🔳 ہم اب تک یہی سمجھ رہے تھے کہ پاکستان کا بجلی بحران صرف ملکی IPPs تک محدود ہے۔ مگر ایران سے درآمدی بجلی کے معاہدوں پر نظر ڈالیں تو تباہی و بربادی کی مزید گہری کھائیاں منہ کھولے کھڑی ہماری منتظر دکھائی دیتی ہیں۔
🔲 عوامی تحقیقاتی سلسلہ | قسط 31
موضوع: پاکستان کا بجلی کا نظام کیسے ٹھیک ہو گا؟
عنوان: ایرانی بجلی (پارٹ 3)
🔺 جب ادارے حقائق کی فراہمی سے گریزاں ہوں تو پھر سچ تک پہنچنا عوام کی ذمہ داری ہے۔
تحریر و تحقیق: سید شایان
ایران سے بجلی درآمد کرنے کا سلسلہ 2002 سے جاری ہے، مگر عوام کو آج تک یہ واضح طور پر نہیں بتایا گیا کہ اس بجلی پر پاکستان نے مجموعی طور پر کتنی رقم خرچ کی۔ دستیاب ریکارڈ سے صرف اتنا معلوم ہوتا ہے کہ ایران سے بجلی لینے کے بعد پاکستان کو TAVANIR کو ادائیگیوں میں سنگین مشکلات پیش آئیں۔
ایران پر پابندیوں اور banking channels کی عدم دستیابی کے باعث ادائیگیاں تقریباً تین سال تک رکی رہیں، جس کے بعد 2014 میں Pak-Iran Joint Economic Commission میں متبادل ادائیگی کا طریقہ بنایا گیا۔
14 اور 15 مارچ 2019 کو TAVANIR، Power Division، CPPA اور NTDC کے درمیان یہ طے پایا کہ CPPA موجودہ بلوں اور پرانے بقایاجات کی ادائیگی کے لیے ہر ماہ 12 ملین ڈالر ادا کرے گا۔ اُس وقت ڈالر تقریباً 139 سے 140 روپے کا تھا، اس لیے یہ رقم پاکستانی کرنسی میں تقریباً 1.7 ارب روپے ماہانہ بنتی تھی۔ سالانہ حساب سے یہ تقریباً 20 ارب روپے کے قریب رقم بنتی ہے۔
یہ بات بھی ذہن میں رکھنی چاہیے کہ ایران سے بجلی کی ادائیگیوں کا معاملہ وقت کے ساتھ بڑھتا گیا۔ شروع میں یہ معاہدہ تقریباً 74 میگاواٹ بجلی کے لیے تھا، جو بعد میں 100 میگاواٹ تک پہنچا، اور اب مئی 2026 میں NEPRA کی حالیہ منظوری کے بعد موجودہ 104 میگاواٹ کے ساتھ مزید 100 میگاواٹ شامل ہو کر کل گنجائش تقریباً 204 میگاواٹ تک جا پہنچی ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ جیسے جیسے ایران سے بجلی کی مقدار بڑھ رہی ہے، ویسے ویسے پاکستان کی ادائیگیوں کا بوجھ بھی بڑھتا جا رہا ہے۔
پہلے جو ادائیگیاں محدود سطح پر تھیں، اب وہ کہیں بڑی financial commitment بن چکی ہیں، خاص طور پر جب tariff ڈالر، تیل کی قیمت اور take or pay شرائط سے جڑا ہوا ہو۔ اس لیے اصل سوال صرف یہ نہیں کہ ایران سے بجلی لی گئی یا کتنی لی گئی، بلکہ یہ ہے کہ جو بجلی ابتدا میں ایک عارضی انتظام کے طور پر ایران سے لی گئی تھی، وہ 24 سال بعد بھی مستقل مجبوری کیوں بنی ہوئی ہے؟
اگر 2002 سے 2026 تک آنے والی حکومتیں واقعی سنجیدہ ہوتیں تو بلوچستان، خصوصاً گوادر اور مکران، کو مقامی توانائی میں خود کفیل بنایا جا سکتا تھا۔ یہاں سولر پارکس لگ سکتے تھے، ساحلی علاقوں میں ونڈ پاور منصوبے بن سکتے تھے، چھوٹے ڈیم اور مقامی mini grid systems قائم کیے جا سکتے تھے، جہاں ایندھن کا خرچ صفر ہوتا اور بجلی قدرتی ذرائع سے پیدا ہوتی۔
مگر چوبیس سال گزرنے کے باوجود مسئلہ وہیں کھڑا ہے: imported بجلی، ڈالر بیسڈ ادائیگیاں، oil linked tariff، take or pay شرائط، کمزور grid، اور عوام پر بڑھتا ہوا بوجھ۔ یہ ہمارے ملک کے پالیسی محکموں اور پلاننگ و accountability کے اداروں کی صریح ناکامی ہے کہ جہاں قوم قرضوں، مہنگی بجلی اور circular debt کے نیچے دبتی رہی، جبکہ بلوچستان کو مستقل، مقامی اور سستی بجلی دینے کا موقع بار بار ضائع کیا گیا۔
آج معاملہ صرف 74 یا 100 میگاواٹ کا نہیں رہا۔ NEPRA کی حالیہ منظوری کے بعد ایران سے بجلی کی درآمد 204 میگاواٹ تک پہنچ رہی ہے، اور tariff بھی ڈالر میں، تیل کی قیمت سے linked رکھا گیا ہے۔
یعنی اگر 204 میگاواٹ بجلی پورا مہینہ مکمل capacity پر لی جائے تو یہ تقریباً 147 ملین یونٹ ماہانہ بنتی ہے۔ 9.2 cents فی یونٹ کے حساب سے ماہانہ بل تقریباً 13.5 ملین ڈالر، 11 cents پر 16.2 ملین ڈالر، اور 12.4 cents پر 18.2 ملین ڈالر تک جا سکتا ہے۔ آج کے تقریباً 280 روپے فی ڈالر کے حساب سے یہ رقم 3.8 ارب سے 5.1 ارب روپے ماہانہ بنتی ہے۔
مزید مسئلہ یہ ہے کہ اضافی 100 میگاواٹ پر take-or-pay شرط بھی رکھی گئی ہے۔ آسان زبان میں اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر پاکستان پوری بجلی استعمال نہ بھی کرے، پھر بھی اسے ایک minimum مقدار کے پیسے ادا کرنے پڑ سکتے ہیں۔ NEPRA کے ریکارڈ کے مطابق اضافی supply پر 15 ملین یونٹ ماہانہ کی minimum take or pay شرط موجود ہے۔
اب اگر لاگت دیکھیں تو tariff 12.40 cents فی یونٹ ہو اور ڈالر تقریباً 280 روپے کا لیا جائے، تو صرف خریداری کی سطح پر یہ بجلی تقریباً 35 روپے فی یونٹ بنتی ہے۔ اگر 204 میگاواٹ بجلی پورا مہینہ مکمل capacity پر لی جائے تو ماہانہ بل تقریباً 5 ارب روپے تک پہنچ سکتا ہے۔ یہ صرف خریداری کی لاگت ہے؛ اس میں لائن لاسز، چوری، بلوں کی عدم وصولی، taxes، surcharges اور distribution cost شامل نہیں۔
یہاں یہ وضاحت ضروری ہے کہ ایران سے درآمدی بجلی کی اصل لاگت صرف tariff سے نہیں سمجھی جا سکتی۔ NEPRA کی حالیہ منظوری کے مطابق اضافی ایرانی بجلی کا tariff تقریباً 12.40 cents فی یونٹ ہے، جو 280 روپے فی ڈالر کے حساب سے صرف خریداری کی سطح پر تقریباً 35 روپے فی یونٹ بنتا ہے۔
لیکن جب یہی بجلی QESCO کے سسٹم میں جاتی ہے تو اصل خرابی وہاں سے شروع ہوتی ہے۔ مالی سال 2023 24 میں QESCO کے لائن لاسز 29.77 فیصد تھے اور ریکوری صرف 32 فیصد رہی۔
اس کا سیدھا مطلب یہ ہے کہ اگر 35 روپے فی یونٹ کی بجلی خریدی گئی تو تقریباً 30 فیصد بجلی راستے ہی میں ضائع ہو گئی یا چوری ہو گئی۔ اب جو بجلی صارف تک واقعی پہنچے گی، اس کی اصل لاگت تقریباً 50 روپے فی یونٹ ہو گی۔ اس کے بعد جب بل بھی پورے وصول نہ ہوں اور ریکوری صرف 32 فیصد رہ جائے تو نقصان کا عالم کیا ہو گا، یہ مجھے اب آپ کو سمجھانے کی ضرورت نہیں رہی۔ اب ہم سب جانتے ہیں کہ پاکستان پہلے ڈالر بیسڈ، oil linked اور take or pay شرائط پر مہنگی بجلی خریدتا ہے، پھر اسے ایسے خفیہ سسٹم میں ڈالتا ہے جہاں لائن لاسز، چوری اور عدم وصولی پہلے ہی circular debt کو بڑھا رہے ہیں۔ اور مسلسل بڑھا رہے ہیں۔ اور بحیثیت قوم ہمیں اس سے کوئی غرض نہیں۔
سنٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی گارنٹی لمیٹڈ (CPPA-G Payment System)۔ 2022 کی ایک رپورٹ کے مطابق 17 ستمبر 2020 تک TAVANIR کے تقریباً 100 ملین ڈالر واجب الادا تھے، جس کی وجہ banking channels کی عدم دستیابی بتائی گئی۔
اسی رپورٹ کے مطابق CPPA-G ادائیگیوں کے لیے TAVANIR کے نامزد beneficiaries کو پاکستانی روپے میں payments کرتا تھا، جن کی بعد میں TAVANIR سے تصدیق لی جاتی تھی۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ معاملہ صرف بجلی خریدنے کا نہیں تھا، بلکہ ادائیگیوں، پابندیوں، بقایاجات اور متبادل financial arrangements کا ایک پیچیدہ مسئلہ بن چکا تھا۔
مارچ 2019 میں CPPA، NTDC، Power Division اور TAVANIR کے درمیان یہ طے پایا کہ موجودہ بلوں اور پرانے بقایاجات کی ادائیگی کے لیے ہر ماہ 12 ملین ڈالر دیے جائیں گے۔
اُس وقت ڈالر تقریباً 139 سے 140 روپے کا تھا، اس لیے یہ رقم پاکستانی کرنسی میں تقریباً 1.7 ارب روپے ماہانہ بنتی تھی۔ سالانہ حساب سے یہ تقریباً 20 ارب روپے کے قریب رقم بنتی ہے۔
اسی پس منظر میں وزارتِ توانائی، پاور ڈویژن سے یہ سوالات پوچھنا ہر پاکستانی پر لازم ہے۔
1. کیا حکومتِ پاکستان کے پاس 2002 سے 2026 تک ایران سے درآمد کی گئی بجلی پر ہونے والی مجموعی ادائیگیوں کی کوئی جامع سرکاری رپورٹ موجود ہے؟
2. گزشتہ چوبیس سال میں ایرانی بجلی کی مد میں پاکستان نے مجموعی طور پر ایران/TAVANIR کو کتنی رقم ادا کی؟
3. اگر 2019 میں صرف ایک payment arrangement کے تحت 12 ملین ڈالر ماہانہ، یعنی تقریباً 1.7 ارب روپے ماہانہ ادا کرنے پر اتفاق کیا گیا تھا، تو کیا یہی رقم بلوچستان، خصوصاً گوادر اور مکران میں مقامی سولر، ونڈ، battery storage اور ضلعی سطح کے بجلی نظام پر خرچ کر کے مستقل توانائی حل پیدا نہیں کیا جا سکتا تھا؟
4. کیا حکومت کے پاس کوئی comparative study موجود ہے جس میں ایران سے درآمدی بجلی کی لاگت کا موازنہ مقامی
5. renewable energy، mini grid، solar wind hybrid اور storage منصوبوں سے کیا گیا ہو؟
6. اگر ایسی study موجود نہیں، تو چوبیس سال تک imported electricity پر انحصار کس بنیاد پر جاری رکھا گیا؟
یہ تحریریں لکھتے ہوئے بارہا میرے دل میں یہ سوال اٹھتا ہے کہ کیا ہم اپنی قومی حمیت، اجتماعی شعور اور قومی ترجیحات، سب کچھ فراموش کر چکے ہیں؟ ہم چوبیس سال سے ایک دوسرے ملک سے مہنگی بجلی خرید رہے ہیں، مگر کسی کو اس کا حقیقی احساس نہیں۔ نہ کسی سیاست دان نے اسے قومی مسئلہ بنایا، نہ کسی صحافی نے اسے مسلسل سوال بنایا، نہ کسی ادارے نے قوم کو یہ بتایا کہ آخر چوبیس سال میں ہم مکران، گوادر اور بلوچستان کے لیے اپنا مقامی بندوبست کیوں نہیں کر سکے؟
شروع میں میرا خیال تھا کہ بجلی کے موضوع پر میری یہ رپورٹ بیس پچیس قسطوں میں مکمل ہو جائے گی، مگر جیسے جیسے تحقیق آگے بڑھی، اندازہ ہوا کہ پاکستان کے بجلی کے شعبے کا بحران میری توقع سے کہیں زیادہ گہرا، پیچیدہ اور سنجیدہ ہے۔
آج اکتیسویں قسط لکھتے ہوئے محسوس ہوتا ہے کہ اس رپورٹ کو مکمل کرنے کے لیے شاید مزید دس پندرہ قسطیں لکھنا پڑیں۔ میری کوشش ہے کہ اسی مہینے اس سلسلے کو مکمل کر کے ایک جامع رپورٹ کی صورت میں سامنے لایا جائے، اسی لیے اب میں ایک دن میں دو دو قسطیں بھی لکھ رہا ہوں تاکہ یہ کام جلد اپنے منطقی انجام تک پہنچے۔
(جاری ہے۔۔ باقی اگلی قسط میں)