ہم نے مہنگے بجلی گھر تو تعمیر کر لیے، لیکن ترسیل اور تقسیم کے فرسودہ نظام کو جدید نہ بنایا، جس کے باعث پیدا شدہ بجلی مکمل استعمال نہیں ہو پاتی اور ضائع ہو جاتی ہے، جبکہ اسی ضائع شدہ بجلی کی اربوں روپے قیمت ان پاور پلانٹس کو باقائدگی سے ادا کی جا رہی ہے۔
اس قسط میں ہم ہوا سے بننے والی توانائی یعنی ونڈ انرجی (ونڈ پاور) کے شعبے کا تفصیلی جائزہ لیں گے اور اس کے 36 آئی پی پیز یعنی (بجلی پیدا کرنے والی نجی کمپنیوں) کا بھی تجزیہ کریں گے۔
ونڈ دراصل چلتی ہوئی ہوا کو کہتے ہیں، اور یہ ہوا اس وقت بنتی ہے جب سورج زمین کے مختلف حصوں کو یکساں طور پر گرم نہیں کرتا۔ جہاں درجہ حرارت زیادہ ہوتا ہے وہاں ہوا ہلکی ہو کر اوپر اٹھتی ہے، اور اس کی جگہ لینے کے لیے ٹھنڈی اور بھاری ہوا تیزی سے حرکت کرتی ہے، اسی حرکت کو ہم ونڈ کہتے ہیں۔ یہی چلتی ہوئی ہوا جب ونڈ ٹربائن کے پروں (wings) کو گھماتی ہے تو وہ مکینیکل توانائی کو بجلی میں تبدیل کر دیتی ہے، یوں ایک قدرتی عمل کو استعمال کر کے بجلی پیدا کی جاتی ہے۔
پاکستان میں 2006 میں متبادل توانائی پالیسی Alternative & Renewable Energy Policy متعارف کروائی گئی، جس کے نتیجے میں 2010 میں ونڈ پاور کا باقاعدہ آغاز ہوا، جس کے ذریعے نجی سرمایہ کاری کو اس شعبے میں لایا گیا۔
پاکستان میں ونڈ پاور کے کمرشل منصوبوں کا آغاز 2010 سے 2013 کے درمیان ہوا۔ اس سلسلے میں ترکی کی کمپنی Zorlu Enerji کا جھمپیر، ضلع ٹھٹہ میں قائم منصوبہ ملک کا پہلا ونڈ پاور منصوبہ ہے، جس کی ابتدائی فیز 2009 میں ٹیسٹ جنریشن کے ساتھ شروع ہوئی اور مکمل صلاحیت حاصل کرنے کے بعد 2013 میں نیشنل گرڈ کو بجلی فراہم کرنا شروع کی۔
اسی عرصے میں دیگر منصوبے بھی سامنے آئے، جن میں فوجی فرٹیلائزر کمپنی انرجی لمیٹڈ اور تھری گورجز فرسٹ ونڈ فارم پاکستان شامل ہیں۔ یہ تمام منصوبے سندھ کے جھمپیر اور گھارو ونڈ کوریڈور میں قائم ہوئے، جو پاکستان میں ونڈ پاور کا بنیادی مرکز بنے، جہاں ابتدائی IPPs کے ذریعے cluster development شروع ہوئی، تاہم Zorlu کا منصوبہ اس کی پہلی بنیاد سمجھا جاتا ہے۔
اس کے بعد پاکستان میں ونڈ انرجی کی ترقی کا مرکز سندھ کا یہ ساحلی علاقہ بن گیا، جسے عمومی طور پر گھارو جھمپیر ونڈ کوریڈور کہا جاتا ہے۔ کراچی سے نیشنل ہائی وے N5 کے تقریباً ستر کلومیٹر پر گھارو اور نوے سے سو کلومیٹر پر جھمپیر واقع ہے، جہاں مستقل اور تیز رفتار ہواؤں کی موجودگی نے اس خطے کو ملک کا سب سے اہم ونڈ پاور زون بنا دیا ہے۔ پاکستان میں ونڈ پاور کے تمام منصوبے زیادہ تر سندھ کے علاقے گھارو اور جھمپیر میں ہی واقع ہیں۔
ونڈ پاور کی بنیاد صرف ہوا کی موجودگی نہیں بلکہ اس کی wind quality یعنی ہوا کی رفتار کا تسلسل، direction کی consistency، اور بہتر capacity factor ہے، کیونکہ ٹربائنز صرف اسی وقت بجلی پیدا کرتی ہیں جب ہوا ایک مخصوص رفتار کے دائرے میں چل رہی ہو۔ سندھ کے گھارو جھمپیر کوریڈور میں یہ خصوصیات موجود ہیں، جہاں ہوا نسبتاً مسلسل اور مستحکم رفتار سے چلتی ہے، ساتھ ہی grid connectivity اور کراچی کی بڑی طلب اس ماڈل کو مؤثر بناتی ہے، لیکن یہاں بھی بعض اوقات Transmission Lines کی محدود گنجائش کے باعث پلانٹس اپنی مکمل صلاحیت پر نہیں چلنے پاتے، جسے اصطلاحاً curtailment کہا جاتا ہے۔
مجھے بتایا گیا کہ پاکستان میں سندھ کے گھارو اور جھمپیر کے مقابلے میں بلوچستان کی ساحلی پٹی کے علاقوں، خصوصاً گوادر، پسنی، جیوانی اور اورماڑا میں ہوا موجود تو ہے لیکن اس کی کوالٹی یعنی تسلسل کمزور اور انفراسٹرکچر محدود ہے، جبکہ ناردرن ایریاز میں گلگت، سکردو اور چترال جیسے مقامات پر پہاڑی سلسلے ہوا کو turbulent بنا دیتے ہیں، جس سے بجلی کی پیداوار میں استحکام نہیں آ پاتا۔ اسی وجہ سے ونڈ پاور کی سرمایہ کاری ایک ہی کوریڈور یعنی گھارو اور جھمپیر تک محدود ہو کر رہ گئی ہے۔ تاہم میرے ذہن میں ایک سوال بدستور موجود ہے کہ کیا ملک کے دیگر علاقوں کو وہی سنجیدگی اور تحقیق دی گئی جو سندھ کے اس ایک کوریڈور کو حاصل ہوئی؟
نیپرا کے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں اس وقت تقریباً 36 ونڈ پاور پلانٹس رجسٹرڈ ہیں، جن کی مجموعی تنصیبی صلاحیت تقریباً 1848 میگاواٹ ہے، تاہم عملی طور پر یہ پلانٹس اوسطاً تقریباً 450 میگاواٹ بجلی ہی نیشنل گرڈ کو فراہم کرتے ہیں، جو ان کی کل صلاحیت کا محض تقریباً 24 سے 25 فیصد بنتا ہے۔
لیکن افسوس کا مقام ہے کہ پاکستان میں ونڈ پاور کا شعبہ اپنی Installed Capacity اور اصل Energy Generation کے درمیان واضح فرق رکھتا ہے، اور جس طرح ہمارے ہاں بگاس، تھرمل اور دیگر ذرائع کے پاور پلانٹس اپنی بجلی کی پیداواری صلاحیت دینے میں ناکام ہیں، اسی طرح کی صورتحال یہاں بھی نظر آتی ہے۔
🔘 پاکستان کے ونڈ پاور سیکٹر کو بہتر طور پر سمجھنے کے لیے میں نے ونڈ پاور کمپنیوں کی کُل تعداد کو ownership structure اور بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت (capacity) کی بنیاد پر ترتیب دیا ہے، اور انہیں 5 گروپوں میں تقسیم کیا ہے تاکہ ہر کمپنی کی کارگزاری، شراکت داری اور ownership کو درست طور پر سمجھا جا سکے۔ ان پانچ گروپس کی ترتیب یہ ہے۔
1۔ Pure Pakistani Companies (خالص پاکستانی کمپنیاں)
2۔ Pakistani Joint Ventures (Local / Foreign) (پاکستانی کمپنیاں بمعہ ملکی یا غیر ملکی شراکت)
3۔ Chinese Backed Projects (CPEC) (چینی سرمایہ کاری، CPEC سے منسلک منصوبے)
4۔ Fully Foreign Owned Companies (مکمل غیر ملکی کمپنیاں)
5۔ Transferred Foreign Assets (Now Pakistani Owned) (وہ غیر ملکی کمپنیاں جن کے اثاثے بعد ازاں پاکستانی ملکیت میں منتقل ہو گئے۔
🔘 خالص پاکستانی کمپنیاں
1۔ سیفائر ونڈ پاور کمپنی لمیٹڈ (ملکیت: سیفائر گروپ) صلاحیت: 52.8 میگاواٹ
2۔ ٹرائیکون بوسٹن کنسلٹنگ کارپوریشن پرائیویٹ لمیٹڈ اے (ملکیت: ٹرائیکون گروپ) صلاحیت: 49.735 میگاواٹ
3۔ ٹرائیکون بوسٹن کنسلٹنگ کارپوریشن پرائیویٹ لمیٹڈ بی (ملکیت: ٹرائیکون گروپ) صلاحیت: 49.735 میگاواٹ
4۔ ٹرائیکون بوسٹن کنسلٹنگ کارپوریشن پرائیویٹ لمیٹڈ سی / سی سی (ملکیت: ٹرائیکون گروپ) صلاحیت: 49.735 میگاواٹ (سیفائر گروپ اور ٹرائیکون گروپ ایک ہی خاندان کی چار کمپنیاں ہیں)
5۔ ایف ایف سی انرجی لمیٹڈ (ملکیت: فوجی فرٹیلائزر کمپنی گروپ) صلاحیت: 49.5 میگاواٹ
6۔ فاؤنڈیشن ونڈ انرجی I لمیٹڈ (ملکیت: فوجی فاؤنڈیشن) صلاحیت: 50 میگاواٹ
7۔ فاؤنڈیشن ونڈ انرجی II لمیٹڈ (ملکیت: فوجی فاؤنڈیشن) صلاحیت: 50 میگاواٹ (فوجی اداروں کی تین ونڈ پاور کمپنیاں ہیں)
8۔ یونس انرجی لمیٹڈ (ملکیت: یونس برادرز گروپ، جس سے لکی گروپ یا لکی سیمنٹ بھی منسلک ہے) صلاحیت: 50 میگاواٹ
9۔ ماسٹر ونڈ انرجی لمیٹڈ (ملکیت: ماسٹر گروپ) صلاحیت: 52.8 میگاواٹ
10۔ ماسٹر گرین انرجی لمیٹڈ (ملکیت: ماسٹر گروپ) صلاحیت: 50 میگاواٹ
11۔ میٹرو پاور کمپنی لمیٹڈ (ملکیت: میٹرو گروپ) صلاحیت: 50 میگاواٹ
12۔ میٹرو ونڈ پاور لمیٹڈ (ملکیت: میٹرو گروپ) صلاحیت: 60 میگاواٹ
13۔ گل ونڈ انرجی لمیٹڈ (ملکیت: گل احمد گروپ) صلاحیت: 50 میگاواٹ
14۔ گل احمد الیکٹرک لمیٹڈ (ملکیت: گل احمد گروپ) صلاحیت: 50 میگاواٹ
15۔ ٹپال ونڈ انرجی پرائیویٹ لمیٹڈ (ملکیت: ٹپال گروپ) صلاحیت: 30 میگاواٹ نوٹ: یہ وہی کمپنی ہے جو بعد میں Act Wind (Pvt.) Limited کے نام سے جانی جاتی ہے، NEPRA دستاویزات میں “formerly Tapal Wind Energy” درج ہے۔
16۔ انڈس ونڈ انرجی لمیٹڈ (ملکیت: انڈس گروپ) صلاحیت: 50 میگاواٹ
17۔ آرٹسٹک ونڈ پاور پرائیویٹ لمیٹڈ (ملکیت: آرٹسٹک ملینرز گروپ) صلاحیت: 50 میگاواٹ
18۔ دین انرجی لمیٹڈ (ملکیت: دین گروپ) صلاحیت: 50 میگاواٹ
19۔ لکی رینیوایبلز پرائیویٹ لمیٹڈ (ملکیت: لکی گروپ) صلاحیت: 50 میگاواٹ
20۔ لیک سائیڈ انرجی پرائیویٹ لمیٹڈ (ملکیت: نوینہ گروپ / الکرم ٹیکسٹائل) صلاحیت: 50 میگاواٹ
21۔ ناسڈا گرین انرجی پرائیویٹ لمیٹڈ (ملکیت: سورتی گروپ) صلاحیت: 50 میگاواٹ
22۔ Tenaga Generasi Limited (ملکیت: داؤد گروپ، بذریعہ داؤد لارنس پور لمیٹڈ) صلاحیت: 49.5 میگاواٹ
23۔ آرٹسٹک انرجی پرائیویٹ لمیٹڈ (ملکیت: آرٹسٹک ملینرز) صلاحیت: 49.3 میگاواٹ
24۔ لبرٹی ونڈ پاور 1 پرائیویٹ لمیٹڈ (ملکیت: لبرٹی گروپ، بذریعہ لبرٹی ملز لمیٹڈ) صلاحیت: 50 میگاواٹ
25۔ لبرٹی ونڈ پاور 2 پرائیویٹ لمیٹڈ (ملکیت: لبرٹی گروپ، بذریعہ لبرٹی ملز لمیٹڈ) صلاحیت: 50 میگاواٹ
26۔ سچل انرجی ڈیولپمنٹ پرائیویٹ لمیٹڈ (ملکیت: عارف حبیب گروپ، چینی financing اور EPC معاونت کے ساتھ) صلاحیت: 49.5 میگاواٹ