Home
Image

قسط 1: سنٹرل بزنس ڈسٹرکٹ یعنی سی بی ڈی گلبَرگ لاہور کو 26 فروری 2026 کو پانچ سال مکمل ہو گئے۔

ان پانچ برسوں میں یہ منصوبہ اپنے اصل وژن کے مقابلے میں آج کہاں کھڑا ہے۔
کیا ترقی کی رفتار وہی رہی جس کا آغاز میں وعدہ کیا گیا تھا؟
کیا سرمایہ کاروں نے جو اعتماد شروع میں اس پراجیکٹ پر دکھایا تھا، وہ واقعی حقیقی اور پائیدار تھا یا اسے محض ایک marketing gimmick یعنی تشہیری حربہ سمجھا جائے گا۔
کیا یہ پراجیکٹ اسی تھیم کے مطابق تعمیر ہو رہا ہے جس کی منظر کشی لانچنگ کے وقت کی گئی تھی؟ جن سو اسکائی اسکریپرز اور ہائی رائز عمارتوں کی تعمیر کا اعلان کیا گیا تھا، کیا ان پر اسی رفتار سے کام ہو رہا ہے؟
سی بی ڈی کے افتتاح کے وقت منصوبے کی مالیت تقریباً 3 ہزار 5 سو ارب روپے بتائی گئی تھی۔ بتایا جاۓ کہ اب تک حقیقت میں کتنی سرمایہ کاری آئی ہے، اور منصوبہ اس مالی دعوے کے کتنے قریب پہنچا ہے؟


آئیے اس پراجیکٹ کا تفصیلی جائزہ لینے کے لیے ہم اسے تین بنیادی اسٹریٹیجک ادوار (Strategic Phases) میں تقسیم کرتے ہیں تاکہ ادارے کے وژن (Vision)، مارکیٹ کے ردعمل (Market Response) اور آج تک کی کارکردگی (Performance to Date) کا الگ الگ تجزیہ کیا جا سکے۔


اس جائزے میں ہم ان تینوں ادوار کو الگ الگ سمجھیں گے، ہر دور میں کیے گئے وعدوں اور حاصل ہونے والے عملی نتائج کا جائزہ اپنے پڑھنے والوں کے سامنے واضح انداز میں پیش کریں گے۔


آئیے پہلے ہم پہلے دور کی طرف چلتے ہیں۔

4 فروری 2021 کو پنجاب حکومت نے (جب صوبے میں پاکستان تحریک انصاف کی حکومت اور وزیر اعلیٰ سردار عثمان بزدار تھے) لاہور سنٹرل بزنس ڈسٹرکٹ ڈویلپمنٹ اتھارٹی (LCBDDA) کا آرڈیننس جاری کیا اور انتہائی عجلت میں اس اتھارٹی کو قائم کر کے ٹھیک 22 دن بعد، 26 فروری 2021 کو گلبَرگ لاہور میں والٹن ایئرپورٹ کے زیر استعمال زمینی رقبے پر اس اتھارٹی کے پہلے بڑے منصوبے سنٹرل بزنس ڈسٹرکٹ لاہور کا باضابطہ افتتاح اُس وقت کے وزیر اعظم عمران خان نے کیا۔


سنگِ بنیاد کی اس تقریب میں وزیرِ اعظم عمران خان نے سنٹرل بزنس ڈسٹرکٹ کو پاکستان کی معیشت کے لیے ایک ’گیم چینجر‘ منصوبہ قرار دیا۔ سرکاری اندازوں کے مطابق کہا گیا کہ یہ منصوبہ طویل مدت میں تقریباً 3.5 ٹریلین روپے (تقریباً 3,500 ارب روپے) کی معاشی سرگرمی پیدا کر سکتا ہے۔ ابتدائی مرحلے کے بارے میں بتایا گیا کہ پہلے فیز میں قریب 1,300 ارب روپے کی کمرشل سرگرمی متوقع ہے اور اس سے وفاقی حکومت کو تقریباً 250 ارب روپے ٹیکس کی مد میں حاصل ہوں گے۔


وزیراعظم عمران خان نے افتتاح کے موقع پر جب اس پراجیکٹ کے economic impact کا ذکر اس انداز میں کیا تو میڈیا اور سرمایہ کاروں نے اسے سنجیدگی سے لیا اور اس تاثر کو ہوا دی گئی کہ یہ صرف لاہور نہیں بلکہ پورے پنجاب کی معاشی کایا پلٹ سکتا ہے۔ چنانچہ اسی mindset کے تحت اس اتھارٹی کے دائرہ اختیار کو لاہور تک محدود رکھنے کے بجائے پورے پنجاب تک بڑھانے کا فیصلہ کیا گیا۔


24 اگست 2022 کو پنجاب اسمبلی نے ایک ترمیمی بل منظور کیا جس کے ذریعے اتھارٹی کو صوبہ بھر تک توسیع دی گئی، اور یہ ترمیم 14 ستمبر 2022 کو پنجاب گزٹ میں شائع ہوئی۔ اسی مرحلے پر اس کا نیا نام پنجاب سنٹرل بزنس ڈسٹرکٹ ڈویلپمنٹ اتھارٹی (یعنی سی بی ڈی ڈی اے) رکھ دیا گیا۔

(جاری ہے، باقی اگلی قسط میں)

0
Views
67
21

مزید مضامین

Image

🔳 ہماری کائنات میں اربوں ستارے بغیر کسی ‘کیپیسٹی پیمنٹ’ اور بغیر کسی ‘امپورٹڈ کول’ کے روشن ہیں، ...

(اردو)
Image

🔳 بجلی موجود ہونے کے باوجود ہمارے ملک میں جبری لوڈ شیڈنگ کی جا رہی ہے، کیونکہ ہماری بوسیدہ تاریں...

(اردو)
Image

چئیرمین نیپرا (NEPRA) اسلام آباد کے نام کھلے خط میں آئی پی پیز کے حوالے سے اٹھائے گئے 13 سوالات1-...

(اردو)
Image

غلام مصطفیٰ کھر، سابق وفاقی وزیرِ پانی و بجلی، جن کے دورِ وزارت میں آئی پی پیز قائم کرنے کے لیے م...

(اردو)
Image

پاکستان لندن کی عدالت میں آئی پی پیز سے کیوں ہارا ؟ 🔳 حکومتِ پاکستان بمقابلہ آئی پی پیز&nbs...

(اردو)