Home

عوامی تحقیقاتی سلسلہ | قسط 37

🔳 یہ پاک چین دوستی نہیں ہے بلکہ دوستی کے نام پر Economic Hitmanship کا کلاسک کیس دکھائی دیتا ہے یعنی ایسا معاشی جال جس میں سستے منصوبے مہنگے کر کے بیچے جائیں، منافع ڈالروں میں وصول کیا جائے اور طویل مدت (جیسا کہ 30 سالہ) مشکوک معاہدوں کے ذریعے کسی ملک کو مالی طور پر جکڑ دیا جائے۔ ( قارئین سے گزارش ہے کہ Economic Hitmanship کی اصطلاح ضرور سمجھیں اس سے یہ پوری کہانی واضح ہو جائے گی۔)

ہمالیہ سے اونچی اور شہد سے میٹھی دوستی کا جو بیانیہ ہمیں پڑھایا اور سنایا جاتا ہے، جب کوئی عقل شعور رکھنے والا انسان اس بیانیے کو نیپرا کے ٹیرف رجسٹر اور محمد علی رپورٹ کے ہولناک اعداد و شمار کے ترازو میں تولتا ہے، تو اس کا سر چکرا جاتا ہے کہ یہ کیسی دوستی ہے جہاں بنیاد ہی دگنی قیمت اور اندھی لوٹ مار پر رکھی گئی ہے۔ یہ دوستی نہیں، ڈکیتی ہے۔جو گھر کے بھیدیوں سے مل کر کی گئی ہے۔

چین نے اپنے مینوفیکچرنگ سیکٹر، کوئلے کے پلانٹس اور سرمایہ کاروں کے لیے پاکستان کو ایک ایسی مارکیٹ کے طور پر استعمال کیا، جہاں معاہدے کرنے والے خود نااہل، لالچی اور بیوقوف تھے اور مشکوک فیصلوں کے عادی تھے۔ نتیجہ آج سامنے ہے چینی کمپنیاں اپنا منافع ڈالروں میں لے جا رہی ہیں، جبکہ پاکستان کے عوام پچھلے دس برسوں سے اس نام نہاد دوستی کی قیمت اپنے بجلی کے بلوں میں ادا کر رہے ہیں۔ لیکن چینی خوش ہیں کہ یہ کھیل ابھی 2048 تک چلے گا۔

پورٹ قاسم پاور پلانٹ اور ساہیوال کول پاور پلانٹ پاکستان کے بجلی نظام کی ناکامی کی ایک مکمل تصویر ہیں اور سی پیک کے پورے امیج کو پاکستانی عوام کی نظروں میں بری طرح داغدار کر چکے ہیں۔ جب ایک عام شہری دیکھتا ہے کہ سی پیک کے نام پر بننے والے یہ آئی پی پیز اس کے گھر کا چولہا ٹھنڈا کر رہے ہیں اور بلوں کی شکل میں اس کا خون نچوڑ رہے ہیں، تو اس کا اعتماد اس پورے میکرو پروجیکٹ پر کیسے قائم رہ سکتا ہے؟

عوامی تحقیقاتی سلسلہ | قسط 37

موضوع: پاکستان کا بجلی کا نظام کیسے ٹھیک ہو گا؟
عنوان: ساہیوال کول پلانٹ اور پورٹ قاسم کول پاور پلانٹ، ایک موازنہ
🔺 جب ادارے حقائق کی فراہمی سے گریزاں ہوں تو پھر سچ تک پہنچنا عوام کی ذمہ داری ہے۔
تحریر و تحقیق: سید شایان

ہمارے پاور سیکٹر کی پالیسیوں کو سمجھنے کے لیے پورٹ قاسم پاور پلانٹ اور ساہیوال کول پاور پلانٹ کا موازنہ ہی کافی ہے۔

ان میں ایک منصوبہ کراچی میں بندرگاہ کے قریب لگایا گیا، جہاں درآمدی کوئلہ براہِ راست اترتا ہے، جبکہ دوسرا وہی درآمدی کوئلہ استعمال کرنے کے لیے تقریباً 1,000 کلومیٹر دور ساہیوال کے زرعی علاقے میں لگا دیا گیا، جہاں کوئلہ کراچی سے ریل کے ذریعے پہنچانا پڑتا ہے۔

اصولی طور پر پورٹ قاسم کی بجلی ساہیوال کے مقابلے میں واضح طور پر سستی پڑنی چاہیے تھی، مگر نیپرا کے ٹیرف ڈھانچے میں پورٹ قاسم کے ڈالر انڈیکسڈ پورٹ ہینڈلنگ و جیٹی چارجز اور کیپیسٹی پیمنٹس کے پیچیدہ فارمولے ساہیوال کے ریلوے فریٹ، یعنی کرائے، پر اس قدر بھاری پڑتے ہیں کہ بندرگاہ کے قریب ہونے کے باوجود پورٹ قاسم کا یہ لاجسٹک فائدہ ختم ہو جاتا ہے اور دونوں کی قیمت میں کوئی بڑا فرق باقی نہیں رہتا۔ چنانچہ عملی صورتِ حال یہ ہے کہ غلط منصوبہ بندی اور مہنگے معاہدوں کے باعث یہ دونوں پلانٹس اب پاکستان کے پاور سیکٹر کے لیے ایک جیسا مالی بوجھ بن چکے ہیں۔ ایک طرف پورٹ قاسم پر ڈالر انڈیکسیشن اور بیرونی ادائیگیوں کا دباؤ ہے، تو دوسری طرف ساہیوال پر ریلوے کے بڑھتے ہوئے کرایوں کا بوجھ، اور ان دونوں کا حتمی خمیازہ عوام کو مہنگی بجلی کی صورت میں بھگتنا پڑ رہا ہے۔

واضح رہے کہ ساہیوال پلانٹ اکتوبر 2017 میں مکمل ہوا، جبکہ پورٹ قاسم پلانٹ اس کے 6 ماہ بعد اپریل 2018 میں مکمل ہوا، اس لیے اسے ساہیوال کول پاور پلانٹ کے فوراً بعد مکمل ہونے والا دوسرا بڑا سی پیک (CPEC) منصوبہ کہا جا سکتا ہے، جس کے چلنے کا کل انحصار درآمدی کوئلے پر ہے۔

ساہیوال اور پورٹ قاسم دونوں الگ الگ 1,320 میگاواٹ کے پاور پلانٹس ہیں، یعنی دونوں کی مجموعی پیداواری صلاحیت 2,640 میگاواٹ بنتی ہے۔ یہ دونوں منصوبے CPEC کے تحت نجی بجلی گھروں کے ماڈل پر لگائے گئے، اور دونوں میں جدید سپر کریٹیکل ٹیکنالوجی استعمال ہوئی۔

نواز شریف کے دورِ حکومت میں شروع کیے گئے یہ دونوں منصوبے تیس تیس (30، 30) سال کے طویل مدتی معاہدوں پر لگائے گئے ہیں، جس کے تحت ساہیوال کول پاور پلانٹ کا معاہدہ اکتوبر 2047 میں ختم ہوگا جبکہ پورٹ قاسم پاور پلانٹ کا یہ معاہدہ اپریل 2048 میں جا کر مکمل ہوگا۔ یعنی اگلے دو عشروں سے زائد عرصے تک پاکستانی عوام ان معاہدوں کے مطابق اپنے بجلی کے بلوں میں اس کا خمیازہ بھگتتے رہیں گے۔ یعنی سال 2047 اور 2048 تک عوام کو ان دونوں پلانٹس کی کیپیسٹی پیمنٹس، ڈالر انڈیکسیشن اور فرضی لاگت کا سود بہرحال ادا کرنا پڑے گا۔

1,320 میگاواٹ کی صلاحیت رکھنے والے یہ دونوں پلانٹس، ساہیوال اور پورٹ قاسم، CPEC کے تحت تقریباً دو، دو ارب ڈالر کی خطیر لاگت سے تعمیر کیے گئے، جس پر عالمی توانائی کے ماہرین آج بھی حیران ہیں۔

بین الاقوامی اعداد و شمار کے مطابق خود چین میں اسی نوعیت کے کول پاور پلانٹس کی فی میگاواٹ لاگت تقریباً 488,000 سے 657,000 ڈالر کے درمیان رہی ہے۔ اس حساب سے 1,320 میگاواٹ کے ایک پلانٹ کی حقیقی لاگت تقریباً 64 کروڑ سے 87 کروڑ ڈالر بنتی ہے، یعنی ایک ارب ڈالر سے بھی کم۔ مگر پاکستان میں ساہیوال کو تقریباً 1.8 ارب ڈالر اور پورٹ قاسم کو تقریباً 1.91 ارب ڈالر کی لاگت پر دکھایا گیا، جو عالمی موازنے میں تقریباً دگنی قیمت بنتی ہے۔

محمد علی رپورٹ، یعنی پاور سیکٹر انکوائری کمیٹی رپورٹ 2020، نے اس پورے کھیل کا اہم پردہ چاک کیا تھا۔ رپورٹ کے مطابق ساہیوال اور پورٹ قاسم جیسے imported coal projects میں project cost، borrowing cost اور tariff assumptions کے ذریعے ایسی گنجائش رکھی گئی جس سے IPPs کو زیادہ ادائیگیاں ملیں اور اس کا بوجھ آخرکار بجلی کے صارفین پر ڈال دیا گیا۔

سب سے اہم نکتہ یہ تھا کہ کاغذات میں ان پلانٹس کی تعمیراتی مدت 48 ماہ فرض کی گئی، حالانکہ یہ پلانٹس حقیقت میں تقریباً 27 سے 29 ماہ میں مکمل ہو گئے تھے۔ اصولی طور پر وقت سے پہلے پلانٹ مکمل ہونے کا فائدہ پاکستان کی معیشت اور بجلی کے صارفین کو ملنا چاہیے تھا، مگر یہاں الٹا ہوا۔ تعمیراتی مدت زیادہ دکھائی گئی تو قرضوں پر سود، فنانسنگ کاسٹ اور دوسرے اخراجات بھی 48 ماہ کے حساب سے لاگت میں شامل کر دیے گئے۔

رپورٹ نے یہ بھی نشاندہی کی کہ borrowing اور interest payments کے معاملے میں sponsors کی طرف سے درست تصویر پیش نہیں کی گئی۔ نتیجہ یہ نکلا کہ جو رقم اصل لاگت میں شامل نہیں ہونی چاہیے تھی، وہ بھی project cost کا حصہ بن گئی۔ پھر اسی بڑھی ہوئی لاگت پر ٹیرف بنا، قرضوں کی واپسی طے ہوئی، سرمایہ کاروں کا منافع نکلا، ڈالر انڈیکسیشن لگی اور کیپیسٹی پیمنٹس کا بوجھ بھی بڑھتا چلا گیا۔

اصل سوال یہی ہے کہ جب یہ پلانٹس منظور کیے جا رہے تھے تو ہمارے حکمرانوں، بیوروکریٹس اور پالیسی سازوں نے اتنی بڑی لاگت، طویل معاہدوں اور ڈالر انڈیکسیشن کو کس بنیاد پر قبول کیا؟ کرپشن کا حتمی فیصلہ عدالتوں کا کام ہے، مگر بظاہر یہ معاملہ کم از کم سنگین غفلت، لاپرواہی اور قومی مفاد کے خلاف فیصلوں کی واضح مثال ضرور نظر آتا ہے۔

مسئلہ یہ ہے کہ یہ غلط فیصلہ ایک دن کا نہیں تھا؛ اس کی سزا 30 سال تک، یعنی تقریباً 2048 تک پاکستانی عوام کو بجلی کے بلوں، کیپیسٹی پیمنٹس اور مہنگے ٹیرف کی صورت میں بھگتنا پڑے گی۔ دنیا کے کسی سنجیدہ ملک میں ایسا معاملہ قومی جرم سمجھا جاتا، مگر ہمارے ہاں جن لوگوں نے یہ فیصلے کیے وہ آج بھی نظام کا حصہ ہیں اور اسی اعتماد سے مزید فیصلے کر رہے ہیں۔

آج زمینی حقائق یہ ہیں کہ چین کی مدد سے جو سی پیک (CPEC) پاور پلانٹس لگے، ان کے مہنگے معاہدوں اور ادائیگیوں نے پاکستان کے گردشی قرضے کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔

2022 میں حکومت پاکستان نے اسٹیٹ بینک میں Pakistan Energy Revolving Account بنایا، جس کا مقصد یہ تھا کہ ہر سال 48 ارب روپے رکھ کر چینی IPPs کو وقت پر کچھ نہ کچھ ادائیگی کی جا سکے، مگر یہ اکاؤنٹ پوری طرح بھرا ہی نہیں گیا، نہ اس سے باقاعدہ ادائیگیاں ہو سکیں۔

اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ چینی IPPs کے واجبات بڑھتے گئے۔ جون 2025 میں یہ رقم تقریباً 430 ارب روپے تھی، پھر بڑھ کر تقریباً 560 ارب روپے، یعنی لگ بھگ 2 ارب ڈالر کے قریب پہنچ گئی۔

اب مسئلہ یہ ہے کہ حکومت گردشی قرضہ کم کرنے کے لیے 1.275 کھرب روپے کا پلان بنا رہی ہے۔ اس پلان میں حکومت چاہتی ہے کہ IPPs اپنے معاہدوں میں کچھ نرمی کریں، مثلاً لیٹ پیمنٹ سرچارج کم کریں، منافع کی شرائط نرم کریں، یا ادائیگیوں کا بوجھ کم کریں۔

لیکن چینی IPPs کہہ رہی ہیں کہ ہم اپنے Power Purchase Agreements میں تبدیلی نہیں کریں گے، کیونکہ ان معاہدوں کے پیچھے چینی بینکوں کی فنانسنگ اور سکیورٹی موجود ہے۔ یعنی پاکستان پھنس گیا ہے۔

یا تو پاکستان چین کو منائے بغیر گردشی قرضے کا نیا پلان بنائے، جو مشکل ہے۔

یا پھر باقی مقامی IPPs سے رعایت لے اور چینی IPPs کو چھوڑ دے، جس سے سیاسی اور سفارتی مسئلہ پیدا ہونے کا خدشہ بھی ہے اور ہمالیہ سے اونچی دوستی میں اس کی وجہ سے جو دراڑیں آ گئی ہیں، اس کے ٹوٹنے کا وقت بھی قریب محسوس ہو رہا ہے۔

چین نے ماضی میں قرضوں کے رول اوور (Roll-over) میں تو مدد کی ہے، لیکن جب بات CPEC کے آئی پی پیز کے منافع کی شرح (ROI) یا قرض کی واپسی کی مدت میں توسیع (Debt Rescheduling) پر آتی ہے، تو بیجنگ کا مؤقف ہمیشہ انتہائی سخت رہا ہے۔ ان کے لیے یہ صرف دوستی کا نہیں، بلکہ ان کے بینکوں اور انشورنس کمپنیوں، جیسے Sinosure، کے کاروباری ماڈل کا معاملہ ہے۔

چین کی بیرونی سرمایہ کاری کے پیچھے دراصل Sinosure کھڑا ہوتا ہے، جو China Export & Credit Insurance Corporation کا مختصر نام ہے۔ یہ چین کا سرکاری انشورنس اور گارنٹی ادارہ ہے۔ جب کوئی چینی کمپنی پاکستان میں پاور پلانٹ لگاتی ہے یا چینی بینک اس کے لیے قرضہ دیتے ہیں تو Sinosure ان کا ضامن بن جاتا ہے۔ اگر پاکستان وقت پر ادائیگی نہ کرے تو پہلے Sinosure چینی کمپنی یا بینک کا نقصان پورا کرتا ہے، پھر وہی رقم حکومتِ پاکستان سے وصول کرنے کے لیے ہر جائز ناجائز طریقہ روا رکھنے کا حق رکھتا ہے۔

چونکہ Sinosure چین کا سرکاری ادارہ ہے، اس لیے یہ معاملہ پھر صرف کمپنی کا نہیں رہتا بلکہ چینی حکومت اور حکومتِ پاکستان کے درمیان ایک حساس مالی و سفارتی مسئلہ بن جاتا ہے۔

اب ایسی صورتحال میں اگر پاکستان چینی آئی پی پیز پر دباؤ بڑھاتا ہے تو سفارتی محاذ پر وہ سرد مہری مزید گہری ہو جانے کا خدشہ ہے جو پچھلے کچھ عرصے سے محسوس کی جا رہی ہے۔ اور اگر رعایت نہیں ملتی، تو مقامی صنعتیں مہنگی بجلی کے بوجھ تلے دفن ہو جائیں گی، جس سے وہ “انرجی لیڈ انڈسٹریلائزیشن” (Energy-led Industrialization) کا خواب کبھی پورا نہیں ہو سکے گا جو اس ملک کو اس دلدل سے نکال سکتا ہے۔

بجلی کے اس پورے نظام کو اب محض ادائیگیوں کے توازن یا اکاؤنٹنگ کی ہیر پھیر سے ٹھیک نہیں کیا جا سکتا۔ اب پانی سر سے گزر چکا ہے اور وقت گواہ ہے کہ جب تک انفرادی طور پر ایک ایک پلانٹ کے معاہدے کو پبلک کر کے اس کا کچا چٹھا سامنے نہیں لایا جاتا، یہ بحران یونہی جوں کا توں رہے گا۔

آپ کے خیال میں کیا پاکستان کے پاس اب چینی پلانٹس کے گردشی قرضے کو طویل مدتی بانڈز میں تبدیل کرنے کے علاوہ کوئی تیسرا آپشن بچا ہے، یا اب یہ پورا سسٹم ہی ایک بڑے “ڈیفالٹ” کی طرف بڑھ رہا ہے؟

جاری ہے، باقی اگلی قسط میں)

0
Views
54
1
تمام اقساط پڑھیے

مزید مضامین

قسط نمبر 36

قسط نمبر 36

🔳 کراچی کے کروڑوں شہری پینے کے صاف پانی کی قلت اور ٹینکر مافیا کے رحم و کرم پر ہیں مگر اسی شہر کے ساحل پر پورٹ قاسم کول پاور پلانٹ کے لیے روزانہ لاکھوں گیلن پانی مہنگے ڈی سیلینیشن اور ڈی منرلائزیشن کے عمل سے گزار کر بوائلرز کو پلایا جا رہا ہے، کیونکہ کھارا پانی پلانٹ کے لیے نقصان دہ ہے۔

قسط نمبر 35

قسط نمبر 35

🔳 ساہیوال کا کوئلے سے بجلی بنانے والا آئی پی پی (پاور پلانٹ) پاکستان کو دنیا کی مہنگی ترین بجلی کے ایک ایسے چکر میں پھنسا چکا ہے، جس سے نکلنا اب ہمارے لیے ایک بڑا قومی چیلنج بن گیا ہے۔

قسط نمبر 34

قسط نمبر 34

🔳 کوئلے کی بجلی
▫️ساہیوال پاور پلانٹ جیسا میگا پراجیکٹ بندرگاہ، پورٹ قاسم، یا تھر کے کوئلے کے ذخائر سے سینکڑوں کلومیٹر دور لگانے کا فیصلہ کس “ماسٹر مائنڈ” نے اور کس بنیاد پر کیا تھا؟

قسط نمبر 33

قسط نمبر 33

🔳 بجلی سبسڈی کے لیے آئی ایم ایف کی نئی شرائط، پاکستان کے کروڑوں شہریوں کی معلومات (ڈیٹا) ایک بیرونی فرم کے سپرد کرنے کا فیصلہ، قومی سلامتی کے لیے نیا سوال؟

قسط نمبر 32

قسط نمبر 32

🔳 چراغ تلے اندھیرا۔ پورے ملک کو توانائی دینے والا بلوچستان خود ایرانی بجلی کا محتاج کیوں ہے؟