ایک ہی پانی سے بننے والی بجلی: سرکاری اور نجی آئی پی پیز کے نرخوں میں دوگنا سے زائد فرق واضح نظر آتا ہے۔
ہمارا بجلی کا نظام کیسے ٹھیک ہو گا؟ قسط 7
اس قسط میں ہم خاص طور پر پن بجلی یعنی ہائیڈرو پاور پر توجہ دیں گے اور یہ دیکھیں گے کہ پاکستان میں آج کل پانی سے کتنے میگاواٹ بجلی پیدا ہو رہی ہے، یہ ہمارے انرجی مکس میں کتنا حصہ رکھتی ہے، اور اس کی فی یونٹ لاگت حقیقت میں کتنی بنتی ہے۔
پاکستان کے زیادہ تر نئے ہائیڈرو منصوبے Run of River نوعیت کے ہیں، جن میں پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت محدود ہوتی ہے، اس لیے یہ تربیلا اور منگلا جیسے بڑے ذخیرہ کرنے والے ڈیمز کی طرح مسلسل بجلی فراہم نہیں کر سکتے۔
پاکستان میں ہائیڈرو پاور کی پیداوار موسم کے ساتھ ساتھ بدلتی رہتی ہے، جس کی وجہ سے سردیوں میں یہی سستی بجلی کم ہو جاتی ہے اور سسٹم کو مہنگے ذرائع پر انحصار کرنا پڑتا ہے۔ دوسری جانب جو بات ہائیڈرو پاور میں ہے وہ یہ ہے کہ یہ واحد بڑا ذریعہ ہے جس میں نہ ایندھن کی لاگت ہوتی ہے اور نہ ہی عالمی قیمتوں کے اتار چڑھاؤ کا براہِ راست اثر، مگر اس کے باوجود ہماری حکومت کی زیادہ توجہ پرائیویٹ پاور پلانٹس کی جانب مرکوز ہے۔
پاکستان میں بجلی کی زیادہ سے زیادہ طلب عموماً 40,000 سے 45,000 میگاواٹ کے درمیان رہتی ہے، جبکہ ملک میں ہائیڈرو پاور کی مجموعی صلاحیت 60,000 میگاواٹ سے بھی زیادہ بتائی جاتی ہے۔
مگر اس وقت ہم اس ذریعہ سے صرف 10,000 سے 11,000 میگاواٹ ہائیڈرو بجلی پیدا کر رہے ہیں۔ یہ ظاہر کرتا ہے کہ سستی اور مقامی توانائی کے اس بڑے ذریعے سے ہم مکمل فائدہ نہیں اٹھا پا رہے اور بجلی کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے مہنگے ذرائع اور آئی پی پیز پر انحصار کر چکے ہیں۔
حالانکہ ہائیڈرو پاور ہمارے مجموعی انرجی مکس کا تقریباً 24 سے 30 فیصد حصہ ہے اور یہ بجلی بنیادی طور پر تربیلا، منگلا، غازی بروتھا اور نیلم جہلم جیسے بڑے ڈیمز سے حاصل ہوتی ہے، جو سرکاری ملکیت میں ہیں اور ملک کے سستے ترین توانائی ذرائع میں شمار ہوتے ہیں۔
پاکستان میں بجلی کی طلب موسم کے ساتھ بدلتی رہتی ہے۔ گرمیوں میں یہ طلب عموماً چالیس سے پینتالیس ہزار میگاواٹ تک پہنچ جاتی ہے، جبکہ سردیوں میں کم ہو کر پچیس ہزار سے تیس ہزار میگاواٹ کے درمیان آ جاتی ہے۔
وں کہا جا سکتا ہے کہ ہائیڈرو پاور پانی کی دستیابی کے ساتھ کم زیادہ ہوتی ہے، لیکن یہ ملک کی کل بجلی کی ضرورت کا تقریباً ایک چوتھائی حصہ پورا کر دیتی ہے، جو اس بات کی واضح نشاندہی ہے کہ ہمارے اپنے قدرتی وسائل آج بھی اس نظام کو سہارا دے رہے ہیں۔
پاکستان میں اس وقت متعدد بڑے ہائیڈرو پاور پلانٹس فعال ہیں، جن میں واضح اکثریت سرکاری ادارے واپڈا کے زیر انتظام ہے، جبکہ نجی شعبے یعنی آئی پی پیز کا حصہ محدود ہے اور وہ چند منصوبوں تک محدود ہے۔
آئیے جانتے ہیں پاکستان کے فعال ہائیڈرو پاور پلانٹس کے بارے میں کچھ تفصیل کے ساتھ۔
🔹 سرکاری ہائیڈرو پاور منصوبے (واپڈا و حکومتی)
1۔ تربیلا ڈیم 4888 میگاواٹ ملکیت: واپڈا
2۔ منگلا ڈیم 1310 میگاواٹ ملکیت: واپڈا
3۔ غازی بروتھا 1450 میگاواٹ ملکیت: جی ایچ سی ایل اور حکومت
4۔ نیلم جہلم 969 میگاواٹ ملکیت: واپڈا
5۔ وارسک 243 میگاواٹ ملکیت: واپڈا
6۔ رسول 22 میگاواٹ ملکیت: واپڈا
7۔ چشمہ ہائیڈل 184 میگاواٹ ملکیت: واپڈا
8۔ جناح ہائیڈل 96 میگاواٹ ملکیت: واپڈا
9۔ دوبر خوڑوار 130 میگاواٹ ملکیت: واپڈا
10۔ گولن گول 108 میگاواٹ ملکیت: واپڈا
(نوٹ: داسو فیز ون زیر تعمیر ہے۔)
🔹 نجی ہائیڈرو پاور منصوبے (آئی پی پیز، IPPs)
11۔ کروٹ ہائیڈرو (دریائے جہلم) 720 میگاواٹ ملکیت: چائنا تھری گارجز
12۔ سکی کناری (کاغان، مانسہرہ) 884 میگاواٹ ملکیت: چائنا گژوبا
13۔ گلپور ہائیڈرو (آزاد کشمیر) 102 میگاواٹ ملکیت: کورین کنسورشیم
14۔ لاریب ہائیڈرو (نیو بونگ اسکیپ) 84 میگاواٹ ملکیت: حبکو اور حکومت آزاد کشمیر
15۔ پترنڈ ہائیڈرو (آزاد کشمیر) 147 میگاواٹ ملکیت: سٹار ہائیڈرو، کورین سپانسرز
یہ فہرست واضح کرتی ہے کہ پاکستان کے کل پندرہ بڑے ہائیڈرو پاور منصوبوں میں سے دس سرکاری ملکیت میں ہیں، جبکہ پانچ منصوبے نجی شعبے کے تحت چل رہے ہیں۔ ان پانچ میں سے چار مکمل طور پر غیر ملکی سرمایہ کاروں کی ملکیت ہیں، جبکہ ایک منصوبہ لاریب انرجی لمیٹڈ کے ذریعے حبکو گروپ کی ملکیت ہے، جس کے چیئرمین ایم حبیب اللہ خان ہیں۔
(یہاں یہ یاد رہے کہ پاکستان میں واپڈا کے تقریباً 22 ہائیڈرو پلانٹس ہیں، مگر یہاں صرف بڑے منصوبے شامل کیے گئے ہیں۔)
اب آخر میں ہم اس بحث کی طرف آتے ہیں کہ ایک ہی پانی سے بننے والی بجلی کی قیمت میں اتنا فرق کیوں ہے کہ ایک طرف سرکاری ادارے وہی ہائیڈرو بجلی تقریباً 3 سے 5 روپے فی یونٹ میں فراہم کر رہے ہیں، جبکہ دوسری طرف نجی شعبے کے آئی پی پیز اسی پانی سے بننے والی بجلی کو 8 سے 10 روپے یا اس سے بھی زیادہ قیمت پر فروخت کر رہے ہیں، یعنی تقریباً دو گنا یا اس سے زائد۔
اس فرق کو سمجھنے کے لیے اس کے پس منظر کو سمجھنا ضروری ہے۔ وہ یہ کہ واپڈا کے زیر انتظام پرانے ہائیڈرو پلانٹس جیسے تربیلا اور منگلا کئی دہائیاں پہلے تعمیر ہو چکے ہیں اور ان کی ابتدائی سرمایہ کاری تقریباً پوری طرح ریکور ہو چکی ہے، اس لیے ان کا موجودہ ٹیرف صرف آپریشن اور مینٹیننس اخراجات تک محدود رہ گیا ہے، جس کی وجہ سے وہ یہ بجلی تقریباً 3.8 سے 5 روپے فی یونٹ کے درمیان فراہم کرتے ہیں اور عملاً پورے پاور سیکٹر کو ایک طرح کی پوشیدہ سبسڈی دیتے ہیں۔
اس کے برعکس نجی ہائیڈرو آئی پی پیز حالیہ برسوں میں بھاری سرمایہ کاری، کمرشل قرضوں، اور ڈالر سے منسلک منافع کے ساتھ قائم کیے گئے ہیں، جہاں ان کو 25 سے 30 سال میں اپنی لاگت کے ساتھ منافع بھی واپس حاصل کرنا ہے، اسی لیے ان کے ٹیرف میں حکومت کی جانب سے کیپیسٹی چارجز، انڈیکسیشن، اور ایکسچینج ریٹ ایڈجسٹمنٹ شامل کیے گئے ہیں، جس سے ان کی سطحی یا لیولائزڈ قیمت 7 سے 10 روپے یا اس سے بھی زیادہ بن جاتی ہے اور وقت کے ساتھ مزید بڑھتی رہتی ہے۔
دوسرا یہ کہ ہماری حکومت نے ہائیڈرو پاور پراجیکٹس میں سرمایہ کرنے والوں کو متوجہ کرنے کے لیے 15 سے 17 فیصد تک ‘ریٹرن آن ایکویٹی’ (RoE) کی ضمانت دی ہے (جو کہ ایک high guaranteed return structure کو ظاہر کرتا ہے)۔ ترقی یافتہ ممالک میں یہ شرح محض 6 سے 10 فیصد اور ابھرتی ہوئی معیشتوں میں 10 سے 14 فیصد کے درمیان ہوتی ہے، لیکن پاکستان میں زیادہ ‘رسک پریمیم’ کی وجہ سے یہ منافع نہ صرف زیادہ رکھا گیا ہے بلکہ اسے براہِ راست ڈالر سے بھی منسلک کیا گیا ہے، جس کا مطلب ہے کہ روپے کی قدر میں کمی کے ساتھ ہی بجلی کی قیمت خود بخود بڑھ جاتی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ ایک ہی پانی سے بننے کے باوجود نجی بجلی سرکاری منصوبوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ مہنگی پڑتی ہے۔
(جاری ہے، باقی اگلی قسط میں)
🔸 ہم قارئین کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ پاکستان کے بجلی کے نظام اور مہنگے بجلی کے بلوں کے اسٹرکچر کو سمجھنے اور اسے بہتر بنانے کے لیے ہمارے تحقیق پر مبنی پلیٹ فارم کا حصہ بنیں۔
ہم اس نظام پر ایک جامع وائٹ پیپر تیار کر رہے ہیں جسے حتمی شکل دے کر متعلقہ اداروں تک پہنچایا جائے گا تاکہ پالیسی سطح پر اصلاح ممکن ہو سکے۔
یہ ایک اجتماعی کوشش ہے اور ہمیں ایسے سنجیدہ افراد کی ضرورت ہے جو اپنے اپنے حلقوں میں اس تھنک ٹینک اور ویب پورٹل کا تعارف کرائیں اور ہمارے مضامین کے اقتباسات شیئر کریں تاکہ بجلی کے مہنگے بلوں میں اصلاح کے لیے مؤثر عوامی رائے تشکیل دی جا سکے۔