مختلف ممالک کے سرکاری یا نیم سرکاری ادارے جو اپنے برآمد کنندگان اور سرمایہ کاری کو سپورٹ کرتے ہیں
6- اس کے علاوہ غیر ملکی کمرشل بینکس اور خاص طور پر سی پیک کے بعد چینی مالیاتی ادارے بھی اس فنانسنگ کا حصہ رہے ہیں
اب اگر ان تمام اداروں کے ناموں پر غور کیا جاۓ تو یہ واضح ہوتا ہے کہ فنانسنگ کا انتخاب روایتی بینکنگ سسٹم کے بجائے ایسے اداروں کے ذریعے کیا گیا جہاں حکومتی ضمانتیں (Sovereign Guarantees)، ڈالر سے منسلک ریٹرن، اور طویل المدتی معاہدے حاصل کرنا آسانی سے ممکن تھا، اور اس کے نتیجے میں ایک ایسا مالیاتی ماڈل تشکیل پایا جس میں پاکستانی سرمایہ کاروں کی حقیقی سرمایہ کاری نسبتاً کم اور ریٹرن نسبتاً زیادہ محفوظ ہو گیا۔
آئیے محمد علی رپورٹ 2020ء کی طرف، جو پاکستان کے پاور سیکٹر میں ایک اہم سنگ میل ہے اور جس کا ذکر اس مضمون میں پہلے بھی ہو چکا ہے۔ مضمون کی طوالت کے پیش نظر اس رپورٹ اور اس کے اہم نکات کو نہایت جامع انداز میں پیش کیا جا رہا ہے۔
🔳 حکومتِ پاکستان کی جانب سے 2020 میں قائم IPPs Inquiry Committee کی تحقیقاتی رپورٹ، جو محمد علی رپورٹ کے نام سے معروف ہے، محمد علی صاحب نے مرتب کی، جو پیشے کے اعتبار سے سیکیورٹی کمیشن آف پاکستان (SECP) کے چئیرمین رہے اور پاور سیکٹر کے ماہر اور حکومتی سطح پر توانائی امور سے وابستہ ٹیکنوکریٹ رہے ہیں۔ اس وقت کے وزیرِ اعظم نے ان کی سربراہی میں ارکانِ پارلیمنٹ، سیکیورٹی اداروں کے نمائندگان اور ماہرینِ معیشت پر مشتمل ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی قائم کی تھی۔
اس رپورٹ میں پہلی مرتبہ پاکستان کے پاور سیکٹر کے مالیاتی معاہدوں کو نمایاں طور پر سامنے لایا گیا، اور یہ انکشاف کیا گیا کہ کئی IPPs نے اپنی Project Cost بڑھا کر ظاہر کی، جس سے Return on Equity غیر معمولی حد تک بڑھ گیا، جبکہ حقیقی ایکوئٹی کم رہی۔
اس رپورٹ کے اہم نکات درج ذیل ہیں۔
1۔ لاگت میں مبالغہ آرائی (Over invoicing & Misdeclaration) متعدد پاور پروجیکٹس میں لاگت کو اصل سے زیادہ ظاہر کیا گیا، جس سے Return on Equity غیر معمولی حد تک بڑھ گیا۔ بعض کیسز میں یہ منافع 50 سے 70 فیصد سالانہ تک پہنچ گیا، جبکہ Nepra کی مقررہ حد 12 سے 15 فیصد تھی۔ حقیقی ایکوئٹی کم تھی مگر ادائیگیاں بڑھا چڑھا کر ظاہر کی گئی لاگت پر ہوئیں۔ مثال کے طور پر 1994 پالیسی کے تحت 16 آئی پی پیز نے تقریباً 51.80 ارب روپے کی سرمایہ کاری سے 415 ارب روپے سے زائد منافع کمایا، جن میں 310 ارب روپے ڈیویڈنڈز کی صورت میں ادا کیے گئے۔
2۔ فیول کنزمپشن اور کارکردگی میں فرق (Fuel Consumption & Efficiency Gap) رپورٹ کے مطابق بعض آئی پی پیز نے ایندھن کے استعمال کے اعداد و شمار درست ظاہر نہیں کیے، یعنی اصل ایندھن کم استعمال ہوا مگر بل زیادہ بنایا گیا، جبکہ Efficiency gains عوام کو منتقل کرنے کے بجائے کمپنیوں نے اضافی منافع کے طور پر اپنے پاس رکھ لیے
3۔ کیپیسٹی پیمنٹس کا بنیادی مسئلہ (Capacity Payments & Take or Pay Contracts) Take or Pay معاہدوں کے تحت حکومت کو بجلی خریدے بغیر بھی ادائیگی کرنا پڑتی رہی، جس کے نتیجے میں یہی ادائیگیاں گردشی قرضے کی بڑی وجہ بنیں اور نظام پر مالی دباؤ مسلسل بڑھتا گیا۔
4۔ ڈالر انڈیکسیشن کا اثر (Dollar Indexation Impact) رپورٹ میں اس بات پر تنقید کی گئی کہ مقامی کمپنیوں کو بھی ڈالر کے ساتھ منسلک ریٹرن دیا جا رہا تھا، جس سے ڈالر مہنگا ہونے پر بجلی خود بخود مہنگی ہو جاتی تھی، حالانکہ اخراجات کا بڑا حصہ مقامی کرنسی میں تھا
رپورٹ نے یہ بھی واضح کیا کہ Capacity Payments کے ذریعے بجلی پیدا نہ ہونے کے باوجود کمپنیوں کو ادائیگیاں کی جاتی رہیں، جس کا بوجھ براہِ راست عوام پر منتقل ہوا۔ مزید برآں، فرانزک آڈٹ میں بعض کمپنیوں کے “Excess Profits” کی نشاندہی ہوئی اور یہ سامنے آیا کہ مالیاتی ماڈلز، خاص طور پر Debt Financing اور indexation، اس طرح ترتیب دیے گئے تھے کہ رسک کم اور منافع یقینی رہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پاور سیکٹر کے بنیادی مسائل دراصل سسٹمک نوعیت کے ہیں، جہاں ٹیرف اوور پیمنٹس، بینک فنانسنگ کے پیچیدہ ڈھانچے، غیر شفاف معاہدے اور ریگولیٹری کمزوریاں مل کر ایک ایسا مالی بحران پیدا کرتی رہی ہیں جس کے نتیجے میں سرکلر ڈیٹ تقریباً 13 بلین ڈالر (تقریباً 3600 ارب روپے) تک جا پہنچا، اور یہ بوجھ بالآخر براہِ راست عوام پر منتقل ہوا۔
(یاد رہے کہ یہ 2020 کی رپورٹ ہے، لیکن آج تک کسی کے کان پر جُوں تک نہ رینگی۔ صرف خانہ پری کے لیے حکومت نے کچھ آئی پی پیز کے ساتھ معاہدوں پر نظرثانی کی، مذاکرات کیے گئے اور ٹیرف میں جزوی کمی کی گئی، مگر مجموعی نظام میں بنیادی شرائط وہی رہیں اور یوں پرانی چال بے ڈھنگی جو پہلے تھی وہ اب بھی ہے۔)
اس انکوائری رپورٹ سامنے آنے کے بعد پاکستان کی سب سے بڑی کاروباری تنظیم فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (FPCCI) نے واضح مؤقف اختیار کیا کہ صرف رپورٹ پیش کر دینا کافی نہیں بلکہ بجلی بنانے والی کمپنیوں (IPPs) کا ایک مکمل اور قانونی نوعیت کا Forensic Audit ضروری ہے۔ اس مطالبے کا بنیادی مقصد یہ تھا کہ یہ جانچا جا سکے کہ ان کمپنیوں کو ضرورت سے زیادہ ادائیگیاں کیوں کی گئیں، کتنا غیر معمولی یا ناجائز منافع حاصل کیا گیا، اور ان کے مالی ریکارڈ کی مکمل جانچ کے بعد یہ تعین کیا جائے کہ عوام کے پیسے کا نقصان کہاں اور کیسے ہوا، اور اس کا ذمہ دار کون ہے تاکہ ممکن ہو تو وہ رقم واپس لی جا سکے۔
اس مضمون کے آخر میں، میں ایک سوال کرنے پر مجبور ہوں پچھلی مرتبہ حکومت نے ملک کے اٹھارہ بینکوں سے پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا قرضہ، یعنی 4.5 بلین ڈالر (تقریباً 1250 ارب روپے) لے کر پاور پلانٹس کو ادائیگیاں کیں، مگر المیہ دیکھیے کہ چند ہی ماہ میں آئی پی پیز کے واجبات اور گردشی قرضہ دوبارہ پہلے سے بھی زیادہ ہو چکے ہیں۔ (6.8 بلین ڈالر) سوال یہ ہے کہ اب ہم کس سے قرض لیں گے؟ قرض لے کر قرض اتارنے کا یہ تباہ کن سلسلہ آخر کب تک جاری رہے گا؟
کیا اس فرسودہ نظام کے تحت مزید عوام کے جسم سے خون نچوڑنا باقی ہے؟ جب National Electric Power Regulatory Authority کی جانب سے بجلی کے نرخوں میں مزید اضافے کی خبریں آتی ہیں، تو دل دہل جاتا ہے کہ کیا ان تمام اداروں کی نااہلی کا سارا بوجھ صرف غریب عوام کے ناتواں کندھوں پر ہی ڈالا جائے گا؟
حقیقت یہ ہے کہ ریاستِ پاکستان ان آئی پی پیز کے شکنجے اور “کیپیسٹی پیمنٹس” کے جال میں جکڑ کر بتدریج معاشی خودکشی کی طرف بڑھ رہی ہے۔ ابھی بھی وقت ہے کہ ان استحصالی معاہدوں پر نظرِ ثانی کی جائے اور بجلی کے شعبے میں فوری و بنیادی اصلاحات لائی جائیں، ورنہ یہ ناقابلِ برداشت معاشی بوجھ ہماری آنے والی نسلوں کو بھی زندہ درگور کر دے گا۔
بہت سے قارئین یہ سوال کرتے ہیں کہ مسئلے کا حل کیا ہے۔ میرا مؤقف رہا ہے کہ پہلے اس نظام کو سمجھنا ضروری ہے جس نے ہمیں اس بحران تک پہنچایا، اسی لیے میں نے اسے قسط وار پیش کیا۔ اب چودھویں قسط میں ایک عملی اور فوری حل پیش کروں گا تاکہ بات تجزیے سے آگے بڑھ کر پالیسی کی سمت جا سکے۔
(جاری ہے، باقی اگلی قسط)