لاہور میں پانی کے نئے بلوں پر واسا کی طرف سے چسپاں کیے گئے نوٹس نے ایک نئی بحث کو چھیڑ دیا ہے۔
پانی کے نئے بلوں کے ساتھ واسا کا چسپاں یہ ایف آئی آر نوٹس ملاحظہ کیجیے، جس میں صارفین کو ایف آئی آر (FIR) درج کرنے کی اطلاع دی گئی ہے۔
متن کچھ یوں ہے:
آپ WASA بل کے ڈیفالٹر ہیں۔ آپ کے خلاف Punjab WASA Authority Act 2025 کی شق نمبر 27 کے تحت قانونی کارروائی کی جا رہی ہے۔
جس میں آپ کو 5 لاکھ تک جرمانہ اور 1 سال تک قید بھی ہو سکتی ہے۔ نیز FIR اور قانونی کارروائی سے بچنے کے لیے WASA بل کے واجبات کی بروقت ادائیگی کریں اور ادا شدہ بل کی رسید 3 دن کے اندر دفتر پیش کریں یا اس نمبر پر WhatsApp کریں۔
(واضح رہے کہ یہ نوٹس تین ماہ کے روٹین پانی کے بل کے اوپر چسپاں کیا گیا ہے۔)
قانونی طور پر یوٹیلٹی بل ایک سروس کنٹریکٹ کا معاملہ ہے، جس میں صارف نے بجلی، گیس یا پانی استعمال کیا اور اس کے بدلے ادائیگی کرنا اس کی ذمہ داری ہے۔ اگر ادائیگی نہ ہو تو ادارہ کنکشن منقطع کر سکتا ہے، لیٹ فیس عائد کر سکتا ہے یا سول ریکوری کا راستہ اختیار کر سکتا ہے۔ تاہم گھریلو سطح پر معمولی بقایا کو فوجداری معاملہ بنا دینا ایسا قدم ہے جو معاشرے میں غیر ضروری خوف اور بے چینی پیدا کر سکتا ہے۔
ویسے بھی یوٹیلٹی بلز کی عدم ادائیگی بنیادی طور پر ایک سول معاملہ ہے۔ یہ کوئی فوجداری جرم نہیں۔ فوجداری کارروائی عموماً صرف چوری، میٹر ٹیمپرنگ یا فراڈ کی صورت میں ہوتی ہے۔ معمولی بقایا رقم پر ایف آئی آر جیسی زبان استعمال کرنا غیر متناسب اقدام سمجھا جا رہا ہے۔
یہاں ایک بنیادی قانونی سوال یہ بھی ہے کہ محض دو ماہ کا بل ادا نہ کرنے پر کسی شہری کو “ڈیفالٹر” قرار دینا کس قانون اور کس تعریف کے تحت ممکن ہے؟ کیا پنجاب واسا اتھارٹی ایکٹ 2025 میں ڈیفالٹر کی کوئی واضح تعریف موجود ہے؟ عمومی قانونی اصول کے مطابق ڈیفالٹر وہ شخص ہوتا ہے جو ادائیگی سے دانستہ انکار کرے یا بارہا نوٹس کے باوجود واجبات ادا نہ کرے۔ اگر کوئی شہری بیرون ملک ہو، عارضی مالی مشکل میں ہو، یا بل کی رقم سے اختلاف رکھتا ہو تو کیا اسے بغیر سماعت کے ڈیفالٹر قرار دینا منصفانہ ہے؟ کیا واسا کے اندر کوئی باضابطہ اسیسمنٹ یا ریویو میکانزم موجود ہے جو پہلے شہری کا موقف سنے اور پھر اسے ڈیفالٹر ڈیکلیئر کرے،
اگر کسی یوٹیلٹی بل کے ساتھ ایسی زبان میں نوٹس بھیجا جائے جو گرفتاری یا ایف آئی آر کا فوری تاثر دے تو پاکستانی معاشرے میں اس کا اثر محض قانونی نہیں بلکہ نفسیاتی بھی ہوتا ہے۔
ہمارے جوائنٹ فیملی سسٹم میں ایک ہی گھر میں بزرگ، خواتین اور بچے موجود ہوتے ہیں، اور اس نوعیت کی تحریر پورے گھر کے ماحول کو اضطراب اور خوف میں مبتلا کر سکتی ہے، خواہ معاملہ صرف ایک دو ماہ کے بقایا بل کا ہی کیوں نہ ہو۔ کیونکہ ہمارے ہاں ایف آئی آر کا ذکر ایک قانونی اصطلاح نہیں بلکہ سماجی بدنامی، پولیس چکر اور غیر یقینی صورت حال کے طور پر سمجھا جاتا ہے۔ اس لیے ایک عام شہری کے لیے ایسا نوٹس خوف، بے چینی اور ہراسگی کو جنم دے سکتا ہے۔
دنیا بھر میں عوامی خدمات فراہم کرنے والے اداروں سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ شہریوں کے وقار اور سماجی حساسیت کو ملحوظ رکھتے ہوئے مخاطب ہوں۔ کیونکہ بلا ضرورت سخت اور فوجداری طرز کی زبان کو عمومی طور پر ناپسندیدہ سمجھا جاتا ہے، خاص طور پر جب خلاف ورزی معمولی نوعیت کی ہو اور صارف عمومی طور پر ذمہ دار شہری ہو۔
اب سوال یہ ہے کہ کیا بیوروکریسی کا یہ طریقہ کار مریم نواز کی گورننس حکمت عملی کے لیے واقعی سودمند ہے؟
سیاسی تناظر میں دیکھا جائے تو مریم نواز صاحبہ خود کو ایک نرم طرز حکمرانی اور مؤثر ڈیلیوری پر مبنی قیادت کے طور پر پیش کرنا چاہتی ہیں، جس میں ان کا سافٹ امیج ابھر کر سامنے آئے۔
تاہم نچلی سطح پر واسا جیسے اداروں کا جارحانہ اور دھمکی آمیز طرز عمل عوامی سطح پر بے چینی کو جنم دے رہا ہے۔ محکموں میں موجود سخت اور پولیس طرز کا انتظامی رویہ اس نرم حکومتی بیانیے سے ہم آہنگ نظر نہیں آتا جسے حکومت اپنی شناخت کے طور پر اجاگر کرنا چاہتی ہے۔ اور یہی تضاد سیاسی سطح پر گورننس کے بیانیے کو کمزور کر سکتا ہے۔
واسا جیسے اہم عوامی اداروں کو ایف آئی آر جیسی سخت اور غیر ضروری دھمکیوں کے بجائے باوقار اور پیشہ ورانہ طریقہ اختیار کرنا چاہیے۔ اگر واضح نوٹس دیے جائیں، واجبات کی ادائیگی کے لیے آسان اقساط فراہم کی جائیں، غلط بلوں کی فوری ڈیجیٹل درستی کا نظام موجود ہو اور استعمال کے مطابق شفاف میٹرنگ نافذ کی جائے تو شہری ادائیگی کو ناجائز دباؤ نہیں بلکہ اپنی اولین ذمہ داری سمجھیں گے۔
حکومتی اداروں کی کامیابی وصولیوں (Recoveries) میں نہیں بلکہ عوامی اعتماد کے حصول میں ہوا کرتی ہے۔
People who cannot pay small utility bills should not be scared with jail threats. This creates fear and pressure at home. It would be better to offer flexible payment plans and proper communication.