Home

عوامی تحقیقاتی سلسلہ | قسط 38

🔳 سلمان فاروقی اور وزارتِ پانی و بجلی کے وہ فیصلے جنہوں نے آنے والی ہر حکومت کے ہاتھ باندھ دیے اور ملک کو کیپیسٹی پیمنٹ، ڈالر انڈیکسیشن، امپورٹڈ ایندھن، حکومتی گارنٹی اور Take or Pay جیسے معاہدوں کے ایسے چکر (Vicious Cycle) میں ڈال دیا جس سے پاکستان آج تک باہر نہیں نکل سکا۔

پاکستان میں حکومتیں بدلیں، اسمبلیاں ٹوٹیں، مارشل لا آئے، مگر ایک چیز کبھی نہیں بدلی اور وہ ہے ہمارے بجلی کے مہنگے معاہدے۔

سوال یہ ہے کہ سیاست دان تو الیکشن ہار کر گھر چلے جاتے ہیں، پھر یہ نظام دہائیوں سے ایک ہی لکیر پر کیسے چل رہا ہے؟ آنے والی دوسری حکومتیں اسے درست کیوں نہیں کرتیں؟

عوامی تحقیقاتی سلسلہ | قسط 38

موضوع: پاکستان کا بجلی کا نظام کیسے ٹھیک ہو گا؟
عنوان: موجودہ بجلی کا بحران اور بیوروکریٹک
مائنڈ سیٹ
🔺 جب ادارے حقائق کی فراہمی سے گریزاں ہوں تو پھر سچ تک پہنچنا عوام کی ذمہ داری ہے۔
تحریر و تحقیق: سید شایان

پاکستانی بیوروکریسی کی تاریخ میں سلمان فاروقی وہ نام ہے جسے پاکستان کے موجودہ پاور اسٹرکچر، خاص طور پر IPPs کے ساتھ 1994 کی پہلی پالیسی کا اصل معمار (Architect) کہا جاتا ہے۔

وہ 1990 کی دہائی میں بینظیر بھٹو کے دور حکومت میں سیکریٹری پانی و بجلی اور پٹرولیم کے کلیدی عہدوں پر فائز رہے اور بعد میں پرنسپل سیکریٹری بھی بنے۔

وزارتِ پانی و بجلی کے سربراہ کی حیثیت سے ان کے دور میں جو پالیسی تیار ہوئی، اس نے چند ایسے اصول وضع کیے جو بعد میں پاکستان کے گلے کا طوق بن گئے۔

ریکارڈ کے مطابق 1994 کی پاور پالیسی کے تحت نجی بجلی گھروں کو جو غیر معمولی مراعات دی گئیں، ان میں Take or Pay کی بنیاد پر کیپیسٹی پیمنٹ، ڈالر سے منسلک منافع اور سرمایہ کاروں کے لیے حکومتی گارنٹی جیسے نکات شامل تھے۔ اس پالیسی کی تیاری، مسودہ سازی (Drafting) اور سرکاری منظوری کے عمل میں وزارت پانی و بجلی کا کردار بنیادی تھا اور وزارت پانی و بجلی کے سربراہ کی حیثیت سے سلمان فاروقی کے دستخط اور فیصلے اس پورے عمل کا اہم حصہ تھے۔

بعد کے ادوار میں جب بھی IPPs کے معاہدوں پر تحقیقات ہوئیں، چاہے وہ نواز شریف دور میں سیف الرحمان کا احتساب سیل ہو، نیب NAB کی تحقیقات ہوں یا موجودہ دور کی محمد علی کمیٹی کی رپورٹس، ریکارڈز میں یہ بات سامنے آئی کہ وزارت کے اندر ان معاہدوں کی شرائط کو حتمی شکل دینے اور کابینہ سے منظور کروانے میں سلمان فاروقی کا کردار سب سے اہم تھا۔

سیاست دان بدلتے رہے، لیکن ٹیکنوکریٹک اور بیوروکریٹک سطح پر پالیسی کا جو تسلسل انہوں نے قائم کیا، اسی نے آگے چل کر 2002 اور 2015 کی پالیسیوں کے لیے ایک ایسے Pace setter کا کام کیا جس سے پاکستان آج تک نہیں نکل سکا۔

اصل حقیقت یہ ہے کہ 1994 کی IPP پالیسی نے صرف چند بجلی گھر ہی نہیں بنوائے بلکہ ایک ایسا Template بنایا جس پر آنے والی ہر حکومت دستخط کرتی چلی گئی۔ کسی نے یہ نہیں پوچھا کہ اس Template کے اندر کیپیسٹی پیمنٹ، ڈالر انڈیکسیشن، امپورٹڈ ایندھن، حکومتی گارنٹی اور Take or Pay جیسی شرائط کا بوجھ آخر عوام کب تک اٹھائیں گے۔

1994 میں جب ملک لوڈ شیڈنگ کے شدید بحران کا شکار تھا تو بیوروکریسی نے اس کا فوری اور آسان حل (Quick Fix) یہ نکالا کہ نجی سرمایہ کاروں کو تقریباً ہر وہ شرط دے دی جائے جو وہ مانگ رہے تھے۔ مقصد یہ تھا کہ بجلی جلدی آئے، حکومت خوش ہو جائے اور بحران وقتی طور پر دب جائے۔

لیکن اسی جلد بازی میں بجلی کے معاہدوں کا ایک ایسا فارمولا بنا دیا گیا جس نے آنے والے 40, 50 سال کے لیے پاکستان کے پاور سیکٹر کو یوں جکڑ دیا کہ بجلی خریدی جائے یا نہ خریدی جائے، پلانٹ چلے یا بند رہے، ڈالر اوپر جائے یا روپیہ گرے، عوام کو کیپیسٹی پیمنٹ دینی ہی دینی ہے۔

یہی وہ بنیادی غلطی تھی جسے بعد کی حکومتوں نے بھی درست کرنے کے بجائے Standard Bankable Model کا نام دے کر قبول کر لیا۔ حکومت، نیپرا، CPPA، وزارت پانی و بجلی اور پالیسی ساز ادارے اسی Template کو بار بار استعمال کرتے رہے۔ یوں غلطی ایک بار نہیں ہوئی بلکہ اسے مسلسل دہرایا گیا۔

جب بھی کسی نئی حکومت کے سامنے یہ سوال آیا کہ کیپیسٹی پیمنٹ، ڈالر انڈیکسیشن یا حکومتی گارنٹی کیوں دی جائے تو اسے یہی جواب دیا گیا کہ سرمایہ کاری اسی صورت آئے گی، بینک فنانسنگ اسی ماڈل پر ملے گی اور دنیا بھر میں یہی طریقہ Bankable Structure سمجھا جاتا ہے۔ یعنی پہلے غلط بنیاد رکھی گئی، پھر اسی غلطی کو عالمی اصول کا نام دے کر معمول بنا دیا گیا۔

اصل مسئلہ صرف پالیسی انجینئرنگ نہیں تھا بلکہ پاور سیکٹر پر ایک مخصوص مفادات کی سوچ کا قبضہ تھا جس میں Demand Risk، Currency Risk اور Capacity Risk سب ریاست اور عوام پر ڈال دیے گئے اور سرمایہ کار کو تقریباً Risk Free منافع دیا گیا۔ کہ عوام بجلی استعمال کریں یا نہ کریں، بجلی گھر چلیں یا بند رہیں، ان کو ادائیگی عوام کے بلوں سے ہوتی رہے گی۔

پاکستان کے موجودہ معاشی بحران اور گردشی قرضے Circular Debt کی جڑیں سیاسی فیصلوں میں نہیں بلکہ دہائیوں پرانی بیوروکریٹک اور ٹیکنوکریٹک انجینئرنگ میں پیوست ہیں۔ جب ہم گہرائی میں جا کر دستاویزی حقائق کو دیکھتے ہیں تو یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ سیاست دان ہمیشہ Front Face رہتے ہیں جبکہ اصل بساط بیوروکریٹک اور ٹیکنوکریٹک ذہنوں نے بچھائی ہوتی ہے۔

اس بیوروکریٹک مائنڈ سیٹ کے تین ایسے پہلو ہیں جو اس بحران کو مستقل بنانے کے ذمہ دار ہیں۔

1۔ شارٹ ٹرم فکس اور مستقبل سے آنکھیں چرانا

1994 میں جب ملک لوڈ شیڈنگ کے شدید بحران کا شکار تھا تو بیوروکریسی کے پاس ایک بہتر راستہ موجود تھا۔ وہ حکومت کو یہ مشورہ دے سکتی تھی کہ پاکستان اپنے قدرتی وسائل کی بنیاد پر بجلی پیدا کرنے کی سمت جائے۔ پانی سے بجلی بنانے کے نظام کو مزید مضبوط کیا جاتا، واپڈا کے جاری منصوبوں کو رفتار دی جاتی، سولر پاور کے لیے پالیسی بنائی جاتی، ونڈ انرجی کے راستے کھولے جاتے اور مقامی وسائل پر مبنی ایک پائیدار توانائی ڈھانچہ کھڑا کیا جاتا۔

یہ کوئی ناممکن کام نہیں تھا۔ سولر منصوبے نسبتاً کم مدت میں لگ سکتے تھے، ہوا سے بجلی پیدا کرنے کے لیے سندھ اور بلوچستان کے کئی علاقے قدرتی طور پر موزوں تھے اور پانی سے بجلی پیدا کرنے کا تجربہ پاکستان کے پاس پہلے سے موجود تھا۔ یعنی راستہ موجود تھا، وسائل موجود تھے، ادارہ موجود تھا، مگر فیصلہ کرنے والوں کے اندر نہ دور اندیشی تھی اور نہ قومی مفاد کو سمجھنے کی سنجیدگی۔

چنانچہ انہوں نے ایک ایسا راستہ اختیار کیا جو دنیا کے کئی حصوں میں پہلے ہی متروک ہوتا جا رہا تھا، یعنی کوئلے، گیس اور امپورٹڈ ایندھن پر چلنے والے مہنگے پلانٹس کی تنصیب، ڈالر سے منسلک معاہدے، اربوں روپے کی لاگت اور ایسی شرائط جن کا بوجھ آنے والی نسلوں نے اٹھانا تھا۔

ہماری نوکر شاہی نے نجی سرمایہ کاروں کو کوئلے، گیس اور امپورٹڈ ایندھن سے چلنے والے پاور پلانٹس لگانے کے لیے تقریباً ہر وہ سہولت اور تحفظ دیا جس کا وہ تقاضا کر رہے تھے۔ 30 سے 35 سال کے طویل معاہدے، روپے کی قدر میں کمی کے خلاف انڈیکسیشن، ایندھن کی فراہمی کی ضمانت، ڈالر سے منسلک ادائیگیاں، آپریشن اینڈ مینٹیننس کے اخراجات اور capacity payments جیسی شرائط نے سرمایہ کاروں کے مفاد کو مکمل تحفظ دیا مگر عوام، صنعت اور قومی معیشت پر پڑنے والے مستقبل کے بوجھ کو نظر انداز کر دیا گیا۔ ریاستی پالیسی کا رخ عوامی مفاد کے بجائے سرمایہ کاروں کی سہولت اور اطمینان کی طرف موڑ دیا گیا۔

2۔ احتساب سے بالاتر بیوروکریٹک بالادستی (Technocratic Immunity)

سیاست دانوں کو الیکشن لڑنا ہوتا ہے، وہ عوام کے سامنے جوابدہ ہوتے ہیں اور اکثر عدالتوں یا احتساب کے شکنجے میں بھی آتے ہیں۔ اس کے برعکس، بیوروکریسی کا یہ مخصوص طبقہ ہمیشہ پسِ پردہ رہ کر پالیسی سازی کے اصل مہروں کو حرکت دیتا ہے۔

سلمان فاروقی ہوں یا ان کے پیش رو دیگر جانشین طاقتور ترین سیکریٹریز، ان کے تیار کردہ مسودوں اور معاہدات پر وفاقی کابینہ اکثر محض رسمی توثیق (Rubber Stamping) کرتی رہی ہے، کیونکہ تکنیکی بریفنگز کا پورا کنٹرول ہمیشہ اسی طبقے کے پاس رہا ہے۔ جب بیوروکریسی کسی مخصوص پالیسی یا غیر ملکی معاہدے کو “ملکی مفاد میں واحد تکنیکی حل” بنا کر پیش کرتی ہے تو سیاسی قیادت کے پاس متبادل تکنیکی مہارت اور آزادانہ تحقیق (Independent Research) نہ ہونے کے باعث اس پر دستخط کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں بچتا۔

3۔ محکموں کی سست الوجودی Institutional Inertia

ہماری سول سروس کا پورا تربیتی نظام افسر کو لکیر کا فقیر اور رسک لینے سے عاری بنا دیتا ہے۔ بیوروکریسی کے ہاں کوئی نیا، تخلیقی یا انقلابی ماڈل تیار کرنے کی صلاحیت کم ہی نظر آتی ہے؛ وہ عموماً پرانے انگریز دور کے یا عالمی بینک کے دیے گئے ٹیمپلیٹس (Templates) پر انحصار کرتی ہے۔

اس مائنڈ سیٹ کا المیہ یہ ہے کہ یہ وزارتِ توانائی یا نیپرا (NEPRA) جیسے ریگولیٹرز کے اندر بیٹھے مقامی ماہرین، انجینئرز اور تھنک ٹینکس کی رائے کو کوئی اہمیت نہیں دیتا۔ بیوروکریسی کو ہمیشہ غیر ملکی فرموں اور آئی ایم ایف/ورلڈ بینک کے کنسلٹنٹس کی تیار کردہ رپورٹس پر اندھا اعتماد ہوتا ہے۔

پاکستان کے پاور سیکٹر کے اسٹریٹجک پلانز، جیسے IGCEP، اور معاہدوں کے مسودے اکثر غیر ملکی کنسلٹنٹس تیار کرتے ہیں، جنہیں پاکستان کی زمینی حقیقت، افراطِ زر کے اتار چڑھاؤ اور غریب عوام کی قوتِ خرید کا مکمل ادراک نہیں ہوتا۔ بیوروکریسی ان پیچیدہ تکنیکی رپورٹس کو بغیر کسی مؤثر فلٹر کے کابینہ سے منظور کروا لیتی ہے۔

اسی طرح ایک بار جب 1994 میں آئی پی پیز کے لیے مراعات کا ایک مخصوص ڈھانچہ کھڑا کر دیا گیا تو بیوروکریسی کے اندر اس سے ہٹ کر سوچنے کی صلاحیت بتدریج ختم ہوتی چلی گئی۔ انہوں نے بجلی کے پورے نظام کو امپورٹڈ ایندھن، ڈالر انڈیکسیشن اور کیپیسٹی پیمنٹ کے مدار کے گرد گھما دیا۔

یہی وجہ ہے کہ جب 2002 اور پھر 2015 میں دوبارہ پالیسیاں بنیں تو وزارت کے اندر موجود اسی پرانے مائنڈ سیٹ نے نئے سرے سے کوئی مقامی اور کم لاگت ماڈل ڈیزائن کرنے کے بجائے پرانی ہی انجینئرنگ کو نئے ناموں کے ساتھ دوبارہ نافذ کر دیا۔

(جاری ہے، باقی اگلی قسط میں)

0
Views
55
5
تمام اقساط پڑھیے

مزید مضامین

قسط نمبر 37

قسط نمبر 37

🔳 یہ پاک چین دوستی نہیں ہے بلکہ دوستی کے نام پر Economic Hitmanship کا کلاسک کیس دکھائی دیتا ہے یعنی ایسا معاشی جال جس میں سستے منصوبے مہنگے کر کے بیچے جائیں، منافع ڈالروں میں وصول کیا جائے اور طویل مدت (جیسا کہ 30 سالہ) مشکوک معاہدوں کے ذریعے کسی ملک کو مالی طور پر جکڑ دیا جائے۔ ( قارئین سے گزارش ہے کہ Economic Hitmanship کی اصطلاح ضرور سمجھیں اس سے یہ پوری کہانی واضح ہو جائے گی۔)

قسط نمبر 36

قسط نمبر 36

🔳 کراچی کے کروڑوں شہری پینے کے صاف پانی کی قلت اور ٹینکر مافیا کے رحم و کرم پر ہیں مگر اسی شہر کے ساحل پر پورٹ قاسم کول پاور پلانٹ کے لیے روزانہ لاکھوں گیلن پانی مہنگے ڈی سیلینیشن اور ڈی منرلائزیشن کے عمل سے گزار کر بوائلرز کو پلایا جا رہا ہے، کیونکہ کھارا پانی پلانٹ کے لیے نقصان دہ ہے۔

قسط نمبر 35

قسط نمبر 35

🔳 ساہیوال کا کوئلے سے بجلی بنانے والا آئی پی پی (پاور پلانٹ) پاکستان کو دنیا کی مہنگی ترین بجلی کے ایک ایسے چکر میں پھنسا چکا ہے، جس سے نکلنا اب ہمارے لیے ایک بڑا قومی چیلنج بن گیا ہے۔

قسط نمبر 34

قسط نمبر 34

🔳 کوئلے کی بجلی
▫️ساہیوال پاور پلانٹ جیسا میگا پراجیکٹ بندرگاہ، پورٹ قاسم، یا تھر کے کوئلے کے ذخائر سے سینکڑوں کلومیٹر دور لگانے کا فیصلہ کس “ماسٹر مائنڈ” نے اور کس بنیاد پر کیا تھا؟

قسط نمبر 33

قسط نمبر 33

🔳 بجلی سبسڈی کے لیے آئی ایم ایف کی نئی شرائط، پاکستان کے کروڑوں شہریوں کی معلومات (ڈیٹا) ایک بیرونی فرم کے سپرد کرنے کا فیصلہ، قومی سلامتی کے لیے نیا سوال؟