Home


🔳 حکومت کی جانب سے پاور سیکٹر کے وفاقی وزیر اور اعلیٰ افسران سمیت یکدم 18 افراد کو سول اعزازات اور تمغے دینا قوم کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف محسوس ہوتا ہے۔ وہ بھی ایسے وقت میں جب پورا ملک مہنگی بجلی، کپیسٹی چارجز، لوڈشیڈنگ اور تباہ حال معیشت کے باعث شدید اضطراب کا شکار ہے اور سوشل میڈیا عوامی احتجاج سے بھرا پڑا ہے۔

قومی اعزازات اور سول تمغے دھات، پیتل یا ڈھلے ہوئے لوہے کے وہ بے جان ٹکڑے نہیں ہوتے جنہیں گلیوں میں آواز لگانے والے پھیریوں سے پاپڑ، چھوہاروں یا خشک میوے کے بدلے بدل لیا جائے۔ یہ تمغے دراصل ریاستی وقار، قومی غیرت اور اجتماعی اعتماد کے امین ہوتے ہیں؛ یہی وجہ ہے کہ مہذب قومیں ان کی تقسیم میں غیر معمولی احتیاط، سنجیدگی اور بلند اخلاقی معیار کو مقدم رکھتی ہیں۔

یہ مضمون انگلش زبان میں پڑھنے کے لیے لاگ اِن کیجیے: syedshayan.com/IPPs


🔲 عوامی تحقیقاتی سلسلہ | قسط 28

موضوع: پاکستان کا بجلی کا نظام کیسے ٹھیک ہو گا؟

عنوان: بجلی کے محکمے کے وفاقی وزیر اور افسران پر سول اعزازات اور تمغوں کی بارش


🔺 جب ادارے حقائق کی فراہمی سے گریزاں ہوں تو پھر سچ تک پہنچنا عوام کی ذمہ داری ہے۔

تحریر و تحقیق: سید شایان

بڑھتے اندھیرے، چمکتے تمغے

2026 کے سول اعزازات میں پاور/توانائی کے شعبے سے اس مرتبہ یکدم 19 افراد کو مختلف اعزازات و تمغوں سے نوازا گیا ہے۔

ان میں وفاقی وزیر پاور سردار اویس احمد خان لغاری کو ہلالِ امتیاز، وزیراعظم کے مشیر برائے توانائی و نجکاری محمد علی کو ہلالِ امتیاز، اور سیکریٹری پاور ڈویژن ڈاکٹر محمد فخرِ عالم عرفان کو ستارۂ امتیاز دیا گیا۔

صدرِ مملکت نے وزیراعظم کی سفارش پر پاور سیکٹر ریفارمز کی نیشنل ٹاسک فورس کے 15 ارکان کے لیے بھی سول اعزازات منظور کیے، جن میں 10 ستارۂ امتیاز اور 5 تمغۂ امتیاز شامل ہیں۔ اس سرکاری خبر (APP رپورٹ) میں ان 15 ارکان کے انفرادی نام نہیں دیے گئے، صرف تعداد اور award categories دی گئی ہیں۔

اور اگر بجلی کے شعبے سے متعلق غیر سیاسی نام بھی شامل کیے جائیں تو یہ گنتی کم از کم 19 تک پہنچ جاتی ہے، کہ انجینئر جمال الدین احمد کو بھی ہلالِ امتیاز سے نوازا گیا۔ موجودہ رپورٹس کے مطابق یہ اعزاز انہیں بجلی اور انجینئرنگ کے شعبے میں طویل پیشہ ورانہ خدمات اور تکنیکی مہارت کے اعتراف میں دیا گیا۔ (نہ کہ کسی سیاسی پذیرائی کی بنیاد پر۔

اس لیے اس مضمون میں گفتگو اُن 18 اعزازات تک محدود ہے جن پر عوامی سطح پر سوالات اور اعتراضات سامنے آئے۔)

حکومتی citation کے مطابق وفاقی وزیر توانائی سردار اویس احمد خان لغاری کو ہلالِ امتیاز “پاور سیکٹر میں نمایاں خدمات اور اصلاحات” کے اعتراف میں دیا گیا، جس میں خاص طور پر مالی سال 2024-25 کے دوران توانائی شعبے میں اصلاحات، گردشی قرضے میں 780 ارب روپے کمی، صنعت کے لیے بجلی سہولت پیکج، اور NTDC کی 9 ماہ میں تنظیمِ نو کا ذکر کیا گیا۔

حکومتی مؤقف میں یہ بھی شامل ہے کہ NTDC restructuring کے نتیجے میں نئے اداروں کا قیام، شفافیت اور کارکردگی میں بہتری آئی، اور اسی بنا پر صدرِ پاکستان نے انہیں ہلالِ امتیاز عطا کیا۔

وزیراعظم کے مشیر برائے نجکاری و توانائی محمد علی کو ہلالِ امتیاز توانائی کے شعبے اور پبلک ایڈمنسٹریشن میں خدمات کے اعتراف میں دیا گیا۔ سرکاری تقریب کی رپورٹنگ کے مطابق ان کے کردار کو خاص طور پر نجکاری، پاور سیکٹر اصلاحات، اور

‏energy sector reform agenda کے تناظر میں سراہا گیا۔

سیکریٹری پاور ڈویژن ڈاکٹر محمد فخرِ عالم عرفان کو ستارۂ امتیاز سرکاری تقریب کی رپورٹنگ کے مطابق مختلف شعبوں میں نمایاں خدمات کے اعتراف کے طور پر دیا گیا۔ تاہم دستیاب خبروں میں ان کے لیے اویس لغاری کی طرح کوئی تفصیلی citation سامنے نہیں آئی؛ صرف یہ بتایا گیا کہ وہ Secretary Energy/Power Division کی حیثیت سے ستارۂ امتیاز پانے والوں میں شامل تھے۔

قارئین کی معلومات کے لیے پہلے یہ بتاتا چلوں کہ پاکستان کے سول اعزازات کی کل تعداد 21 ہے، اور ان کی سرکاری ترتیب یہ ہے:

1. نشانِ پاکستان

2. نشانِ شجاعت

3. نشانِ امتیاز

4. نشانِ قائدِ اعظم

5. نشانِ خدمت

6. ہلالِ پاکستان

7. ہلالِ شجاعت

8. ہلالِ امتیاز

9. ہلالِ قائدِ اعظم

10. ہلالِ خدمت

11. ستارۂ پاکستان

12. ستارۂ شجاعت

13. ستارۂ امتیاز

14. صدارتی اعزاز برائے حسنِ کارکردگی

15. ستارۂ قائدِ اعظم

16. ستارۂ خدمت

17. تمغۂ پاکستان

18. تمغۂ شجاعت

19. تمغۂ امتیاز

20. تمغۂ قائدِ اعظم

21. تمغۂ خدمت

اگر ہم ان سول اعزازات کو 4 مختلف درجات میں تقسیم کریں تو عمومی ترتیب میں “نشان” سب سے اعلیٰ، اس کے بعد “ہلال”، پھر “ستارہ” اور آخر میں “تمغہ” آتا ہے۔

یہ اعزازات پاکستان، شجاعت، امتیاز، قائدِ اعظم اور خدمت جیسی پانچ مختلف کیٹیگریز سیریز کے تحت دیے جاتے ہیں۔

مثال کے طور پر:

“نشانِ پاکستان”، “ہلالِ پاکستان”، “ستارۂ پاکستان” ایک ہی “پاکستان” سیریز کا حصہ ہیں۔

اور عموماً اُن غیر ملکی رہنماؤں، سفارت کاروں اور عالمی شخصیات کو دیے جاتے ہیں جنہوں نے پاکستان کے لیے نمایاں خدمات انجام دی ہوں یا پاکستان سے تعلقات مضبوط کیے ہوں۔

اسی طرح “ہلالِ امتیاز”، “ستارۂ امتیاز”، “تمغۂ امتیاز”، “امتیاز” سیریز کے اعزازات ہیں۔

عموماً اُن پاکستانی شخصیات کو دیے جاتے ہیں جنہوں نے سائنس، ادب، صحافت، فنون، کھیل، طب، حکومت یا دیگر قومی شعبوں میں نمایاں خدمات انجام دی ہوں۔

“شجاعت” سیریز بہادری کے لیے،

“شجاعت” سیریز کے اعزازات اُن افراد کو دیے جاتے ہیں جنہوں نے غیر معمولی بہادری، جرأت یا جان خطرے میں ڈال کر نمایاں کارنامہ انجام دیا ہو۔

“خدمت” سیریز خدمات کے لیے،

“خدمت” سیریز کے اعزازات اُن افراد کو دیے جاتے ہیں جنہوں نے کسی شعبے میں نمایاں عوامی، سماجی یا قومی خدمات انجام دی ہوں۔

اور “قائدِ اعظم” سیریز مخصوص قومی خدمات یا شعبوں سے متعلق ہو سکتی ہے۔

“قائدِ اعظم” سیریز کے اعزازات عموماً اُن افراد کو دیے جاتے ہیں جنہوں نے پاکستان کے لیے غیر معمولی قومی خدمات یا نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہو۔

آپ نے دیکھا کہ اسی درجہ بندی کے مطابق نشانِ پاکستان اعلیٰ ترین سول اعزازات میں شمار ہوتا ہے، جبکہ تمغۂ خدمت نسبتاً کم درجے کے اعزازات میں شامل ہے۔

اب آئیے حکومتِ پاکستان کی جانب سے پاور سیکٹر کو بیک وقت 19 سول اعزازات اور تمغے دیے جانے کے اُس غیر معمولی واقعے کا جائزہ لیتے ہیں، جو ایک ایسے وقت میں پیش آیا کہ جب پاور سیکٹر مہنگی بجلی، کپیسٹی چارجز، گردشی قرضوں، لوڈشیڈنگ اور صنعتی تباہی کے باعث شدید عوامی تنقید کا نشانہ بنا ہوا ہے۔

حکومتی بیانیہ یہ ہے کہ سردار اویس احمد خان لغاری کو ہلالِ امتیاز کا اعزاز اس لیے دیا گیا کہ انہوں نے مالی سال 2024 25 کے دوران توانائی کے شعبے میں اصلاحات، گردشی قرضے میں 780 ارب روپے کی کمی، صنعت کے لیے بجلی سہولت پیکج، اور NTDC کی تنظیمِ نو جیسے اقدامات کیے۔

مگر سوال یہ ہے کہ اگر یہ واقعی تاریخی اصلاحات تھیں تو عام صارف کے بجلی بل میں حقیقی ریلیف کہاں نظر آ رہا ہے؟ پاکستان کے پاور سیکٹر میں بہتری کے آثار کہاں نمودار ہوئے؟ وہ اصلاحات آخر کہاں ہیں؟ کیا بجلی واقعی سستی ہوئی؟ کیا گردشی قرضہ حقیقتاً کم ہوا؟ کیا IPPs کے capacity payments کا بوجھ گھٹا؟ کیا لائن لاسز اور بجلی چوری میں نمایاں کمی آئی؟

اگر اس صورتحال کا بغور جائزہ لیا جائے تو زمینی حقائق کچھ اور کہانی بیان کر رہے ہیں۔

موجودہ وفاقی وزیرِ توانائی نے جب اپنے منصب کا چارج سنبھالا تو پاور سیکٹر کا گردشی قرضہ تقریباً 2.4 سے 2.68 ٹریلین روپے، یعنی 2400 سے 2680 ارب روپے، کے درمیان بتایا جا رہا تھا۔ جون 2025 تک اسے کم کر کے 1.614 ٹریلین روپے، یعنی 1614 ارب روپے، ظاہر کیا گیا۔ مگر اگلے مالی سال میں یہی قرضہ دوبارہ بڑھ کر فروری 2026 میں 1.837 ٹریلین روپے اور مارچ 2026 میں 1.798 ٹریلین روپے تک پہنچ گیا۔

یہیں سے اصل سوال پیدا ہوتا ہے کہ 780 ارب روپے کی کمی کو مستقل اصلاحات کی کامیابی کیسے کہا جا سکتا ہے؟

دستیاب رپورٹس کے مطابق حکومت نے پاور سیکٹر کے گردشی قرضے کو کم کرنے کے لیے 18 بینکوں کے کنسورشیم سے تقریباً 1.225 ٹریلین روپے، یعنی 1225 ارب روپے (تقریباً 4.3 ارب امریکی ڈالر)، کی فنانسنگ حاصل کی۔ اس فنانسنگ کا مقصد آئی پی پیز اور پاور پروڈیوسرز کے واجبات کو سیٹل کرنا تھا، جبکہ اس کی ادائیگی چھ سال میں 24 سہ ماہی قسطوں کے ذریعے ہونی ہے۔

حکومتی بیانیے میں اسے پاکستان کی ایک بڑی financing/refinancing arrangement کہا گیا، مگر حقیقت یہ ہے کہ اگر پرانا گردشی قرضہ بینکوں کے نئے قرض سے ادا کیا گیا، اور اس نئے قرض کی واپسی صارفین سے 3.23 روپے فی یونٹ Debt Service Surcharge کے ذریعے ہونی ہے، تو پھر اسے اصلاح کہنا انتہائی ناجائز ہو گا۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ گردشی قرضہ مکمل طور پر ختم نہیں ہوا، بلکہ اس کی شکل بدل دی گئی۔ high cost liabilities کو بینک فنانسنگ کے ذریعے restructure کیا گیا، اور ادائیگی کا بوجھ آخرکار بجلی صارفین کے بلوں میں منتقل ہو گیا۔

اگر ایک قرضہ ادا کرنے کے لیے دوسرا قرضہ لیا جائے تو قومی معیشت پر liability ختم نہیں ہوتی۔ اس لیے 780 ارب روپے کی کمی کو خالص “توانائی اصلاحات” کہنا گمراہ کن ہے۔ زیادہ درست بات یہ ہے کہ حکومت نے گردشی قرضے کا بڑا حصہ بینک قرض، ری فنانسنگ اور صارفین کے بلوں میں منتقل کر دیا۔

آج بجلی کا صارف ہر یونٹ پر 3.23 روپے اضافی ادا کر رہا ہے تاکہ یہ قرض اگلے پانچ سے چھ سال میں اتارا جا سکے۔

سوال یہ ہے کہ اگر اصلاحات واقعی کامیاب تھیں تو جون 2025 کے بعد گردشی قرضہ دوبارہ کیوں بڑھا؟ اور اگر قرضہ کم کرنے کے لیے تاریخ کا بڑا بینک قرض لیا گیا تو اسے کارکردگی کہا جائے یا مالیاتی ری پیکجنگ؟

آج کی دستیاب رپورٹس کے مطابق صرف پاور سیکٹر کے گردشی قرضے کی تازہ فگر تقریباً 1.764 ٹریلین روپے، یعنی 1764 ارب روپے، بتائی گئی ہے، جو IMF رپورٹ کے حوالے سے مئی 2026 میں رپورٹ ہوئی۔

مختصر حقیقت یہ ہے کہ گردشی قرضہ نہ مکمل طور پر ختم ہوا اور نہ ہی اس کی بنیادی وجوہات دور کی گئیں۔ صرف اس کی ادائیگی کا طریقہ تبدیل کیا گیا، جبکہ اس کا بوجھ بدستور عوام کے بجلی بلوں سے ہی وصول کیا جا رہا ہے۔ حقیقی اصلاحات اُس وقت شمار ہوں گی جب بجلی سستی ہو، لائن لاسز اور بجلی چوری کم ہو، DISCOs کی نااہلی ختم ہو، IPPs اور capacity payments کا دباؤ گھٹے، اور عام صارف کو اپنے بل میں حقیقی ریلیف محسوس ہو۔

میں یہ سمجھتا ہوں کہ بجلی کے بھاری بلوں، طویل لوڈشیڈنگ اور کپیسٹی چارجز کے بوجھ تلے سسکتی عوام جب سڑکوں اور سوشل میڈیا پر سراپا احتجاج ہو، سفید پوش گھرانے معاشی دباؤ کے باعث خودکشیوں تک پہنچ چکے ہوں، ایسے میں پاور سیکٹر کے شعبے میں یکدم 18 افراد کو سرکاری تمغوں اور سول اعزازات سے نوازنا جلتی پر تیل ڈالنے کے مترادف ہے۔

کیا اربابِ حکومت میں سے کوئی یہ بتانے کی زحمت کرے گا کہ یہ عوامی جذبات سے لاعلمی ہے، بے حسی ہے یا پھر ایوانِ اقتدار سے دیا جانے والا یہ پیغام… کہ عوام چاہے جتنا بھی احتجاج کر لیں، یہاں سب کچھ معمول کے مطابق ہی چلتا رہے گا؟

حکومت کو اس حساس معاملے پر تدبر اور موزوں وقت کا انتخاب کرنا چاہیے تھا۔ اگر پاور سیکٹر میں بہتری آتی، عوام کو بجلی کے بلوں میں ریلیف ملتا اور لوڈشیڈنگ کم ہوتی، تو ایسے سازگار ماحول میں اعزازات دینا نہ صرف قابلِ فہم ہوتا بلکہ عوام بھی اسے تحسین کی نظر سے دیکھتے۔

میں تو یہ سمجھتا ہوں کہ وفاقی وزیرِ توانائی اور متعلقہ افسران کو خود آگے بڑھ کر یہ مؤقف اختیار کرنا چاہیے تھا کہ جب تک پاکستان کا بجلی کا نظام واقعی بہتر نہیں ہو جاتا، جب تک عوام کو صرف استعمال شدہ یونٹس کا شفاف بل نہیں ملتا، اور جب تک غیر ضروری ٹیکسز، اضافی سرچارجز، لائن لاسز، بجلی چوری اور “کپیسٹی پیمنٹس” جیسے مسائل پر مکمل قابو نہیں پا لیا جاتا؛ اور جب تک غلط پالیسیوں کے باعث عوام سے وصول کی گئی اضافی رقم کا آئی پی پیز سے حساب لے کر، قومی خزانے پر پڑنے والے حقیقی بوجھ کی تفصیلات قوم کے سامنے نہیں رکھ دی جاتیں، ہم خود کو ایسے کسی اعزاز کا مستحق نہیں سمجھتے۔

کیونکہ سول اعزازات اور تمغے محض دھات کے ٹکڑے نہیں ہوتے، بلکہ یہ قوم کے وقار اور اجتماعی احترام کی علامت ہوتے ہیں۔ فرانس کا “لیجن آف آنر” (Légion d’honneur) ہو یا برطانیہ کا “آرڈر آف میرٹ” (Order of Merit)، یہ اعزازات صرف اس لیے قابلِ احترام ہیں کیونکہ ان کے پیچھے ایک سخت اخلاقی اور میرٹ کا معیار رہا ہے۔ آج پاکستان کو بھی خود سے یہ سوال پوچھنا ہوگا کہ ہمارے قومی اعزازات کی پہچان کارکردگی کا اعلیٰ معیار ہے یا پھر محض قربت داری اور اقربا پروری؟

دنیا میں ایسی متعدد مثالیں موجود ہیں جہاں عظیم شخصیات نے اصولی بنیادوں پر بڑے بڑے اعزازات قبول کرنے سے صاف انکار کر دیا۔ ماحولیات، توانائی اور کلائمیٹ پالیسی سے متعلق ایک نمایاں مثال گریٹا تھنبرگ (Greta Thunberg) کی ہے۔ 2019 میں انہوں نے “نورڈک کونسل انوائرمنٹ پرائز” لینے سے یہ کہہ کر انکار کر دیا تھا کہ ماحولیاتی تحریک کو مزید ایوارڈز اور رنگا رنگ تقریبات کی ضرورت نہیں، بلکہ اس امر کی ضرورت ہے کہ حکومتیں، سیاست دان اور مقتدر طبقات سائنسی حقائق کو سنجیدگی سے لیں اور عملی اقدامات کریں۔ یہی وجہ ہے کہ آج دنیا انہیں محض ایک ایوارڈ یافتہ فرد کے طور پر نہیں، بلکہ ایک اٹل اور اصولی شخصیت کے طور پر یاد کرتی ہے۔

جاری ہے… باقی اگلی قسط میں)


0
Views
2
0

مزید مضامین

قسط نمبر 27

🔲 علمی تحقیقات سلسلہ نمبر 27 موضوع: پاکستان کو چیلنجز کا سامنا کیسے ہو گا؟ واقعات، وزیر برائے انرجی پاور ڈویژن کے نام کھلا خط

قسط نمبر 26

🔳 ہماری کائنات میں اربوں ستارے بغیر کسی ‘کیپیسٹی پیمنٹ’ اور بغیر کسی ‘امپورٹڈ کول’ کے روشن ہیں، سورج، چاند، ستارے جو اربوں سالوں سے روشن ہیں، کسی فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ (FPA) کے محتاج نہیں،

قسط نمبر 25

🔳 بجلی موجود ہونے کے باوجود ہمارے ملک میں جبری لوڈ شیڈنگ کی جا رہی ہے، کیونکہ ہماری بوسیدہ تاریں اس بوجھ کو اٹھانے کے قابل نہیں ہیں، لیکن عوام کو بتایا جاتا ہے کہ بجلی نہیں ہے۔

قسط نمبر 24

چیئرمین نیپرا (NEPRA) اسلام آباد کے نام کھلی خط میں آئی پی پیز کے حوالے سے اٹھائے گئے 13 سوالات

قسط نمبر 23

غلام مصطفیٰ کھر، سابق وفاقی وزیر پانی و بجلی، جن کے دورِ وزارت میں آئی پی پیز قائم کرنے کے لیے متنازع پاور پالیسی جاری کی گئی۔