🔳 بجلی سبسڈی کے لیے آئی ایم ایف کی نئی شرائط، پاکستان کے کروڑوں شہریوں کی معلومات (ڈیٹا) ایک بیرونی فرم کے سپرد کرنے کا فیصلہ، قومی سلامتی کے لیے نیا سوال؟
🔲 عوامی تحقیقاتی سلسلہ | قسط 33
موضوع: پاکستان کا بجلی کا نظام کیسے ٹھیک ہو گا؟
عنوان: بجلی سبسڈی یا قومی ڈیٹا کا سودا؟
🔺 جب ادارے حقائق کی فراہمی سے گریزاں ہوں تو پھر سچ تک پہنچنا عوام کی ذمہ داری ہے۔
تحریر و تحقیق: سید شایان
مئی 2026 میں پاکستان اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے درمیان بجٹ مذاکرات کے دوران ہمارے گورنر اسٹیٹ بینک اور وفاقی وزیر خزانہ کی طرف سے ایک ایسی تحریری یقین دہانی دی گئی جس نے معاشی اصلاح کے ساتھ ساتھ قومی سلامتی کا ایک نہایت اہم سوال بھی کھڑا کر دیا ہے۔
حکومت نے آئی ایم ایف کو تحریری طور پر یقین دلایا ہے کہ جنوری 2027 سے بجلی کا بنیادی ٹیرف بڑھایا جائے گا، 200 یونٹ تک استعمال کرنے والوں کی موجودہ سبسڈی ختم کی جائے گی، اور اس کی جگہ ایک ٹارگٹڈ سبسڈی نظام لایا جائے گا جو بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کے ڈیٹا اور نیشنل سوشیو اکنامک رجسٹری (NSER) سے منسلک ہوگا۔
بظاہر یہ ایک معاشی اصلاحی قدم ہے، لیکن اگر اس معاملے کو گہرائی سے دیکھا جائے تو یہ پاکستان کی تاریخ کا شاید سب سے بڑا Data Governance کا بحران ثابت ہو سکتا ہے۔
کیا ہونے جا رہا ہے؟ اصل حقائق
آئی ایم ایف کے ساتھ طے پانے والے معاہدے کے تحت 15 جنوری 2027 سے نیا بیس ٹیرف نافذ ہوگا، یہ 7 ارب ڈالر کی توسیعی فنڈ سہولت (EFF) کے تحت ایک لازمی ڈھانچہ جاتی معیار ہے۔ 200 یونٹ تک کی تحفظ یافتہ صارف سبسڈی ختم ہوگی جبکہ تقریباً 22 ملین صارفین اس زمرے میں آتے ہیں۔
نئی سبسڈی صرف انہی لوگوں کو ملے گی جو بی آئی ایس پی کے ڈیٹا بیس میں موجود ہیں اور جن کا بجلی کا کنکشن NSER کے ڈیٹا بیس سے منسلک کیا جا چکا ہوگا۔ یہ سارا کام ورلڈ بینک کی تکنیکی معاونت سے نومبر 2026 تک مکمل کیا جانا ہے، اور ایک بیرونی فرم مئی 2026 کے آخر تک hire کی جانی تھی۔ (جو اس تحریر کے پڑھے جانے تک شاید appoint ہو چکی ہو۔)
جب بجلی کا کنکشن، این ایس ای آر ڈیٹا بیس اور بی آئی ایس پی کا ریکارڈ ایک جگہ منسلک ہوں گے تو ایک ہی پلیٹ فارم پر یہ معلومات جمع ہو جائیں گی۔ شہری کا مکمل نام، شناختی کارڈ نمبر، گھر کا پتہ، خاندان کے افراد کی تعداد اور عمریں، ماہانہ بجلی کی کھپت اور استعمال کا وقت، آمدنی کی سطح اور معاشی حیثیت، مکان کا ملکیتی یا کرایہ دار ہونے کا درجہ۔ یہ محض سبسڈی کا ریکارڈ نہیں، یہ ہر پاکستانی گھرانے کی مکمل ڈیجیٹل شناخت ہے۔
ورلڈ بینک کی تکنیکی معاونت سے تیار ہونے والے اس ڈیٹا بیس میں ایک بیرونی فرم بھی شامل ہوگی۔ یہ فرم کس ملک کی ہے؟ اس کا server کہاں ہے؟ اس کے ملازمین کو ڈیٹا تک کتنی رسائی ہوگی؟ یہ سوالات نہ پارلیمنٹ میں پوچھے گئے نہ میڈیا میں زیر بحث آئے۔ اگر یہ فرم کسی ایسے ملک کی ہے جو پاکستان کا حریف ہے تو ہمارے ڈھائی کروڑ شہریوں کا ڈیٹا بغیر کسی جنگ کے دشمن کی پہنچ میں آ سکتا ہے۔
بجلی کا استعمال محض ایک معاشی اعداد و شمار نہیں، یہ ایک زندگی کا نقشہ ہے۔ فوجی چھاؤنیوں، حساس تنصیبات اور سرحدی علاقوں کے قریب رہنے والوں کی مکمل گھریلو تفصیل کسی غیر ملکی ادارے کے پاس ہونا ایک انٹیلی جنس آپریشن کے مترادف ہے۔ سیاسی مخالفین، صحافیوں اور سول سوسائٹی کے کارکنان، ان سب کی مکمل پروفائل اس ڈیٹا بیس میں موجود ہوگی۔
پاکستان میں ڈیجیٹل نظاموں کی سائبر سیکیورٹی پہلے ہی تسلی بخش نہیں رہی۔ نادرا ڈیٹا سے متعلق خدشات اور ڈسکوز کے کمزور بلنگ سسٹم اس خطرے کو مزید بڑھاتے ہیں۔ ایسے نظاموں کو ایک مرکزی پلیٹ فارم سے جوڑنا Single Point of Failure پیدا کر سکتا ہے، جہاں کسی ایک خرابی، لیکیج یا غیر مجاز رسائی سے کروڑوں شہریوں کا حساس ڈیٹا خطرے میں پڑ سکتا ہے۔
جب حکومت کے پاس یہ جاننے کا مکمل نظام موجود ہو کہ کون کہاں رہتا ہے، کتنا کماتا ہے، کس گھر میں کتنی بجلی استعمال ہوتی ہے اور کون کس معاشی درجے میں آتا ہے، تو یہ معلومات صرف سبسڈی کے فیصلوں تک محدود نہیں رہتیں۔ ایسے ڈیٹا کو سیاسی دباؤ، انتظامی نگرانی، معاشی کمزوریوں کی نشاندہی اور کمزور طبقات پر اثر انداز ہونے کے لیے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔ پاکستان میں اس حساس ڈیٹا کے غلط استعمال کو روکنے کے لیے نہ کوئی مضبوط قانون موجود ہے، نہ کوئی مکمل آزاد نگرانی کا نظام۔
پاکستان میں آج تک کوئی Data Protection قانون نہیں بنا۔ کوئی Privacy قانون نافذ نہیں۔ کوئی Cybersecurity آڈٹ کا قومی فریم ورک موجود نہیں۔ اس صورتحال میں 26 کروڑ عوام میں سے کسی بھی فرد کا ڈیٹا اس کی رضامندی کے بغیر، اس کی آگاہی کے بغیر اور پارلیمنٹ کی منظوری کے بغیر ایک خاص ڈیٹا بیس میں ڈالنا آئینی حق رازداری کی صریح خلاف ورزی ہے۔
• بیرونی فرم کا نام کیا ہے؟ وہ کس ملک کی ہے؟ ڈیٹا شیئرنگ معاہدے کی تفصیلات کیا ہیں؟
• ورلڈ بینک کے ساتھ ڈیٹا تک رسائی کی حد کیا ہے؟ کیا وہ اسے اپنے مقاصد کے لیے استعمال کر سکتے ہیں؟
• کیا اس ڈیٹا بیس پر کوئی آزاد Cybersecurity آڈٹ ہوگا؟ کون کرے گا؟
• شہری اگر نہیں چاہتے کہ ان کا ڈیٹا اس نظام میں جائے تو ان کے پاس کیا اختیار ہوگا؟
• پارلیمنٹ کے کس اجلاس میں اس پر بحث ہوئی اور کس قانون کے تحت یہ یقین دہانی دی گئی؟
جنوری 2027 میں بجلی مہنگی ہوگی، یہ اب طے ہو چکا ہے۔ 200 یونٹ والی سبسڈی ختم ہوگی، یہ بھی طے ہے۔ لیکن اس سے کہیں بڑا سوال یہ ہے کہ اس پورے عمل میں پاکستان کے کروڑوں شہریوں کا ڈیٹا کہاں جا رہا ہے، کون استعمال کرے گا اور کس مقصد کے لیے۔ معاشی مجبوریاں سمجھ آتی ہیں، آئی ایم ایف کی شرائط کی مجبوری بھی، لیکن قومی سلامتی اور شہریوں کی رازداری کوئی ایسی چیز نہیں جو بجٹ مذاکرات میں خاموشی سے قربان کی جا سکے۔ جب تک اس پر پارلیمانی منظوری، آزاد Cyber آڈٹ، Data Protection قانون اور شہریوں کی رضامندی کا واضح طریقہ کار سامنے نہیں آتا، یہ صرف بجلی کی قیمت کا نہیں، قومی خودمختاری کا سوال ہے۔
(جاری ہے، باقی اگلی قسط میں)