قومی تحقیقاتی سلسلہ | قسط 10
موضوع: پاکستان کا بجلی کا نظام کیسے ٹھیک ہو گا
[مہنگے بجلی کے بلوں کو کیسے سمجھا اور کم کیا جا سکتا ہے۔]
بجلی کہاں گئی؟
اگر یہ بجلی واقعی شوگر ملز کے آئی پی پیز (IPPs) نے پیدا کی تھی تو پھر وہ نیشنل گرڈ تک کیوں نہیں پہنچی؟ یا پھر اسے شوگر ملز نے اپنے ہی کارخانوں میں استعمال کر لیا؟ اگر ایسا ہوا تو پھر گرڈ کو بجلی نہ دینے کے باوجود ادائیگیاں کیوں کی گئیں؟
اور یہ ادائیگیاں قومی خزانے سے ادا کرنے کی بجائے عام عوام کے بجلی کے بلوں میں کیوں شامل کی گئیں؟
حکومت نے گنے کے پھوک سے بننے والی بجلی کی قیمت 15 سے 17 کروڑ روپے فی میگاواٹ ادا کی؟؟
ناقابلِ یقین حقائق
قسط 9 میں ہم نے شوگر ملز سے منسلک پاکستان کے بگاس بیسڈ پاور پلانٹس، ان کی تعداد، ملکیت اور capacity payments کا جائزہ پیش کیا تھا، اب اگر ان منصوبوں کو مجموعی طور پر دیکھا جائے تو ایک اور پہلو سامنے آتا ہے، جو اس سسٹم کی اصل شکل دکھاتا ہے۔
پاکستان میں گنے کے پھوک پر چلنے والے تقریباً 9 بڑے IPPs موجود ہیں جن کی مجموعی capacity تقریباً 240 سے 291 میگاواٹ ہے۔ یعنی یہ پاور پلانٹس کاغذ پر تو تقریباً 300 میگاواٹ capacity کے ہیں، لیکن حقیقت میں سال بھر میں نیشنل گرڈ کو اوسط صرف 70 سے 80 میگاواٹ دیتے ہیں، لیکن پیسے 300 میگاواٹ کے وصول کرتے ہیں۔
مجھے بتایا گیا کہ پاکستان کی 90 شوگر ملوں میں سے جن شوگر ملز نے بہت hudge investment کر کے اپنے سسٹم کی اپ گریڈیشن کی تو نیپرا نے انہیں نیشنل گرڈ میں بجلی جمع کروانے کی اجازت دی، لیکن جب میں نے خود تحقیق کی تو معلوم ہوا کہ شوگر ملز کے بیگاس پر مبنی پاور پلانٹس کے حوالے سے “ہیوج انویسٹمنٹ” کا جو تاثر پیش کیا جاتا ہے، حقیقت میں وہ کسی غیر معمولی ٹیکنالوجی کا نتیجہ نہیں بلکہ پہلے سے موجود مل کے اندرونی نظام کی تکنیکی اپگریڈیشن ہے، جس میں لو پریشر بوائلرز کو ہائی پریشر بوائلرز میں تبدیل کیا گیا، بڑی اور زیادہ مؤثر سٹیم ٹربائنز نصب کی گئیں، اور نیشنل گرڈ سے منسلک ہونے کے لیے ضروری ٹرانسمیشن، سنکرونائزیشن اور میٹرنگ کا سسٹم قائم کیا گیا تاکہ اضافی بجلی فروخت کی جا سکے۔
کیونکہ ضابطے کے مطابق گرڈ کو بجلی دینے والا پاور پلانٹ ایسا ہونا چاہیے جو مسلسل اور قابلِ اعتماد سپلائی دے سکے، اسی لیے نیپرا (NEPRA) ایسے پلانٹس کو ترجیح دیتی ہے جن میں ہائی پریشر کوجنریشن سسٹم ہو اور ضرورت پڑنے پر متبادل ایندھن جیسے کوئلے یا دیگر فیول پر بھی چل سکیں، چنانچہ چند شوگر ملز نے کاغذات اور ڈیزائن کی حد تک خود کو اس معیار کے مطابق اپگریڈ کر لیا اور گرڈ کو بجلی دینے کی اجازت حاصل کر لی، جبکہ زیادہ تر ملز سیزنل بگاس تک محدود رہیں اور اس معیار پر پوری نہ اتر سکیں۔
تاہم اس تمام اپگریڈیشن کے باوجود یہ پلانٹس بنیادی طور پر سیزنل ہی رہے کیونکہ بیگاس صرف گنے کے سیزن میں دستیاب ہوتا ہے، جبکہ حکومت، سنٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (CPPA G) اور نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (NEPRA) انہیں سال بھر محض موجود ہونے کی بنیاد پر ادائیگیاں کرتی رہیں، اسی لیے جب ان 9 بگاس پاور پلانٹس کا جائزہ لیا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ انہیں ایک ہی نوعیت کا “ہائبرڈ” کہنا درست نہیں بلکہ ہر پلانٹ کی تکنیکی اور ریگولیٹری حیثیت مختلف رہی ہے۔
آئیے اب ان پلانٹس کو ایک ایک کر کے مختصر طور پر دیکھتے ہیں:
1۔ Chiniot Power Ltd
یہ منصوبہ ایک مختلف یا پرانے ریگولیٹری فریم ورک کے تحت آیا اور بعد میں اس میں مختلف ایڈجسٹمنٹس کی گئیں، اس لیے اسے عام کیٹیگری میں رکھنا درست نہیں۔
2۔ JDW Sugar Mills Ltd Unit II
یہ بگاس پر مبنی پاور پلانٹ ہے، جس کے ٹیرف ڈھانچے میں متبادل ایندھن سے متعلق حوالہ موجود رہا، تاہم اسے براہ راست operational ہائبرڈ کہنا محتاط نہیں ہوگا۔
3۔ JDW Sugar Mills Ltd Unit III
یہ بھی Unit II کی طرح بگاس بیسڈ پلانٹ ہے، جس کے کمرشل ڈھانچے میں متبادل فیول کا عنصر موجود رہا، مگر اسے مکمل ہائبرڈ کہنا درست نہیں۔
4۔ Al Moiz Industries Ltd
یہ بگاس بیسڈ IPP ہے جس کے ٹیرف میں فیول لاگت کا ایسا ڈھانچہ موجود رہا جس میں متبادل بنیاد شامل تھی، مگر اس کی عملی نوعیت سیزنل بگاس پر ہی مبنی رہی۔
5۔ Chanar Energy Ltd
یہ بھی بگاس بیسڈ پاور پلانٹ ہے جس کے ٹیرف فریم ورک میں متبادل فیول کا حوالہ موجود رہا، مگر اسے یکساں طور پر ہائبرڈ قرار نہیں دیا جا سکتا۔
6۔ Thal Industries Corporation Ltd
یہ ہائی پریشر بگاس کوجنریشن پلانٹ ہے جس کے ڈیزائن میں متبادل فیول کا تصور شامل رہا، مگر اس کی بنیادی آپریشنل بنیاد بگاس ہی رہی۔
7۔ Hamza Sugar Mills Ltd
یہ بگاس بیسڈ پلانٹ ہے جس میں کمرشل سطح پر متبادل فیول کا تصور موجود رہا، مگر عملی پیداوار زیادہ تر سیزنل بگاس تک محدود رہی۔
8۔ RYK Mills Ltd
یہ بھی بگاس بیسڈ IPP ہے جس کے ٹیرف ڈھانچے میں متبادل فیول کا عنصر شامل رہا، مگر اسے مکمل ہائبرڈ کہنا درست نہیں۔
9۔ Shahtaj Sugar Mills Ltd
یہ منصوبہ دیگر سے مختلف تھا کیونکہ یہ چھوٹے پیمانے اور پرانے upfront tariff ماڈل کے تحت قائم ہوا، اور اس کا ٹیرف ڈھانچہ بھی باقی منصوبوں سے الگ رہا۔
خلاصہ یہ ہے کہ ان منصوبوں کو یکساں طور پر “ہائبرڈ پاور پلانٹس” کہنا درست نہیں، حقیقت میں یہ بنیادی طور پر سیزنل بگاس پر مبنی پلانٹس رہے، جبکہ متبادل فیول عملی طور پر مؤثر نہ بن سکا، جس کی واضح دلیل یہ ہے کہ جہاں تقریباً 290 سے 300 میگاواٹ پیداوار متوقع تھی وہاں عملی پیداوار صرف 70 سے 80 میگاواٹ تک محدود رہی، اور یہی فرق اس ماڈل کی بنیادی کمزوری کو ظاہر کرتا ہے۔
گنے کا سیزن چونکہ پورے عرصے میں ایک جیسا نہیں ہوتا، نومبر میں سیزن شروع ہوتا ہے تو ابتدا میں گنا کم آتا ہے، اس لیے پلانٹس بھی جزوی capacity پر چلتے ہیں۔ دسمبر، جنوری اور فروری میں peak سیزن ہوتا ہے جہاں گنا زیادہ آتا ہے اور پلانٹس تقریباً full capacity پر چلتے ہیں۔ پھر مارچ اور اپریل میں دوبارہ گنا کم ہونا شروع ہو جاتا ہے اور پیداوار بھی کم ہو جاتی ہے، جبکہ مئی سے اکتوبر تک بگاس دستیاب نہ ہونے کے باعث یہ پلانٹس تقریباً بند رہتے ہیں۔
لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ جب یہ پلانٹس مکمل بند نہ بھی ہوں، تب بھی جو بجلی پیدا ہوتی ہے اس کا بڑا حصہ خود ان کی شوگر ملز کی اندرونی ضروریات، جیسے کرشنگ، بوائلرز اور دیگر صنعتی عمل، میں استعمال ہو جاتا ہے۔ نتیجتاً نیشنل گرڈ کو فراہم کی جانے والی بجلی نہ صرف محدود ہوتی ہے بلکہ پورے سال میں اس کی فراہمی مسلسل غیر تسلسل کا شکار نظر آتی ہے۔
اب سوال یہ اٹھتا ہے کہ اگر یہ پاور پلانٹس عملی طور پر اپنی مکمل صلاحیت کے مطابق بجلی فراہم نہیں کر سکتے، تو پھر انہیں capacity payments، الگ ٹیرف، ڈالر indexation اور بلند ROE کس بنیاد پر دیا جاتا ہے؟
اس کا جواب پاور سیکٹر کے اس بنیادی ماڈل میں موجود ہے جس کے تحت نیپرا (NEPRA) اور متعلقہ ادارے پاور پلانٹس کو ان کی “installed capacity” یعنی ڈیزائن کے مطابق ممکنہ پیداوار کی بنیاد پر منظور کرتے ہیں، نہ کہ صرف حقیقی پیداوار کی بنیاد پر۔
ان شوگر ملوں کے پاور پلانٹس کو بھی اس مفروضے کے تحت approve کیا گیا کہ یہ سیزن میں بگاس پر چلیں گے اور آف سیزن میں متبادل ایندھن پر بھی بجلی فراہم کر سکیں گے، جس سے یہ سال بھر ایک حد تک دستیاب رہیں گے۔ اسی تصور کی بنیاد پر ان کا ٹیرف، capacity payments، ڈالر indexation اور ROE طے کیے گئے تاکہ انہیں اس سرمایہ کاری میں کشش ملے۔
تاہم عملی سطح پر یہ مفروضہ حقیقت میں تبدیل نہ ہو سکا۔ زیادہ تر پاور پلانٹس نے سیزنل بگاس تک ہی بجلی دی، جبکہ آف سیزن متبادل ایندھن پر پیداوار محدود رہی۔
اب ایک اہم سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب یہ منصوبے اپنی طے شدہ پیداوار کے مطابق کارکردگی نہیں دکھا سکے، تو کیا ان کے خلاف کوئی کارروائی کی گئی؟ کیا انہیں کوئی سزا دی گئی، یا کم از کم ان کی capacity payments کیوں نہ روک دی گئیں؟
عملی طور پر پاور سیکٹر میں پاور پرچیز ایگریمنٹس اور ٹیرف میکنزم اس انداز سے تشکیل دیے گئے ہیں کہ capacity payments پیداوار کے بجائے پلانٹ کی دستیابی کے معیار سے مشروط ہوتی ہیں، یعنی ادائیگی کا دارومدار اس بات پر ہوتا ہے کہ پلانٹ بجلی فراہم کرنے کے لیے تیار ہے یا نہیں، نہ کہ اس نے حقیقت میں کتنی بجلی پیدا کی؟
اگر کوئی پاور پلانٹ تکنیکی طور پر دستیاب ہو اور بجلی فراہم کرنے کے لیے تیار ہو، تو اسے ادائیگی کی جاتی ہے، چاہے اس سے مکمل پیداوار حاصل کی جائے یا نہیں۔ اسی لیے صرف اس بنیاد پر کہ پیداوار کم رہی، capacity payments کو مکمل طور پر روک دینا ان معاہدوں کے ڈرافٹ کی وجہ سے ممکن نہیں رہا۔
یعنی یہ ماڈل کچھ یوں ہے جیسے آپ کسی ٹرانسپورٹ کمپنی کے ساتھ معاہدہ کریں کہ وہ آپ کے لیے ہر وقت 10 بسیں تیار رکھے گی۔ چاہے مسافر ہوں یا نہ ہوں، چاہے بسیں چلیں یا کھڑی رہیں، آپ کو ان کی “تیاری” کا کرایہ دینا ہی ہوگا۔ اب اگر عملی طور پر صرف 3 یا 4 بسیں ہی چلنے کے قابل ہوں لیکن چالاک ٹرانسپورٹر وہاں ناکارہ بسیں لا کر کھڑا کر دے تو بھی باقی بسوں کی ادائیگی جاری رہتی ہے کیونکہ معاہدہ “چلنے” پر نہیں بلکہ “دستیاب ہونے” پر کیا گیا تھا۔
اسی طرح پاور سیکٹر میں بھی ادائیگی پیداوار پر نہیں بلکہ دستیابی پر کی جاتی ہے۔
پاور پلانٹس کو پیمنٹس کی ادائیگی کا ماڈل کسی حد تک پاکستان کے اس بدنام زمانہ گھوسٹ اسکول سسٹم کی یاد دلاتا ہے، جہاں اسکول موجود نہیں ہوتے مگر ہمارے تعلیمی بجٹ سے فرضی اساتذہ کو تنخواہیں دی جاتی ہیں، یہاں پلانٹس موجود ہیں مگر مطلوبہ بجلی گرڈ تک جاتی نظر نہیں آتی، لیکن ادائیگیاں بدستور جاری رہتی ہیں۔
مالی سال 2024 25، یعنی یکم جولائی 2024 سے 30 جون 2025 کے دوران نیپرا اور سنٹرل پاور پرچیزنگ اتھارٹی کے دستیاب سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 9 شوگر مل بیسڈ بگاس پاور پلانٹس کو کی جانے والی ادائیگیوں کا جائزہ میں آپ کے سامنے رکھ رہا ہوں۔
ان 9 پاور پلانٹس کی مجموعی منظور شدہ صلاحیت تقریباً 240 سے 290 میگاواٹ تھی، لیکن اس کے برعکس بجلی کی مجموعی پیداوار صرف 60 سے 70 میگاواٹ رہی، لیکن ان کو ادائیگیاں مکمل صلاحیت کے مطابق جاری رہیں، جن میں تقریباً 6.9 ارب روپے capacity payments اور تقریباً 3 سے 3.5 ارب روپے بجلی کی پیداوار کی مد میں ادا کیے گئے، یوں مالی سال 2024 2025 میں مجموعی ادائیگی تقریباً 10 سے 10.5 ارب روپے تک پہنچ گئی، جس کا سیدھا مطلب یہ ہے کہ بڑی رقم ان 9 پاور پلانٹس کو ایسی بجلی کے لیے دی گئی جو عملی طور پر پیدا ہی نہیں ہوئی تھی۔
اور اگر اس رقم کو 9 پاور پلانٹس پر اوسطاً تقسیم کیا جائے تو فی پلانٹ تقریباً 75 سے 80 کروڑ روپے capacity payments اور 30 سے 40 کروڑ روپے energy payments کی صورت میں، مجموعی طور پر تقریباً 110 سے 120 کروڑ روپے فی شوگر پاور پلانٹ ادا کیے گئے۔
یعنی تقریباً 10 ارب سے 10.5 ارب روپے کی ادائیگی کے بعد نیشنل گرڈ کو صرف 60 سے 70 میگاواٹ بجلی حاصل ہوئی، اور اگر اس کی اوسط قیمت نکالی جائے تو فی میگاواٹ سالانہ لاگت تقریباً 14 سے 17 کروڑ روپے بنتی ہے، یعنی اوسطاً قریب 15 کروڑ روپے فی میگاواٹ، الامان والحفیظ۔
نوٹ: بعض سرکاری اور میڈیا رپورٹس میں نظرِ ثانی شدہ معاہدے 8 بگاس پاور پلانٹس کے ساتھ ظاہر کیے گئے ہیں، جبکہ بعض دیگر حوالوں میں مجموعی بگاس بیسڈ IPPs کی تعداد 9 بتائی گئی ہے۔ اس تحریر میں مجموعی تجزیے کے لیے 9 پلانٹس کی تعداد اختیار کی گئی ہے۔
یہ صورتحال اس لیے اور زیادہ تشویشناک ہے کہ یہ بجلی بگاس جیسے انتہائی کم لاگت کے مقامی ایندھن، یعنی گنے کے پھوک، سے پیدا ہوئی تھی، مگر اس کے باوجود اس کی قیمت درآمدی ایندھن جیسے کوئلے یا فرنس آئل کے برابر، بلکہ بعض صورتوں میں اس سے بھی زیادہ رہی ہے۔
اندازہ لگائیے کہ بگاس، جو ایک بے قیمت زرعی فضلہ ہے اور ہمارے ہاں کسان گنے کے اس سوکھے پھوک کو سردیوں میں جلا کر ہاتھ تاپتے تھے، ہمارے بجلی کے نظام میں اس طرح شامل کیا گیا کہ اس سے پیدا ہونے والی بجلی کے ٹیرف کا بڑا حصہ ڈالر کے ساتھ منسلک ہو گیا، یعنی اگر ملک میں ڈالر 280 روپے کا تھا تو اس بجلی کی ادائیگی بھی اسی تناسب سے بڑھتی تھی، اور اگر ڈالر 300 روپے تک پہنچ جاتا تو ادائیگیاں خود بخود اوپر چلی جاتی تھیں۔ یوں ایک کم لاگت مقامی ایندھن بھی عملی طور پر ڈالرائزڈ نظام کا حصہ بن گیا یعنی جان بوجھ کر ریگولیٹری فریم ورک کے تحت زیرو لاگت مقامی ایندھن کو ایسے ٹیرف میں شامل کیا گیا جس نے سرمایہ کار کے رسک کو کم کیا اور اس کے ممکنہ منافع کے تحفظ کو یقینی بنایا، جبکہ اس کا مالی بوجھ بالآخر بجلی کے صارفین پر منتقل ہو گیا۔
دلچسپ بات یہ بھی ہے کہ اسی عرصے میں شوگر ملز کسان سے گنا تقریباً 8,000 سے 10,000 روپے فی ٹن کے حساب سے خرید رہی تھیں، مگر اسی گنے سے نکلنے والا یہی بگاس (پھوک) جب پاکستان کے اس انوکھے سسٹم میں داخل ہوا تو اس کی مالیاتی قدر اور قیمت خود گنے کی قیمت سے بھی اوپر جا پہنچیں، یوں اس پھوک کی قیمت اور قدر کا گنے کی قیمت سے بھی زیادہ دکھائی دیا جانا ایک المیہ نہیں تو کیا ہے؟
نتیجہ یہ نکلا کہ جس اصل پیداوار (Primary Product) سے چینی تیار ہو رہی تھی، اسی کے بائی پروڈکٹ (By Product) یعنی بگاس سے بجلی بن رہی تھی، مگر یہ بائی پروڈکٹ کئی صورتوں میں پرائمری پراڈکٹ سے بھی زیادہ منافع بخش ثابت ہوئی اور یہ واقعی شوگر مل مالکان کی ایک غیر معمولی خوش نصیبی تھی۔
لیکن حیران کن امر یہ ہے کہ اس غیر معمولی منافع کے باوجود شوگر مل مالکان اور بگاس بیسڈ پاور پراجیکٹس نے اپنے ٹیرف اور مالی مفادات کے تحفظ کے لیے ریگولیٹری اداروں اور عدالتوں سے بھی رجوع کیا، جہاں ان کا بنیادی مؤقف یہی رہا کہ بگاس کی قدر کو زیادہ تسلیم کیا جائے تاکہ بجلی کی قیمت میں مزید گنجائش پیدا ہو سکے۔
اسی دوران بجلی کی قیمتیں مسلسل بڑھتی رہیں، یہاں تک کہ شدید عوامی ردعمل کے بعد حکومت کو مداخلت کرنا پڑی اور ریٹرن آن ایکویٹی کو تقریباً 168 روپے فی ڈالر کے حساب سے محدود کرنے کی سمت میں قدم اٹھایا گیا۔
مگر اس کے باوجود بنیادی سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ ایک ایسے سستے مقامی ایندھن کو آخر کیوں ایک ایسے مالیاتی ڈھانچے میں شامل کیا گیا جس نے اسے مہنگے درآمدی ایندھن کے قریب لا کھڑا کیا۔
قارئین کرام!
اب جبکہ اس مضمون میں بگاس بیسڈ پاور پلانٹس، ان کی ادائیگیوں، حقیقی پیداوار اور پالیسی تضادات کی ایک واضح تصویر سامنے آ چکی ہے، تو اس سے اٹھنے والے 15 سوالات کا جواب آخر ہمیں کون دے گا؟
کیا حکومت کی وزارت توانائی دے گی؟ کیا نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (NEPRA) دے گی؟ کیا سنٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (CPPA G) دے گی؟ کیا شوگر مل مالکان دیں گے؟ یا پھر ہمیشہ کی طرح ایک بار پھر اس پورے بوجھ کا جواب عوام کو ان کے بجلی کے مہنگے بلوں کے ذریعے دیا جائے گا؟
یہ محض بجلی کے مہنگے ٹیرف کا مسئلہ نہیں بلکہ انتظامی شفافیت، حکومت کی ترجیحات اور عوامی مفادات کا سوال ہے۔
آئیے ان 15 سوالات کا مطالعہ کرتے ہیں۔
1۔ بگاس کی اصل لاگت کیا ہے، اور کیا اسے واقعی ایک قیمتی ایندھن ماننے کی کوئی معاشی دلیل موجود ہے؟
2۔ کسان کو گنے کی ملنے والی قیمت اور ملز کی مجموعی کمائی کے درمیان اصل توازن کیا ہے، اور فائدہ کس کو ہو رہا ہے؟
3۔ کیا بگاس کی قیمت مارکیٹ کے اصولوں سے طے ہوئی یا پالیسی کے ذریعے اسے غیر معمولی طور پر بڑھایا گیا ہے؟
4۔ کیا ایک ہی گنے سے چینی اور بجلی دونوں بیچنا ایک طرح کی double monetization ہے؟
5۔ جب بجلی مل کے اندر استعمال ہو رہی ہو تو کیا اسے واقعی IPP کے فریم ورک میں شامل ہونا چاہیے؟
6۔ کیا ایک سیزنل ایندھن کو سال بھر capacity کے طور پر ماننا کسی اور ملک میں بھی ہوتا ہے؟
7۔ کیا یہ پلانٹس واقعی efficient ہیں یا صرف پالیسی کی وجہ سے profitable بنائے گئے ہیں؟
8۔ برازیل، بھارت اور تھائی لینڈ میں بگاس پاور کس ماڈل پر چلتا ہے، اور ہم اس سے کیوں مختلف ہیں؟
9۔ کیا بگاس پاور کو green energy کے نام پر اضافی مراعات دی گئیں؟
10۔ کیا IPPs کے یہ معاہدے عوام کے لیے مکمل طور پر شفاف ہیں؟
11۔ کیا سرمایہ کار نے واقعی کوئی risk لیا یا تمام risk عوام پر منتقل کر دیا گیا؟
12۔ جب ایندھن مقامی ہے تو اسے ڈالر سے کیوں جوڑا گیا؟
13۔ کیا بجلی دستیاب تھی مگر گرڈ اسے لے نہیں سکی؟
14۔ بگاس بیسڈ IPPs کا circular debt میں کتنا حصہ ہے؟
15۔ اور سب سے اہم، کیا پالیسی بنانے والے اور اس سے فائدہ اٹھانے والے ایک ہی سسٹم کا حصہ نہیں ہیں؟
جب تک ان 15 سوالات کے واضح، دستاویزی اور عوام کی جانب سے جواب سامنے نہیں آتے، تب تک بگاس پاور پلانٹس کا معاملہ محض توانائی کا مسئلہ نہیں رہے گا بلکہ یہ پاکستان میں پالیسی سازی، ریگولیٹری شفافیت اور عوامی وسائل کے استعمال پر ایک بڑا سوالیہ نشان بنا رہے گا۔
نوٹ:
یہ تحریر دستیاب معلومات اور تحقیق کی بنیاد پر نیک نیتی سے مرتب کی گئی ہے۔ کسی غیر ارادی غلطی یا عدم درستگی کی صورت میں ادارہ SyedShayan.com ذمہ دار نہیں ہوگا، تاہم نشاندہی پر فوری تصحیح کر دی جائے گی۔
(جاری ہے، باقی اگلی قسط میں)
ہم قارئین کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ پاکستان کے بجلی کے نظام اور مہنگے بجلی کے بلوں کے اسٹرکچر کو سمجھنے اور اسے بہتر بنانے کے لیے ہمارے تحقیق پر مبنی پلیٹ فارم SyedShayan.com کا حصہ بنیں۔
ہم اس نظام پر ایک جامع وائٹ پیپر تیار کر رہے ہیں جسے حتمی شکل دے کر متعلقہ اداروں تک پہنچایا جائے گا تاکہ پالیسی سطح پر اصلاح ممکن ہو سکے۔ یہ ایک اجتماعی کوشش ہے اور ہمیں ایسے سنجیدہ افراد کی ضرورت ہے جو اپنے اپنے حلقوں میں اس تھنک ٹینک اور ویب پورٹل کا تعارف کرائیں اور ہمارے مضامین کے اقتباسات شیئر کریں تاکہ بجلی کے مہنگے بلوں میں اصلاح کے لیے مؤثر عوامی رائے تشکیل دی جا سکے۔