️پہلا دور: 1994 First IPPs Phase
پاور پالیسی اور فوری حل کی تلاش
یہ وہ وقت تھا جب پاکستان شدید لوڈشیڈنگ کا شکار تھا اور حکومت نے تیزی سے بجلی پیدا کرنے کے لیے نجی شعبے کو دعوت دی۔
جس کے نتیجے میں 1995 سے 1997 کے درمیان 19 منصوبوں نے financial close حاصل کیا۔ ان میں سے 4 منصوبے مختلف وجوہات کی بنا پر مکمل نہ ہو سکے، جبکہ عملی طور پر تقریباً 15 بڑے تھرمل IPPs نیشنل گرڈ کا حصہ بنے۔
اس دور میں کیے گئے معاہدے زیادہ تر تھرمل IPPs پر مبنی تھے،
جنہیں ڈالر سے منسلک منافع، guaranteed returns اور take or pay جیسے مالی فوائد، اور حکومت کی طرف سے یقین دہانیاں (sovereign guarantees) دی گئیں تھیں، جس میں پاکستانی سیاستدان آصف علی زرداری نے کافی معاونت بھی کی، لیکن اس عمل پر ناراض ہو کر ان کے کچھ احباب اور مخالفین کی طرف سے انہیں مسٹر ٹین پرسنٹ کے نام سے بھی پکارا گیا۔
اس وقت حکومت کے نزدیک مقصد صرف ایک تھا…
جلد از جلد بجلی پیدا کرنا۔ اس لیے سرمایہ کاروں کو راغب کرنے کے لیے ان معاہدوں کی مدت بھی 25 سے 30 سال رکھی گئی تھی، لیکن یہ بات سراسر فراموش کر دی گئی تھی کہ ان طویل المدت معاہدوں کے اس ملک پر کیا مضر اثرات مرتب ہوں گے اور عوام ان معاہدوں کا بوجھ کیسے برداشت کریں گے۔