Home
Image

اس مرتبہ بل جمع کرانے سے پہلے ضرور چیک کریں کہ کہیں آپ انکم ٹیکس فائلر ہونے کے باوجود Extra Tax یا Further Tax تو ادا نہیں کر رہے ہیں؟

بجلی کے بلوں میں موجود یہ جلیبیاں خود تیار کی گئی ہیں۔
ہمارا بجلی کا نظام اور بجلی کے بلوں کا سٹرکچر۔ اصلاح کیسے ممکن ہے؟ (پانچویں قسط)

پاکستان کا پاور سیکٹر Kleptocratic Structure کی ایک کلاسک مثال ہے جس کا ذکر میں نے کل پچھلی قسط 4 میں کیا ہے۔
اگر ہم پاکستان کے بجلی پیدا کرنے اور بجلی تقسیم کرنے اور بجلی کے بلز تیار کرنے والے نظام کو سمجھنا چاہیں تو یہ اس قدر پیچیدہ اور الجھا ہوا ہے کہ سمجھتے سمجھتے انسان کی سانس اکھڑ جائے، لیکن سرا ہاتھ نہیں آئے گا۔


پہلے پاکستان میں بجلی کا نظام نسبتاً سادہ تھا اور زیادہ تر ذمہ داری ایک ہی ادارے، واپڈا کے پاس ہوتی تھی۔ واپڈا صرف بجلی تک محدود نہیں تھا بلکہ پانی کے وسائل، ڈیمز اور بڑے ترقیاتی منصوبوں کا بھی ذمہ دار تھا، اسی لیے اسے Water and Power Development Authority کہا جاتا تھا۔ یعنی پیداوار، ترسیل، تقسیم اور منصوبہ بندی سب ایک ہی چھتری کے نیچے تھے، اس لیے کم از کم یہ واضح ہوتا تھا کہ ذمہ داری کس کی ہے۔


آج صورتحال یہ ہے کہ وہی نظام درجنوں محکموں میں تقسیم ہو چکا ہے، مگر ان کے درمیان نہ مکمل System Integration ہے اور نہ ہی واضح Accountability Structure، جس کی وجہ سے مسائل حل ہونے کے بجائے مزید پیچیدہ ہو گئے ہیں۔ اور واپڈا کا کردار محدود ہو کر صرف ڈیمز اور پن بجلی تک رہ گیا ہے، جبکہ پورا بجلی کا نظام درجنوں محکموں میں تقسیم ہو چکا ہے۔


آج پاکستان کا بجلی کا نظام ایک یا دو اداروں پر نہیں بلکہ بیس سے بھی زائد مختلف اداروں اور محکموں پر مشتمل ہے، جن میں وزارتِ توانائی، نیپرا، پی پی آئی بی، اے ای ڈی بی، سی پی پی اے جی، این ٹی ڈی سی، مختلف ڈسٹری بیوشن کمپنیاں، سرکاری پاور پلانٹس، واپڈا، کے الیکٹرک، اوگرا اور پی ایس او جیسے ادارے شامل ہیں۔ ہر ادارہ اپنے اپنے دائرہ کار میں کام کر رہا ہے، کوئی منصوبہ سازی کر رہا ہے، کوئی بجلی پیدا کر رہا ہے، کوئی اسے منتقل کر رہا ہے، کوئی تقسیم کر رہا ہے اور کوئی بل وصول کر رہا ہے۔


یہ پیچیدگی کوئی اتفاقی حادثہ نہیں بلکہ میرے نزدیک یہ مختلف محکموں کا بکھرا ہوا غیر مربوط نظام دراصل جوابدہی سے بچنے کا ایک مؤثر طریقہ ہے، جسے Institutional Fragmentation کہا جاتا ہے۔
اور یہ Kleptocratic Structure کی انتہائی اعلیٰ شکل ہے۔


جب ایک ذمہ داری اتنے زیادہ ٹکڑوں میں بٹ جائے تو خرابی کی صورت میں انگلی کسی ایک ادارے پر نہیں اٹھائی جا سکتی۔ اس “محکمانہ بھول بھلیاں” کے کچھ فوائد یہ ہیں:


1- بیوروکریٹک سسٹم اور ‘ریڈ ٹیپ’
ان اداروں (NEPRA, CPPA-G, NTDC وغیرہ) کی موجودگی کا مطلب ہے کہ ایک چھوٹے سے فیصلے کے لیے بھی فائل کو درجنوں میزوں سے گزرنا پڑتا ہے۔ ہر میز پر “پاور بروکرز” بیٹھے ہیں جو اس عمل کو سست کر کے اپنے مفادات حاصل کرتے ہیں۔


2- سرکلر ڈیٹ (گردشی قرضہ) کا مستقل جال
جب بجلی پیدا کوئی اور کرے (IPPs/GENCOs)، اسے خریدے کوئی اور (CPPA-G)، منتقل کوئی اور کرے (NTDC) اور عوام سے پیسے کوئی اور مانگے (DISCOs)، تو اس زنجیر میں کہیں بھی رقم رک جائے تو پورا نظام جام ہو جاتا ہے۔ یہ پیچیدگی دراصل شفافیت (Transparency) کی دشمن ہے، جس کی وجہ سے آج گردشی قرضہ کھربوں تک جا پہنچا ہے۔


3- مخصوص افراد کو نوازنے کے لیے ‘کپیسٹی پیمنٹس’ کی چھتری
اس پیچیدہ نظام کا سب سے بڑا شاہکار آئی پی پیز سے وہ معاہدے ہیں جن کے تحت بجلی پیدا نہ ہونے کے باوجود بھی ادائیگیاں کی جاتی ہیں۔ ایک عام شہری کے لیے یہ سمجھنا مشکل ہے کہ جس بجلی کا اس نے استعمال ہی نہیں کیا، وہ اس کا بل کیوں ادا کر رہا ہے؟ لیکن کلیپٹوکریسی کی اس ظالمانہ چھتری تلے یہ کرپشن اب ایک قانونی شکل اختیار کر چکی ہے۔


4- ذمہ داری کا فقدان
• اگر لائن لاسز زیادہ ہیں تو ڈسکوز (DISCOs) کا مسئلہ ہے۔
• اگر ٹرانسمیشن لائن ٹرپ کر جائے تو این ٹی ڈی سی (NTDC) کا قصور ہے۔
• اگر فیول مہنگا ہے تو اوگرا (OGRA) یا پی ایس او (PSO) کی طرف دیکھا جاتا ہے۔
• اور اگر ریٹ بڑھ جائے تو نیپرا (NEPRA) کو کوسا جاتا ہے۔
اگر بل میں Extra Tax یا Further Tax لگ کر آ گیا تو
محکمہ ریونیو سے پوچھیے۔


عام آدمی اس چکر میں یہ بھول جاتا ہے کہ اصل پالیسی ساز کون ہے، پکڑنا کس کو ہے۔
دنیا کے بڑے ممالک جیسے امریکہ، بھارت اور جرمنی میں بھی بجلی کا نظام کئی اداروں پر مشتمل ہوتا ہے، جہاں پیداوار، ترسیل اور تقسیم الگ الگ ادارے انجام دیتے ہیں، مگر وہاں یہ پورا نظام ایک مضبوط ریگولیٹری فریم ورک کے تحت چلتا ہے، ہر ادارے کا کردار واضح ہوتا ہے اور تمام محکمے ایک مربوط نظام کے تحت باہمی انضمام کے ساتھ کام کرتے ہیں۔


اس کے برعکس ہمارے ہاں اداروں کی موجودگی کے باوجود نہ واضح ہم آہنگی ہے اور نہ ہی مؤثر جوابدہی، جس کی وجہ سے نظام بکھرا ہوا محسوس ہوتا ہے۔
اصل مسئلہ یہ ہے کہ ایک ہی بڑے نظام کے اندر موجود یہ تمام ذیلی محکمے آپس میں حقیقی طور پر جڑے ہوئے نہیں ہیں۔ ترقی یافتہ ممالک میں یہی متعدد شعبے System Integration کے تحت کام کرتے ہیں، جہاں ہر ڈپارٹمنٹ ایک دوسرے سے منسلک ہوتا ہے اور ڈیٹا اور فیصلے فوری طور پر ایک سے دوسرے تک منتقل ہوتے ہیں۔ ہمارے ہاں صورتحال یہ ہے کہ ہر شعبہ اپنی حد تک کمپیوٹرائزڈ ضرور ہے، مگر ان سب کو آپس میں جوڑنے والا کوئی مؤثر Integrated System موجود نہیں۔ نتیجتاً ایک سادہ کام بھی ایک دفتر سے دوسرے، پھر تیسرے اور چوتھے محکمے تک گھومتا رہتا ہے، اور اسی عمل میں عام آدمی کی سانسیں اکھڑ جاتی ہیں۔ یوں ایک جگہ کی خرابی پورے نظام کو متاثر کرتی ہے اور مسئلہ صرف بجلی بنانے تک محدود نہیں رہتا بلکہ پورا ڈھانچہ ہی ناکامی کی علامت بن جاتا ہے۔


ہمارا پورا بجلی کا نظام اس طرح ترتیب دیا گیا ہے کہ جہاں ہر ادارہ اپنی کوتاہی کا بوجھ آگے منتقل کر دیتا ہے لیکن آخر میں یہ بوجھ صارف پر آ گرتا ہے۔
ہمارے ہاں “پاس تھرو” ماڈل کے تحت ڈسٹری بیوشن کمپنیوں کو اپنی نااہلی کی قیمت خود ادا نہیں کرنی پڑتی بلکہ لائن لاسز، بجلی چوری اور ناقص کارکردگی کا نقصان ٹیرف ایڈجسٹمنٹ کے ذریعے عام شہری کے بل میں شامل کر دیا جاتا ہے۔ اسی طرح کیپیسٹی پیمنٹس کے معاملے میں ایک طرف ریاستی معاہدوں کا جواز پیش کیا جاتا ہے اور دوسری طرف صارف سے ایسی بجلی کی قیمت وصول کی جاتی ہے جو اس نے استعمال ہی نہیں کی۔ جب بل ادا نہیں ہوتے تو وہ گردشی قرضے میں بدل جاتے ہیں، اور اس قرضے پر لگنے والا سود دوبارہ عوام سے ہی وصول کیا جاتا ہے، یوں ایماندار صارف بھی دوسروں کی نااہلی اور چوری کی قیمت ادا کرتا ہے۔
دوسری جانب قانون سازی کاغذ پر مضبوط ہونے کے باوجود عملدرآمد اس قدر پیچیدہ اور غیر مؤثر ہے کہ عام آدمی شکایت کے عمل میں ہی تھک جاتا ہے۔


پاکستان کے بجلی کے نظام سے منسلک اداروں کی یہ طویل فہرست دیکھ لیجیے، سب بظاہر ایک ہی کام کر رہے ہیں، مگر عوام کی حالت یہ ہے کہ مہنگی بجلی، خراب سروس اور مسلسل مسائل کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ ہے۔ جو درپیش ہے۔



1۔ وزارتِ توانائی (Power Division)
پالیسی سازی اور مجموعی نگرانی
2۔ نیپرا (NEPRA)
ریگولیشن، ٹیرف اور لائسنسنگ
3۔ سی پی پی اے جی (CPPA-G)
بجلی کی خرید و فروخت اور مارکیٹ آپریشن
4۔ این ٹی ڈی سی (NTDC)
ٹرانسمیشن یعنی بجلی کو پاور پلانٹس سے آگے پہنچانا
5۔ ڈسٹری بیوشن کمپنیاں (DISCOs)
صارفین تک بجلی کی تقسیم اور بلنگ
6۔ کے الیکٹرک (K-Electric)
کراچی میں مکمل نظام یعنی پیداوار، ترسیل اور تقسیم
7۔ سرکاری پاور پلانٹس (GENCOs)
حکومتی بجلی گھر
8۔ آئی پی پیز (IPPs)
نجی پاور پلانٹس جو معاہدوں کے تحت بجلی پیدا کرتے ہیں
9۔ واپڈا (WAPDA)
ہائیڈرو پاور اور ڈیمز کی ترقی
10۔ پی پی آئی بی (PPIB)
نجی بجلی منصوبوں کی سہولت کاری
11۔ اے ای ڈی بی (AEDB)
قابلِ تجدید توانائی کی ترقی
12۔ اوگرا (OGRA)
گیس اور تیل کی ریگولیشن
13۔ پی ایس او (PSO)
پاور پلانٹس کو ایندھن کی فراہمی
14۔ ایس این جی پی ایل / ایس ایس جی سی
گیس کی سپلائی جو بجلی بنانے میں استعمال ہوتی ہے
15۔ نیشنل پاور کنٹرول سینٹر (NPCC)
ریئل ٹائم میں پورے نظام کو بیلنس کرنا
16۔ صوبائی توانائی محکمے
صوبائی سطح پر توانائی منصوبے
17۔ پاکستان اٹامک انرجی کمیشن (PAEC)
جوہری بجلی کی پیداوار
18۔ کیپٹو پاور پلانٹس (Industries)
فیکٹریوں کی اپنی بجلی پیدا کرنے کی سہولت
19۔ کوجنریشن اور ویسٹ ہیٹ پلانٹس
شوگر، سیمنٹ اور دیگر صنعتوں کی اضافی بجلی پیداوار
20۔ نیٹ میٹرنگ صارفین (Solar)
گھریلو اور کمرشل سطح پر بجلی پیدا کر کے گرڈ میں دینا
21۔ لوکل گورنمنٹ / میونسپل ادارے
سٹریٹ لائٹس اور شہری انفراسٹرکچر
22۔ کنٹونمنٹ بورڈز
مخصوص علاقوں میں بجلی کا انتظام
23۔ ہاؤسنگ سوسائٹیز / پرائیویٹ نیٹ ورکس
اندرونی تقسیم کا نظام
(باقی اگلی قسط میں)

ہم قارئین کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ پاکستان میں بجلی کے نظام اور بجلی کے بلوں پر کی جانے والی اس سنجیدہ، تحقیق پر مبنی پلیٹ فارم کا حصہ بنیں۔ ہم اس پورے نظام پر ایک جامع وائٹ پیپر تیار کر رہے ہیں جسے حتمی شکل دے کر متعلقہ حکومتی اداروں تک پہنچایا جائے گا تاکہ پالیسی سطح پر حقیقی اصلاح کی راہ ہموار ہو سکے۔ ہم صرف مسائل کی نشاندہی پر یقین نہیں رکھتے بلکہ حل کی جانب پیش قدمی ہمارا نصب العین ہے۔
یہ ایک اجتماعی کوشش ہے، اور ہمیں ایسے افراد کی ضرورت ہے جو اس مکالمے میں سنجیدگی کے ساتھ ہمارا ساتھ دیں۔

0
Views
11
3

مزید مضامین

Image

قومی تحقیقاتی سلسلہ | قسط 10موضوع: پاکستان کا بجلی کا نظام کیسے ٹھیک ہو گا[مہنگے بجلی کے بلوں ...

(اردو)
Image

ہمارا بجلی کا نظام کیسے ٹھیک ہو گا؟؟ (قسط: 9) ▫️کیا واقعی پاکستان کی بجلی کی سالانہ ضرورت 40 ہز...

(اردو)
Image

ہمارا بجلی کا نظام کیسے ٹھیک ہو گا؟ قسط: 8 پاکستان میں شوگر ملوں کے گنے کے پھوک سے چلنے والے پا...

(اردو)
Image

ایک ہی پانی سے بننے والی بجلی: سرکاری اور نجی آئی پی پیز کے نرخوں میں دوگنا سے زائد فرق واضح نظر...

(اردو)
Image

جب ہم نیوکلیئر پاور ہیں تو پھر ہم نیوکلیئر بجلی زیادہ مقدار میں کیوں نہیں بناتے؟ ▫️ایٹمی طاقت ...

(اردو)