Home
Image

اربوں آمدنی کے باوجود کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی ان متاثرین کو ادائیگی کیوں نہیں کرتی جن کی زمینوں پر اسلام آباد شہر کی بنیاد رکھی گئی۔؟

1960 میں جب اسلام آباد کو پاکستان کا نیا وفاقی دارالحکومت بنانے کا فیصلہ ہوا تو 14 جون 1960 کے آرڈیننس کے تحت کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی کا قیام عمل میں آیا اور جنرل محمد یحییٰ خان اس کے پہلے چیئرمین مقرر ہوئے۔ انہوں نے 1960 سے 1961 تک سی ڈی اے کے چیئرمین کے طور پر خدمات انجام دیں۔
وہ کیپیٹل کمیشن کے سربراہ بھی تھے جس نے نئے دارالحکومت کے حتمی مقام کے انتخاب میں کلیدی کردار ادا کیا۔


نئے شہر کے لیے وسیع پیمانے پر زمین کے حصول کا مرحلہ انہی کے دور میں مکمل ہوا، جو انتظامی اعتبار سے نہایت پیچیدہ عمل تھا۔ تاہم اسی عمل کے دوران مقامی دیہاتوں کی مسماری، یہاں کے باشندوں کی آبائی زمینوں سے بے دخلی، محدود معاوضے اور متاثرین کی بحالی کے ناکافی انتظامات نے جس شدید تنقید کو جنم دیا، اس کی بازگشت آج بھی سنائی دیتی ہے، خصوصاً اس وقت جب اسی شہر کا ترقیاتی ادارہ سی ڈی اے اوپن نیلامیوں کے ذریعے ایک ایک پلاٹ اربوں روپے میں فروخت کرتا ہے، جبکہ وہ متاثرین جن کی آبائی زمینوں پر اس شہر کی بنیاد رکھی گئی تھی گزشتہ ساٹھ برس سے اپنی زمینوں کے مکمل معاوضے کے لیے در بدر ہیں۔


عدالتی ریکارڈ اور مختلف فیصلوں کے مجموعی جائزے سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ اسلام آباد کی اراضی سے متعلق تنازعات میں عدالتوں نے اصولی طور پر یہ مؤقف اختیار کیا ہے کہ سی ڈی اے پر لازم ہے کہ وہ متاثرینِ اراضی کو قانون کے مطابق بروقت اور منصفانہ معاوضہ ادا کرے۔ عدالتوں نے متعدد مواقع پر یہ ہدایت دی کہ زیرِ التوا دعووں کا تعین کیا جائے، بقایاجات کی ادائیگی کی جائے اور متبادل پلاٹس یا دیگر قانونی حقوق کے معاملات کو بلا تاخیر نمٹایا جائے۔ لیکن اس سلسلے میں سی ڈی اے حکام عدالتوں کی جانب سے متاثرین کو معاوضہ ادا کرنے کے احکامات کے جواب میں عموماً یہ مؤقف اختیار کرتے ہیں کہ ادارہ عدالتی ہدایات کا احترام کرتا ہے اور قانون کے مطابق ادائیگی کا پابند ہے، تاہم ہر کیس کی ادائیگی قانونی کلیئرنس، ملکیتی ریکارڈ کی تصدیق اور فنڈز کی دستیابی سے مشروط ہے۔


کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی یعنی سی ڈی اے کے پاس اس وقت فنڈز کی دستیابی اور مجموعی مالی صورتحال کیا ہے، آئیے اس کا مختصر جائزہ لیتے ہیں۔


سال 2025 میں کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی یعنی CDA نے اپنی مالیاتی ضروریات کو پورا کرنے اور شہر میں کمرشل سرگرمیوں کو فروغ دینے کے لیے تین بڑی نیلامیوں کا انعقاد کیا۔ ان نیلامیوں میں کمرشل پلاٹس، رہائشی پلاٹس، باغات (Orchards) اور مارکیٹوں میں دکانوں کے یونٹس شامل تھے۔


ان نیلامیوں کی تفصیلات اور ریونیو کے اعداد و شمار معتبر ذرائع میں رپورٹ ہوئے۔ پہلی بڑی نیلامی 25 سے 28 فروری 2025 تک جناح کنونشن سینٹر میں منعقد ہوئی، دوسری بڑی نیلامی 15 سے 17 جولائی 2025 تک ہوئی، جبکہ تیسری نمایاں نیلامی 22 سے 24 دسمبر 2025 تک منعقد کی گئی۔


میں اپنے قارئین کی دلچسپی کے پیشِ نظر اس پورے سال کی نیلامیوں کی تفصیلات آپ کے سامنے پیش کر رہا ہوں۔


🔸 پہلی بڑی نیلامی 25 سے 28 فروری 2025 تک جناح کنونشن سینٹر اسلام آباد میں منعقد ہوئی۔ اس نیلامی میں سترہ کمرشل پلاٹس اور بلیو ایریا پارکنگ پلازہ کی پندرہ دکانیں فروخت کی گئیں اور مجموعی طور پر تقریباً 23.404 بلین یعنی 23 ارب چالیس کروڑ روپے کی بلند ترین بولیاں قبول کی گئیں۔


🔸 دوسری بڑی نیلامی 15 سے 17 جولائی 2025 تک جناح کنونشن سینٹر اسلام آباد میں منعقد ہوئی۔ یہ تین روزہ اوپن نیلامی تھی۔ اس نیلامی کے اختتام پر سی ڈی اے کے پریس ریلیز کے مطابق تقریباً 19.56 ارب روپے کا ریونیو حاصل ہوا۔ اس نیلامی میں 8 کمرشل پلاٹس اور 4 دکانیں نیلام ہوئیں۔


🔸 تیسری بڑی نیلامی 22 سے 24 دسمبر 2025 تک جناح کنونشن سینٹر اسلام آباد میں منعقد ہوئی۔ یہ بھی تین روزہ اوپن نیلامی تھی جس میں رہائشی اور کمرشل دونوں اقسام کے پلاٹس پیش کیے گئے۔ سی ڈی اے کی آفیشل پریس ریلیز کے مطابق اس نیلامی کے اختتام پر مجموعی طور پر سترہ ارب روپے یعنی (17 Billion) سے زائد مالیت کے پلاٹس نیلام ہوئے۔


ڈان کی رپورٹ کے مطابق اس نیلامی میں تقریباً 80 رہائشی اور کمرشل پلاٹس پیش کیے گئے جن میں سے 16 فروخت ہوئے اور مجموعی رقم تقریباً 17 ارب روپے رہی، جسے ادارے نے مختلف ترقیاتی منصوبوں کے لیے مالی سہارا قرار دیا۔


اگر سی ڈی اے کی فروری، جولائی اور دسمبر 2025 کی ان تین بڑی اور نمایاں نیلامیوں کے اعداد و شمار کو جمع کیا جائے تو سی ڈی اے نے تقریباً 59.9 بلین روپے یعنی لگ بھگ 60 ارب (60 Billion) کے قریب ریونیو حاصل کیا۔ یہ مجموعی تخمینہ ان رقوم پر مبنی ہے جو سرکاری پریس ریلیزز اور معتبر میڈیا رپورٹس میں شائع ہوئیں۔


ان تین بڑی نیلامیوں کے علاوہ سال 2025 کے دوران سی ڈی اے نے ایگری کلچر فارمز، پیٹرول پمپ سائٹس اور پارک انکلیو کے رہائشی پلاٹس سمیت تعلیمی و آئی ٹی زونز کی زمینوں کی بھی کامیاب نیلامیاں کیں۔ مثال کے طور پر چک شہزاد میں واقع قیمتی ایگری کلچر فارمز، بلیو ایریا اور E 11 میں پیٹرول پمپ کی سائٹس، اور I 8 و H 9 کے علاقوں میں تعلیمی و آئی ٹی مقاصد کے لیے مختص زمینوں کی نیلامی سے سی ڈی اے کو خاطر خواہ ریونیو حاصل ہوا، جس کی درست مقدار سی ڈی اے کو اپنی ویب سائٹ پر جاری کرنی چاہیے۔


اسلام آباد میں کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے ذرائع آمدنی صرف پلاٹس کی فروخت تک محدود نہیں ہیں بلکہ اس کی آمدنی پانچ واضح ماڈلز پر مشتمل ہے۔ ایک سنجیدہ معاشی تجزیے کے لیے ان پانچوں کو الگ الگ سمجھنا ضروری ہے تاکہ ادارے کی حقیقی مالی ساخت سامنے آ سکے۔


1: زمین اور پلاٹس کی Monetisation یعنی زمین کی فروخت اور نیلامی ماڈل۔ یہ وہ ماڈل ہے جس کے تحت کمرشل اور رہائشی پلاٹس کی نیلامی کے ذریعے فوری Cash Flow پیدا کیا جاتا ہے۔ یہ سب سے بڑی اور نمایاں آمدنی ہوتی ہے لیکن یہ غیر مستقل اور مارکیٹ کے اتار چڑھاؤ پر منحصر رہتی ہے۔


2: Recurring Revenue یعنی سروس چارجز ماڈل۔ اس میں وہ تمام فیسیں شامل ہیں جو ادارہ اپنی انتظامی اور ریگولیٹری خدمات کے عوض وصول کرتا ہے، جیسے بلڈنگ پلان کی منظوری، نقشہ فیس، ٹرانسفر فیس، لیز رینٹ اور لائسنس فیس۔ یہ آمدنی نسبتاً مستحکم ہوتی ہے کیونکہ یہ روزمرہ کے اُن کاموں سے حاصل ہوتی رہتی ہے جو شہری مسلسل کرتے رہتے ہیں، مثلاً گھر یا پلازہ بنانے کے لیے نقشہ منظور کرانا، جائیداد کی منتقلی کروانا، کمرشل لائسنس حاصل کرنا یا لیز کی تجدید کرانا۔ چونکہ یہ عمل سال بھر جاری رہتا ہے، اس لیے اس مد میں آنے والی آمدنی بھی باقاعدگی سے آتی رہتی ہے۔


3: Lease and Rental Income۔ اس میں ادارے کی ملکیتی مارکیٹس، شاپنگ سنٹرز، پارکنگ پلازوں اور ایڈورٹائزنگ سپیسز سے حاصل ہونے والا کرایہ شامل ہوتا ہے۔ یہ ایک جاری Revenue Stream بناتا ہے جو ادارے کے آپریشنل اخراجات کو سہارا دیتا ہے۔


4: Utility and Infrastructure Charges۔ واٹر اور سیوریج فیس، انفراسٹرکچر چارجز اور دیگر سہولتی وصولیاں اس میں شامل ہوتی ہیں۔ یہ آمدنی سروس ڈیلیوری کے ساتھ براہ راست جڑی ہوتی ہے اور نسبتاً Predictable مالی بہاؤ فراہم کرتی ہے۔


5: Penalties and Regulatory Fees Model۔
اس ماڈل میں ریگولیٹری جرمانے، بینک ڈپازٹس پر حاصل ہونے والا منافع اور وفاقی گرانٹس شامل ہیں۔ یہ ذرائع بنیادی آمدنی کا متبادل نہیں ہوتے مگر بجٹ کے خلا کو پُر کرنے اور مالی دباؤ کم کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔


مالی سال 2024 25 کے منظور شدہ بجٹ دستاویزات اور میڈیا رپورٹس یہ بھی بتاتی ہیں کہ سی ڈی اے کا ریونیو ہدف پچھلے سال تقریباً 90 سے 92 ارب روپے کے درمیان مقرر ہوا، لیکن اس کی ریونیو کلیکشن پچاس ارب (50 Billion) روپے سے زائد رپورٹ کی گئی۔


ان تمام مالی حقائق کے سامنے آنے کے بعد غور کا مقام یہ ہے کہ اتنے متنوع ذرائع آمدنی اور ارب ہا ارب روپے کے ریونیو کے باوجود بھی سی ڈی اے اسلام آباد کی زمینوں کے اصل مالکان کو ان کے بقایاجات کی مکمل اور بروقت ادائیگی کرنے سے احتراز کیوں کر رہا ہے؟ (جاری ہے، باقی اگلی قسط میں۔)

0
Views
28
9

مزید مضامین

Image

قومی تحقیقاتی سلسلہ | قسط 10موضوع: پاکستان کا بجلی کا نظام کیسے ٹھیک ہو گا[مہنگے بجلی کے بلوں ...

(اردو)
Image

ہمارا بجلی کا نظام کیسے ٹھیک ہو گا؟؟ (قسط: 9) ▫️کیا واقعی پاکستان کی بجلی کی سالانہ ضرورت 40 ہز...

(اردو)
Image

ہمارا بجلی کا نظام کیسے ٹھیک ہو گا؟ قسط: 8 پاکستان میں شوگر ملوں کے گنے کے پھوک سے چلنے والے پا...

(اردو)
Image

ایک ہی پانی سے بننے والی بجلی: سرکاری اور نجی آئی پی پیز کے نرخوں میں دوگنا سے زائد فرق واضح نظر...

(اردو)
Image

جب ہم نیوکلیئر پاور ہیں تو پھر ہم نیوکلیئر بجلی زیادہ مقدار میں کیوں نہیں بناتے؟ ▫️ایٹمی طاقت ...

(اردو)