🔲 عوامی تحقیقاتی سلسلہ | قسط 19
موضوع: پاکستان کا بجلی کا نظام کیسے ٹھیک ہو گا
(5 آئی پی پیز کو کس بنیاد پر بند کیا گیا)
🔺 جب ادارے حقائق کی فراہمی سے گریزاں ہوں تو پھر سچ تک پہنچنا عوام کی ذمہ داری ہے۔
تحریر و تحقیق: سید شایان
مجھ سے بہت سے قارئین نے یہ سوال پوچھا ہے کہ جن آئی پی پیز کے معاہدے ختم ہو رہے تھے، کیا انہیں رینیو (Renew) کیا گیا ہے یا نہیں؟
اس سوال کے جواب میں فی الحال میں تقریباً 2400 میگاواٹ صلاحیت کے 5 آئی پی پیز کے بند ہونے کے بارے میں تفصیل پیش کر رہا ہوں، جن کے معاہدے اکتوبر 2024 میں وفاقی کابینہ نے باہمی رضامندی سے قبل از وقت ختم کیے ہیں۔
• حبکو (HUBCO) 1200 میگاواٹ سے زائد
• لال پیر (Lalpir) 362 میگاواٹ
• صبا پاور (Saba Power) 136 میگاواٹ
• روش پاور (Rousch Power) 450 میگاواٹ
• اٹلس پاور (Atlas Power) 224 میگاواٹ
حقیقت یہ ہے کہ ان میں سے کچھ پلانٹس پہلے ہی ناکارہ ہو کر بند پڑے تھے یا کم فعال تھے، کچھ کی مدت ختم ہونے میں صرف چند ماہ باقی تھے، جبکہ کچھ اتنی مہنگی بجلی پیدا کرتے تھے کہ انہیں چلانا معاشی طور پر مناسب نہیں سمجھا جاتا تھا اور وہ عملاً صرف capacity payments حاصل کرنے کے لیے برقرار تھے۔
دستیاب معلومات کے مطابق حکومت نے تقریباً 72 ارب روپے درج ذیل ان پانچ کمپنیوں کو ادا کر کے یہ معاہدے ختم کیے۔
1۔ لال پیر پاور لمیٹڈ
یہ پلانٹ نشاط گروپ سے منسلک ہے۔ اس کے مالک میاں محمد منشا اور فیملی، خاص طور پر میاں حسن منشا (بورڈ آف ڈائریکٹرز میں شامل)ہیں۔ ان کا معاہدہ اصل میں 28 نومبر 2028 تک باقی تھا، مگر اسے 1 اکتوبر 2024 کو قبل از وقت ختم کر دیا گیا، اور اسے تقریباً 12.8 ارب روپے ادا کیے گئے، جو بنیادی طور پر بقایا کیپیسٹی چارجز اور دیگر واجب الادا ادائیگیوں کی مد میں تھے۔ اس گروپ کے مزید تین آئی پی پی یعنی نشاط پاور لمیٹڈ، نشاط چونیاں پاور لمیٹڈ، اور پاک جین پاور لمیٹڈ اس وقت بھی سسٹم میں ہیں۔
2۔ حب پاور کمپنی لمیٹڈ
یہ پاکستان کا سب سے بڑا اور پرانا آئی پی پی تھا جو 1994 پالیسی کے تحت لگا۔ اس کے مالکان حبیب اللہ خان فیملی اور ان کا Mega Group ہے۔
اس کا معاہدہ اصل میں مارچ 2027 تک چلنا تھا، مگر اکتوبر 2024 میں قبل از وقت ختم کیا گیا۔ حکومت نے اسے تصفیے کے تحت ادائیگی کر کے رخصت کیا، اور انہیں تقریباً 36.5 ارب روپے ادا کیے گئے، جو بنیادی طور پر بقایا کیپیسٹی اور انرجی چارجز کی مد میں تھے۔ اس گروپ کے دیگر اہم پاور پراجیکٹس جو اب بھی سسٹم کا حصہ ہیں: حبکو نارووال پاور لمیٹڈ، حبکو ٹھٹھہ پاور، تھر انرجی لمیٹڈ، تھل نووا پاور تھر، اور دیگر منصوبے جن کے معاہدے ختم نہیں کیے گئے۔
3۔ صبا پاور کمپنی لمیٹڈ
یہ نسبتاً چھوٹا آئی پی پی تھا جو 1994 پالیسی کے تحت لگا۔ اس کے مالک ندیم بابر اور ان کے ساتھیوں کا گروپ (سابقہ El Paso اور Coastal Saba سے منسلک) تھا۔ ان کا معاہدہ اصل میں تقریباً 2025 تک جاری رہنا تھا، مگر اسے بھی اکتوبر 2024 میں قبل از وقت ختم کر دیا گیا۔ دستیاب معلومات کے مطابق انہیں تقریباً 1 ارب روپے ادا کیے گئے، جو بنیادی طور پر بقایا کیپیسٹی چارجز اور دیگر واجب الادا رقوم کی مد میں تھے۔ یہ پلانٹ پہلے ہی محدود پیداوار یا بند حالت میں تھا، اس لیے اس کی ٹرمینیشن سے حقیقی مالی فائدے پر سوال اٹھایا جا رہا ہے۔
4۔ روش پاور گروپ (Rousch Power)
یہ ایک گیس پر چلنے والا آئی پی پی تھا۔ اہم مالکان داؤد گروپ (عبدالرزاق داؤد سے منسلک)، آلٹرن انرجی لمیٹڈ اور پاور مینجمنٹ کمپنی لمیٹڈ، جس میں Descon، Olayan Group اور کریسنٹ گروپ کے شیئرز شامل ہیں (بورڈ میں ان گروپس کے نمائندے)۔ اس کا معاہدہ تقریباً 2032 تک چلنا تھا۔ اسے بھی اکتوبر 2024 میں قبل از وقت ختم کیا گیا۔ اس پلانٹ کو تقریباً 15.5 ارب روپے ادا کیے گئے، جو زیادہ تر بقایا کیپیسٹی پیمنٹس پر مشتمل تھے۔ اس کیس میں حکومت نے اسے بڑی کامیابی کے طور پر پیش کیا کیونکہ اس پر کیپیسٹی چارجز کا بوجھ زیادہ تھا۔ یہ BOOT ماڈل پر تھا، اس لیے یہ پلانٹ حکومت کو منتقل کر دیا جائے گا۔
5۔ اٹلس پاور لمیٹڈ
یہ پلانٹ 2002 پالیسی کے تحت لگایا گیا تھا۔ اہم مالک اٹلس گروپ اور شیرازی فیملی، خاص طور پر یوسف ہادی شیرازی کی اولاد (شیرازی انویسٹمنٹس پرائیویٹ لمیٹڈ کے ذریعے 92 فیصد سے زائد شیئرز)۔ ان کا معاہدہ بھی اپنی مدت مکمل ہونے سے پہلے ختم کیا گیا، اور انہیں تقریباً 6 ارب روپے ادا کیے گئے، جو بنیادی طور پر بقایا کیپیسٹی چارجز اور دیگر واجبات کی مد میں تھے۔ یہ پلانٹ بھی دیگر آئی پی پیز کی طرح لمپ سم سیٹلمنٹ کے ذریعے سسٹم سے نکالا گیا۔
(جاری ہے، باقی اگلی قسط میں)
موضوع: پاکستان کا بجلی کا نظام کیسے ٹھیک ہو گا
(5 آئی پی پیز کو کس بنیاد پر بند کیا گیا)
🔺 جب ادارے حقائق کی فراہمی سے گریزاں ہوں تو پھر سچ تک پہنچنا عوام کی ذمہ داری ہے۔
تحریر و تحقیق: سید شایان
مجھ سے بہت سے قارئین نے یہ سوال پوچھا ہے کہ جن آئی پی پیز کے معاہدے ختم ہو رہے تھے، کیا انہیں رینیو (Renew) کیا گیا ہے یا نہیں؟
اس سوال کے جواب میں فی الحال میں تقریباً 2400 میگاواٹ صلاحیت کے 5 آئی پی پیز کے بند ہونے کے بارے میں تفصیل پیش کر رہا ہوں، جن کے معاہدے اکتوبر 2024 میں وفاقی کابینہ نے باہمی رضامندی سے قبل از وقت ختم کیے ہیں۔
• حبکو (HUBCO) 1200 میگاواٹ سے زائد
• لال پیر (Lalpir) 362 میگاواٹ
• صبا پاور (Saba Power) 136 میگاواٹ
• روش پاور (Rousch Power) 450 میگاواٹ
• اٹلس پاور (Atlas Power) 224 میگاواٹ
حقیقت یہ ہے کہ ان میں سے کچھ پلانٹس پہلے ہی ناکارہ ہو کر بند پڑے تھے یا کم فعال تھے، کچھ کی مدت ختم ہونے میں صرف چند ماہ باقی تھے، جبکہ کچھ اتنی مہنگی بجلی پیدا کرتے تھے کہ انہیں چلانا معاشی طور پر مناسب نہیں سمجھا جاتا تھا اور وہ عملاً صرف capacity payments حاصل کرنے کے لیے برقرار تھے۔
دستیاب معلومات کے مطابق حکومت نے تقریباً 72 ارب روپے درج ذیل ان پانچ کمپنیوں کو ادا کر کے یہ معاہدے ختم کیے۔
1۔ لال پیر پاور لمیٹڈ
یہ پلانٹ نشاط گروپ سے منسلک ہے۔ اس کے مالک میاں محمد منشا اور فیملی، خاص طور پر میاں حسن منشا (بورڈ آف ڈائریکٹرز میں شامل)ہیں۔ ان کا معاہدہ اصل میں 28 نومبر 2028 تک باقی تھا، مگر اسے 1 اکتوبر 2024 کو قبل از وقت ختم کر دیا گیا، اور اسے تقریباً 12.8 ارب روپے ادا کیے گئے، جو بنیادی طور پر بقایا کیپیسٹی چارجز اور دیگر واجب الادا ادائیگیوں کی مد میں تھے۔ اس گروپ کے مزید تین آئی پی پی یعنی نشاط پاور لمیٹڈ، نشاط چونیاں پاور لمیٹڈ، اور پاک جین پاور لمیٹڈ اس وقت بھی سسٹم میں ہیں۔
2۔ حب پاور کمپنی لمیٹڈ
یہ پاکستان کا سب سے بڑا اور پرانا آئی پی پی تھا جو 1994 پالیسی کے تحت لگا۔ اس کے مالکان حبیب اللہ خان فیملی اور ان کا Mega Group ہے۔
اس کا معاہدہ اصل میں مارچ 2027 تک چلنا تھا، مگر اکتوبر 2024 میں قبل از وقت ختم کیا گیا۔ حکومت نے اسے تصفیے کے تحت ادائیگی کر کے رخصت کیا، اور انہیں تقریباً 36.5 ارب روپے ادا کیے گئے، جو بنیادی طور پر بقایا کیپیسٹی اور انرجی چارجز کی مد میں تھے۔ اس گروپ کے دیگر اہم پاور پراجیکٹس جو اب بھی سسٹم کا حصہ ہیں: حبکو نارووال پاور لمیٹڈ، حبکو ٹھٹھہ پاور، تھر انرجی لمیٹڈ، تھل نووا پاور تھر، اور دیگر منصوبے جن کے معاہدے ختم نہیں کیے گئے۔
3۔ صبا پاور کمپنی لمیٹڈ
یہ نسبتاً چھوٹا آئی پی پی تھا جو 1994 پالیسی کے تحت لگا۔ اس کے مالک ندیم بابر اور ان کے ساتھیوں کا گروپ (سابقہ El Paso اور Coastal Saba سے منسلک) تھا۔ ان کا معاہدہ اصل میں تقریباً 2025 تک جاری رہنا تھا، مگر اسے بھی اکتوبر 2024 میں قبل از وقت ختم کر دیا گیا۔ دستیاب معلومات کے مطابق انہیں تقریباً 1 ارب روپے ادا کیے گئے، جو بنیادی طور پر بقایا کیپیسٹی چارجز اور دیگر واجب الادا رقوم کی مد میں تھے۔ یہ پلانٹ پہلے ہی محدود پیداوار یا بند حالت میں تھا، اس لیے اس کی ٹرمینیشن سے حقیقی مالی فائدے پر سوال اٹھایا جا رہا ہے۔
4۔ روش پاور گروپ (Rousch Power)
یہ ایک گیس پر چلنے والا آئی پی پی تھا۔ اہم مالکان داؤد گروپ (عبدالرزاق داؤد سے منسلک)، آلٹرن انرجی لمیٹڈ اور پاور مینجمنٹ کمپنی لمیٹڈ، جس میں Descon، Olayan Group اور کریسنٹ گروپ کے شیئرز شامل ہیں (بورڈ میں ان گروپس کے نمائندے)۔ اس کا معاہدہ تقریباً 2032 تک چلنا تھا۔ اسے بھی اکتوبر 2024 میں قبل از وقت ختم کیا گیا۔ اس پلانٹ کو تقریباً 15.5 ارب روپے ادا کیے گئے، جو زیادہ تر بقایا کیپیسٹی پیمنٹس پر مشتمل تھے۔ اس کیس میں حکومت نے اسے بڑی کامیابی کے طور پر پیش کیا کیونکہ اس پر کیپیسٹی چارجز کا بوجھ زیادہ تھا۔ یہ BOOT ماڈل پر تھا، اس لیے یہ پلانٹ حکومت کو منتقل کر دیا جائے گا۔
5۔ اٹلس پاور لمیٹڈ
یہ پلانٹ 2002 پالیسی کے تحت لگایا گیا تھا۔ اہم مالک اٹلس گروپ اور شیرازی فیملی، خاص طور پر یوسف ہادی شیرازی کی اولاد (شیرازی انویسٹمنٹس پرائیویٹ لمیٹڈ کے ذریعے 92 فیصد سے زائد شیئرز)۔ ان کا معاہدہ بھی اپنی مدت مکمل ہونے سے پہلے ختم کیا گیا، اور انہیں تقریباً 6 ارب روپے ادا کیے گئے، جو بنیادی طور پر بقایا کیپیسٹی چارجز اور دیگر واجبات کی مد میں تھے۔ یہ پلانٹ بھی دیگر آئی پی پیز کی طرح لمپ سم سیٹلمنٹ کے ذریعے سسٹم سے نکالا گیا۔
(جاری ہے، باقی اگلی قسط میں)