہ ٹیرف کا نظام اس اصول پر مبنی ہے کہ ایندھن (Fuel) کی قیمت میں ہونے والا ہر اضافہ براہِ راست صارفین سے وصول کیا جائے، جبکہ بجلی بنانے والی کمپنیوں کے لیے کوئی مالی خطرہ موجود نہ ہو؟ عالمی سطح پر کمپنیوں کو کارکردگی بہتر بنانے کے سخت اہداف دیے جاتے ہیں، مگر پاکستان میں فیول کاسٹ ایڈجسٹمنٹ (FCA) کے نام پر بدانتظامی اور ایندھن کے بڑھتے ہوئے اخراجات کا سارا بوجھ عوام پر ڈالنے کا کیا جواز ہے؟

براہِ کرم درج ذیل نکات پر وضاحت کی جائے۔

فیول ایڈجسٹمنٹ کے نام پر کون کون سے اخراجات صارفین سے وصول کرنے کی اجازت ہے اور اس کی قانونی حد کیا ہے؟

کمپنیوں کی جانب سے بتائے گئے ایندھن کے اخراجات اور ان کی خریداری کے عمل کو پرکھنے کا ریگولیٹری طریقہ کار کیا ہے؟

کیا کمپنیوں کے لیے ہیٹ ریٹ (Heat Rate) کے ایسے پکے اہداف مقرر ہیں کہ اگر پلانٹ ایندھن ضائع کرے تو اس کا مالی نقصان کمپنی خود اٹھائے؟

اگر ایندھن سستا خریدا جائے یا بہتر انتظام سے بچت ہو، تو کیا اس کا فائدہ براہِ راست صارفین کو ٹیرف میں کمی کی صورت میں منتقل کیا جاتا ہے؟

پرانی تاریخوں سے لاگو ہونے والے (Retrospective) یا متنازعہ اخراجات کے خلاف ایک عام شہری کو کیا قانونی تحفظ حاصل ہے؟

️ پانچواں سوال:

5) پلانٹ کارکردگی اور انڈر یوٹیلائزیشن

‏ (Plant Efficiency & Under Utilisation)

کیا نیپرا کے ریکارڈ میں ایسے پاور پلانٹس موجود ہیں جو کم کارکردگی (Efficiency) اور کم استعمال (Utilisation) کے باوجود مکمل کیپیسٹی پیمنٹس وصول کر رہے ہیں؟ جب نیپرا کی اپنی رپورٹس ڈیسپیچ ایفیشنسی میں نقائص کی نشاندہی کر رہی ہیں، تو ان منصوبوں کو کس بنیاد پر ادائیگیاں ملتی رہیں اور اب تک کن پلانٹس کے خلاف پینل ایکشن (Penal Action) یا ڈس الاؤنس (Disallowance) کیا گیا؟

براہِ کرم درج ذیل نکات پر وضاحت کی جائے۔

ہر پلانٹ کے لیے مقرر کردہ ایفیشنسی بینچ مارکس (Efficiency Benchmarks) کیا ہیں اور ان کا موازنہ اصل کارکردگی سے کیسے کیا جاتا ہے؟

پلانٹس کے اصل استعمال (Actual Utilisation) اور ان کی جانب سے ظاہر کردہ دستیابی (Declared Availability) کا تقابلی ریکارڈ کیا ہے؟

غیر معمولی بندش (Outages) یا کم استعمال پر اب تک کون سی سزائیں (Penalties) یا منفی مشاہدات (Adverse Findings) جاری کیے گئے؟

کم کارکردگی والے پلانٹس کے ٹیرف پر نظرثانی (Review Proceedings) کے لیے اب تک کیا عملی اقدامات کیے گئے ہیں؟

کیا نیپرا اس بات کی ضمانت دے سکتا ہے کہ صارفین کسی ایسے پلانٹ کی نااہلی کا بوجھ نہیں اٹھا رہے جو سسٹم کی ضرورت کے مطابق بجلی پیدا کرنے میں ناکام ہے؟

️ چھٹا سوال:

6) لائن لاسز اور انتظامی ناکامی (ATC Losses Regulatory Legality)

پاکستان کے پاور سیکٹر میں ایگریگیٹ ٹیکنیکل اینڈ کمرشل (ATC) لاسز کو ٹیرف کا حصہ بنانے کی قانونی حیثیت کیا ہے؟ کیا یہ کاسٹ آف سروس (Cost of Service) کے بنیادی اصول کی خلاف ورزی نہیں ہے کہ ریاست اپنی انتظامی ناکامی اور بجلی چوری کا بوجھ ایک ایسے شہری پر ڈالے جو اپنے حصے کا بل ایمانداری سے ادا کر رہا ہے؟ کیا نیپرا کے پاس ایسا کوئی قانونی یا اخلاقی جواز موجود ہے جس کے تحت نااہلی کی قیمت کو سروس کی قیمت قرار دیا جائے؟

براہِ کرم درج ذیل نکات پر وضاحت کی جائے۔

منظور شدہ ٹیکنیکل لاسز اور کمرشل لاسز (بجلی چوری و عدم ادائیگی) کے درمیان تفریق کا طریقہ کار کیا ہے؟

گزشتہ مالی سال کے دوران مجموعی ATC لاسز کی مالی مالیت کتنی رہی اور اس کا کتنا فیصد حصہ ایماندار صارفین کے ٹیرف میں شامل کیا گیا؟

کیا نیپرا نے کاسٹ آف سروس کے اصول کے تحت کبھی اس بات کا جائزہ لیا کہ ایک صارف کو صرف اسی بجلی کی قیمت ادا کرنی چاہیے جو اس نے استعمال کی، نہ کہ اس کی جو چوری ہوئی؟

جن ڈسکوز میں ATC لاسز مقررہ حد سے زیادہ ہیں، ان کی انتظامیہ کے خلاف اب تک کیا پینل ایکشن لیا گیا؟کیا مستقبل میں ٹیرف کو ریکوری ریٹ (Recovery Rate) کے بجائے صرف ٹیکنیکل لاسز سے منسلک کرنے کا کوئی فریم ورک زیرِ غور ہے؟

️ ساتواں سوال:

7) معاہدوں کی شفافیت (Contract Transparency)

کیا آئی پی پیز اور خریدار اداروں کے درمیان ہونے والے معاہدے (PPAs) عوام کے لیے جاری کیے جا سکتے ہیں ؟ تاکہ مالی ذمہ داریوں، شرحِ منافع اور ضمانتوں کی شرائط واضح ہو سکیں؟ جب ان معاہدوں کی ادائیگیاں براہِ راست عوامی پیسے اور صارفین کے بلوں سے کی جاتی ہیں، تو ان کے بنیادی نکات کو تجارتی رازداری کے نام پر چھپانے کا قانونی جواز کیا ہے، اور کیا یہ معلومات تک رسائی کے قانون 2017 کی روح کے منافی نہیں؟

براہِ کرم درج ذیل نکات پر وضاحت کی جائے۔

آئی پی پی معاہدوں کے کون سے حصے عوامی مفاد میں فوری طور پر جاری کیے جا سکتے ہیں؟

ان معاہدوں کو مکمل طور پر منظرِ عام پر لانے سے روکنے کی اصل قانونی اور پالیسی بنیاد کیا ہے؟

کیا ان معاہدوں کے جزوی ورژن (Redacted Versions) جاری کیے جا سکتے ہیں جن میں صرف حساس تجارتی رازوں کو حذف کیا گیا ہو؟

کیا نیپرا اس حوالے سے کوئی ایسا پبلک انفارمیشن سسٹم متعارف کرائے گا جہاں ہر پلانٹ کے معاہدے کی کلیدی شرائط عوام کے لیے دستیاب ہوں؟

کیا ریگولیٹر کے طور پر نیپرا یہ تسلیم کرتا ہے کہ شفافیت کی کمی ہی پاور سیکٹر میں بے ضابطگیوں اور عوامی بے یقینی کی بنیادی وجہ ہے؟

️ آٹھواں سوال:

ریگولیٹری خودمختاری

‏ (Regulatory Independence)

کیا نیپرا ٹیرف کا تعین، لائسنسنگ، اور دیگر ریگولیٹری فیصلے مکمل خودمختاری کے ساتھ کرتا ہے، یا دیگر اداروں کا انتظامی دباؤ اس کی آزادی کو متاثر کرتا ہے؟ نیپرا ایکٹ کے اصول غیر جانبداری اور شفافیت پر مبنی ہیں، اس لیے یہ سوال بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔
<br>
کیا یہ بھی واضح کیا جا سکتا ہے کہ ایسے معاملات میں جہاں حکومتی پالیسی اور ریگولیٹری فیصلے ایک دوسرے سے جڑے ہوں، وہاں نیپرا کی خودمختاری کس حد تک برقرار رہتی ہے، اور کیا اس کا کوئی واضح طریقہ کار موجود ہے؟

براہِ کرم درج ذیل نکات پر وضاحت کی جائے۔

ٹیرف کے تعین میں نیپرا اور حکومت کا الگ الگ دائرہ اختیار کیا ہے؟

پالیسی ہدایات اور ریگولیٹری فیصلوں میں بنیادی فرق کیا ہے؟

اگر کسی فیصلے پر بیرونی دباؤ ہو تو اس کے تدارک کے لیے institutional check کیا ہے؟

کیا اس موضوع پر کوئی واضح عوامی طریقہ کار یا معلومات کا کوئی نظام موجود ہے؟

️ نواں سوال:

9) تحقیقات، جوابدہی، اور معاہدوں کی منسوخی (Accountability, Recovery & Termination)

بعض آئی پی پیز یا پاور معاہدوں کے بارے میں قومی احتساب بیورو (NAB)، سرکاری کمیٹیوں، یا دیگر تحقیقات میں غیر معمولی منافع، capacity charges، یا operation and maintenance اخراجات پر اعتراضات سامنے آئے تھے، اور اسی تسلسل میں حالیہ دنوں میں 5 آئی پی پیز کے معاہدوں کو قبل از وقت ختم کرنے کا اعلان بھی کیا گیا ہے۔ عوام کے سامنے ان تمام اقدامات کے عملی نتائج اور حساب کتاب بھی آنا چاہیے۔

براہِ کرم درج ذیل نکات پر وضاحت کی جائے۔

تحقیقات میں نشاندہی کیا گیا مجموعی مالی نقصان (questioned amount) کتنا تھا اور اس میں سے اب تک کتنی رقم recover، adjust، یا waive ہوئی؟

پچھلے دنوں 5 آئی پی پیز کے معاہدے ختم ہونے سے ہونے والی سالانہ بچت کا تخمینہ کتنا ہے، اور اس بچت کو اب تک صارفین کے ٹیرف میں کمی کے لیے کیوں استعمال نہیں کیا گیا؟

ان پلانٹس کو فارغ کرنے کے عوض ریاست نے کتنے بقایا جات (payables) ادا کیے، اور کیا ان معاہدوں میں نظرثانی (review) کے بعد کسی رقم کی کٹوتی کی گئی؟

باقی ماندہ آئی پی پیز کے ساتھ جاری مذاکرات یا بقایا رقوم کی واپسی کی ٹائم لائن کیا ہے، اور کیا ان تمام سیٹلمنٹ معاہدوں کو عوامی آڈٹ کے لیے پیش کیا جائے گا؟

️ دسواں سوال:

10) سولر / نیٹ میٹرنگ پالیسی

‏(Solar / Net Metering Policy)

کیا یہ درست ہے کہ حالیہ سولر ریگولیشنز اور نیٹ میٹرنگ / نیٹ بلنگ تبدیلیوں سے نئے صارفین کے لیے شرائط سخت ہوئیں، جبکہ پرانے صارفین کے لیے پہلے معاہدے اور پالیسی تحفظ برقرار رکھا گیا؟ 2026 کی رپورٹس کے مطابق پرانے صارفین کے معاہدے برقرار رکھے گئے، نیٹ میٹرنگ سے نیٹ بلنگ کی طرف پیش رفت ہوئی، اور نئے قواعد فوری اطلاق کے ساتھ نافذ کیے گئے، اس لیے اس تبدیلی کا مکمل جواز عوام کے سامنے آنا چاہیے۔

براہِ کرم درج ذیل نکات پر وضاحت کی جائے۔

پرانے اور نئے سولر صارفین کے لیے الگ قواعد کیوں رکھے گئے؟

نئی پالیسی کا معاشی اور ریگولیٹری جواز کیا ہے؟

اس سے گھریلو اور چھوٹے تجارتی صارفین کی سرمایہ کاری اور payback period پر کیا اثر پڑے گا؟

کیا اس تبدیلی سے distributed solar adoption کی رفتار متاثر ہوگی؟

کیا نیپرا نے اس کے سماجی و معاشی اثرات کا باضابطہ مطالعہ کیا ہے؟

️ گیارہواں سوال:

11) بجلی کے نرخوں میں اضافے کے عوامی و معاشی اثرات (Tariff Impact on Economy)

کیا نیپرا ہر بڑے tariff increase سے پہلے یا بعد میں یہ جائزہ لیتا ہے کہ اس کے گھریلو صارفین، چھوٹے کاروباروں، اشیائے ضروریہ کی قیمتوں، اور مجموعی مہنگائی پر کیا اثرات مرتب ہوں گے؟ ماہرین اور مختلف رپورٹس کے مطابق بجلی کی قیمتوں میں اضافہ متوسط اور کم آمدن گھرانوں، غربت، اور سماجی دباؤ پر نمایاں اثر ڈال سکتا ہے۔

براہِ کرم درج ذیل نکات پر وضاحت کی جائے۔

tariff hike کے سماجی و معاشی impact assessment کا طریقہ کیا ہے؟

low income اور middle class صارفین پر اضافی بوجھ کیسے ناپا جاتا ہے؟

کیا affordability کو نیپرا کے فیصلوں میں باقاعدہ وزن دیا جاتا ہے؟

کیا اس موضوع پر کوئی public impact report جاری کی جاتی ہے؟

️ بارہواں سوال:

12) عوامی سماعتیں، عوامی رسائی، اور صارفین کی شرکت (Public Hearings Consumer Participation)

کیا نیپرا کی عوامی سماعتیں واقعی عام صارفین، سولر صارفین، چھوٹے کاروباروں، اور متاثرہ شہریوں کے لیے مؤثر، قابلِ رسائی، اور بامعنی مشاورتی فورم ہیں؟ مختلف رپورٹس میں عوامی سماعتوں میں بدنظمی، شکایات، اور معلومات تک رسائی کے مسائل سامنے آئے ہیں، جبکہ نئے سولر قواعد پر عوامی شرکت کا سوال بھی نمایاں رہا ہے۔

براہِ کرم درج ذیل نکات پر وضاحت کی جائے۔

عوامی اعتراضات میں سے کتنے final فیصلوں میں شامل کیے جاتے ہیں؟

hearing notices، draft regulations، اور supporting material کتنے دن پہلے جاری کیے جاتے ہیں؟

عام صارف کے لیے نظرثانی (Review) یا اپیل (Appeal) کا طریقہ کار مالی اور قانونی لحاظ سے کس حد تک قابلِ رسائی ہے۔؟

کیا عوامی سماعت (Public Hearing) کے بعد اور حتمی فیصلے سے پہلے عوام کے فیڈ بیک پر مبنی کوئی Response Matrix جاری کی جاتی ہے۔؟

کیا نیپرا عوامی شرکت کو مؤثر بنانے کے لیے کوئی اصلاحات متعارف کرائے گا؟

️ تیرھواں سوال:

13) عالمی ثالثی اور قانونی تنازعات

‏(International Arbitration Legal Disputes)

کیا وجہ ہے کہ پاکستان کے پاور سیکٹر سے متعلقہ قانونی تنازعات جب بین الاقوامی فورمز (جیسے لندن کورٹ آف انٹرنیشنل آرٹریشن) پر گئے، تو وہاں آئی پی پیز کے حق میں فیصلے ہوئے اور ریاستِ پاکستان کو ناکامی کا سامنا کرنا پڑا؟

براہِ کرم درج ذیل نکات پر وضاحت کی جائے۔

کیا ان ناکامیوں کی وجہ معاہدوں

‏ (Power Purchase Agreements) کی وہ شرائط تھیں جو یکطرفہ طور پر سرمایہ کاروں کے مفاد میں لکھی گئی تھیں؟

کیا ان مقدمات کے دوران نیپرا یا متعلقہ اداروں کی جانب سے فراہم کردہ ڈیٹا اور قانونی موقف میں کوئی بنیادی نقائص موجود تھے؟

بین الاقوامی سطح پر ہونے والی ان قانونی ہزیمتوں اور بھاری جرمانوں کا ذمہ دار کسے ٹھہرایا گیا؟

کیا مستقبل کے معاہدوں میں ایسے ‘آربٹریشن کلاز’ (Arbitration Clauses) پر نظرثانی کی گئی ہے تاکہ پاکستان کے مفادات کا تحفظ مقامی عدالتوں یا زیادہ متوازن فورمز پر ممکن ہو سکے؟

محترم چیئرمین صاحب،

یہ سوالات عوامی مفاد میں اٹھائے گئے ہیں اور ان پر وضاحت وقت کی اہم ضرورت ہے۔ جب بجلی کے نرخوں، پاور معاہدوں، سولر پالیسی اور ریگولیٹری فیصلوں کا براہِ راست اثر کروڑوں شہریوں کی زندگی، روزگار اور سرمایہ کاری پر پڑ رہا ہو تو ان معاملات پر تحریری اور واضح جواب فراہم کرنا آپ کے ادارے کی ذمہ داری بن جاتا ہے۔

ہم آپ سے گزارش کرتے ہیں کہ ان تمام سوالات کے جوابات نیپرا کی ویب سائٹ پر باضابطہ طور پر شائع کیے جائیں۔ ان جوابات کے ساتھ متعلقہ اعداد و شمار، قانونی حوالہ جات اور عملدرآمد کی ٹائم لائن بھی فراہم کی جائے، تاکہ ریاستی اداروں اور عوام کے درمیان موجود بداعتمادی کی خلیج کو ختم کیا جا سکے اور قومی سطح پر شفافیت کا معیار قائم ہو۔

والسلام
سید شایان
پریزیڈنٹ / سی ای او
سید شایان ڈاٹ کام
mail@syedshayan.com
3 مئی 2026

1
Views
146
114

مزید مضامین

Image

🔳 ہماری کائنات میں اربوں ستارے بغیر کسی ‘کیپیسٹی پیمنٹ’ اور بغیر کسی ‘امپورٹڈ کول’ کے روشن ہیں، ...

(اردو)
Image

🔳 بجلی موجود ہونے کے باوجود ہمارے ملک میں جبری لوڈ شیڈنگ کی جا رہی ہے، کیونکہ ہماری بوسیدہ تاریں...

(اردو)
Image

غلام مصطفیٰ کھر، سابق وفاقی وزیرِ پانی و بجلی، جن کے دورِ وزارت میں آئی پی پیز قائم کرنے کے لیے م...

(اردو)
Image

پاکستان لندن کی عدالت میں آئی پی پیز سے کیوں ہارا ؟&nbsp;🔳 حکومتِ پاکستان بمقابلہ آئی پی پیز&nbs...

(اردو)
Image

▫️بالٹی بھاری ہے۔۔۔&nbsp;85 فیصد مفت بجلی اب بھی برقرار&nbsp;لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کے پیچھے چُ...

(اردو)