Home
Image


🔲 عوامی تحقیقاتی سلسلہ | قسط 27

موضوع: پاکستان کا بجلی کا نظام کیسے ٹھیک ہو گا؟

[وفاقی وزیر برائے انرجی پاور ڈویژن کے نام کھلا خط]


🔺 جب ادارے حقائق کی فراہمی سے گریزاں ہوں تو پھر سچ تک پہنچنا عوام کی ذمہ داری ہے۔

تحریر و تحقیق: سید شایان


محترم اویس احمد خان لغاری، وفاقی وزیر برائے انرجی پاور ڈویژن، اسلام آباد


السلام علیکم!


پچھلے دنوں (11 مئی 2026) کو لاہور یونیورسٹی آف مینجمنٹ سائنسز (LUMS) کے “لمز انرجی انسٹی ٹیوٹ” اور وزارتِ توانائی (پاور ڈویژن) کے اشتراک سے صحافیوں کے لیے پاور سیکٹر کے بنیادی معاملات پر ایک تربیتی ورکشاپ کا انعقاد کیا گیا۔ اس ورکشاپ کے دوران آپ نے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کی پاور پالیسی اور مستقبل کے حوالے سے بات کرتے ہوئے درج ذیل نو (9) اہم دعوے کیے (یا ان کے ہم معنی باتیں کہیں):


1. حکومت نے آئی پی پیز (IPPs) کے اُس نظام کو ہمیشہ کے لیے دفن کر دیا ہے جس نے ملکی معیشت کو جکڑ رکھا تھا۔

2. مستقبل میں بجلی اس قدر سستی ہو جائے گی کہ لوگ اسے دن کے وقت بیٹریوں میں محفوظ کر کے رات کو استعمال کر سکیں گے۔ اس کے لیے حکومت بیٹریوں میں توانائی محفوظ کرنے (Battery Energy Storage Systems) کی حوصلہ افزائی کرے گی۔

3. حکومت بجلی کی خریداری اور آئی پی پیز کے موجودہ کاروباری ماڈل سے باہر نکل رہی ہے۔

4. نجی کمپنیوں کو اسمارٹ میٹرز لانے کا موقع دیا جائے گا تاکہ بلنگ کا بوجھ اور مسائل کم ہو سکیں۔

5. صنعت اور زراعت کے لیے بجلی کے نرخوں میں نمایاں کمی کی جائے گی۔

6. حکومت نے مزید 10 ہزار میگا واٹ کے آئی پی پیز لگانے کا منصوبہ روک دیا ہے اور اب نئے درآمدی ایندھن والے آئی پی پیز نہیں لگائے جائیں گے۔

7. اگلے ایک سے دو سال میں توانائی کے شعبے کی کئی سرکاری تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز) کو نجی شعبے کے حوالے (پرائیویٹ) کر دیا جائے گا۔

8. خراب میٹرز کی وجہ سے بلنگ کے مسائل پیدا ہوتے ہیں، اس لیے یہ یقینی بنایا جا رہا ہے کہ کوئی بھی خراب میٹر تین ماہ سے زیادہ فعال نہ رہے تاکہ صارفین پر اضافی بوجھ نہ پڑے۔

9. آئی پی پیز کے ساتھ معاہدوں پر نظرِ ثانی کے موجودہ عمل سے اگلے 10 سے 15 سالوں کے دوران عوام اور قومی خزانے کو لگ بھگ 3.5 ٹریلین (3500 ارب) روپے کی بچت ہوگی۔


جنابِ وزیر!


حیرت تو اس بات پر ہے کہ آپ کے ان نو دعوؤں اور حکومتی اقدامات میں ایسا تضاد (Contradiction) پایا جاتا ہے جو نہ صرف حکومتی پالیسیوں کے تسلسل کو پارہ پارہ کر رہا ہے بلکہ پوری قوم کو ایک الگ فکری ہیجان میں مبتلا کر چکا ہے۔

آپ کے خطاب میں کہیں تو آئی پی پیز کی بساط الٹنے کی خوشخبری سنائی جا رہی ہے اور کہیں اسی فرسودہ سسٹم کو نئی اصطلاحات کا سہارا دے کر برقرار رکھنے کی کوشش کی جاتی محسوس ہو رہی ہے۔

آپ کی تقریر اس حقیقت کی عکاس ہے کہ آپ کی پوری ٹیم شدید ابہام اور فکری انتشار میں مبتلا ہے، جبکہ آپ کی وزارت اپنی سمت کے تعین میں مسلسل لغزشوں اور تضادات کا شکار نظر آتی ہے۔

ان صریح تضادات کو دیکھتے ہوئے، ہمارے تھنک ٹینک کی ٹیم نے یہ فیصلہ کیا کہ آپ کے ان 9 دعوؤں کے جواب میں آپ کے سامنے 9 سیدھے سیدھے سوالات رکھے جائیں۔

یہ 9 سوالات کسی سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کے لیے نہیں بلکہ پاکستان کے کروڑوں صارفین کی نمائندگی کرتے ہوئے پوچھے جا رہے ہیں، جو برسوں سے مہنگی بجلی، غلط پالیسیوں، Capacity Payments، گردشی قرضوں اور انتظامی ناکامیوں کا بوجھ اٹھا رہے ہیں۔

اگر حکومت واقعی دعوؤں کے مطابق بجلی کے نظام میں تاریخی اصلاحات کر چکی ہے، تو پھر ان سوالات کے واضح، دستاویزی اور دو ٹوک جواب دینے میں اسے کوئی رکاوٹ نہیں ہونی چاہیے۔


⭕️ سوال نمبر 1: کیا آئی پی پیز کا نظام واقعی “دفن” ہو چکا ہے؟

جنابِ وزیر! آپ نے بڑے واشگاف الفاظ میں یہ دعویٰ فرمایا کہ آئی پی پیز کا نظام ہمیشہ کے لیے دفن کر دیا گیا ہے، لیکن زمینی حقائق اس کے برعکس ہیں۔

تکنیکی لحاظ سے یہ بیان غیر سنجیدہ محسوس ہوتا ہے، کیونکہ پاکستان میں بجلی پیدا کرنے کا موجودہ نظام یل مدت کے PPAs یعنی Power Purchase Agreements پر قائم ہے، جن کی قانونی حیثیت بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ ہے۔

لیکن آپ کی بات کو اگر درست مان بھی لیا جائے کہ یہ نظام واقعی دفن ہو چکا ہے اور پرانے معاہدے ختم کر دیے گئے ہیں، تو عوام کے بجلی کے بلوں میں آج بھی ‘کپیسٹی پیمنٹس’ (Capacity Payments) کس مد میں وصول کی جا رہی ہیں؟ آپ بتائیے، کیا واقعی ان کمپنیوں کو کی جانے والی ادائیگیاں اب صفر ہو چکی ہیں؟

قوم یہ جاننا چاہتی ہے کہ کیا درحقیقت آپ کی وزارت نے پورے آئی پی پیز سسٹم کا خاتمہ کیا ہے یا محض چند کمپنیوں کے معاہدوں کی ‘ری اسٹرکچرنگ’ کر کے یہ دعویٰ خواہ مخواہ کیا جا رہا ہے۔

اور ہاں! براہِ کرم اس “تدفین” کا کوئی بھی سرکاری نوٹیفکیشن یا دستاویزی ثبوت قوم کے سامنے رکھیں تاکہ یہ واضح ہو سکے کہ عوام کا پچیس سال سے خون چوسنے والے آئی پی پیز واقعی اپنی موت آپ مر چکے ہیں۔

⭕️ سوال نمبر 2: کیا بجلی واقعتاً بہت سستی ہونے جا رہی ہے؟ سستی بجلی کی موجودگی میں پھر مہنگی بیٹریاں خریدنے کا کیا جواز رہ جاتا ہے؟


جنابِ وزیر، آپ کا یہ بیان ریکارڈ پر ہے کہ مستقبل قریب میں بجلی اتنی سستی ہو جائے گی کہ شہری دن میں بیٹریاں چارج کر کے رات کو استعمال کر سکیں گے۔


توانائی کی معاشیات (Energy Economics) کے لحاظ سے اس دعویٰ میں ایک بڑا تکنیکی تضاد ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر نیشنل گرڈ کی بجلی واقعی اتنی سستی اور وافر دستیاب ہوگی تو ایک عام صارف کو لاکھوں روپے کی مہنگی بیٹریاں خرید کر انرجی اسٹوریج کیوں کرنی پڑے گی؟ اور اگر عوام دن کے وقت سولر کے ذریعے اپنی بیٹریاں چارج کر کے گرڈ سے کٹ جائیں گے تو آپ کی اس نام نہاد “سستی بجلی” کا خریدار کون ہوگا؟


جنابِ وزیر! آپ کا یہ بیان نہ صرف ‘نیشنل انرجی روڈ میپ’ کی عدم موجودگی کا اعتراف ہے بلکہ یہ اس سے کہیں زیادہ سنگین صورتِ حال کی نشاندہی بھی کرتا ہے کہ پالیسی سازی کے اعلیٰ ترین عہدوں پر بیٹھے افراد توانائی کی بنیادی معاشیات (Energy Economics)، گرڈ مینجمنٹ اور اسٹوریج ٹیکنالوجی کی حرکیات (Dynamics) سے مکمل طور پر نابلد ہیں۔


انرجی سیکٹر کے اس بنیادی فہم سے عاری ہونا یہ ثابت کرتا ہے کہ حکومت کے پاس نظام کو ٹھیک کرنے کی نہ تو کوئی علمی صلاحیت ہے اور نہ ہی تکنیکی ادراک، بلکہ صرف وقت گزاری اور عوامی توجہ ہٹانے کے لیے ایسے متضاد اور غیر منطقی بیانات کا سہارا لیا جاتا ہے جو خود مضحکہ خیز بن چکے ہیں۔


یہ بھی وضاحت کیجیے کہ کیا حکومتِ پاکستان نے حالیہ IMF مذاکرات میں یہ یقین دہانی نہیں کروائی کہ جنوری 2027 سے بجلی کے نرخوں میں مزید اضافہ، سبسڈیز میں کمی اور Full Cost Recovery ماڈل پر مکمل عمل درآمد کیا جائے گا؟ اگر ایسا ہے، تو پھر عوام کے سامنے انتہائی سستی بجلی اور بڑے ریلیف کے دعوے کس بنیاد پر کیے جا رہے ہیں؟


‏IMF کے سامنے آپ کچھ اور کہتے ہیں اور عوام کو امید سے رکھنے کے لیے آپ کے بیانات اور ہوتے ہیں۔


کیا واقعی حکومت کے پاس کوئی ایسی تحریری پالیسی موجود ہے جو عالمی مالیاتی اداروں کے دباؤ سے آزاد ہے؟


وضاحت کیجیے کہ آئی ایم ایف (IMF) کے Full Cost Recovery ماڈل اور گردشی قرضوں کے بوجھ کے باوجود وہ کون سا ٹھوس معاشی یا تکنیکی فارمولا ہے جو IMF کی شرائط، Capacity Charges کے بوجھ اور گردشی قرضوں کے باوجود بجلی کی قیمت کو اچانک نیچے لے آئے گا؟ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ جب تک گردشی قرضہ (Circular Debt)، جو تقریباً 1,764 ارب روپے، یعنی 1.764 کھرب روپے موجود ہے، بجلی کی قیمت میں نمایاں کمی ناممکن ہے۔


اس سستی بجلی کا آغاز کس تاریخ سے متوقع ہے؟


اور اگر اس حوالے سے کوئی جامع پالیسی تیار ہے، تو اس کی مالیاتی تفصیلات (Financial Feasibility) اور رول آؤٹ پلان اب تک پبلک کیوں نہیں کیا گیا؟


یہ بھی بتائیے کہ سستی بجلی کرنے کی بنیاد کیا ہے؟ کیا یہ ریلیف IPPs کے معاہدوں پر نظرِ ثانی سے ملے گا، مکس انرجی (سولر/ونڈ) سے آئے گا، یا حکومت کسی نئے Tariff Model پر کام کر رہی ہے؟ اگر قیمت کم ہونی ہے، تو حالیہ بلوں میں مسلسل اضافہ اور نئے ٹیکسز اس دعوے کی نفی کیوں کر رہے ہیں؟

جنابِ وزیر!


ماضی میں بھی آپ نے 8 جنوری 2025 کو قومی اسمبلی کی کمیٹی میں دعویٰ کیا تھا کہ بجلی 10 سے 12 روپے فی یونٹ سستی ہونے جا رہی ہے، مگر اس کے بعد عوام نے اپنے بلوں میں مسلسل اضافے ہی دیکھے۔


کیا یہ درست نہیں کہ فروری 2026 میں فیول کاسٹ ایڈجسٹمنٹ کے تحت تقریباً 2 روپے 6 پیسے فی یونٹ اضافہ کیا گیا، پھر مارچ تا مئی سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ میں مزید تقریباً 35 پیسے، اور اس کے بعد اپریل/مئی 2026 میں دوبارہ تقریباً 26 پیسے فی یونٹ اضافہ کر دیا گیا؟ یعنی چند ہی مہینوں میں عوام پر تقریباً 2 روپے 67 پیسے فی یونٹ مزید بوجھ ڈال دیا گیا۔


اب عوام آپ کے کس بیان پر یقین کریں، تقریروں پر یا اپنے گھروں میں آنے والے بلوں پر؟


کیا یہ حقیقت نہیں کہ جون 2025 میں آپ کی وزارت نے 18 بڑے کمرشل بینکوں سے 4.5 بلین ڈالر (1275 ارب روپے) کا بھاری قرض صرف اس لیے لیا تاکہ گردشی قرضے کو وقتی سہارا دیا جا سکے اور آئی پی پیز (IPPs) کی ادائیگیاں جاری رہیں؟ اور کیا یہ بھی درست نہیں کہ اس قرض کی واپسی کے لیے تقریباً 3 روپے 23 پیسے فی یونٹ Debt Servicing Surcharge عوام کے بلوں میں شامل کر دیا گیا ہے جو 2031 تک وصول کیا جاتا رہے گا؟


آج مئی 2026 میں، جب سینیٹ کمیٹی کی تازہ ترین رپورٹس کے مطابق آئی پی پیز کی سالانہ ادائیگیاں 8 ماہ میں دوبارہ تقریباً 3400 ارب روپے تک پہنچ چکی ہیں، تو قوم آپ سے پوچھتی ہے:

1. اگلی ادائیگیوں کے لیے رقم کہاں سے آئے گی؟

2. کیا ملک مسلسل قرض لے کر چلنے والے ایک خطرناک مالیاتی ماڈل میں نہیں پھنس چکا؟

3. اگر ہر چند سال بعد نیا قرض لے کر پرانے بحران کو ڈھانپنا ہی حکمتِ عملی ہے، تو اس نظام کا مستقل حل آخر کیا ہے؟

کیا اب مزید قرض لیا جائے گا، قومی اثاثے گروی رکھے جائیں گے، یا پھر ایک بار پھر سارا بوجھ عوام کے بجلی کے بلوں میں منتقل کر دیا جائے گا؟


سوال نمبر 3: حکومتی ضمانتوں (Sovereign Guarantees) کی موجودگی میں “سنگل بائر” ماڈل سے انخلاء کیسے ممکن ہے؟


جنابِ وزیر! آپ کا یہ فرمانا کہ حکومت بجلی کی خریداری کے کاروبار سے باہر نکل رہی ہے، ایک بڑے قانونی اور مالیاتی بحران کی نشاندہی کرتا ہے۔


سوال یہ ہے کہ اگر حکومت ‘سنگل بائر’ (Single Buyer) کے ماڈل سے دستبردار ہو رہی ہے تو ماضی میں ریاستِ پاکستان کی دی گئی ضمانتوں (Sovereign Guarantees) کی بنیاد پر لگنے والے آئی پی پیز کے معاہدوں کی قانونی حیثیت کیا ہوگی؟


کیا حکومت نے CTBCM

‏Competitive Trading Bilateral Contract Market


یعنی بجلی کی خرید و فروخت کی آزاد مسابقتی مارکیٹ کا نظام عملی طور پر اتنا فعال کر دیا ہے کہ یہ نجی کمپنیاں اب ریاست کے بجائے براہِ راست صارفین کو بجلی بیچ سکیں گی؟


اگر کل کو حکومت خریدار نہیں رہتی، تو ان پرانے آئی پی پیز کو ان کے معاہدوں کے تحت اربوں روپے کی ‘کپیسٹی پیمنٹس’ کون ادا کرے گا؟


کیا یہ “انخلاء” ریاست کو عالمی عدالتوں میں دوبارہ قانونی چارہ جوئی اور ڈیفالٹ کے خطرے سے دوچار نہیں کر دے گا؟


اگر حکومت واقعی Single Buyer Model سے دستبردار ہو رہی ہے، جبکہ موجودہ IPP معاہدے Sovereign Guarantees اور Take or Pay obligations کے تحت قائم ہیں، تو ان معاہدوں کی مالی اور قانونی ذمہ داری مستقبل میں کس ادارے یا مارکیٹ participant پر منتقل ہوگی؟


⭕️ سوال نمبر 4: اسمارٹ میٹرز کی تنصیب کے لیے نجی سرمایہ کاری کا فنانشل ماڈل اور بین الاقوامی اداروں کے ساتھ طے پانے والی شرائط کیا ہیں؟


جنابِ وزیر!


آپ نے اپنی تقریر میں اسمارٹ میٹرز کی تنصیب اور ان کی افادیت کا ذکر کیا۔ ہمارے علم میں یہ بات آئی ہے کہ حکومت ورلڈ بینک کے ادارے (IFC) اور ایشیائی ترقیاتی بینک (ADB) کے ساتھ مل کر ایک کروڑ اسمارٹ میٹرز لگانے کا منصوبہ بنا رہی ہے، جس میں مقامی و غیر ملکی سرمایہ کار شامل ہوں گے۔


بنیادی سوال یہ ہے کہ جب اربوں روپے کا یہ انفراسٹرکچر نجی سرمائے سے لگے گا تو سرمایہ کار اپنا منافع اور لاگت کس سے وصول کریں گے، اور کن کمپنیوں کو اس منصوبے میں شامل کیا جا رہا ہے؟


اسمارٹ میٹرز بلاشبہ جدید نظام ہیں، مگر آئی پی پیز (IPPs) کے تلخ تجربات کے بعد عوام جاننا چاہتے ہیں کہ کہیں یہ منصوبہ بھی کسی نئے مالی بوجھ میں تو تبدیل نہیں ہو رہا۔ آپ نے خود دعویٰ کیا کہ عالمی مسابقت کے باعث تھری فیز میٹر کی قیمت 45 ہزار سے کم ہو کر 25 ہزار روپے ہو گئی جس سے 150 ارب روپے کا فائدہ ہو گا، تو پھر مکمل بزنس ماڈل، ٹینڈر، معاہدے اور ادائیگی کا طریقۂ کار عوام کے سامنے کیوں نہیں رکھا جا رہا؟ اپنا فنانشل ماڈل مطالعے کے لیے اپنی ویب سائٹ پر رکھیے اور ماہرین سے رائے طلب کیجیے۔


یہ بھی وضاحت کی جائے کہ کیا ان نجی سرمایہ کاروں کو بھی ماضی کے آئی پی پیز کی طرح فکسڈ ریٹرن یا ریاستی ضمانتیں دی جا رہی ہیں؟ کیا ان ٹھیکوں میں اوپن بڈنگ ہوئی ہے؟ اور کیا میٹرز پاکستان میں تیار ہوں گے یا درآمد کیے جائیں گے تاکہ زرمبادلہ کے اخراج سے بچا جا سکے اور مقامی صنعت کو فائدہ ہو؟


اگر نجی کمپنیاں بلنگ اور ریکوری بھی سنبھالیں گی تو کیا انہیں صارفین سے وصول ہونے والے ریونیو میں مستقل حصہ دیا جائے گا؟ اور اگر ریکوری مکمل نہ ہوئی تو اس کا نقصان حکومت اٹھائے گی، عوام اٹھائیں گے یا نجی کمپنیاں خود ذمہ دار ہوں گی؟ نیز اگر نجی نظام آتا ہے تو ڈسکوز (DISCOs) کے موجودہ عملے اور ان کے اخراجات کا کیا ہوگا؟


پرائیویٹ بلنگ کے عوض صارفین سے وصول ہونے والے ریونیو میں سے ایک خاص فیصد (Percentage) مستقل بنیادوں پر دیا جائے گا؟ اگر ریکوری 100 فیصد نہ ہوئی تو کیا اس کا نقصان حکومت یا عوام کو اٹھانا پڑے گا؟ یہ نجی سرمایہ کار کمپنی اپنی نقصان کی خود ذمہ دار ہوگی؟


⭕️ سوال نمبر 5: صنعت و زراعت کو ریلیف دینے کی صورت میں پیدا ہونے والا ریونیو شارٹ فال کون پورا کرے گا، حکومت، IMF پروگرام، یا عام گھریلو صارفین؟


جنابِ وزیر!


آپ نے زراعت اور صنعت کے لیے بجلی کے نرخوں میں کمی کا اعلان تو کیا، مگر یہ واضح نہیں کیا کہ اس ریلیف کا مالی بوجھ آخر کون اٹھائے گا؟ ایک طرف پاور سیکٹر کا گردشی قرضہ مسلسل بڑھ رہا ہے، دوسری طرف IMF کا Full Cost Recovery ماڈل حکومت سے یہ تقاضا کرتا ہے کہ بجلی کی اصل لاگت یا تو صارفین سے وصول کی جائے یا بجٹ میں شفاف طور پر دکھائی جائے۔


سوچنا یہ ہے کہ اگر صنعت اور زراعت کو سستی بجلی دی جائے گی، تو اس سے پیدا ہونے والا ریونیو شارٹ فال کس ذریعے سے پورا کیا جائے گا؟ کیا یہ بوجھ عام گھریلو صارفین پر کراس سبسڈی، نئے سرچارجز، فیول ایڈجسٹمنٹ، اضافی ٹیکسز یا مستقبل کے بجلی چارجز کی صورت میں منتقل کیا جائے گا؟


اگر ایک طبقے کو ریلیف دے کر دوسرے طبقے، خاص طور پر گھریلو اور پروٹیکٹڈ صارفین پر بوجھ ڈالا جاتا ہے، تو کیا یہ آپ کے “سستی بجلی” کے دعوے کی نفی نہیں؟ کیا حکومت کے پاس اس ریلیف کے لیے کوئی علیحدہ بجٹڈ فنڈ موجود ہے، یا صرف ایک طبقے کا بوجھ دوسرے طبقے پر منتقل کیا جا رہا ہے؟


کیا حکومت یہ ضمانت دے سکتی ہے کہ صنعتی و زرعی ریلیف کی قیمت مستقبل میں عوام کو فیول ایڈجسٹمنٹ، سرچارجز، اضافی ٹیکسز یا نئے بجلی چارجز کی صورت میں ادا نہیں کرنا پڑے گی؟


موجودہ صورتِ حال کو سمجھتے ہوئے پانچویں سوال کے تین ضمنی سوالات کے جواب بھی ناگزیر ہیں۔


سوال الف: صنعتی و زرعی ریلیف کا ریونیو شارٹ فال پورا کرنے کے لیے حکومت کے پاس بجٹ میں کتنی رقم مختص ہے؟


سوال ب: کیا نیپرا یا وزارتِ خزانہ نے اس ریلیف کا باضابطہ fiscal impact شائع کیا ہے؟


سوال ج: IMF کے Full Cost Recovery ماڈل کے تحت اگر یہ شارٹ فال بجٹ سے نہ دیا گیا تو کیا یہ خود بخود گھریلو صارفین پر منتقل نہیں ہو جائے گا؟


⭕️ سوال نمبر 6: جب ملک میں بجلی کی زائد پیداواری صلاحیت اور شدید ٹرانسمیشن رکاوٹیں پہلے سے موجود تھیں، تو مزید 10 ہزار میگاواٹ کے نئے آئی پی پیز کی منصوبہ بندی کس بنیاد پر کی گئی؟


جنابِ وزیر!

آپ نے اپنے ویڈیو لنک خطاب میں یہ بھی کہا کہ مزید 10 ہزار میگاواٹ کے نئے آئی پی پیز کے منصوبے روک دیے گئے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ جب ملک میں پہلے ہی قومی طلب سے کہیں زیادہ Installed Capacity موجود تھی،


جبکہ نیشنل گرڈ، ٹرانسمیشن اور ڈسٹریبیوشن سسٹم اس بجلی کو مؤثر طریقے سے منتقل کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا تھا، تو مزید 10 ہزار میگاواٹ لگانے کا منصوبہ آخر کس کے دماغ کی اختراع تھا؟


کس معاشی، تکنیکی یا پالیسی بنیاد پر یہ فزیبلٹی تیار کی گئی کہ ملک کو مزید مہنگے بجلی گھروں کی ضرورت ہے؟


جب مختلف ادوار کی NTDC رپورٹس اور توانائی ماہرین بارہا یہ نشاندہی کر چکے تھے کہ نیشنل گرڈ کی عملی ترسیلی صلاحیت (Evacuation Capacity) محض 22,000 سے 25,000 میگاواٹ کے درمیان محدود ہے، تو 43,000 میگاواٹ سے زائد کی موجودہ Installed Capacity کے ہوتے ہوئے مزید 10,000 میگاواٹ گرڈ میں شامل کرنے کا فیصلہ کس معاشی یا تکنیکی فزیبلٹی کے تحت کیا گیا؟


اس حوالے سے درج ذیل اہم نکات پر یہ وضاحت دیجیے کہ:


کیا ان منصوبوں کی منظوری سے قبل کوئی آزادانہ “ڈیمانڈ فورکاسٹنگ” یا Indicative Generation Capacity Expansion Plan (IGCEP) کا شفاف جائزہ لیا گیا تھا؟


اگر ہاں، تو وہ فرضی اعداد و شمار کس “تھنک ٹینک” یا ریگولیٹر نے تیار کیے تھے جنہوں نے ملکی معاشی ترقی (GDP Growth) اور بجلی کی طلب کا اتنا غیر حقیقت پسندانہ تخمینہ لگایا؟


کیا حکومت 2015 سے 2026 کے درمیان منظور ہونے والے ان تمام منصوبوں کی فزیبلٹی رپورٹس، نیپرا ٹیرف سمریاں اور پاور پرچیز ایگریمنٹس (PPAs) کو پارلیمنٹ، پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (PAC) اور عوام کے سامنے لانے کا ارادہ رکھتی ہے؟


جب اصل مسئلہ بجلی کی پیداوار (Generation) نہیں بلکہ ترسیل و تقسیم (Transmission & Distribution)، لائن لاسز اور گرڈ کی جدید کاری (Grid Modernization) تھا، تو قومی وسائل کو ٹرانسمیشن لائنوں کی بہتری کے بجائے نئے پیداواری پلانٹس پر کیوں جھونکا گیا؟


عملی طور پر حکومت موجودہ آئی پی پیز کے ساتھ معاہدوں پر نظرِثانی یا خاتمے کے ذریعے اربوں روپے بچانے کے دعوے تو کر رہی ہے، لیکن جن وزراء، وزارتِ توانائی کے حکام، نیپرا (NEPRA) یا این ٹی ڈی سی (NTDC) کے عہدیداران نے ان غیر فزیبل منصوبوں کی منظوری دے کر ریاست کو اس نئے معاشی بحران میں مبتلا کیا، ان کے خلاف اب تک کوئی فوجداری انکوائری، ایف آئی آر یا نیب/ایف آئی اے کی سطح پر کارروائی کیوں نہیں ہوئی؟ اگر نہیں، تو کیا اس کا مطلب یہ لیا جائے کہ ریاست کو ایک نئے معاشی بحران کی طرف دھکیلنے کی کوشش پر بھی کوئی ادارہ جواب دہ نہیں؟


ریاست کو مستقل مالیاتی غلامی کی طرف دھکیلنے کے اس کھیل میں سزا صرف صارف کے مقدر میں ہے، جبکہ اصل ذمہ داران کو کیا مکمل استثنیٰ حاصل ہے؟


⭕️ سوال نمبر 7: کیا نجی کمپنیاں خساروں کا شکار ڈسکوز (DISCOs) خریدنے میں واقعی دلچسپی رکھتی ہیں، اور اگر نجکاری ہی ہدف ہے تو اس سے قبل اسمارٹ میٹرز کا نجی منصوبہ لانے کی کیا منطق ہے؟


جنابِ وزیر! آپ نے فرمایا کہ اگلے ایک، دو سال میں سرکاری ڈسکوز (DISCOs) نجی شعبے کے حوالے کر دی جائیں گی۔ یہ حکومتی بیانیہ ہم کافی عرصے سے سُن رہے ہیں، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا کوئی بھی باشعور نجی کمپنی ان ڈسکوز کو خریدنے کے لیے تیار ہے جن کا گردشی قرضہ کھربوں روپے تک پہنچ چکا ہے اور جہاں لائن لاسز (Line Losses) اور بجلی چوری (کنڈا کلچر) کا کوئی حساب نہیں؟


یہ بتائیے کہ کیا کوئی rational investor منفی Equity والی کمپنی خریدے گا؟ کیا حکومت debt restructuring کی گارنٹی دے رہی ہے؟ اور کیا لائن لاسز کی ذمہ داری خریدار پر ہوگی یا حکومت برداشت کرے گی؟


اس کے علاوہ، اگر آپ واقعی ان کمپنیوں کی نجکاری کی طرف جا رہے ہیں، تو پھر آپ کے اپنے دعوے نمبر 4 کے تحت نجی کمپنیوں کے ذریعے اسمارٹ میٹرز لگانے کا منصوبہ نجکاری سے پہلے لانے کا کیا جواز ہے؟ کیا یہ بہتر نہیں تھا کہ نجکاری کے بعد خریدار کمپنیاں خود اپنے فنانشل ماڈل کے مطابق میٹرز نصب کرتیں؟ کیا نجکاری سے پہلے نجی سرمایہ کاروں کو میٹرز کا ٹھیکہ دینا اس بات کا اشارہ نہیں کہ یہ نجکاری بھی ماضی کے دیگر وعدوں کی طرح محض ایک سراب ہے، یا پھر یہ کسی خاص گروہ کو نوازنے کی ایک نئی بساط بچھائی جا رہی ہے؟


وزیر صاحب، نجکاری سے قبل میٹر کنٹریکٹ دینا ممکنہ خریداروں کے لیے asset encumbrance یعنی اثاثوں پر پہلے سے عائد مالی یا معاہداتی بوجھ پیدا کرتا ہے۔ کیا حکومت کے پاس کوئی transition framework ہے جو یہ واضح کرے کہ نجکاری کے بعد یہ کنٹریکٹ کس طرح نئے مالک کو منتقل ہوں گے؟ نیز، کیا کوئی anchor investor پہلے سے دلچسپی ظاہر کر چکا ہے، یا یہ نجکاری ابھی صرف letter of intent کے مرحلے میں ہے؟


⭕️ سوال نمبر 8: کیا خراب میٹرز کی تین ماہ میں تبدیلی کا دعویٰ ڈسکوز (DISCOs) کے اسٹرکچرل کرپشن اور اوور بلنگ کے میکانزم کو ختم کرنے کے لیے کافی ہے؟


جنابِ وزیر! آپ کا دعویٰ ہے کہ خراب میٹرز تین ماہ کے قلیل عرصے میں تبدیل کر دیے جائیں گے تاکہ صارفین پر اضافی مالی بوجھ نہ پڑے۔


لیکن کیا آپ اس حقیقت سے آگاہ نہیں کہ ڈسکوز کی جانب سے میٹرز کو دانستہ طور پر “خراب” قرار دینا یا ان کی تبدیلی میں تاخیر کرنا دراصل ڈیٹیکشن بلنگ (Detection Billing) کا ایک باقاعدہ ہتھیار ہے؟ یہ اوور بلنگ محض ایک انتظامی غلطی نہیں بلکہ لائن لاسز اور عملے کی ملی بھگت سے ہونے والی بجلی چوری کو چھپانے کا ایک غیر قانونی معاشی ماڈل بن چکا ہے۔


درج ذیل تین نکات کی اگر آپ پہلے تحقیقات کر لیتے تو شاید آپ اپنے خطاب میں سے یہ دعویٰ از خود خارج کر دیتے:


1.

نیپرا (NEPRA) کے اپنے ریکارڈ کے مطابق گزشتہ ایک سال میں خراب قرار دیے گئے میٹرز میں سے کتنے فیصد واقعی تین ماہ کے اندر تبدیل ہوئے؟ کیا آپ اس کا کوئی آزادانہ آڈٹ ڈیٹا (Audited Data) قوم کے سامنے رکھیں گے؟

2.

نیپرا (NEPRA) اور دیگر ریگولیٹری رپورٹس یہ تسلیم کرتی ہیں کہ میٹر کو خراب قرار دے کر Estimated Billing لگانا اور تبدیلی میں تاخیر کرنا ڈسکوز کے اندر ایک باقاعدہ Revenue Manipulation Mechanism بن چکا ہے جو لائن لاسز کو چھپانے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ محض تین ماہ کی ڈیڈ لائن اس structural problem کو کیسے ختم کرے گی جبکہ میٹر خراب ہے یا نہیں، اس کا فیصلہ ابھی بھی ڈسکو کے اسی عملے کے ہاتھ میں ہے جو اس عمل سے مالی فائدہ اٹھاتا ہے؟

3.

کیا نئے سمارٹ میٹر سسٹم میں میٹر کی خرابی کی Automated Remote Reporting ہوگی جو براہِ راست NEPRA یا کسی آزاد ادارے کو موصول ہو، یا تبدیلی کا فیصلہ پھر بھی ڈسکو کے صوابدید پر چھوڑ دیا جائے گا؟ اگر انسانی مداخلت کا یہ دروازہ کھلا رہا تو تین ماہ کی ڈیڈ لائن ایک non-binding administrative target سے زیادہ کچھ نہیں ہوگی۔

ہم سمجھتے ہیں کہ جب تک میٹرز کی تبدیلی کو ایک خودکار، شفاف اور انسانی مداخلت سے پاک نظام کے تحت نہیں لایا جاتا، تب تک محض تین ماہ کی ڈیڈ لائن دینا اصل مسئلے کے بجائے صرف اس کے ظاہری اثرات کو چھپانے کے مترادف ہے۔


ہمارے نزدیک یہ دعویٰ محض ایک معاشی تضاد ہے کیونکہ حکومت incentive structure کو برقرار رکھتے ہوئے صرف administrative timeline تبدیل کر رہی ہے، جبکہ کرپشن کا بنیادی میکانزم بدستور اپنی جگہ موجود ہے۔


⭕️ سوال نمبر 9: کیا آئی پی پیز کے ساتھ حالیہ Renegotiation (ازسرِنو مذاکرات) واقعی ایک حکومتی کامیابی ہے یا محض وقتی ریلیف اور اعداد و شمار کا کھیل؟


جنابِ وزیر!

آپ نے دعویٰ کیا کہ آئی پی پیز (IPPs) کے معاہدوں پر حالیہ نظرِ ثانی کے نتیجے میں ریاست کو اگلے 10 سے 15 سالوں میں 3.5 ٹریلین (3500 ارب) روپے کی بچت ہوگی۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا یہ کوئی حقیقی نقد بچت (Real Cash Saving) ہے یا صرف مستقبل کی ممکنہ ادائیگیوں (Avoided Future Liabilities) کو عوام کے سامنے ایک بڑی کامیابی کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے؟


آپ کے اس دعوے کا جب ہم نے بغور جائزہ لیا تو حقائق کچھ اور ہی تصویر دکھاتے نظر آئے۔


اگر بقولِ آپ اس مبینہ بچت کو 15 سال پر تقسیم کیا جائے تو یہ سالانہ تقریباً 233 ارب روپے بنتی ہے، جبکہ دوسری جانب قوم آج بھی ہر سال 2000 ارب روپے سے زائد کیپسٹی ادائیگیاں (Capacity Payments) ادا کر رہی ہے، اور اس کے باوجود گردشی قرضہ (Circular Debt) بڑھتے بڑھتے تقریباً 3400 ارب روپے تک جا پہنچا ہے۔


آپ کی حکومت نے بعض آئی پی پیز کے ساتھ ڈالر سے منسلک منافع (Dollar Indexation) میں جزوی کمی اور چند شرائط میں محدود ردوبدل ضرور کیا، مگر حقیقت یہ ہے کہ آج بھی ڈالر سے منسلک منافع (Dollar Linked Returns) موجود ہے، آج بھی ریاستی ضمانتیں (Sovereign Guarantees) برقرار ہیں، آج بھی بجلی لیے بغیر ادائیگی کا نظام (Take or Pay Model) قائم ہے، آج بھی کیپسٹی ادائیگیاں (Capacity Payments) جاری ہیں، اور آج بھی گردشی قرضہ (Circular Debt) مسلسل بڑھ رہا ہے جبکہ اس پورے بوجھ کا بڑا حصہ بدستور عوام کے بجلی کے بلوں میں منتقل کیا جا رہا ہے۔


تو پھر سوال یہ ہے کہ اگر آئی پی پیز کا Structural Framework تقریباً جوں کا توں موجود ہے، تو اصل اصلاحات یعنی Structural Reforms آخر کہاں ہوئی ہیں؟ کیا معاہدوں کی چند شقوں میں معمولی ردوبدل کو اصلاحات کا نام دے کر عوام کو اعداد و شمار کے گورکھ دھندے میں الجھایا جا رہا ہے؟


مزید یہ کہ مختلف آڈٹ رپورٹس اور تحقیقاتی کمیٹیوں میں بعض آئی پی پیز کے خلاف اضافی منافع خوری (Excess Profits)، ہیٹ ریٹ میں مبینہ ردوبدل (Heat Rate Manipulation)، زائد بلنگ (Over Invoicing) اور غیر معمولی مالی فوائد کے سنگین الزامات سامنے آئے۔ اگر حکومت اور متعلقہ اداروں کے پاس واقعی ان بے ضابطگیوں کے ٹھوس شواہد موجود تھے، تو پھر ان کمپنیوں کے خلاف عالمی ثالثی فورمز (International Arbitration Forums)، برطانوی عدالتوں یا دیگر بین الاقوامی قانونی پلیٹ فارمز پر بھرپور قانونی کارروائی کیوں نہیں کی گئی؟


اگر بدعنوانی، غلط بیانی یا معاہدوں کی خلاف ورزیاں ثابت ہو جاتیں، تو کیا ریاست ان کے پاور پرچیز معاہدے (Power Purchase Agreements - PPAs) منسوخ کر کے کیپسٹی ادائیگیوں (Capacity Payments) کے اس پورے بوجھ سے مستقل نجات حاصل نہیں کر سکتی تھی؟


اصل سوال یہ ہے کہ حکومت نے محاذ آرائی (Confrontation)، مالی ریکوری (Financial Recovery)، فرانزک احتساب (Forensic Accountability) اور سخت قانونی نفاذ (Legal Enforcement) کا راستہ اختیار کرنے کے بجائے مفاہمتی مذاکرات اور “لو اور دو” کے ماڈل کو کیوں ترجیح دی؟


اگر ان کمپنیوں کے خلاف واقعی سنگین مالی بے ضابطگیوں، غیر معمولی منافع خوری اور معاہدوں کی خلاف ورزیوں کے شواہد موجود تھے، تو پھر عوام کا لوٹا گیا پیسہ واپس قومی خزانے میں کیوں نہ لایا گیا تاکہ انہیں بجلی کے بلوں میں حقیقی اور طویل مدتی ریلیف دیا جا سکتا۔


جنابِ وزیر! آپ نے Aitchison College سے ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کے بعد University of Rochester سے Economics اور Political Science میں اعلیٰ تعلیم حاصل کی، جبکہ آپ کو سابق صدرِ پاکستان سردار فاروق احمد خان لغاری مرحوم کا صاحبزادہ ہونے کا خاندانی اعزاز بھی حاصل ہے۔ آپ جیسے وژنری اور اعلیٰ تعلیم یافتہ لیڈر سے قوم کسی روایتی طرزِ سیاست یا وقتی بیانیے کی توقع نہیں رکھتی۔


آپ کا اصل امتحان یہی ہے کہ آپ اپنی اس غیر معمولی صلاحیت اور اختیار کو استعمال کرتے ہوئے اس بوسیدہ پاور سسٹم کو توڑنے کی جرات کریں گے، اور یہ سب محض دعوؤں اور اعلانات تک محدود نہیں رہے گا۔ اگر آپ نے Capacity Payments، گردشی قرضوں اور اپنے زیرِ اثر اداروں کی بدانتظامی کے خلاف حقیقی اور بنیادی اصلاحات نافذ کر دیں تو یہ قوم یقیناً آپ کو تاریخ میں ایک مختلف اور غیر معمولی وزیرِ توانائی و بجلی کے طور پر یاد رکھے گی۔


یہ 9 سوالات محض کسی فردِ واحد کی ذاتی خواہش نہیں بلکہ ریاستِ پاکستان کے اُن کروڑوں صارفین کا مقدمہ ہیں جو دہائیوں پر محیط غلط پالیسیوں، کرپشن اور انتظامی نااہلی کی بھاری قیمت اپنے بچوں کے نوالے کم کر کے ادا کر رہے ہیں۔


آپ سے گزارش ہے کہ اِن تمام سوالات کے جوابات وزارتِ توانائی کی ویب سائٹ پر باضابطہ طور پر شائع کیے جائیں تاکہ قوم حقائق کو براہِ راست دیکھ اور سمجھ سکے۔


امید ہے کہ آپ اِن سوالات کا جواب ٹھوس حقائق، مستند اعداد و شمار اور دستاویزی شواہد کی روشنی میں دیں گے تاکہ شفافیت، جوابدہی اور عوامی اعتماد کا وہ معیار واقعی قائم ہو سکے جس کا آپ کی حکومت مسلسل دعویٰ کرتی رہی ہے۔


اگر اِن سوالات کا مدلل اور دستاویزی جواب قوم کے سامنے آ جاتا ہے تو یہ نہ صرف ایک مثبت روایت قائم کرے گا بلکہ پاکستان کے پاور سیکٹر پر جاری قومی بحث کو بھی سنجیدہ اور حقیقت پسندانہ سمت فراہم کرے گا۔


والسلام

سید شایان

پریزیڈنٹ / سی ای او

SyedShayan.com

تھنک ٹینک برائے نیشنل ڈیولپمنٹ، رئیل اسٹیٹ سنڈیکیشن و کمیونٹی لیونگ

ای۔میل | mail@syedshayan.com

17 مئی 2026 ۔ لاہور



0
Views
22
4

مزید مضامین

Image

🔳 ہماری کائنات میں اربوں ستارے بغیر کسی ‘کیپیسٹی پیمنٹ’ اور بغیر کسی ‘امپورٹڈ کول’ کے روشن ہیں، ...

(اردو)
Image

🔳 بجلی موجود ہونے کے باوجود ہمارے ملک میں جبری لوڈ شیڈنگ کی جا رہی ہے، کیونکہ ہماری بوسیدہ تاریں...

(اردو)
Image

چئیرمین نیپرا (NEPRA) اسلام آباد کے نام کھلے خط میں آئی پی پیز کے حوالے سے اٹھائے گئے 13 سوالات1-...

(اردو)
Image

غلام مصطفیٰ کھر، سابق وفاقی وزیرِ پانی و بجلی، جن کے دورِ وزارت میں آئی پی پیز قائم کرنے کے لیے م...

(اردو)
Image

پاکستان لندن کی عدالت میں آئی پی پیز سے کیوں ہارا ؟ 🔳 حکومتِ پاکستان بمقابلہ آئی پی پیز&nbs...

(اردو)