️ساہیوال کول پلانٹ کو پنجاب کے عین مرکز میں لگانا ناقص منصوبہ بندی اور سیاسی شعبدہ بازی کی ایک واضح مثال ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ماہرین اس کے محل وقوع (Location) کو ایک بڑی سٹرکچرل غلطی سمجھتے ہیں، جس کا بوجھ پاکستان کی معیشت، زراعت اور آنے والی نسلیں 2047 تک برداشت کریں گی۔
اس فیصلے کو “قومی جرم” یا ایک سنگین پالیسی اور معاشی ناکامی کیوں تصور کیا جاتا ہے؟ اس کے پیچھے چند بنیادی اور ٹھوس تکنیکی و ماحولیاتی وجوہات ہیں۔
1۔ زرخیز زرعی زمین کا ضیاع اور فوڈ سیکیورٹی
ساہیوال اور اس کے گردونواح کا علاقہ پنجاب کا دل کہلاتا ہے، جو اپنی انتہائی زرخیز زرعی زمین اور لائیوسٹاک (مال مویشی) کے لیے مشہور ہے۔ ایسے شدید زرخیز اور ملکی خوراک کی ضرورت پوری کرنے والے خطے میں ایک بڑا کوئلے کا پاور پلانٹ لگانا، جس سے نکلنے والی راکھ اور گیسیں زمین اور فصلوں کو متاثر کرتی ہیں، زراعت پر ایک بڑا حملہ تصور کیا جاتا ہے۔
2۔ لاجسٹکس کی تباہی اور “ان لینڈ” (Inland) پلانٹ کی منطق
کوئلے سے چلنے والے پاور پلانٹس عام طور پر ساحلی علاقوں (جیسے پورٹ قاسم یا گوادر) میں لگائے جاتے ہیں تاکہ درآمدی کوئلہ بندرگاہ سے سیدھا پلانٹ تک پہنچ سکے۔
ساہیوال پلانٹ کے لیے درآمدی کوئلہ کراچی بندرگاہ پر اترتا ہے۔ وہاں سے تقریباً 1200 کلومیٹر کا فاصلہ طے کر کے ریل گاڑیوں کے ذریعے کوئلہ ساہیوال پہنچایا جاتا ہے۔ اس طویل ترین سفر کی وجہ سے نہ صرف ریلوے کے نیٹ ورک پر شدید بوجھ پڑتا ہے، بلکہ کوئلے کی نقل و حمل کے اخراجات (Freight Costs) حد سے زیادہ بڑھ جاتے ہیں، جس کا بوجھ آخر کار عوام کو “فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ” کی شکل میں اٹھانا پڑتا ہے۔
3۔ ماحولیاتی تباہی اور اسموگ میں اضافہ
پنجاب پہلے ہی ہر سال موسمِ سرما میں بدترین اسموگ (Smog) اور فضائی آلودگی کا شکار رہتا ہے۔ ساہیوال پلانٹ سے خارج ہونے والی گیسیں (نائٹروجن آکسائیڈ، سلفر ڈائی آکسائیڈ) اور ہوا میں اڑنے والے باریک ذرات (PM2.5) اس خطے کی ہوا کو مزید زہریلا بنا رہے ہیں، جس کے براہِ راست اثرات انسانی صحت، بالخصوص پھیپھڑوں اور سانس کی بیماریوں کی صورت میں سامنے آ رہے ہیں۔
4۔ زیرِ زمین پانی کا بے دریغ استعمال
کول پاور پلانٹس کو کولنگ (Cooling) کے عمل کے لیے لاکھوں گیلن پانی کی ضرورت ہوتی ہے۔ ساہیوال ایک ایسے علاقے میں ہے جہاں پانی کا کوئی بڑا قدرتی ذخیرہ یا سمندر نہیں ہے۔ چنانچہ یہ پلانٹ زیرِ زمین پانی (Groundwater) اور مقامی نہری نظام پر انحصار کرتا ہے، جس سے ساہیوال اور اس کے اطراف میں زیرِ زمین پانی کی سطح تیزی سے گر رہی ہے اور مستقبل میں پینے اور زراعت کے پانی کا شدید بحران پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔
5۔ متبادل اور سستے ذرائع کو نظر انداز کرنا
جب یہ پلانٹ لگایا گیا، اس وقت دنیا کلین انرجی (سولر اور ونڈ) کی طرف جا رہی تھی۔ پاکستان کے پاس چولستان میں سولر اور جھمپیر میں ونڈ کی وسیع گنجائش موجود تھی، جہاں سستی بجلی پیدا کی جا سکتی تھی۔ ایک ایسے وقت میں درآمدی کوئلے پر مبنی پلانٹ لگانا اور وہ بھی ملک کے زرعی مرکز کے بیچوں بیچ، نواز شریف حکومت کی وہ حکمتِ عملی ہے جس پر تاسف ہی کیا جا سکتا ہے۔
6۔ “ٹیک اور پے” (Take or Pay) اور کیپیسٹی چارجز کا بھاری بوجھ
ساہیوال کول پلانٹ ان منصوبوں میں شامل ہے جن کے معاہدے “ٹیک اور پے” کی بنیاد پر کیے گئے تھے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ حکومتِ پاکستان اس پلانٹ سے بجلی خریدے یا نہ خریدے، اسے پلانٹ کو فعال رکھنے اور اس کی سرمایہ کاری کی واپسی کے لیے اربوں روپے کے کیپیسٹی چارجز (Capacity Charges) ادا کرنے ہی پڑتے ہیں۔
چونکہ یہ پلانٹ درآمدی کوئلے پر چلتا ہے اور اس کی بجلی مہنگی پڑتی ہے، اس لیے کئی بار اسے کم چلایا جاتا ہے، لیکن عوام کی جیب سے کیپیسٹی پیمنٹس کی مد میں اربوں روپے ہر ماہ اس پلانٹ کو جا رہے ہیں۔
7۔ ڈالر میں بجلی کی قیمت کی ادائیگی (Forex Drain)
یہ پلانٹ مقامی کوئلے، جیسے تھر کا کوئلہ، کے لیے ڈیزائن نہیں کیا گیا تھا، بلکہ اسے ملائیشیا، انڈونیشیا یا جنوبی افریقہ سے آنے والے درآمدی کوئلے (Imported Coal) پر چلانے کے لیے بنایا گیا تھا۔
جب بھی ڈالر کی قیمت روپے کے مقابلے میں بڑھتی ہے، کوئلے کی درآمدی قیمت خود بخود بڑھ جاتی ہے۔
اس کے نتیجے میں ملک کا قیمتی زرِ مبادلہ (Foreign Exchange) صرف اس پلانٹ کے ایندھن کی ضرورت پوری کرنے کے لیے باہر چلا جاتا ہے، جو ملکی معیشت پر ایک مستقل بوجھ ہے۔
8۔ طویل المدت “کاربن لاک اِن” (Carbon Lock in)
جب کوئی ملک ہائیڈرو، پانی، سولر یا ونڈ کے بجائے کوئلے کے اتنے بڑے پلانٹ کا 30 سالہ معاہدہ کر لیتا ہے، تو وہ تکنیکی اور قانونی طور پر ایک کاربن لاک اِن کا شکار ہو جاتا ہے۔ یعنی اب بین الاقوامی سطح پر گرین انرجی کے دباؤ اور کاربن ٹیکسز کے باوجود، پاکستان قانونی طور پر اگلی کئی دہائیوں تک اس آلودہ ترین ایندھن کو جلانے اور اس کی قیمت ادا کرنے پر مجبور ہے۔
9۔ جب پاکستان نے اپنے مقامی کوئلے (Thar Coal) کو استعمال کرنے کا فیصلہ کیا، تو ساہیوال پلانٹ کو تھر کے کوئلے پر منتقل کرنے (Retrofitting) کی باتیں ہوئیں۔ لیکن عملی طور پر یہ ممکن نہیں کہ یہ پلانٹ بوائلر کی جس ٹیکنالوجی پر بنا ہے، وہ اعلیٰ معیار کے درآمدی کوئلے (Bituminous) کے لیے ہے، جبکہ تھر کا کوئلہ کم درجے کا (Lignite) ہے، جس کے لیے پلانٹ میں اربوں روپے کی مزید تبدیلیوں کی ضرورت ہے۔
10۔ گرڈ اسٹیشنز پر پریشر اور ٹرانسمیشن کے نقصانات (Line Losses)
بجلی کی پیداوار کا ایک بنیادی اصول یہ ہے کہ اسے لوڈ سینٹرز، جہاں بجلی استعمال ہونی ہے، کے قریب یا پھر سستے ایندھن کے منبع (Source) کے قریب ہونا چاہیے۔
ساہیوال پلانٹ نہ تو کسی ایندھن کے منبع، بندرگاہ یا کان، کے قریب ہے اور نہ ہی یہ ملکی گرڈ کے لیے سستے ترین متبادل کے طور پر کام کر رہا ہے۔