🔳 سخت عوامی احتجاج اور وفاقی وزیرِ بجلی کی یقین دہانیوں کے باوجود نیپرا نے گزشتہ ہفتے (15 مئی 2026) ایرانی بجلی خریدنے کی منظوری دے دی۔ ٹیک اور پے (Take or Pay) شق کے تحت پاکستان کو ماہانہ 15 ملین یونٹس کی قیمت ہر صورت ادا کرنا ہوگی، چاہے بجلی استعمال ہو یا نہ ہو۔ اس سے تقریباً 50 سے 55 کروڑ روپے ماہانہ اضافی مالی بوجھ برداشت کرنا پڑے گا۔
یہ مضمون انگلش زبان میں پڑھنے کے لیے لاگ اِن کیجیے: syedshayan.com/IPPs
🔲 عوامی تحقیقاتی سلسلہ | قسط 30
موضوع: پاکستان کا بجلی کا نظام کیسے ٹھیک ہو گا؟
عنوان: ایرانی بجلی (پارٹ 2)
🔺 جب ادارے حقائق کی فراہمی سے گریزاں ہوں تو پھر سچ تک پہنچنا عوام کی ذمہ داری ہے۔
تحریر و تحقیق: سید شایان
نیپرا (NEPRA) کی جانب سے 15 مئی 2026 کو ایران سے گوادر اور مکران ڈویژن کے لیے 132 کلو وولٹ “پولان۔گبد ٹرانسمیشن لائن” کے ذریعے مزید 100 میگاواٹ بجلی درآمد کرنے کی منظوری دراصل ایک پرانے اور مسلسل جاری معاہدے کا تسلسل معلوم ہوتی ہے۔ یہ لائن ایران کے علاقے پولان (Polan) سے پاکستان کی سرحدی بستی گبد (Gabd) تک آتی ہے، جہاں سے بجلی مکران، گوادر اور گرد و نواح کے علاقوں تک پہنچائی جاتی ہے۔
جس کی بنیاد پی ڈی ایم حکومت کے دور میں رکھی گئی تھی۔ مارچ 2023 میں اُس وقت کے وزیرِ توانائی خرم دستگیر نے ایران کا دورہ کر کے اس معاہدے کو حتمی شکل دی تھی۔
جبکہ 8 مئی 2023 کو پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف اور ایرانی صدر ابراہیم رئیسی نے مند پشین بارڈر پر پولان گبد (Polan Gabd) 220 kV الیکٹرک ٹرانسمیشن لائن کا مشترکہ افتتاح کیا تھا تاکہ بلوچستان خصوصاً گوادر اور مکران ڈویژن میں بجلی کی شدید کمی اور طویل لوڈشیڈنگ کے بحران کو کم کیا جا سکے۔
ایران سے بجلی کی درآمد کا ابتدائی خیال 2002 میں جنرل پرویز مشرف کے دورِ حکومت میں سامنے آیا، جب وفاقی وزیر برائے پانی و بجلی آفتاب احمد خان شیرپاؤ اور WAPDA کے چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ ذوالفقار علی خان سمیت کابینہ نے اس کی منظوری دی تھی۔ اس وقت بجلی کے بحران کے پیش نظر اسے فوری حل کے طور پر پیش کیا گیا تھا۔
مگر ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ مقامی Solar، Wind اور Hydel وسائل کے استعمال پر سنجیدگی سے غور کیے بغیر کیا گیا۔ اگر اُس وقت ایران سے بجلی درآمد کرنے کے بجائے گوادر اور مکران میں سولر اور ونڈ پاور منصوبے لگائے جاتے تو آج یہ خطہ نہ صرف بجلی میں خود کفیل ہوتا بلکہ گوادر گرین انرجی کا ایک بڑا hub بن سکتا تھا، جو ملک کے دیگر حصوں کی بجلی کی ضروریات پوری کرنے میں بھی مددگار ثابت ہوتا۔
مگر ہمارے پالیسی سازوں نے مقامی پانی، سورج اور ہوا کو نظر انداز کر کے اس خطے کو مہنگی درآمدی بجلی، ڈالر ادائیگیوں اور Take or Pay جیسے بوجھل معاہدوں کے سپرد کر دیا۔
یہ صورتحال اُس طرزِ حکمرانی کی یاد دلاتی ہے جہاں بڑے فیصلے بند کمروں میں ہو جاتے ہیں، مگر ان کے نتائج کئی دہائیوں تک عوام بھگتتے رہتے ہیں۔ جیسا کہ ماضی میں جنرل ایوب خان نے عوامی مشاورت کے بغیر Indus Waters Treaty جیسا اہم معاہدہ کیا، جس کے بعد پاکستان کو راوی، ستلج اور بیاس جیسے دریاؤں سے دستبردار ہونا پڑا۔
ایران سے اضافی 100 میگاواٹ بجلی درآمد کر کے گھریلو صارفین، مقامی صنعت، زراعت، کاروبار اور گوادر پورٹ کی تجارتی سرگرمیوں کو سہارا دینا اس منصوبے کا اہم ہدف قرار دیا گیا۔ اس سے پہلے بھی پاکستان ایران سے تقریباً 104 میگاواٹ بجلی خرید رہا تھا، تاہم نئی لائن کے فعال ہونے کے بعد مجموعی درآمد تقریباً 204 میگاواٹ تک پہنچ گئی۔
لیکن اس کے ساتھ کئی سنجیدہ سوالات بھی پیدا ہوئے۔ ان میں Take or Pay معاہدہ، ڈالر اور آئل انڈیکسڈ ٹیرف، اور گوادر جیسے اسٹریٹجک خطے کا بیرونی بجلی پر بڑھتا انحصار شامل ہیں۔ ناقدین کے مطابق یہ صورتحال اس لیے بھی قابل غور ہے کیونکہ مکران اور گوادر کا ساحلی خطہ دنیا کے بہترین Solar اور Wind Corridors میں شمار ہوتا ہے، جہاں مقامی متبادل توانائی منصوبے نسبتاً کم وقت میں قائم کیے جا سکتے تھے۔
بعد ازاں CPPA G نے ستمبر 2023 میں نیپرا سے ایران سے درآمدی بجلی کے ٹیرف، معاہدے میں توسیع اور Amendments نمبر 7، 8 اور 9 کی منظوری طلب کی، تاہم حتمی منظوری اب 15 مئی 2026 میں جا کر ملی۔
اس تقریباً تین سالہ تاخیر کی بنیادی وجہ خود CPPA G کی پروسیجرل خلاف ورزیاں تھیں۔ نیپرا نے سخت تنقید کرتے ہوئے واضح کیا کہ کمپنی نے پہلے معاہدے پر عملدرآمد کیا اور بعد میں منظوری مانگی، جبکہ Electric Power Procurement Regulations 2022 کے تحت پیشگی منظوری لازمی تھی۔ نیپرا کے مطابق یہ پہلی بار نہیں بلکہ ایک مسلسل pattern تھا، جو CPPA G یعنی Central Power Purchasing Agency نے اپنایا ہوا ہے۔ ادارے نے خبردار بھی کیا کہ آئندہ ایسی خلاف ورزیوں پر سنگین ریگولیٹری نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔
پاور سیکٹر میں یہ عجیب کھیل بن چکا ہے کہ پہلے فیصلے کر لیے جاتے ہیں، معاہدوں پر عمل شروع ہو جاتا ہے، مالی بوجھ عوام پر ڈال دیا جاتا ہے، اور منظوری بعد میں مانگی جاتی ہے۔ پھر جب سوال اٹھتا ہے تو کوئی نہ کوئی سیاسی سہارا مل جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ میں نے گزشتہ قسطوں میں واپڈا جیسے ایک مضبوط مرکزی ادارے کی بحالی کی بات کی تھی، تاکہ یہ بکھرا ہوا نظام ایک جگہ جوابدہ ہو سکے۔
نیپرا کی باقاعدہ منظوری کے بعد ایران سے گوادر اور مکران کے لیے اضافی 100 میگاواٹ بجلی درآمد کے انتظام کو ریگولیٹری حیثیت مل گئی ہے، جس کے بعد مجموعی درآمد تقریباً 204 میگاواٹ جبکہ ٹیرف تقریباً 12.40 سینٹس فی یونٹ رہے گا۔
لیکن وزارتِ توانائی اور نیپرا کے حکام اب وضاحت کریں کہ اس منظوری میں سب سے اہم اور تشویشناک پہلو “Take or Pay” شق ہے، جس کے تحت پاکستان کو ماہانہ کم از کم 1 کروڑ 50 لاکھ کلو واٹ آور (15 Million Units) کی ادائیگی ہر صورت کرنا ہوگی، چاہے اتنی بجلی استعمال ہو یا نہ ہو۔ 12.40 سینٹس فی یونٹ کے حساب سے یہ صرف Energy Cost میں تقریباً 50 سے 52 کروڑ روپے ماہانہ اور سالانہ تقریباً 6 سے 7 ارب روپے کا ممکنہ مالی بوجھ بن سکتا ہے۔
اور دوسری تشویشناک بات یہ ہے کہ یہ درآمدی بجلی مکمل طور پر ڈالر سے منسلک (Dollar Indexed) ہے۔ یعنی اگر روپے کی قدر مزید گرتی ہے یا عالمی سطح پر تیل کی قیمتیں بڑھتی ہیں، تو یہی 12.40 سینٹس فی یونٹ والی بجلی مستقبل میں پاکستان کے لیے مزید مہنگی ہوتی چلی جائے گی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مکران اور گوادر جیسے علاقوں کی توانائی سکیورٹی صرف ایک بیرونی ملک پر ہی نہیں بلکہ ڈالر کے اتار چڑھاؤ اور بین الاقوامی منڈی کے رحم و کرم پر بھی چھوڑ دی گئی ہے۔
ایک اور انتہائی اہم بات یہ بھی ہے کہ اس بجلی کی قیمت صرف ڈالر سے ہی منسلک نہیں بلکہ اس میں Oil Indexed فارمولا بھی شامل ہے، یعنی عالمی تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہونے پر ایرانی بجلی مزید مہنگی ہو سکتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ پاکستان ایک ایسے خطے کے لیے، جہاں سورج اور ہوا مفت اور وافر موجود ہیں، مقامی سولر اور ونڈ انفراسٹرکچر بنانے کے بجائے ایسی درآمدی بجلی پر انحصار کر رہا ہے جو نہ صرف ڈالر کے اتار چڑھاؤ بلکہ عالمی آئل مارکیٹ کے جھٹکوں سے بھی متاثر ہوتی رہے گی۔
سوال یہ ہے کہ اگر NTDC یعنی National Transmission and Despatch Company برسوں سے یہ دعویٰ کرتی رہی کہ بیسیمہ۔پنجگور ٹرانسمیشن لائن اور دیگر منصوبوں کے ذریعے مکران اور گوادر کو نیشنل گرڈ سے جوڑا جا چکا ہے، تو پھر ایران سے مہنگی، ڈالر اور Take or Pay بنیادوں پر بجلی درآمد کرنے کی ضرورت کیوں برقرار رہی؟
دلچسپ بات یہ ہے کہ اب اسی NTDC کو تین مختلف کمپنیوں میں تقسیم کر دیا گیا ہے۔ ان میں ایک نیشنل گرڈ کمپنی (National Grid Company)، دوسری کمپنی آئی ایس ایم او یعنی (Independent System and Market Operator)، اور تیسری کا نام انرجی انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ اینڈ مینجمنٹ کمپنی ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ ماضی کی غلط منصوبہ بندی، تاخیر اور ناقص فیصلوں کا حساب NTDC سے کس طرح لیا جائے گا؟ وہ ادارہ تو بدل گیا، نئے ادارے آسانی سے کہہ سکتے ہیں کہ یہ فیصلے ہمارے قیام سے پہلے کے تھے۔ یہی وہ کھیل ہے جس میں اداروں کے نام بدل جاتے ہیں، مگر جوابدہی کہیں نظر نہیں آتی۔ (آپ کو حیرت ہوگی کہ NTDC کو تین مختلف کمپنیوں میں تقسیم کرنے کے عمل کو بھی موجودہ وفاقی وزیرِ توانائی سردار اویس لغاری کی ایک بڑی “اصلاح” کے طور پر پیش کیا گیا، اور جب انہیں ہلالِ امتیاز دیا گیا تو اس کا باقاعدہ ذکر کیا گیا۔)
(جاری ہے، باقی اگلی قسط میں)