عوام نے اپنے بجلی کے بلوں کے ذریعے پہلے کوئلے سے چلنے والے پاور پلانٹس کو تیار رہنے کی فیس دی، پھر بجلی بنانے کی فیس دی، پھر بجلی گھر تک پہنچانے کی فیس دی اور بدلے میں انہیں لوڈشیڈنگ ملی۔
🔲 عوامی تحقیقاتی سلسلہ | قسط 34
موضوع: پاکستان کا بجلی کا نظام کیسے ٹھیک ہو گا؟
عنوان: کوئلے سے بجلی (پارٹ 1)
🔺 جب ادارے حقائق کی فراہمی سے گریزاں ہوں تو پھر سچ تک پہنچنا عوام کی ذمہ داری ہے۔
تحریر و تحقیق: سید شایان
پاکستان میں کوئلے کی اصل طاقت سندھ، خاص طور پر تھر میں موجود ہے۔ دستیاب سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ملک کے کل coal reserves میں سندھ کا حصہ تقریباً 99 فیصد سے زیادہ ہے، جبکہ صرف تھر کول فیلڈ اکیلی پاکستان کے کل ذخائر کا تقریباً 94 فیصد رکھتی ہے۔ باقی پنجاب، خیبر پختونخوا، بلوچستان اور آزاد کشمیر کے ذخائر مجموعی طور پر ایک فیصد سے بھی کم بنتے ہیں۔ اس لیے پاکستان میں کوئلے سے بجلی بنانے کی کوئی بھی سنجیدہ پالیسی تھر کول کو مرکز میں رکھے بغیر مکمل نہیں ہو سکتی۔ اصل مسئلہ صرف کوئلے کی موجودگی نہیں، بلکہ اس کا معیار، کان کنی کی لاگت، ترسیل کی لاگت اور بجلی گھروں تک محفوظ اور سستی فراہمی ہے۔
اب ہم پاکستان میں کوئلے سے بجلی بنانے والے پاور پلانٹس کی طرف آتے ہیں، جن کے بارے میں عوام کے اصل سوالات یہ ہیں کہ انہیں بجلی بنائے بغیر بھاری ادائیگیاں کیوں کی گئیں، درآمدی کوئلے پر انحصار کیوں بڑھایا گیا، تھر کول کو بروقت کیوں استعمال نہیں کیا گیا، کوئلے کی ترسیل اتنی مہنگی کیوں پڑی، اور ان پلانٹس سے ان کی پوری صلاحیت کے مطابق بجلی کیوں حاصل نہیں کی گئی۔
پاکستان میں کوئلے سے چلنے والے گرڈ پاور پلانٹس کی کل تعداد 9 ہے، جن میں سے 7 سندھ میں، 1 پنجاب میں، اور 1 بلوچستان کے علاقے حب میں واقع ہے۔
تفصیل یہ ہے:
1. ساہیوال کول پاور پلانٹ، 1320 میگاواٹ
2. پورٹ قاسم کول پاور پلانٹ، 1320 میگاواٹ
3. چائنا پاور حب کول پاور پلانٹ، 1320 میگاواٹ
4. اینگرو تھر کول پاور پروجیکٹ، 660 میگاواٹ
5. لکی الیکٹرک پاور پروجیکٹ، 660 میگاواٹ
6. حبکو تھر انرجی پروجیکٹ، 330 میگاواٹ
7. شنگھائی تھر کول بلاک 1 پروجیکٹ، 1320 میگاواٹ
8. تھل نووا تھر کول پاور پروجیکٹ، 330 میگاواٹ
9. جامشورو کول پاور پلانٹ، 660 میگاواٹ
ان 9 بڑے کوئلہ پاور پلانٹس کی کل نصب شدہ صلاحیت 7,920 میگاواٹ ہے، مگر پچھلے مالی سال 2024 25 میں ان سے اوسطاً صرف 2,800 میگاواٹ بجلی حاصل کی گئی۔ یعنی تقریباً 5,120 میگاواٹ صلاحیت استعمال ہی نہ ہو سکی۔ یونٹس کے حساب سے یہ پلانٹس تقریباً 69.4 ارب یونٹ بجلی دے سکتے تھے، مگر عملی طور پر صرف 24.5 ارب یونٹ حاصل ہوئے، جبکہ 44.9 ارب یونٹ پیدا ہی نہیں ہوئے۔ یہی وہ unused capacity ہے جس کا بوجھ capacity payments کی صورت میں عوام کے بلوں میں شامل ہوتا ہے۔
اس کے باوجود مالی سال 2024 25 میں ان پلانٹس کو capacity payments کی مد میں 670 ارب روپے ادا کیے گئے۔ NEPRA کے مطابق اس میں سے 256 ارب روپے تھر کول پلانٹس کو، جبکہ 414 ارب روپے درآمدی کوئلے پر چلنے والے پلانٹس کو دیے گئے۔
پڑھنے والوں کے لیے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ یہ رقم بجلی کے actual units کی قیمت نہیں تھی، بلکہ Capacity Purchase Price، یعنی CPP کے تحت ادا کی گئی۔ IPPs کے معاہدوں میں CPP ایک اہم clause ہوتی ہے، جس کے اندر قرضوں کی واپسی، سرمایہ کاری پر منافع، تعمیراتی مدت کا منافع، fixed O&M، انشورنس اور دیگر مقررہ اخراجات شامل ہوتے ہیں۔
NEPRA واضح طور پر لکھتا ہے کہ یہ اخراجات fixed ہوتے ہیں، یعنی پلانٹ کم چلے یا زیادہ، یہ لاگت اپنی جگہ موجود رہتی ہے۔ جب کسی پلانٹ کا utilization کم ہوتا ہے تو یہی fixed cost کم یونٹس پر تقسیم ہو کر فی یونٹ بجلی کو عوام کے لیے مزید مہنگا کرتی ہے۔ آئی پی پیز کو اس طریقے سے دی جانے والی پیمنٹس کو ہی عام طور پر capacity payment کہا جاتا ہے۔
اصل سوال یہ ہے کہ جب قوم کو ان پلانٹس کی پوری صلاحیت کے مطابق بجلی نہیں ملی، تو ان آئی پی پیز کو کیا خالی بٹھانے کے نام پر 670 ارب روپے ادا ہوئے؟ اور جب درآمدی کوئلہ پلانٹس کا utilization factor صرف 22.9 فیصد تھا، تو انہیں 414 ارب روپے کی capacity payments معاہدے کی شرائط کے تحت ادا تو کی گئیں مگر بتایا جائے کہ ان پلانٹس کو اتنا کم کیوں چلایا گیا؟
NEPRA کی اپنی تحریر کی گئی رپورٹ کے مطابق مالی سال 2024 25 میں پورے CPPA G سسٹم کی Capacity Purchase Price تقریباً 1,806 ارب روپے تھی، جو کل بجلی خریداری لاگت کا 61 فیصد بنتی ہے۔ اس کا اوسط 14.3 روپے فی یونٹ رہا۔ NEPRA نے خود تسلیم کیا کہ اس بلند CPP کی بڑی وجہ ضرورت سے زیادہ نصب شدہ صلاحیت ہے۔ (یعنی ضرورت سے زیادہ پاور پلانٹس کا لگا لینا اور پھر ان پاور پلانٹس کا کم استعمال کرنا۔)
آپ یہ بات ایسے بھی سمجھ سکتے ہیں کہ مالی سال 2024 25 میں صرف 9 بڑے کوئلہ پاور پلانٹس کو capacity payments کی مد میں 670 ارب روپے ادا کیے گئے۔ لیکن نیپرا کے مطابق پورے CPPA G سسٹم، یعنی کوئلہ، گیس، RLNG، نیوکلیئر، ہائیڈل، ونڈ، سولر اور دیگر پاور پلانٹس کو ملا کر Capacity Purchase Price تقریباً 1,806 ارب روپے رہی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ صرف کوئلہ پلانٹس کی capacity payment تقریباً 37 فیصد بنتی ہے۔
ذرا تصور کریں، اگر IPPs، capacity payments، guaranteed returns اور dollar indexed returns نہ ہوتے، اور حکومت خود تھر کول پر پلانٹ لگاتی، تو بجلی کی اصل لاگت بہت کم ہو سکتی تھی۔ ایندھن، O&M اور ترسیلی اخراجات ملا کر یہی بجلی صارف تک تقریباً 14 سے 18 روپے فی یونٹ ہو سکتی تھی۔ آج جو بل 50 روپے فی یونٹ سے بھی اوپر جا رہا ہے، اس کی واحد وجہ آئی پی پیز سے کیے گئے غلط معاہدے ہیں۔