جب ہم نیوکلیئر پاور ہیں تو پھر ہم نیوکلیئر بجلی زیادہ مقدار میں کیوں نہیں بناتے؟
ہمارا بجلی کا نظام کیسے ٹھیک ہو گا ؟ (قسط: 6)
نیوکلیئر بجلی پر بات کرنے سے پہلے ضروری ہے کہ ہم انرجی مکس (Energy Mix) کو سمجھیں
انرجی مکس دراصل ایک ملک کی “توانائی کی پورٹ فولیو رپورٹ” ہوتی ہے، جس میں یہ دیکھا جاتا ہے کہ ملک میں بجلی کن ذرائع سے آ رہی ہے اور کس ذریعے کا تناسب کیا ہے۔
مثال کے طور پر پاکستان کا بجلی کا انرجی مکس 12 بنیادی ذرائع پر مشتمل ہے، جو یہ ہیں:
1۔ پن بجلی (Hydel)
2۔ نیوکلیئر توانائی (Nuclear)
3۔ مقامی گیس (Natural Gas)
4۔ ایل این جی (RLNG)
5۔ مقامی کوئلہ (Local Coal)
6۔ درآمدی کوئلہ (Imported Coal)
7۔ فرنس آئل (Furnace Oil)
8۔ ڈیزل / ہائی اسپیڈ ڈیزل (High Speed Diesel)
9۔ ونڈ (Wind)
10۔ سولر (Solar)
11۔ بگاس (Bagasse)
12۔ ایران سے بجلی کی درآمد (Import from Iran)
آئیے اب ہم فروری 2026 کے اعداد و شمار پر نظر ڈالتے ہیں، تاکہ یہ سمجھا جا سکے کہ پاکستان کا انرجی مکس عملی طور پر کیسا دکھائی دیتا ہے اور بجلی کن ذرائع سے کس تناسب میں حاصل ہوئی۔
1۔ پن بجلی (Hydel) 23.16 فیصد
2۔ نیوکلیئر توانائی (Nuclear) 18.83 فیصد
3۔ مقامی کوئلہ (Local Coal) 15.99 فیصد
4۔ درآمدی کوئلہ (Imported Coal) 14.95 فیصد
5۔ مقامی گیس (Natural Gas) 11.52 فیصد
6۔ ایل این جی (RLNG) 9.47 فیصد
7۔ ہوا سے بجلی (Wind) تقریباً 3.26 فیصد
8۔ شمسی توانائی (Solar) تقریباً 1.20 فیصد
9۔ بگاس (Bagasse) تقریباً 1.18 فیصد
10۔ ایران سے درآمد (Iran Import) 0.45 فیصد
11۔ فرنس آئل / ڈیزل (Furnace Oil / Diesel) 0 فیصد
فروری 2026 کے اعداد و شمار سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ پاکستان کی زیادہ تر بجلی سستے اور مقامی ذرائع جیسے پانی، نیوکلیئر، تھر کوئلہ اور گیس سے آتی ہے، جو تقریباً پچھتر فیصد بنتی ہے۔ تقریباً 20 فیصد بجلی مہنگے درآمدی ذرائع جیسے ایل این جی (RLNG) اور امپورٹڈ کوئلے سے آ رہی ہے اور تقریباً 5 فیصد بجلی قابلِ تجدید ذرائع جیسے ونڈ، سولر اور بگاس سے حاصل ہو رہی ہے، اور 0 فیصد فرنس آئل و ڈیزل سے۔
اگر ہم ان ذرائع کی اوسطاً فی یونٹ لاگت دیکھیں تو وہ یہ ہے:
1۔ پن بجلی (Hydel) تقریباً 3 سے 6 روپے فی یونٹ
2۔ نیوکلیئر توانائی (Nuclear) تقریباً 2 سے 4 روپے فی یونٹ
3۔ مقامی گیس (Natural Gas) تقریباً 8 سے 12 روپے فی یونٹ
4۔ ایل این جی (RLNG) تقریباً 20 سے 30 روپے فی یونٹ
5۔ مقامی کوئلہ (Local Coal) تقریباً 10 سے 15 روپے فی یونٹ
6۔ درآمدی کوئلہ (Imported Coal) تقریباً 18 سے 25 روپے فی یونٹ
7۔ فرنس آئل (Furnace Oil) تقریباً 30 سے 40 روپے فی یونٹ
8۔ ڈیزل (High Speed Diesel) 40 روپے سے زائد فی یونٹ
9۔ ونڈ (Wind) تقریباً 10 سے 15 روپے فی یونٹ
10۔ سولر (Solar) تقریباً 8 سے 12 روپے فی یونٹ
11۔ بگاس (Bagasse) تقریباً 8 سے 14 روپے فی یونٹ
12۔ ایران سے درآمد (Import from Iran) تقریباً 20 سے 30 روپے فی یونٹ
ان اعداد و شمار سے یہ بات بالکل واضح ہو جاتی ہے کہ سب سے سستی بجلی نیوکلیئر توانائی سے حاصل ہوتی ہے جو تقریباً 2 سے 4 روپے فی یونٹ پڑتی ہے، اس کے بعد پن بجلی آتی ہے جو تقریباً 3 سے 6 روپے فی یونٹ ہے۔ پھر مقامی گیس تقریباً 8 سے 12 روپے فی یونٹ اور مقامی کوئلہ تقریباً 10 سے 15 روپے فی یونٹ میں بجلی فراہم کرتے ہیں۔ اس کے برعکس مہنگے ذرائع میں ایل این جی تقریباً 25 سے 30 روپے فی یونٹ اور درآمدی کوئلہ تقریباً 18 سے 25 روپے فی یونٹ پڑتا ہے، جبکہ فرنس آئل سے بجلی کی لاگت اوسطاً 30 سے 33 روپے فی یونٹ تک پہنچ جاتی ہے اور ڈیزل اس سے بھی زیادہ یعنی 40 روپے فی یونٹ سے اوپر جا سکتا ہے۔
تو پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہماری توانائی پالیسی کی سمت نیوکلیئر جیسے سستے اور پائیدار ذرائع کی طرف کیوں نہ گئی؟ جب آج سے 30 سال پہلے آئی پی پیز کو دعوت دی گئی اور مہنگے درآمدی ایندھن پر مبنی پلانٹس لگائے گئے، تو اسی وقت یہ بھی ممکن تھا کہ طویل المدتی بنیادوں پر نیوکلیئر اور دیگر سستے ذرائع میں سرمایہ کاری کی جاتی۔
اگر ایسا کیا جاتا تو آج بجلی کی لاگت کہیں کم اور نظام کہیں زیادہ مستحکم ہوتا۔ مگر پالیسی سازی میں فوری فائدے اور قلیل مدتی فیصلوں کو ترجیح دی گئی، جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ نظام مہنگے ذرائع پر کھڑا ہو گیا اور اس کا بوجھ وقت کے ساتھ بڑھتا چلا گیا۔
پاکستان میں نیوکلیئر توانائی واقعی ایک سستا اور مستحکم ذریعہ ہے، لیکن اسے بڑھانا کئی وجوہات کی بنا پر محدود ہے۔ سب سے پہلی بات یہ ہے کہ نیوکلیئر پاور پلانٹ بنانا انتہائی مہنگا اور وقت طلب ہوتا ہے، ایک پلانٹ بنانے میں عموماً 8 سے 12 سال لگ جاتے ہیں اور اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری درکار ہوتی ہے۔ دوسری اہم بات بین الاقوامی پابندیاں اور ٹیکنالوجی تک رسائی ہے، کیونکہ پاکستان نیوکلیئر سپلائرز گروپ (NSG) کا حصہ نہیں ہے، اس لیے اسے کھل کر عالمی مارکیٹ سے نیوکلیئر ٹیکنالوجی یا فیول حاصل نہیں ہو سکتا، زیادہ تر تعاون چین تک محدود ہے۔
تیسری بات یہ ہے کہ نیوکلیئر بجلی ایک “بیس لوڈ” (Base Load) ذریعہ ہوتی ہے، یعنی یہ مسلسل ایک ہی سطح پر بجلی دیتی ہے، اسے فوری طور پر کم یا زیادہ نہیں کیا جا سکتا، جبکہ ہمارے نظام کو لچکدار (Flexible) ذرائع بھی چاہیے ہوتے ہیں تاکہ طلب کے مطابق سپلائی کو ایڈجسٹ کیا جا سکے۔
ہم نے اپنے آرٹیکل کے آغاز میں یہ سوال اٹھایا تھا کہ اگر پاکستان ایک نیوکلیئر ملک ہے تو ہم سستی نیوکلیئر بجلی سے بھرپور فائدہ کیوں نہیں اٹھاتے؟
بہت سے قارئین یہ سمجھتے ہیں کہ ایٹم بم بنانے والی ٹیکنالوجی سے ہی بجلی بھی آسانی سے حاصل کی جا سکتی ہے، حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ دفاعی نیوکلیئر پروگرام اور سول نیوکلیئر توانائی دو بالکل الگ نظام ہیں، اور ایک کی ٹیکنالوجی کو براہ راست دوسرے میں استعمال نہیں کیا جا سکتا۔
دنیا میں کئی ایسے ممالک موجود ہیں جو نیوکلیئر ہتھیار نہیں بھی رکھتے مگر نیوکلیئر بجلی پیدا کر رہے ہیں، جیسے جاپان، جنوبی کوریا، اور کینیڈا۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ اصل مسئلہ صلاحیت کا نہیں بلکہ پالیسی اور ترجیحات کا ہے، اگر ہمارے ملک میں بروقت فیصلہ سازی کی جاتی تو آج ہمارے نیشنل گرڈ میں نیوکلیئر بجلی کا حصہ کہیں زیادہ ہو سکتا تھا۔
پاکستان میں نیوکلیئر پاور کی تاریخ کا جائزہ لیا جائے تو یہ واضح ہوتا ہے کہ پاکستان میں نیوکلیئر پاور کا آغاز K 1 سے ہوا، جس کی تعمیر 1966 میں شروع ہوئی، 1971 میں اس میں criticality حاصل ہوئی یعنی ایٹمی ردِ عمل خود بخود مسلسل قائم ہو گیا، اور 1972 میں اس کا افتتاح کیا گیا۔ اس کے بعد چین کے تعاون سے چشمہ میں مرحلہ وار چار پلانٹس لگائے گئے، جن میں چشمہ 1، 2، 3 اور 4 شامل ہیں، جبکہ کراچی میں مزید K 2 اور K 3 تعمیر کیے گئے، جو بڑے اور جدید نیوکلیئر پلانٹس ہیں۔
نیوکلیئر پاور پلانٹس عام پاور پلانٹس کی طرح ہر جگہ نہیں لگائے جا سکتے، کیونکہ انہیں ٹھنڈا رکھنے کے لیے بڑی مقدار میں پانی درکار ہوتا ہے۔ یہ پانی دراصل ری ایکٹر کو ٹھنڈا رکھنے اور پیدا ہونے والی حرارت کو محفوظ طریقے سے خارج کرنے کے لیے استعمال ہوتا ہے، اسی لیے یہ یا تو سمندر کے قریب بنائے جاتے ہیں جیسے کراچی میں، یا بڑے دریا کے قریب جیسے چشمہ میں۔
اس وقت پاکستان ان تمام پلانٹس سے مجموعی طور پر تقریباً 3500 سے 3600 میگاواٹ بجلی حاصل کر رہا ہے، جو ایک اہم اور نسبتاً سستا ذریعہ ہے، مگر اس کے باوجود انہیں محدود رفتار سے ہی بڑھایا گیا، اسی وجہ سے یہ آج بھی ہمارے انرجی مکس کا بڑا حصہ نہیں بن سکے۔
یہاں یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ پاکستان میں نیوکلیئر پاور پلانٹس مکمل طور پر حکومتی کنٹرول میں ہیں اور انہیں پاکستان اٹامک انرجی کمیشن چلاتا ہے، یہ روایتی آئی پی پیز کی طرح نجی شعبے کے تحت نہیں ہوتے۔ اس سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ ہمارے ہاں مسئلہ صرف بجلی بنانے کی صلاحیت کا نہیں رہا، بلکہ اصل بات یہ ہے کہ ہم نے اس شعبے کو جتنی اہمیت دینی چاہیے تھی، وہ نہیں دی، اور مختلف رکاوٹوں کی وجہ سے اسے اس حد تک نہیں بڑھایا جا سکا جہاں یہ واقعی بڑا کردار ادا کر سکتا۔
اس پورے پس منظر سے ایک اہم سبق ہمارے سامنے یہ آتا ہے کہ اگر 1990 کی دہائی اور اس کے بعد کے ادوار میں مہنگے درآمدی ایندھن پر مبنی آئی پی پیز کے بجائے نیوکلیئر اور پن بجلی جیسے سستے اور مستقل ذرائع کو ترجیح دی جاتی تو آج پاکستان نہ صرف توانائی بحران سے بڑی حد تک محفوظ ہوتا بلکہ بجلی کی قیمتیں بھی کہیں زیادہ متوازن ہوتیں۔
(جاری ہے، باقی اگلی قسط میں)
🔸 ہم قارئین کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ پاکستان میں بجلی کے نظام اور بجلی کے بلوں پر کی جانے والی اس سنجیدہ، تحقیق پر مبنی پلیٹ فارم کا حصہ بنیں۔ ہم اس پورے نظام پر ایک جامع وائٹ پیپر تیار کر رہے ہیں جسے حتمی شکل دے کر متعلقہ حکومتی اداروں تک پہنچایا جائے گا تاکہ پالیسی سطح پر حقیقی اصلاح کی راہ ہموار ہو سکے۔ ہم صرف مسائل کی نشاندہی پر یقین نہیں رکھتے بلکہ حل کی جانب پیش قدمی ہمارا نصب العین ہے۔