Home


🔲 عوامی تحقیقاتی سلسلہ | قسط 17
موضوع: پاکستان کا بجلی کا نظام کیسے ٹھیک ہو گا
(بجلی کی چوری اور کنُڈا کلچر)

🔺 جب ادارے حقائق کی فراہمی سے گریزاں ہوں تو پھر سچ تک پہنچنا عوام کی ذمہ داری ہے۔
تحریر و تحقیق: سید شایان

پاکستان میں ایک عام نفسیات یہ جڑ پکڑ چکی ہے کہ ریاست ہمیں کچھ دے نہیں رہی، بلکہ ہم سے ٹیکسوں اور مہنگی بجلی کی صورت میں ‘لوٹ مار’ کر رہی ہے۔ اس لیے جب کوئی کنڈا لگاتا ہے یا میٹر سلو (Slow) کرتا ہے تو وہ اسے ‘چوری’ نہیں سمجھتا بلکہ اسے اپنا وہ حق سمجھتا ہے جو ریاست نے اسے نہیں دیا۔

یہ ایک قسم کی Social Rebelliousness ہے جہاں قانون توڑنا ‘بہادری’ کی علامت بن جاتا ہے۔

جب ایک عام شہری یہ دیکھتا ہے کہ معاشرے کا طاقتور طبقہ قانون سے بالاتر ہے، چاہے وہ سیاستدان ہوں، اداروں کے بااثر افراد ہوں یا بڑے صنعت کار، اور ان پر ہاتھ نہیں ڈالا جا سکتا، جبکہ بڑے مگرمچھ بجلی بنانے کے نام پر اربوں کھربوں کی ہیر پھیر کرتے ہیں اور معزز بھی کہلاتے ہیں، اور پہلے سے مراعات یافتہ طبقے کو مفت بجلی دی جاتی ہے،

تو اس کے اندر ایک خاموش ردِعمل پیدا ہوتا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ وہ ان کا احتساب نہیں کر سکتا، مگر وہ یہ ضرور کر سکتا ہے کہ اپنے محدود دائرے میں ویسا ہی طرزِ عمل اختیار کرے۔ یوں وہ اپنے اردگرد ایک چھوٹا سا “کلسٹر” بنا لیتا ہے، جہاں قانون کی وہی خلاف ورزی ہوتی ہے جو اوپر کے طبقات میں بڑے پیمانے پر جاری ہوتی ہے۔

چنانچہ یہ افراد بھی اپنی بجلی چوری کو “بیلنسنگ ایکٹ” (Balancing Act) کا نام دے کر اپنے اپنے ضمیر کو مطمئن کر لیتے ہیں۔

فرانسیسی مفکر ایمیل درکائیم (Émile Durkheim) کا تصورِ انومی (Anomie) ہماری آنکھیں کھولنے کے لیے کافی ہے۔ انومی کی مثال پاکستانی معاشرے کی عکاس ہے، جس میں اصول ختم ہو جاتے ہیں اور درست غلط کا فرق مٹ جاتا ہے۔

جب ریاست کا سماجی معاہدہ (Social Contract) کمزور پڑ جائے اور عام آدمی یہ محسوس کرے کہ جس معاشرے میں انصاف اور وسائل کی تقسیم کا ترازو خراب ہو چکا ہو، تو وہ معاشرہ “نارمل” حالت سے نکل کر “انومی” کی کیفیت میں چلا جاتا ہے۔ یہاں فرد خود کو معاشرے کا حصہ نہیں سمجھتا اور اجتماعی مفاد کے بجائے صرف اپنے بچاؤ (Survival) کی فکر کرتا ہے۔

درکائیم کے مطابق ایسے معاشرے میں بے راہ روی (Deviance) محض فرد کا عمل نہیں رہتی بلکہ ایک “سوشل فیکٹ” (Social Fact) بن جاتی ہے، یعنی خرابی فرد میں نہیں بلکہ اس پورے معاشرے میں ہوتی ہے جس میں وہ سانس لے رہا ہوتا ہے۔

اب سوال یہ ہے کہ بجلی چوری یا “کنڈا کلچر” ہمارے معاشرے میں آیا کیوں؟ اور کب اس نے ایک اجتماعی وبا کی شکل اختیار کی؟

جب تک بجلی واپڈا کے پاس تھی، یہ ایک قومی خدمت سمجھی جاتی تھی۔ لیکن جیسے ہی نجی پاور پلانٹس (IPPs) کے ساتھ “ٹیک اور پے” (Take or Pay) جیسے معاہدے ہوئے تو بجلی ایک “کموڈٹی” (سودا) بن گئی۔ عوام نے دیکھا کہ اب ریاست انہیں کم بجلی فراہم کر رہی ہے جبکہ نجی کمپنیوں کے منافع کے لیے ان سے زیادہ وصولیاں کی جا رہی ہیں۔

جب عوام کو یہ پتا چلا کہ بجلی استعمال نہ کرنے پر بھی انہیں ان کارخانوں کو پیسے دینے پڑ رہے ہیں جن کے مالکان وہی بااثر طبقہ ہے، تو ان کے اندر “بغاوت” پیدا ہوئی۔ انہوں نے سوچا کہ اگر یہ کمپنیاں بغیر بجلی بنائے پیسے لے سکتی ہیں تو ہم بغیر پیسے دیے بجلی کیوں نہیں لے سکتے؟

اسی اثنا میں حکومت نے بجلی کے بلوں میں درجنوں ایسے ٹیکس اور چارجز شامل کر دیے جن کا بجلی کی اصل کھپت سے کوئی براہِ راست تعلق نہیں تھا۔ جب بل کا بڑا حصہ انکم ٹیکس، فکسڈ چارجز، فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ (FPA)، فنانسنگ کاسٹ سرچارج (FC Surcharge) اور دیگر مختلف سرچارجز پر مشتمل ہونے لگا تو یہی وہ مقام تھا جہاں اس معاشرے کے عام آدمی کے لیے یہ سسٹم قابلِ قبول نہیں رہا۔

جب قانون صرف غریب کے لیے “بجلی چوری” بن گیا اور امیر کے لیے “کیپیسٹی پیمنٹس” یا “سبسڈی” کے نام پر قانونی حیثیت اختیار کر گیا تو عوام نے کنڈے کو اپنا “حقِ دفاع” سمجھنا شروع کر دیا۔ یہ کلچر اس دھوکے کے ردِعمل میں پیدا ہوا کہ نجی ادارے بہتری لائیں گے، جبکہ عملی طور پر انہوں نے عام آدمی کی جیب میں ہاتھ ڈالا، لوڈ شیڈنگ کو بڑھاوا دیا اور ریاست کو کمزور کر دیا۔

(جاری ہے، باقی اگلی قسط میں)

0
Views
6
0

مزید مضامین

🔲 عوامی تحقیقاتی سلسلہ | قسط 16موضوع: پاکستان کا بجلی کا نظام کیسے ٹھیک ہو گا؟[ ہمارے پاور سسٹم ...

🔲 عوامی تحقیقاتی سلسلہ | قسط 15موضوع: پاکستان کا بجلی کا نظام کیسے ٹھیک ہو گا[مہنگے بجلی کے بلوں...

🔲 عوامی تحقیقاتی سلسلہ | قسط 14موضوع: پاکستان کا بجلی کا نظام کیسے ٹھیک ہو گا[مہنگے بجلی کے بلوں...

🔲 عوامی تحقیقاتی سلسلہ | قسط 13 موضوع: پاکستان کا بجلی کا نظام کیسے ٹھیک ہو گا [مہنگے بجلی کے ...

🔲 عوامی تحقیقاتی سلسلہ | قسط 12موضوع: پاکستان کا بجلی کا نظام کیسے ٹھیک ہو گا[مہنگے بجلی کے بلو...