Home


🔲 عوامی تحقیقاتی سلسلہ | قسط 14
موضوع: پاکستان کا بجلی کا نظام کیسے ٹھیک ہو گا
[مہنگے بجلی کے بلوں کو کیسے سمجھا اور کم کیا جا سکتا ہے]

🔺 جب ادارے حقائق کی فراہمی سے گریزاں ہوں تو پھر سچ تک پہنچنا عوام کی ذمہ داری ہے۔
تحریر و تحقیق: سید شایان

🔳 واپڈا کی بحالی: آئی پی پیز کے شکنجے سے نکلنے کا واحد راستہ ؟؟
جب 1992 میں واپڈا کو ری اسٹرکچرنگ کا نشانہ بنا کر 1994 میں نجی بجلی گھروں یعنی IPPs کا ماڈل لایا گیا تھا تو سوال اٹھتا ہے کہ آخر واپڈا نے ایسا کون سا جرم کیا تھا جس کی اسے یہ سزا دی گئی؟ نہ اس پر کوئی گردشی قرضہ تھا، نہ مالیاتی دباؤ اس حد تک تھا، نہ عوامی سطح پر وہ نفرت موجود تھی جو آج کے IPPs نظام کے ساتھ جڑی ہوئی ہے۔ اس وقت پیداوار اور طلب میں نسبتاً توازن موجود تھا، انسٹالڈ کیپیسٹی ضرورت کے مطابق تھی، اور بڑے پیمانے کی لوڈشیڈنگ بھی نہیں تھی۔

واپڈا کو تقسیم کرنے اور پاور سیکٹر کی اصلاحات کا آغاز سب سے پہلے نواز شریف کی حکومت (1990 تا 1993) میں کیا گیا، جب نجکاری اور پاور سیکٹر ریفارمز کی پالیسی متعارف کروائی گئی۔ اس عمل کو بعد میں بینظیر بھٹو کی حکومت نے 1994 کی پاور پالیسی کے ذریعے مزید آگے بڑھایا، جس میں نجی بجلی گھروں یعنی IPPs کو مرکزی کردار دیا گیا۔

کیا آپ یقین کر سکتے ہیں کہ پاکستان کا بجلی پیداوار، ترسیل اور تقسیم کا نظام گزشتہ 30 سال سے کسی ایک مرکزی سربراہ کے بغیر چل رہا ہے؟

جس طرح فوج، پولیس یا عدلیہ کو نجی کمپنیوں کے حوالے نہیں کیا جا سکتا کیونکہ ان کا مقصد منافع نہیں بلکہ عوام کا تحفظ ہے، بالکل اسی طرح سستی بجلی عوام کو مہیا کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے۔ اس کے لیے ریاست کو تمام پاکستانی نجی پاور پلانٹس کو فی الفور اپنی کمانڈ میں لینا ہو گا تاکہ ملک کی معیشت لگاتار چلتی رہے اور عوام کو بجلی کی سہولت ملک کے ہر حصے میں معمولی معاوضے پر ہمہ وقت دستیاب ہو۔

گزشتہ 20 سالوں میں دنیا بھر کے 800 سے زائد شہروں میں پانی، بجلی اور ٹرانسپورٹ جیسی بنیادی سہولیات کو نجی کمپنیوں سے واپس لے کر دوبارہ ریاستی یا بلدیاتی کنٹرول میں دیا گیا ہے،
یہ مضمون پڑھ کر مجھے اپنی راۓ ضرور دیجئیے۔

موجودہ IPPs کے نظام سے پہلے پاکستان میں بجلی کا پورا نظام زیادہ تر ایک ہی ادارے واپڈا Water and Power Development Authority کے تحت چلتا تھا، جو ملک میں بجلی کی فراہمی کا ذمہ دار تھا۔ یہ ادارہ بجلی کی پیداوار، ترسیل اور تقسیم تینوں کام خود انجام دیتا تھا، اس لیے نظام عملاً ایک ہی کمانڈ کے تابع تھا، جسے چیئرمین واپڈا کہا جاتا تھا۔

اس زمانے میں واپڈا ایک چیئرمین اور زیادہ سے زیادہ تین ممبران، یعنی ممبر الیکٹریسٹی، ممبر واٹر اور ممبر فنانس، پر مشتمل ہوتا تھا اور روزمرہ آپریشن اور فیصلہ سازی اسی ایک ہی ادارے کے ذمے تھی۔

اس دور میں بجلی کی بڑی مقدار پانی، یعنی ہائیڈل ذرائع سے پیدا ہوتی تھی، تاہم تمام بجلی صرف پانی سے حاصل نہیں کی جاتی تھی بلکہ اس کا ایک حصہ تھرمل ذرائع سے بھی پیدا کیا جاتا تھا۔

واپڈا کا قیام 1958 میں عمل میں آیا تھا، اور اس وقت دنیا بھر میں بڑے سرکاری اداروں State Owned Enterprises کا تصور بہت مضبوط تھا، جس پر کسی حد تک اشتراکی یا سوشلسٹ معاشی ماڈل کے اثرات موجود تھے۔ اس دور میں یہ مانا جاتا تھا کہ بجلی، پانی اور سڑکیں جیسی بنیادی سہولیات کی فراہمی ریاست کی ذمہ داری ہے اور اسے نفع نقصان سے بالاتر ہو کر دیکھا جانا چاہیے۔

1991 میں سوویت یونین کے ٹوٹنے اور اشتراکی نظام کے خاتمے کے بعد عالمی مالیاتی اداروں، خصوصاً IMF یعنی International Monetary Fund اور World Bank نے ہمارے ملک کے بیوروکریٹس اور سیاست دانوں میں اس سرمایہ دارانہ سوچ کو فروغ دیا کہ ریاست کا کام کاروبار کرنا نہیں ہے۔ اسی تناظر میں پاکستان سمیت کئی ترقی پذیر ممالک کو یہ باور کرایا گیا کہ سرکاری ادارے بوجھ ہیں، نجی شعبہ زیادہ مؤثر طریقے سے کام کر سکتا ہے، اور بجلی کی پیداوار کو ایک بنیادی سہولت کے بجائے ایک کمرشل سرگرمی کے طور پر چلایا جانا چاہیے۔

چنانچہ ان اداروں کے مسلسل اصرار پر 1992 کے پاور سیکٹر ریفارمز کے تحت واپڈا کو مرحلہ وار تقسیم کرنے کا عمل شروع کیا گیا، جس کے نتیجے میں اسے جنریشن، ٹرانسمیشن اور ڈسٹری بیوشن کمپنیوں میں بانٹ دیا گیا۔ بعد ازاں یہ تمام ادارے وزارتِ پانی و بجلی کے تحت آئے، جو آج منسٹری آف انرجی کے پاور ڈویژن کے ماتحت کام کر رہے ہیں۔

جب 1992 میں واپڈا کو تقسیم کر کے اس کی بنیادی حیثیت تبدیل کی گئی تو اس وقت سرکلر ڈیٹ، یعنی محکمے پر قرضوں کا کوئی تصور موجود نہیں تھا، اور نہ ہی ادائیگیوں کا کوئی بڑا بوجھ تھا۔ صارفین صرف اتنی ہی رقم ادا کرتے تھے جتنی بجلی وہ استعمال کرتے تھے، اس کے علاوہ نہ کوئی اضافی چارجز تھے اور نہ ہی بلوں میں کوئی پیچیدہ مالی بوجھ شامل تھا۔

(آج پاکستان کے پاور سیکٹر پر مجموعی قرضہ، جسے سرکلر ڈیٹ کہا جاتا ہے، تقریباً 2.5 سے 2.7 ٹریلین روپے (یعنی 2500 سے 2700 ارب روپے) تک پہنچ چکا ہے، جبکہ اگر اس میں پاور ہولڈنگ کمپنی کے قرضے بھی شامل کر لیے جائیں تو یہ حجم 3 ٹریلین روپے (یعنی 3000 ارب روپے) سے بھی تجاوز کر جاتا ہے۔)

اس وقت یعنی 1992 میں پاکستان میں بجلی کی مجموعی پیداواری صلاحیت تقریباً 7000 سے 8000 میگاواٹ تھی جبکہ طلب عموماً اس کے قریب یا کچھ کم رہتی تھی، اسی لیے باقاعدہ اور طویل لوڈشیڈنگ کا مسئلہ عام نہیں تھا، صرف بعض اوقات وقتی یا مقامی کمی کی وجہ سے محدود لوڈشیڈنگ شاذ و نادر دیکھنے میں آتی تھی۔

حیرت اس بات کی ہے کہ جب سب کچھ اتنے احسن طریقے سے چل رہا تھا تو پھر ایسے منظم ادارے کو توڑنے کی نوبت کیوں آئی؟

تو اس کا سادہ جواب یہ ہے کہ اس وقت عالمی سطح پر “اصلاحات” کے نام پر ایک نیا معاشی ماڈل متعارف کرایا جا رہا تھا، جسے عالمی طور پر نیو لبرل ازم کہا جاتا ہے، جس میں سرکاری نظام کو تبدیل کر کے نجی شعبے کو شامل کرنے اور مسابقت بڑھانے پر زور دیا گیا۔ پاکستان میں بھی یہی ماڈل اپنایا گیا تاکہ بجلی کے شعبے میں نجی سرمایہ آئے اور حکومت کا مالی بوجھ کم ہو۔

یہ فیصلہ بنیادی طور پر اُس وقت کی حکومت نے عالمی مالیاتی اداروں جیسے World Bank اور International Monetary Fund کے ساتھ مل کر کیا، جس کے تحت واپڈا کو مختلف کمپنیوں میں تقسیم کر دیا گیا۔

واپڈا کو تقسیم کرنے اور پاور سیکٹر کی اصلاحات کا آغاز سب سے پہلے نواز شریف کی حکومت (1990 تا 1993) میں کیا گیا، جب نجکاری اور پاور سیکٹر ریفارمز کی پالیسی متعارف کروائی گئی۔ اس عمل کو بعد میں بینظیر بھٹو کی حکومت نے 1994 کی پاور پالیسی کے ذریعے مزید آگے بڑھایا، جس میں نجی بجلی گھروں یعنی IPPs کو مرکزی کردار دیا گیا۔

جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ آج پاکستان کا پاور سیکٹر واپڈا جیسے ایک واحد مرکزی ادارے کے ماتحت نہیں رہا بلکہ ڈیڑھ سو کے قریب متعدد انتظامی اور تجارتی اکائیوں میں تقسیم ہو چکا ہے۔

جس میں ایک طرف سرکاری شعبے میں 10 ڈسٹری بیوشن کمپنیاں DISCOs، پھر 4 جنریشن کمپنیاں GENCOs، نیشنل ٹرانسمیشن اینڈ ڈسپیچ کمپنی NTDC، سنٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی گارنٹی CPPA G، نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی NEPRA، وزارتِ توانائی پاور ڈویژن، واپڈا WAPDA، اور آزاد جموں و کشمیر و گلگت بلتستان کے الگ الگ بجلی سپلائی کے ادارے شامل ہیں، جن کی تعداد کم از کم 21 کے قریب ہے۔ دوسری طرف تقریباً 100 نجی بجلی گھر IPPs اپنی الگ الگ کمپنیوں، بورڈز اور طویل مدت کے معاہدوں کے ساتھ اسی نظام کا حصہ ہیں۔ اس کے علاوہ پرائیویٹ پاور اینڈ انفراسٹرکچر بورڈ PPIB، الٹرنیٹو انرجی ڈویلپمنٹ بورڈ AEDB، کراچی الیکٹرک K Electric اور صوبائی توانائی محکمے الگ اپنی اپنی توانائیاں اس میں لگا رہے ہیں۔ یعنی ہمارے ملک کا وہ پاور سیکٹر جو کبھی واپڈا جیسے ایک مضبوط مرکزی ادارے کے ماتحت منظم اور مؤثر طریقے سے چلتا تھا، آج 140 سے 150 اداروں پر مشتمل ایک بکھرا ہوا، بے ترتیب اور انتہائی پیچیدہ شکل اختیار کر چکا ہے۔

اور لطف کی بات یہ ہے کہ اس تقسیم کاری کا سب سے نمایاں نتیجہ یہ نکلا کہ انتظامی اخراجات ہزاروں گنا بڑھ گئے، جبکہ عام آدمی کے لیے سستی بجلی کا حصول مزید دشوار بلکہ تقریباً ناممکن بنا دیا گیا۔

کیا یہ ایک المیہ نہیں کہ ایک وقت میں ایک ادارہ جو پورا نظام چلا رہا تھا، آج وہی کام لگ بھگ ڈیڑھ سو کے قریب ادارے مل کر کر رہے ہیں، مگر نہ سمت واضح ہے نہ قیادت؟ وزارتِ توانائی، نیپرا، سی پی پی اے، این ٹی ڈی سی اور ڈسکوز سب اپنے اپنے دائرے میں مصروف ہیں، مگر کوئی ایک ایسی مرکزی اور بااختیار قیادت موجود نہیں جو پورے نظام کی ذمہ داری لے اور یہ بتائے کہ ہم کس سمت جا رہے ہیں۔

اس کی مثال میں اگر ہم پاکستان آرمی کو بطور ایک ادارہ دیکھیں تو ہمیں یہ ایک انتہائی منظم اور مربوط نظام نظر آتا ہے، جو انفنٹری، آرٹلری، آرمڈ کور، ایئر ڈیفنس، انجینئرز، سگنلز، آرمی ایوی ایشن، لاجسٹکس، سپلائی، آرڈیننس، الیکٹریکل اینڈ مکینیکل انجینئرنگ، میڈیکل کور، ملٹری پولیس، ملٹری انٹیلی جنس اور دیگر معاون سروسز جیسے متعدد پیشہ ورانہ شعبوں پر مشتمل ہے۔ ہر شعبہ اپنی جگہ مکمل صلاحیت رکھتا ہے، اور ان سب کو ایک سمت میں رکھنے والا ایک مضبوط کمانڈ اسٹرکچر الگ ہے، جو کور سسٹم پر قائم ہے، جہاں 9 سے 11 کورز اپنی اپنی ذمہ داری کے ساتھ کام کرتی ہیں، اور ان سب کے اوپر ایک مرکزی قیادت موجود ہے جسے چیف آف آرمی اسٹاف کہا جاتا ہے۔ اور یہی عہدہ پورے ادارے کو ایک سمت دیتا ہے، فیصلے کرتا ہے اور ان کے نتائج کی مکمل ذمہ داری قبول کرتا ہے۔

لیکن اس کے مقابلے میں ہم پاکستان کے موجودہ پاور سیکٹر کا تنظیمی جائزہ لیں تو یہ بھی بظاہر ایک منظم اور ہمہ جہت نظام دکھائی دیتا ہے، جو کسی بڑے عسکری ادارے کی طرح مختلف حصوں پر مشتمل ہے۔ اس میں NTDC، CPPA، NEPRA، WAPDA، IPPs، GENCOs اور DISCOs جیسے کلیدی ادارے اپنی اپنی متعین کردہ ذمہ داریاں، پیداوار، خرید و فروخت، ترسیل، تقسیم اور ریگولیشن سرانجام دے رہے ہیں۔ اس کے ساتھ سسٹم آپریشن، لوڈ مینجمنٹ، پلاننگ، بلنگ اور ریکوری جیسے اہم پہلو بھی اسی نظام کا حصہ ہیں۔

اگرچہ یہ تمام ادارے اپنی اپنی سطح پر متحرک ہیں، کوئی بجلی پیدا کر رہا ہے، کوئی اس کی قیمت طے کر رہا ہے، کوئی اسے گرڈ تک پہنچا رہا ہے اور کوئی صارف تک تقسیم کر رہا ہے۔ بظاہر یہ ایک مکمل نظام بھی دکھائی دیتا ہے، مگر اصل سوال وہی ہے کہ اس پورے ڈھانچے کا “کور سسٹم” کہاں ہے؟ اگر یہ کہا جائے کہ وزارتِ توانائی اس کی کمان سنبھال رہی ہے، تو یہ بات محض ایک لطیفے سے زیادہ اہمیت نہیں رکھتی۔

سوال یہ ہے کہ ہمارے ملک کے پاور سیکٹر میں کیا کوئی ایک ایسی مرکزی، خودمختار اور تکنیکی قیادت موجود ہے جو پورے نظام کو بطور ایک یونٹ دیکھے، اس کی منصوبہ بندی کرے، پیداوار، ترسیل اور تقسیم کے درمیان توازن قائم رکھے، اور ہر فیصلے کی حتمی ذمہ داری لے؟

تو میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ پچھلے 30 سالوں سے پاکستان کا موجودہ پاور سیکٹر کسی ایک مرکزی سربراہ کے تحت چلنے والا “سنگل کمانڈ سسٹم” نہیں ہے۔ اگرچہ یہ باضابطہ طور پر Ministry of Energy Power Division کے دائرۂ اختیار میں آتا ہے، لیکن عملی سطح پر اس کا انتظام، آپریشن اور فیصلہ سازی متعدد خودمختار اور نیم خودمختار اداروں میں تقسیم ہے۔

دنیا بھر میں پاور سسٹمز اسی وقت مؤثر چلتے ہیں جب ایک مرکزی اتھارٹی یا واحد قیادت پورے نظام کو ایک مربوط نظام کے تحت کنٹرول کرتی ہے، نہ کہ درجنوں ادارے الگ الگ سمتوں میں کام کر رہے ہوں۔

اس لیے میں سمجھتا ہوں کہ وقت آ گیا ہے کہ ہم ماضی کی غلطیوں سے سیکھتے ہوئے واپڈا جیسے قومی ادارے کو جدید بنیادوں پر دوبارہ مضبوط کریں اور اسے پورے پاور سیکٹر کا مرکزی نگران بنایا جائے، تاکہ نظام میں ہم آہنگی، شفافیت اور جوابدہی بحال ہو سکے اور عوام کو ایک منصفانہ اور پائیدار توانائی کا نظام فراہم کیا جا سکے۔

واپڈا کی بحالی سے پاور سیکٹر میں وہ مرکزیت واپس آ سکتی ہے جو اس وقت بکھری ہوئی ہے۔ ڈسٹری بیوشن کمپنیوں DISCOs کی ناقص کارکردگی اور لائن لاسز کو ایک مرکزی کمانڈ کے ذریعے بہتر طریقے سے کنٹرول کیا جا سکتا ہے، جیسا کہ ماضی میں اس ادارے کی ایک شناخت تھی۔

ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ واپڈا کو کسی واضح ناکامی کی بنیاد پر ختم نہیں کیا گیا تھا بلکہ ایک عالمی معاشی نظریے کے تحت اس کا اسٹرکچر بدلا گیا تھا۔ آج سوال یہ نہیں کہ وہ فیصلہ کیوں ہوا، کیونکہ اس کے نتائج پوری قوم بھگت چکی ہے۔

اب اصل سوال یہ ہے کہ جب نجکاری ماڈل اور آئی پی پیز کے سنگین اثرات ہمارے سامنے آ چکے ہیں تو کیا ہم اب بھی نجی پاور پلانٹس کی موجودگی کے حق میں ہیں یا حکومت اس پر نظر ثانی کرنے کے لیے تیار ہے؟

کیا قوم اور حکومت کو سنجیدگی سے یہ سوچنے کی ضرورت ہے کہ کیا واپڈا جیسے ایک مرکزی ادارے کو جدید بنیادوں پر دوبارہ منظم کر کے پورے پاور سسٹم کو ایک سمت نہیں دی جا سکتی؟

ہماری حکومت کے اکابرین کو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ اگر واپڈا کو دوبارہ بحال کیا جاتا ہے تو یہ کوئی نیا یا غیر معمولی قدم نہیں ہو گا، بلکہ ایک ثابت شدہ عالمی رجحان کی پیروی ہو گی۔ دنیا کے متعدد ممالک نجی توانائی ماڈل اور آئی پی پیز کی عملی ناکامیوں کے بعد اپنے بجلی کے نظام کو دوبارہ ریاستی کنٹرول میں لا چکے ہیں، کیونکہ وہاں بھی عوام کو مہنگی بجلی، غیر یقینی بلوں اور گرتے ہوئے حکومتی اعتماد کا سامنا تھا۔

مثلاً برطانیہ میں توانائی کے شعبے کو دوبارہ ریاستی دائرہ کار میں لانے پر سنجیدہ بحث اختتام کو پہنچ چکی ہے۔ فرانس نے 2023 میں اپنی بڑی پاور کمپنی EDF Électricité de France کو مکمل طور پر ریاستی تحویل میں لے لیا ہے اور 100 فیصد سرکاری ملکیت قائم کر دی تاکہ توانائی کی خودمختاری، نیوکلیئر پروگرام اور طویل مدتی سرمایہ کاری کو یقینی بنایا جا سکے۔ اسی طرح جرمنی کے کئی شہروں جیسے ہیمبرگ اور برلن نے اپنی بجلی کی کمپنیاں اور گرڈز واپس سرکاری یا مقامی تحویل میں لے لیے، جسے Re municipalization کہا جاتا ہے۔ 2005 سے 2016 کے درمیان 300 سے زائد کیسز میں مقامی حکومتوں نے نجی آپریٹرز سے بجلی کے نیٹ ورکس واپس خرید لیے۔

جاری ہے۔۔ باقی اگلی قسط میں

0
Views
35
4

مزید مضامین

🔲 عوامی تحقیقاتی سلسلہ | قسط 13 موضوع: پاکستان کا بجلی کا نظام کیسے ٹھیک ہو گا [مہنگے بجلی کے ...

🔲 عوامی تحقیقاتی سلسلہ | قسط 12موضوع: پاکستان کا بجلی کا نظام کیسے ٹھیک ہو گا[مہنگے بجلی کے بلو...

🔲 عوامی تحقیقاتی سلسلہ | قسط 11 موضوع: پاکستان کا بجلی کا نظام کیسے ٹھیک ہو گا [مہنگے بجلی کے ...

قومی تحقیقاتی سلسلہ | قسط 10موضوع: پاکستان کا بجلی کا نظام کیسے ٹھیک ہو گا[مہنگے بجلی کے بلوں ...

ہمارا بجلی کا نظام کیسے ٹھیک ہو گا؟؟ (قسط: 9) ▫️کیا واقعی پاکستان کی بجلی کی سالانہ ضرورت 40 ہز...