Home
Image

ہمارا بجلی کا نظام کیسے ٹھیک ہو گا؟؟ (قسط: 9)

کیا واقعی پاکستان کی بجلی کی سالانہ ضرورت 40 ہزار سے 45 ہزار میگاواٹ ہے؟ یہ تاثر آخر کن حلقوں نے اس ملک میں پھیلایا ہے؟
اکنامک سروے آف پاکستان کے مطابق ہماری اوسط سالانہ بجلی کی ضرورت حقیقت میں 12 ہزار سے 15 ہزار میگاواٹ کے درمیان ہے۔
پاکستان میں بجلی کی منصوبہ بندی میں ڈیمانڈ کے مقابلے میں ضرورت سے کہیں زیادہ capacity شامل کی گئی، اور مختلف categories سمیت تقریباً 100 کے قریب IPPs سے معاہدے کیے گئے، حالانکہ یہ تعداد کہیں کم ہو سکتی تھی۔
آج پاکستان ان IPPs اور دیگر پاور پلانٹس کو سالانہ تقریباً 2 سے 2.1 کھرب روپے (تقریباً 7 سے 8 ارب ڈالر) capacity payments کی مد میں ادا کر رہا ہے۔ یہ رقم براہِ راست عوام کے بجلی کے بلوں سے ہر ماہ وصول کی جا رہی ہے، چاہے پلانٹ چل رہا ہو یا بند پڑا ہو۔
ہم اپنے تھنک ٹینک کی جانب سے چیلنج کرتے ہیں کہ اگر ہمارے اعداد و شمار غلط ہیں تو انہیں سرکاری دستاویزات سے ثابت کیا جائے، ورنہ غیر ضروری اور مہنگے IPP معاہدوں کو فوری طور پر renegotiate یا terminate کیا جائے (ماسوائے چند ضروری غیر ملکی معاہدوں کے جن پر پہلے ہی renegotiation جاری ہے)۔
عوام اپنے بجلی کے بلوں میں استعمال شدہ یونٹس کے ساتھ ناقص معاہدوں کی قیمت اپنی دن رات کی محنت کی کمائی سے کیوں دیں؟


پاکستان میں بجلی کے نظام کو سمجھنے کے لیے تین الگ چیزیں ہیں۔ ایک installed capacity یعنی کل ممکنہ پیداوار، جو تقریباً 46 ہزار میگاواٹ ہے (اسے ضرورت نہیں کہا جا سکتا)۔ دوسری peak demand یعنی وقتی بلند طلب، جو گرمیوں میں کبھی کبھار 30 ہزار میگاواٹ تک پہنچ جاتی ہے، مگر صرف چند گھنٹوں یا محدود عرصے کے لیے۔ اور تیسری حقیقی اوسط طلب یعنی سال بھر کی اصل کھپت۔ پچھلے دس سالوں میں یہ اوسط طلب مسلسل تقریباً 10,300 سے 13,400 میگاواٹ کے درمیان رہی ہے۔


یہ دعویٰ کہ پاکستان کو 40000 سے 45000 میگاواٹ بجلی درکار ہے، گزشتہ تین دہائیوں سے مسلسل دہرایا جا رہا ہے، مگر دستیاب سرکاری شواہد اس بیانیے کی تائید نہیں کرتے۔ پاکستان اکنامک سروے جیسے سرکاری ذرائع عام طور پر مالی سال کے پہلے 9 ماہ، یعنی جولائی سے مارچ، کی بجلی کھپت کے اعداد و شمار جاری کرتے ہیں، اور انہی اعداد کو بنیاد بنا کر مجموعی تصویر پیش کی جاتی ہے۔


جب ان 9 ماہ کی کل کھپت کو سالانہ بنیاد پر گھنٹوں میں تقسیم کر کے اوسط demand نکالی جائے تو پاکستان کی حقیقی اوسط طلب تقریباً 12000 میگاواٹ کے قریب بنتی ہے۔ یہ عدد واضح طور پر ظاہر کرتا ہے کہ 40000 یا 45000 میگاواٹ کو مستقل قومی ضرورت کے طور پر پیش کرنا نہ صرف فنی طور پر غلط ہے بلکہ بجلی کی پالیسی سازی کے لیے بھی گمراہ کن ہے۔


اصل میں ہمارے ملک میں capacity، peak demand اور average demand کو ملا کر پیش کیا جاتا ہے، جس سے ایک بڑی غلط فہمی پیدا ہو جاتی ہے، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ مسئلہ بجلی کی کمی نہیں بلکہ نظام کا عدم توازن ہے، جہاں پیداوار، ترسیل اور حقیقی کھپت آپس میں ہم آہنگ نہیں۔


حالانکہ دنیا بھر میں peak demand یعنی بلند ترین وقتی طلب، average demand یعنی سال بھر کی اوسط طلب، اور capacity یعنی مجموعی پیداواری صلاحیت کو الگ الگ سمجھا اور پیش کیا جاتا ہے، انہیں آپس میں ملا کر نہیں دکھایا جاتا، کیونکہ ہر اصطلاح کا اپنا واضح مطلب ہوتا ہے اور پالیسی سازی بھی اسی بنیاد پر کی جاتی ہے۔ مسئلہ ہمارے ہاں یہ پیدا ہوا ہے کہ ان تینوں کو اکثر ایک ہی بیانیے میں ملا دیا جاتا ہے، جس سے عوام کو یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ ملک کو ہر وقت اتنی ہی بجلی درکار ہے جتنی peak demand ہوتی ہے، حالانکہ peak صرف چند گھنٹوں یا مخصوص دنوں کی طلب ہوتی ہے، average پورے سال کی اوسط ہوتی ہے، اور capacity وہ زیادہ سے زیادہ صلاحیت ہے جو سسٹم کے پاس موجود ہوتی ہے۔


اگر ہم پچھلے دس سال کی رپورٹس نکال کر جائزہ لیں اور صرف سادہ انداز میں سال بہ سال کھپت اور اوسط demand کو دیکھیں تو تصویر کافی واضح ہو جاتی ہے۔
آئیے، ایک نظر دیکھتے ہیں۔



حقیقی اوسط Demand (سال بھر کی کھپت سے نکالی گئی اوسط طلب)
پچھلے 10 سال کا رجحان۔
1۔ FY 2024 25 (جولائی تا مارچ، 9 ماہ)
کل کھپت: 80,111 GWh
اوسط طلب: تقریباً 12,000 میگاواٹ
(نوٹ: یہ جولائی تا مارچ کا 9 ماہ کا دورانیہ ہے، یہ قومی سطح کی کل کھپت ہے، کسی مخصوص شہر یا علاقے کی نہیں)
2۔ FY 2023 24
اوسط طلب: تقریباً 12,600 میگاواٹ
3۔ FY 2022 23
اوسط طلب: تقریباً 12,900 میگاواٹ
4۔ FY 2021 22
اوسط طلب: تقریباً 12,800 سے 13,200 میگاواٹ (بلند سطح)
5۔ FY 2020 21
اوسط طلب: تقریباً 12,900 میگاواٹ
6۔ FY 2019 20
اوسط طلب: تقریباً 12,500 میگاواٹ
7۔ FY 2018 19
اوسط طلب: تقریباً 12,000 میگاواٹ
8۔ FY 2017 18
اوسط طلب: تقریباً 11,500 میگاواٹ
9۔ FY 2016 17
اوسط طلب: تقریباً 11,000 میگاواٹ
10۔ FY 2015 16
اوسط طلب: تقریباً 10,300 سے 10,500 میگاواٹ
(ریفرنس ڈیٹا: Economic Survey 2024 25، NEPRA State of Industry Report 2024 25، Pakistan Electricity Review 2025)

یہ اعداد و شمار واضح کرتے ہیں کہ پاکستان کی حقیقی اوسط بجلی کی طلب گزشتہ 10 سالوں سے مسلسل تقریباً 12,000 سے 15,000 میگاواٹ یا اس سے بھی کہیں کم رہی ہے، نہ کہ 40,000 یا 45,000 میگاواٹ جیسا کہ عام طور پر تاثر دیا جاتا ہے۔


ان تمام حقائق کے تناظر میں ایک بنیادی سوال سامنے آتا ہے کہ اگر پاکستان میں تمام نجی پاور پلانٹس یعنی IPPs (وہ پرائیویٹ کمپنیاں جو حکومت کو بجلی بیچتی ہیں) کی مجموعی capacity تقریباً 20,700 میگاواٹ ہے، اور ملک کی اوسط حقیقی ضرورت صرف 12,000 سے 15,000 میگاواٹ کے درمیان ہے، تو اتنی بڑی نجی capacity رکھنے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟

خاص طور پر اس صورت میں جب ان IPPs کو سالانہ کھربوں روپے capacity payments کی مد میں ادا کیے جا رہے ہیں۔ اگر دستیاب capacity کا بڑا حصہ استعمال ہی نہیں ہو رہا تو کیا یہ نظام واقعی عوامی مفاد میں ہے، یا وقت آ گیا ہے کہ اس پر سنجیدگی سے غور کیا جائے؟
(جاری ہے، باقی اگلی قسط میں)


🔸 ہم قارئین کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ پاکستان کے بجلی کے نظام اور مہنگے بجلی کے بلوں کے اسٹرکچر کو سمجھنے اور اسے بہتر بنانے کے لیے ہمارے تحقیق پر مبنی پلیٹ فارم کا حصہ بنیں۔
ہم اس نظام پر ایک جامع وائٹ پیپر تیار کر رہے ہیں جسے حتمی شکل دے کر متعلقہ اداروں تک پہنچایا جائے گا تاکہ پالیسی سطح پر اصلاح ممکن ہو سکے۔
یہ ایک اجتماعی کوشش ہے اور ہمیں ایسے سنجیدہ افراد کی ضرورت ہے جو اپنے اپنے حلقوں میں اس تھنک ٹینک اور ویب پورٹل کا تعارف کرائیں اور ہمارے مضامین کے اقتباسات شیئر کریں تاکہ بجلی کے مہنگے بلوں میں اصلاح کے لیے مؤثر عوامی رائے تشکیل دی جا سکے۔

0
Views
18
9

مزید مضامین

Image

قومی تحقیقاتی سلسلہ | قسط 10موضوع: پاکستان کا بجلی کا نظام کیسے ٹھیک ہو گا[مہنگے بجلی کے بلوں ...

(اردو)
Image

ہمارا بجلی کا نظام کیسے ٹھیک ہو گا؟ قسط: 8 پاکستان میں شوگر ملوں کے گنے کے پھوک سے چلنے والے پا...

(اردو)
Image

ایک ہی پانی سے بننے والی بجلی: سرکاری اور نجی آئی پی پیز کے نرخوں میں دوگنا سے زائد فرق واضح نظر...

(اردو)
Image

جب ہم نیوکلیئر پاور ہیں تو پھر ہم نیوکلیئر بجلی زیادہ مقدار میں کیوں نہیں بناتے؟ ▫️ایٹمی طاقت ...

(اردو)
Image

اس مرتبہ بل جمع کرانے سے پہلے ضرور چیک کریں کہ کہیں آپ انکم ٹیکس فائلر ہونے کے باوجود Extra T...

(اردو)