گزشتہ دنوں سوشل میڈیا پر یہ تاثر پھیلایا جا رہا ہے کہ سپریم کورٹ نے خواتین کا وراثتی حق ختم کر دیا ہے
یا عورت کی اولاد اپنی ماں کے حصے کا دعویٰ نہیں کر سکے گی، حالانکہ یہ بات درست نہیں۔ عدالت نے نہ خواتین کے بنیادی حق کو ختم کیا ہے اور نہ اس اصول کو بدلا ہے کہ ماں کا جو وراثتی حق قانوناً قائم ہو جائے وہ اس کی وفات کے بعد اس کے ورثاء کا حصہ بن جاتا ہے۔
دراصل حالیہ عدالتی کارروائی میں صرف پرانے اور غیر معمولی تاخیر سے دائر کیے گئے وراثتی دعووں کے بارے میں اصول واضح کیے گئے ہیں۔ اسے غلط انداز میں پیش کر کے یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ خواتین یا ان کی اولاد کا حقِ وراثت ختم کر دیا گیا ہے، حالانکہ قانونی طور پر ایسا نہیں ہے بلکہ یہ محض غلط فہمی پر مبنی بات ہے
سپریم کورٹ آف پاکستان کا 24 فروری 2026 کا فیصلہ، جو PLD 2026 Supreme Court 42 کے طور پر رپورٹ ہوا، دراصل وراثت اور جائیداد کی ملکیت کے اصولوں کی تفصیلی تشریح پر مبنی ایک اہم فیصلہ ہے۔
یہ کیس خیبر پختونخوا حکومت اور صوبائی محتسب کی اپیلوں کے تناظر میں سامنے آیا، جنہیں عدالت نے ناقابل سماعت قرار دیتے ہوئے خارج کر دیا۔ عدالت نے واضح کیا کہ جب اصل نجی فریقین یعنی ورثاء خود خاموش ہوں تو ریاستی اداروں کو ازخود اپیل کا حق حاصل نہیں ہوتا۔
فیصلے میں بنیادی اصول یہ دہرایا گیا کہ اسلامی قانون کے مطابق جائیداد کی ملکیت مورث کی وفات کے فوراً بعد بلا تاخیر قانونی وارثوں کو منتقل ہو جاتی ہے، اور وراثت ایک خدائی حکم ہے جسے انتظامی تاخیر یا سماجی دباؤ کے ذریعے روکا نہیں جا سکتا۔
عدالت نے خواتین کے وراثتی حقوق کو مضبوط انداز میں تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ انہیں محروم کرنا شریعت اور قانون دونوں کی خلاف ورزی ہے اور ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس حق کے تحفظ کو یقینی بنائے۔
تاہم عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ اگر کوئی خاتون اپنی زندگی میں اپنے حق کو نہ تو طلب کرے، نہ قانونی طور پر محفوظ کرے، اور دہائیوں بعد اس کی اولاد دعویٰ لے کر سامنے آئے، تو ایسے دیرینہ دعووں کو غیر معینہ مدت تک کھلا نہیں رکھا جا سکتا، خاص طور پر جب جائیداد آگے منتقل ہو چکی ہو۔
اس پہلو کو 2021 کے فیصلے کی توسیع یا توثیق قرار دیا جا سکتا ہے، مگر بنیادی قانون تبدیل نہیں ہوا بلکہ تاخیر سے دائر ہونے والے مقدمات کے بارے میں اصولی حد بندی کی گئی ہے۔ اس فیصلے کا مجموعی مقصد وراثتی تنازعات کو بروقت حل کرنا، عدالتی بوجھ کم کرنا، اور خواتین کے شرعی حق کو مؤثر بنانا ہے، نہ کہ اسے محدود کرنا، تاہم اولاد کے بہت پرانے اور غیر فعال دعووں کے دائرہ کار کو ضرور واضح کیا گیا ہے۔
سپریم کورٹ آف پاکستان نے دراصل 23 ستمبر 2021 ایک کیس میں حکم دیا تھا کہ اگر کوئی خاتون اپنی زندگی میں والدین کی وراثت سے حصہ نہیں مانگتی، تو اس کی وفات کے بعد اس کی اولاد (جیسے نواسے یا نواسیاں) وراثت کا دعویٰ نہیں کر سکتی۔ اس کا مقصد پرانے وراثتی کیسز کو ختم کرنا تھا جو دہائیوں بعد عدالتوں میں لائے جاتے ہیں۔
یہ حکم پشاور سے متعلق ایک کیس میں دیا گیا تھا جہاں دو خواتین کی اولاد نے اپنے نانا کی جائیداد میں حصہ مانگا تھا، لیکن ہائی کورٹ اور پھر سپریم کورٹ نے اسے مسترد کر دیا تھا
یہاں یہ وضاحت ضروری ہے کہ وراثت کا حق مورث کی وفات کے ساتھ ہی قانوناً قائم ہو جاتا ہے، اس کے لیے الگ سے دعویٰ کرنا شرط نہیں ہوتا، البتہ تقسیم اور عملی نفاذ کے لیے قانونی کارروائی کی ضرورت پیش آ سکتی ہے۔
یہ بھی ذہن میں رہے کہ عدالتیں “تاخیر” سے مراد ایسے غیر معمولی اور دہائیوں بعد دائر کیے گئے دعووں کو لیتی ہیں، خاص طور پر وہ معاملات جہاں جائیداد آگے منتقل ہو چکی ہو یا تیسرے فریق کے حقوق پیدا ہو چکے ہوں، اس کا مطلب ہر صورت میں حق کا خاتمہ نہیں ہوتا۔
سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیوز اور کلپس کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہوتی، اس لیے ان کی بنیاد پر قانون کی تشریح کرنا یا حتمی رائے قائم کرنا درست نہیں۔ ہر مقدمہ اپنے مخصوص حقائق پر طے ہوتا ہے۔ خواتین کا حقِ مورثیت اپنی جگہ برقرار تھا، برقرار ہے اور برقرار رہے گا۔