Home


🔲 عوامی تحقیقاتی سلسلہ | قسط 11

موضوع: پاکستان کا بجلی کا نظام کیسے ٹھیک ہو گا [مہنگے بجلی کے بلوں کو کیسے سمجھا اور کم کیا جا سکتا ہے۔]

🔺جب ادارے حقائق کی فراہمی سے گریزاں ہوں تو پھر سچ تک پہنچنا عوام کی ذمہ داری ہے۔
تحریر و تحقیق: سید شایان

🟨 پاکستان میں کچھ IPPs نے صرف 5 فیصد ایکویٹی سرمایہ کاری کر کے بھاری قرضوں کے ذریعے پاور پلانٹس قائم کیے، اور جن کی قسطیں اور منافع 25 سال تک مسلسل عوام کے بجلی کے بلوں کے ذریعے ادا کیے جاتے رہے، ان پلانٹس کی لاگت اور منافع مکمل طور پر وصول ہو جانے کے بعد بھی ان کی ملکیت نجی کمپنیوں کے پاس رہنا انصاف پر مبنی ہے؟ جب سرمایہ عوام کے بلوں سے واپس ہو جائے اور منافع بھی عوام ادا کریں، تو پھر BOO ماڈل کی قانونی دلیل کیوں دی جا رہی ہے، اور کیا ایسے میں ان پلانٹس کی ملکیت عوام کو منتقل نہیں ہونی چاہیے؟

پاکستان میں تقریباً 10 کھرب روپے کی سرمایہ کاری کے بعد بھی ونڈ پاور کے سارے کے سارے 36 پاور پلانٹس سے اوسطاً محض 450 میگاواٹ بجلی حاصل ہو رہی ہے، جبکہ اس سے کم لاگت پر قائم پورٹ قاسم پاور پلانٹ اکیلا ہی تقریباً 1050 میگاواٹ بجلی پیدا کر رہا ہے، یعنی تقریباً دو سے ڈھائی گنا زیادہ بجلی۔

ہم نے مہنگے بجلی گھر تو تعمیر کر لیے، لیکن ترسیل اور تقسیم کے فرسودہ نظام کو جدید نہ بنایا، جس کے باعث پیدا شدہ بجلی مکمل استعمال نہیں ہو پاتی اور ضائع ہو جاتی ہے، جبکہ اسی ضائع شدہ بجلی کی اربوں روپے قیمت ان پاور پلانٹس کو باقائدگی سے ادا کی جا رہی ہے۔

اس قسط میں ہم ہوا سے بننے والی توانائی یعنی ونڈ انرجی (ونڈ پاور) کے شعبے کا تفصیلی جائزہ لیں گے اور اس کے 36 آئی پی پیز یعنی (بجلی پیدا کرنے والی نجی کمپنیوں) کا بھی تجزیہ کریں گے۔

ونڈ دراصل چلتی ہوئی ہوا کو کہتے ہیں، اور یہ ہوا اس وقت بنتی ہے جب سورج زمین کے مختلف حصوں کو یکساں طور پر گرم نہیں کرتا۔ جہاں درجہ حرارت زیادہ ہوتا ہے وہاں ہوا ہلکی ہو کر اوپر اٹھتی ہے، اور اس کی جگہ لینے کے لیے ٹھنڈی اور بھاری ہوا تیزی سے حرکت کرتی ہے، اسی حرکت کو ہم ونڈ کہتے ہیں۔ یہی چلتی ہوئی ہوا جب ونڈ ٹربائن کے پروں (wings) کو گھماتی ہے تو وہ مکینیکل توانائی کو بجلی میں تبدیل کر دیتی ہے، یوں ایک قدرتی عمل کو استعمال کر کے بجلی پیدا کی جاتی ہے۔

پاکستان میں 2006 میں متبادل توانائی پالیسی Alternative & Renewable Energy Policy متعارف کروائی گئی، جس کے نتیجے میں 2010 میں ونڈ پاور کا باقاعدہ آغاز ہوا، جس کے ذریعے نجی سرمایہ کاری کو اس شعبے میں لایا گیا۔

پاکستان میں ونڈ پاور کے کمرشل منصوبوں کا آغاز 2010 سے 2013 کے درمیان ہوا۔ اس سلسلے میں ترکی کی کمپنی Zorlu Enerji کا جھمپیر، ضلع ٹھٹہ میں قائم منصوبہ ملک کا پہلا ونڈ پاور منصوبہ ہے، جس کی ابتدائی فیز 2009 میں ٹیسٹ جنریشن کے ساتھ شروع ہوئی اور مکمل صلاحیت حاصل کرنے کے بعد 2013 میں نیشنل گرڈ کو بجلی فراہم کرنا شروع کی۔

اسی عرصے میں دیگر منصوبے بھی سامنے آئے، جن میں فوجی فرٹیلائزر کمپنی انرجی لمیٹڈ اور تھری گورجز فرسٹ ونڈ فارم پاکستان شامل ہیں۔ یہ تمام منصوبے سندھ کے جھمپیر اور گھارو ونڈ کوریڈور میں قائم ہوئے، جو پاکستان میں ونڈ پاور کا بنیادی مرکز بنے، جہاں ابتدائی IPPs کے ذریعے cluster development شروع ہوئی، تاہم Zorlu کا منصوبہ اس کی پہلی بنیاد سمجھا جاتا ہے۔

اس کے بعد پاکستان میں ونڈ انرجی کی ترقی کا مرکز سندھ کا یہ ساحلی علاقہ بن گیا، جسے عمومی طور پر گھارو جھمپیر ونڈ کوریڈور کہا جاتا ہے۔ کراچی سے نیشنل ہائی وے N5 کے تقریباً ستر کلومیٹر پر گھارو اور نوے سے سو کلومیٹر پر جھمپیر واقع ہے، جہاں مستقل اور تیز رفتار ہواؤں کی موجودگی نے اس خطے کو ملک کا سب سے اہم ونڈ پاور زون بنا دیا ہے۔ پاکستان میں ونڈ پاور کے تمام منصوبے زیادہ تر سندھ کے علاقے گھارو اور جھمپیر میں ہی واقع ہیں۔

ونڈ پاور کی بنیاد صرف ہوا کی موجودگی نہیں بلکہ اس کی wind quality یعنی ہوا کی رفتار کا تسلسل، direction کی consistency، اور بہتر capacity factor ہے، کیونکہ ٹربائنز صرف اسی وقت بجلی پیدا کرتی ہیں جب ہوا ایک مخصوص رفتار کے دائرے میں چل رہی ہو۔ سندھ کے گھارو جھمپیر کوریڈور میں یہ خصوصیات موجود ہیں، جہاں ہوا نسبتاً مسلسل اور مستحکم رفتار سے چلتی ہے، ساتھ ہی grid connectivity اور کراچی کی بڑی طلب اس ماڈل کو مؤثر بناتی ہے، لیکن یہاں بھی بعض اوقات Transmission Lines کی محدود گنجائش کے باعث پلانٹس اپنی مکمل صلاحیت پر نہیں چلنے پاتے، جسے اصطلاحاً curtailment کہا جاتا ہے۔

مجھے بتایا گیا کہ پاکستان میں سندھ کے گھارو اور جھمپیر کے مقابلے میں بلوچستان کی ساحلی پٹی کے علاقوں، خصوصاً گوادر، پسنی، جیوانی اور اورماڑا میں ہوا موجود تو ہے لیکن اس کی کوالٹی یعنی تسلسل کمزور اور انفراسٹرکچر محدود ہے، جبکہ ناردرن ایریاز میں گلگت، سکردو اور چترال جیسے مقامات پر پہاڑی سلسلے ہوا کو turbulent بنا دیتے ہیں، جس سے بجلی کی پیداوار میں استحکام نہیں آ پاتا۔ اسی وجہ سے ونڈ پاور کی سرمایہ کاری ایک ہی کوریڈور یعنی گھارو اور جھمپیر تک محدود ہو کر رہ گئی ہے۔ تاہم میرے ذہن میں ایک سوال بدستور موجود ہے کہ کیا ملک کے دیگر علاقوں کو وہی سنجیدگی اور تحقیق دی گئی جو سندھ کے اس ایک کوریڈور کو حاصل ہوئی؟

نیپرا کے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں اس وقت تقریباً 36 ونڈ پاور پلانٹس رجسٹرڈ ہیں، جن کی مجموعی تنصیبی صلاحیت تقریباً 1848 میگاواٹ ہے، تاہم عملی طور پر یہ پلانٹس اوسطاً تقریباً 450 میگاواٹ بجلی ہی نیشنل گرڈ کو فراہم کرتے ہیں، جو ان کی کل صلاحیت کا محض تقریباً 24 سے 25 فیصد بنتا ہے۔

لیکن افسوس کا مقام ہے کہ پاکستان میں ونڈ پاور کا شعبہ اپنی Installed Capacity اور اصل Energy Generation کے درمیان واضح فرق رکھتا ہے، اور جس طرح ہمارے ہاں بگاس، تھرمل اور دیگر ذرائع کے پاور پلانٹس اپنی بجلی کی پیداواری صلاحیت دینے میں ناکام ہیں، اسی طرح کی صورتحال یہاں بھی نظر آتی ہے۔

🔘 پاکستان کے ونڈ پاور سیکٹر کو بہتر طور پر سمجھنے کے لیے میں نے ونڈ پاور کمپنیوں کی کُل تعداد کو ownership structure اور بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت (capacity) کی بنیاد پر ترتیب دیا ہے، اور انہیں 5 گروپوں میں تقسیم کیا ہے تاکہ ہر کمپنی کی کارگزاری، شراکت داری اور ownership کو درست طور پر سمجھا جا سکے۔ ان پانچ گروپس کی ترتیب یہ ہے۔

1۔ Pure Pakistani Companies (خالص پاکستانی کمپنیاں)

2۔ Pakistani Joint Ventures (Local / Foreign) (پاکستانی کمپنیاں بمعہ ملکی یا غیر ملکی شراکت)

3۔ Chinese Backed Projects (CPEC) (چینی سرمایہ کاری، CPEC سے منسلک منصوبے)

4۔ Fully Foreign Owned Companies (مکمل غیر ملکی کمپنیاں)

5۔ Transferred Foreign Assets (Now Pakistani Owned) (وہ غیر ملکی کمپنیاں جن کے اثاثے بعد ازاں پاکستانی ملکیت میں منتقل ہو گئے۔

🔘 خالص پاکستانی کمپنیاں

1۔ سیفائر ونڈ پاور کمپنی لمیٹڈ (ملکیت: سیفائر گروپ) صلاحیت: 52.8 میگاواٹ

2۔ ٹرائیکون بوسٹن کنسلٹنگ کارپوریشن پرائیویٹ لمیٹڈ اے (ملکیت: ٹرائیکون گروپ) صلاحیت: 49.735 میگاواٹ

3۔ ٹرائیکون بوسٹن کنسلٹنگ کارپوریشن پرائیویٹ لمیٹڈ بی (ملکیت: ٹرائیکون گروپ) صلاحیت: 49.735 میگاواٹ

4۔ ٹرائیکون بوسٹن کنسلٹنگ کارپوریشن پرائیویٹ لمیٹڈ سی / سی سی (ملکیت: ٹرائیکون گروپ) صلاحیت: 49.735 میگاواٹ (سیفائر گروپ اور ٹرائیکون گروپ ایک ہی خاندان کی چار کمپنیاں ہیں)

5۔ ایف ایف سی انرجی لمیٹڈ (ملکیت: فوجی فرٹیلائزر کمپنی گروپ) صلاحیت: 49.5 میگاواٹ

6۔ فاؤنڈیشن ونڈ انرجی I لمیٹڈ (ملکیت: فوجی فاؤنڈیشن) صلاحیت: 50 میگاواٹ

7۔ فاؤنڈیشن ونڈ انرجی II لمیٹڈ (ملکیت: فوجی فاؤنڈیشن) صلاحیت: 50 میگاواٹ (فوجی اداروں کی تین ونڈ پاور کمپنیاں ہیں)

8۔ یونس انرجی لمیٹڈ (ملکیت: یونس برادرز گروپ، جس سے لکی گروپ یا لکی سیمنٹ بھی منسلک ہے) صلاحیت: 50 میگاواٹ

9۔ ماسٹر ونڈ انرجی لمیٹڈ (ملکیت: ماسٹر گروپ) صلاحیت: 52.8 میگاواٹ

10۔ ماسٹر گرین انرجی لمیٹڈ (ملکیت: ماسٹر گروپ) صلاحیت: 50 میگاواٹ

11۔ میٹرو پاور کمپنی لمیٹڈ (ملکیت: میٹرو گروپ) صلاحیت: 50 میگاواٹ

12۔ میٹرو ونڈ پاور لمیٹڈ (ملکیت: میٹرو گروپ) صلاحیت: 60 میگاواٹ

13۔ گل ونڈ انرجی لمیٹڈ (ملکیت: گل احمد گروپ) صلاحیت: 50 میگاواٹ

14۔ گل احمد الیکٹرک لمیٹڈ (ملکیت: گل احمد گروپ) صلاحیت: 50 میگاواٹ

15۔ ٹپال ونڈ انرجی پرائیویٹ لمیٹڈ (ملکیت: ٹپال گروپ) صلاحیت: 30 میگاواٹ نوٹ: یہ وہی کمپنی ہے جو بعد میں Act Wind (Pvt.) Limited کے نام سے جانی جاتی ہے، NEPRA دستاویزات میں “formerly Tapal Wind Energy” درج ہے۔

16۔ انڈس ونڈ انرجی لمیٹڈ (ملکیت: انڈس گروپ) صلاحیت: 50 میگاواٹ

17۔ آرٹسٹک ونڈ پاور پرائیویٹ لمیٹڈ (ملکیت: آرٹسٹک ملینرز گروپ) صلاحیت: 50 میگاواٹ

18۔ دین انرجی لمیٹڈ (ملکیت: دین گروپ) صلاحیت: 50 میگاواٹ

19۔ لکی رینیوایبلز پرائیویٹ لمیٹڈ (ملکیت: لکی گروپ) صلاحیت: 50 میگاواٹ

20۔ لیک سائیڈ انرجی پرائیویٹ لمیٹڈ (ملکیت: نوینہ گروپ / الکرم ٹیکسٹائل) صلاحیت: 50 میگاواٹ

21۔ ناسڈا گرین انرجی پرائیویٹ لمیٹڈ (ملکیت: سورتی گروپ) صلاحیت: 50 میگاواٹ

22۔ Tenaga Generasi Limited (ملکیت: داؤد گروپ، بذریعہ داؤد لارنس پور لمیٹڈ) صلاحیت: 49.5 میگاواٹ

23۔ آرٹسٹک انرجی پرائیویٹ لمیٹڈ (ملکیت: آرٹسٹک ملینرز) صلاحیت: 49.3 میگاواٹ

24۔ لبرٹی ونڈ پاور 1 پرائیویٹ لمیٹڈ (ملکیت: لبرٹی گروپ، بذریعہ لبرٹی ملز لمیٹڈ) صلاحیت: 50 میگاواٹ

25۔ لبرٹی ونڈ پاور 2 پرائیویٹ لمیٹڈ (ملکیت: لبرٹی گروپ، بذریعہ لبرٹی ملز لمیٹڈ) صلاحیت: 50 میگاواٹ

26۔ سچل انرجی ڈیولپمنٹ پرائیویٹ لمیٹڈ (ملکیت: عارف حبیب گروپ، چینی financing اور EPC معاونت کے ساتھ) صلاحیت: 49.5 میگاواٹ

یوں خالص پاکستانی کمپنیوں کی ونڈ پاور منصوبوں کی تعداد 26 ہے۔

🔘 پاکستانی کمپنیز بمعہ ملکی و غیر ملکی شراکت (Joint Venture)

27۔ ایکٹ 2 ونڈ پرائیویٹ لمیٹڈ (ملکیت: ٹپال گروپ، اختر گروپ، اور اسماعیل انڈسٹریز لمیٹڈ) صلاحیت: 50 میگاواٹ

28۔ Zephyr Power Pvt. Ltd. (ملکیت: CDC Group Plc برطانیہ، اور پاکستانی شراکت داران) صلاحیت: 50 میگاواٹ

یوں اس زمرے میں کل کمپنیوں کی تعداد 2 ہے۔

🔘 چینی سرمایہ کاری، CPEC سے منسلک منصوبے

29۔ ہائیڈرو چائنا داؤد پاور پرائیویٹ لمیٹڈ (ملکیت: ہائیڈرو چائنا، پاور چائنا، چین، اور داؤد گروپ کی مشترکہ شراکت) صلاحیت: 49.5 میگاواٹ

30۔ UEP Wind Power Pvt. Limited (ملکیت: یونائیٹڈ انرجی گروپ، چین) صلاحیت: 99 میگاواٹ

31۔ تھری گورجز فرسٹ ونڈ فارم پاکستان پرائیویٹ لمیٹڈ (ملکیت: چائنا تھری گورجز) صلاحیت: 49.5 میگاواٹ

32۔ تھری گورجز سیکنڈ ونڈ فارم پاکستان لمیٹڈ (ملکیت: چائنا تھری گورجز) صلاحیت: 49.5 میگاواٹ

33۔ تھری گورجز تھرڈ ونڈ فارم پاکستان پرائیویٹ لمیٹڈ (ملکیت: چائنا تھری گورجز) صلاحیت: 49.5 میگاواٹ

چینی سرمایہ کاری والے منصوبوں کی تعداد 5 ہے۔

🔘 مکمل غیر ملکی کمپنیز

34۔ زورلو انرجی پاکستان لمیٹڈ (ملکیت: زورلو انرجی، زورلو ہولڈنگ، ترکی) صلاحیت: 56.4 میگاواٹ

35۔ ہوا انرجی پرائیویٹ لمیٹڈ (ملکیت: Hawa Investments Ltd، EMA Power Investments، Indus Power Ltd؛ international investors شامل ہیں، جن میں JCM Power بھی شامل ہے) صلاحیت: 49.6 میگاواٹ

36۔ جھمپیر پاور پرائیویٹ لمیٹڈ (ملکیت: JPH Holding PTE Ltd، سنگاپور؛ ultimate sponsors: JCM Power اور Burj Energy International Management Ltd، دبئی) صلاحیت: 49.735 میگاواٹ

یوں مکمل غیر ملکی کمپنیوں کی تعداد 3 ہے۔

5۔ Formerly Foreign Owned, Now Pakistani Owned (ابتدا میں غیر ملکی، بعد میں پاکستانی ملکیت)

اس زمرے میں وہ ونڈ پاور کمپنیاں شامل ہیں جن کی ملکیت یا corporate structure وقت کے ساتھ تبدیل ہوا اور اب وہ پاکستانی ملکیت یا کنٹرول میں ہیں۔

مثال کے طور پر ACT Wind (سابقہ Tapal Wind Energy)، Artistic Energy (سابقہ Hartford Alternative Energy)، اور Lucky Renewables (سابقہ Tricom Wind Power) کے نام PPIB ریکارڈ میں تبدیل شدہ شکل میں موجود ہیں، مگر ownership transfer کی مکمل نوعیت جاننے کے لیے ہر کمپنی کی الگ جانچ ضروری ہے۔

🔲 اب ہم بات کرتے ہیں ملکی معیشت میں ونڈ پاور کے کردار کی۔

آپ نے اس فہرست میں دیکھا کہ ہم نے پاکستان میں قائم ہر ونڈ پاور پلانٹ کی بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت ایک ایک کر کے الگ الگ درج کی ہے، جس کی مجموعی مقدار تقریباً 1845.34 میگاواٹ بنتی ہے۔

لیکن لمحۂ فکریہ یہ ہے کہ نیشنل گرڈ کو ان تمام پاور پلانٹس سے اوسطاً صرف 450 میگاواٹ کے قریب بجلی حاصل ہوتی ہے، جو کل صلاحیت کا محض 24 فیصد بنتا ہے۔

یعنی ان 36 آئی پی پیز پر اندازاً 2.7 سے 3.5 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی گئی، جو موجودہ شرح مبادلہ کے مطابق تقریباً 7.5 سے 9.8 کھرب روپے، یعنی قریب قریب دس کھرب روپے بنتی ہے۔ اتنی بھاری سرمایہ کاری کے بعد نیشنل گرڈ کو جو بجلی صرف 450 میگاواٹ مل رہی ہے کیا یہ بہت تشویشناک صورتحال نہیں ہے؟

اگر اتنی ہی بجلی لینی تھی تو یہ ونڈ پاور پلانٹس کیوں لگائے گئے تھے؟

میرے پیشِ نظر اس وقت سوال یہ ہے کہ آخر یہ فیصلے کس نے کیے تھے؟ کن لوگوں نے ایسے معاہدوں کی منظوری دی تھی؟ ہمارے اداروں میں بیٹھے پڑھے لکھے افسران کی بھی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ ایسے فیصلوں سے پہلے اس کے نتائج کو دیکھیں۔ اگر ان منصوبوں سے مکمل فائدہ اٹھانے کی صلاحیت ہی موجود نہیں تھی تو پھر پوری قوم کو آئندہ پچاس سالوں تک اس مالی بوجھ کے نیچے لانے کا ذمہ دار کون ہے؟

کیا یہ صرف سیاستدانوں کے فیصلے تھے، یا بیوروکریسی نے ان کی منظوری دی، یا ریگولیٹری ادارے اپنی ذمہ داری پوری نہ کر سکے؟ حقیقت یہ ہے کہ ایسے بڑے فیصلے کبھی ایک فرد نہیں کرتا بلکہ ایک پورا نظام (extractive institutions) اس میں شامل ہوتا ہے۔

معروف ماہرینِ معاشیات Daron Acemoglu اور James A. Robinson اپنی مشترکہ کتاب Why Nations Fail میں وضاحت کرتے ہیں

‏We call such institutions… extractive economic institutions extractive because such institutions are designed to extract incomes and wealth from one subset of society to benefit a different subset. (ہم ایسے اداروں کو استحصالی معاشی ادارے کہتے ہیں، کیونکہ یہ ادارے اس طرح تشکیل دیے جاتے ہیں کہ معاشرے کے ایک حصے سے آمدنی اور دولت نکال کر کسی دوسرے (عام طور پر narrow elite) حصے کے فائدے کے لیے استعمال کی جائے۔)

کتاب میں مصنفین واضح کرتے ہیں کہ یہ ادارے کسی ایک فرد کے بجائے سیاسی طور پر طاقتور اشرافیہ (politically powerful elite) کے ذریعے ڈیزائن کیے جاتے ہیں اور ایک پورے نیٹ ورک کے ذریعے کام کرتے ہیں، جو طاقت کو ایک محدود طبقے کے ہاتھوں میں مرتکز رکھتا ہے (یاد رہے کہ اگر کسی ملک کے تمام فیصلے صرف سو پچاس خاندانوں یا ایک مخصوص لابی کے ہاتھوں میں ہوں تو وہ narrow elite یا محدود اشرافیہ کہلاتا ہے۔)

اس لیے آج ضرورت اس بات کی ہے کہ یہ دیکھا جائے کہ ان پلانٹس کے قیام کے فیصلوں میں کون کون شامل تھا اور کس سطح پر کیا کیا فیصلے ہوئے۔

جب نیشنل گرڈ اتنی بجلی سنبھالنے اور استعمال کرنے کے قابل ہی نہیں تھا تو پھر قوم کو اتنے مہنگے ماڈل میں کیوں باندھا گیا۔کیوں 100 سے زیادہ پاور پلانٹس لگاۓ گئے اگر ہمارا کام چند پاور پلانٹس لگا کر چل سکتا تھا۔

بجلی ڈسٹری بیوشن سسٹم کی کمزوری، ٹرانسمیشن رکاوٹوں اور گرڈ کی محدود صلاحیت کے باعث اگر ان منصوبوں سے مکمل فائدہ حاصل نہیں کیا جا سکتا تھا تو پھر یہ فیصلے کیوں کیے گئے جن سے مکمل فائدہ اٹھانے کی صلاحیت خود ملک کے پاور انفراسٹرکچر کے پاس موجود ہی نہیں تھی۔

ہم نے مہنگے پاور پلانٹس تو لگا لیے، جھمپیر و گھارو جیسے ونڈ کوریڈورز بھی تیار کر لیے، مگر فرسودہ ٹرانسمیشن اور ڈسٹری بیوشن نظام کو اسی رفتار سے بہتر نہیں بنایا گیا۔ نتیجتاً پیدا ہونے والی بجلی مکمل طور پر استعمال نہیں ہو پائی۔

اگر نیشنل گرڈ اور NTDC کے ٹرانسمیشن نظام کو بھی ساتھ ساتھ وسعت دی جاتی، جس میں نئی ہائی وولٹیج لائنوں کی تنصیب، گرڈ اسٹیشنز کی اپ گریڈیشن، جنوب سے شمال تک ترسیلی کوریڈورز کی تعمیر اور جدید کنٹرول ٹیکنالوجی شامل ہوتی، تو شاید آج پیدا ہونے والی بجلی کا بڑا حصہ مؤثر طور پر استعمال ہو رہا ہوتا اور curtailment کی صورتحال کم ہو چکی ہوتی۔ مگر اصل سوال یہ ہے کہ پیداواری منصوبوں کے ساتھ ساتھ ترسیلی نظام کی بروقت تیاری کیوں یقینی نہیں بنائی گئی؟؟

بین الاقوامی ادارے، جن میں ورلڈ بینک اور ایشین ڈویلپمنٹ بینک شامل ہیں، اپنی رپورٹس میں بارہا یہ واضح کر چکے ہیں کہ پاکستان کے پاور سیکٹر کا بحران صرف نئی generation بڑھانے سے حل نہیں ہوگا، بلکہ transmission اور distribution کے انتہائی کمزور نظام بھی ایک بڑا سبب ہیں۔

ورلڈ بینک کی 2019 کی رپورٹس Learning from Power Sector Reform: The Case of Pakistan (پاکستان کے پاور سیکٹر اصلاحات سے سیکھنے کے اسباق) اور Pakistan Development Update میں واضح کیا گیا کہ نظام کی بڑی کمزوریاں DISCOs کی ناقص وصولیاں اور T&D losses ہیں، جبکہ ایشین ڈیولپمنٹ بینک نے 2017 سے 2025 تک بارہا نشاندہی کی کہ کمزور ٹرانسمیشن کے باعث پیدا شدہ بجلی مکمل طور پر نظام میں شامل نہیں ہو رہی۔

المیہ یہ ہے کہ عالمی اداروں کے دس سال سے بھی زائد عرصہ مسلسل توجہ دلانے کے باوجود مسئلہ جوں کا توں برقرار ہے۔

میں اب آپ کے سامنے پچھلے چار مالی سالوں کے اعداد و شمار رکھ رہا ہوں، جن سے واضح ہوتا ہے کہ پاکستان میں ونڈ پاور سے حاصل ہونے والی بجلی اپنی نصب شدہ صلاحیت کے مقابلے میں مسلسل کم رہی ہے۔

تقریباً 1845 میگاواٹ ونڈ پاور موجود ہونے کے باوجود عملی پیداوار درج ذیل رہی: 1۔ مالی سال 2022 میں اوسط پیداوار تقریباً 523 میگاواٹ رہی۔ 2۔ مالی سال 2023 میں اوسط پیداوار تقریباً 466 سے 467 میگاواٹ رہی۔ 3۔ مالی سال 2024 میں اوسط پیداوار تقریباً 450 سے 467 میگاواٹ کے درمیان رہی۔ 4۔ مالی سال 2025 میں بھی یہ سطح تقریباً 434 میگاواٹ کے قریب رہی۔

یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ مالی سال 2022 کے بعد ونڈ پاور کی پیداوار بتدریج کم ہوتی گئی، جس کی بڑی وجوہات ٹرانسمیشن کی رکاوٹیں، گرڈ کی محدود صلاحیت اور curtailment ہیں۔ مگر اس کے باوجود مالی سال 2024 سے 2025 میں ان منصوبوں کو تقریباً 168 ارب روپے کی ادائیگیاں ان کی 1845 میگاواٹ نصب شدہ صلاحیت کی بنیاد پر مختص کی گئیں۔ کیا اس سے بڑا قومی المیہ کچھ اور ہو سکتا ہے؟ کہ کم پیداوار کے باوجود ادائیگیوں کا سلسلہ فل کیپیسٹی کو بنیاد بنا کر کیا جائے، اور بار بار کیا جائے۔

ایک اور ناقابلِ فہم بات میرے لیے یہ رہی کہ میں سمجھتا تھا کہ پاکستان میں ونڈ پاور کا ماڈل بنیادی طور پر سادہ ہے، یعنی جتنی بجلی پیدا ہو کر سسٹم میں دی جائے، اسی کے مطابق ادائیگی کی جاتی ہے۔ اور اس میں تھرمل IPPs کی طرح یہ شرط نہیں ہوتی کہ بجلی لی جائے یا نہ لی جائے، ادائیگی بہرحال کرنی ہی پڑے گی۔ یہی وجہ ہے کہ ونڈ پاور کو نسبتاً کم مالی بوجھ والا ماڈل take and pay سمجھا جاتا رہا ہے۔

مگر میں نے دیکھا کہ کم پیداوار کے باوجود بھی انہیں رقم دی جا رہی ہے، جس پر معلوم یہ ہوا کہ ان کے ٹیرف میں ایسے مستقل اخراجات شامل ہیں جیسے return on equity، قرض کی واپسی اور آپریشن و مینٹیننس (O&M) جو پیداوار سے مکمل طور پر مشروط نہیں ہوتے۔ یوں بظاہر capacity payment نہیں دی جا رہی ہوتی مگر حقیقت میں مختلف ناموں سے وہی ادائیگی جاری رہتی ہے، اور ساتھ ہی energy payment بھی دی جاتی ہے، جس سے یہ ماڈل کاغذ پر take and pay اور حقیقت میں take or pay جیسا بن جاتا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ دنیا بھر میں بڑے توانائی منصوبوں میں پیچیدہ معاہدے اور ریاستی ضمانتیں ہونا اگرچہ معمول کی بات ہے، مگر ہمارے ہاں فرق شفافیت اور حکومتی اداروں کی گورننس اور نگرانی کا نظر آ رہا ہے۔

تمام ممالک میں معاہدوں کی اہم شقیں واضح طور پر سامنے لائی جاتی ہیں، ریگولیٹرز، پارلیمنٹ اور میڈیا ان کا جائزہ لیتے ہیں، اور عوام کو کم از کم یہ سمجھ آ جاتی ہے کہ ریاست کی آنے والے دنوں میں کیا مالی ذمہ داریاں ہوں گی، اور عوام کو اس میں کیا کردار ادا کرنا ہوگا۔

اس کے برعکس، جب معاہدوں کی اصل شرائط، ادائیگیاں اور طویل المدت ذمہ داریاں عوام سے چھپائی جائیں تو اسے non transparency کہا جاتا ہے۔ حکومتی اداروں کی کمزور نگرانی کے ساتھ یہ صورتحال mispricing اور misaligned incentives کو جنم دیتی ہے، جہاں ہر stakeholder اپنا مفاد محفوظ کر لیتا ہے مگر بوجھ عوام پر منتقل ہو جاتا ہے۔

مضمون کے اس مرحلے پر میں پاکستانی آئی پی پیز کے حوالے سے ایک سوال اٹھا رہا ہوں کہ انہوں نے ان پاور پراجیکٹس میں روایتی بینکنگ کے بجائے ایسی بین الاقوامی مالیاتی کمپنیوں سے فنانسنگ حاصل کی جو درحقیقت امریکی حکومت، آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کے ذیلی ادارے ہیں۔ انہوں نے ایسا کیوں کیا؟

(باقی اگلی قسط میں)

مزید مضامین

قومی تحقیقاتی سلسلہ | قسط 10موضوع: پاکستان کا بجلی کا نظام کیسے ٹھیک ہو گا[مہنگے بجلی کے بلوں ...

(اردو)

ہمارا بجلی کا نظام کیسے ٹھیک ہو گا؟؟ (قسط: 9) ▫️کیا واقعی پاکستان کی بجلی کی سالانہ ضرورت 40 ہز...

(اردو)

ہمارا بجلی کا نظام کیسے ٹھیک ہو گا؟ قسط: 8 پاکستان میں شوگر ملوں کے گنے کے پھوک سے چلنے والے پا...

(اردو)

ایک ہی پانی سے بننے والی بجلی: سرکاری اور نجی آئی پی پیز کے نرخوں میں دوگنا سے زائد فرق واضح نظر...

(اردو)

جب ہم نیوکلیئر پاور ہیں تو پھر ہم نیوکلیئر بجلی زیادہ مقدار میں کیوں نہیں بناتے؟ ▫️ایٹمی طاقت ...

(اردو)