️یہ کہنا درست نہیں کہ آئی پی پیز سے ملک یا عوام کو کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ ایک وقت تھا کہ پاکستان شدید بجلی کے بحران سے دوچار تھا۔ روزانہ کئی کئی گھنٹے لوڈشیڈنگ ہوتی تھی، صنعتیں متاثر ہو رہی تھیں، کاروبار بند ہو رہے تھے اور حکومت کے پاس نئے پاور پلانٹس لگانے کے لیے سرمایہ موجود نہیں تھا۔
آئی پی پیز کے ذریعے نجی سرمایہ کاری آئی، تقریباً 3000 میگاواٹ اضافی بجلی نظام میں شامل ہوئی اور ملک کو فوری طور پر بجلی کے شدید بحران سے نکالنے میں مدد ملی۔ اگر اس وقت یہ بجلی نظام میں شامل نہ ہوتی تو صنعتی پیداوار، روزگار اور ملکی معیشت کو اس سے کہیں زیادہ نقصان پہنچ سکتا تھا۔
انہوں نے کہا:
آپ کو 1994 کے فیصلے کو آج کے حالات سے نہیں بلکہ اس وقت کی ضرورت کے مطابق دیکھنا ہوگا۔ اس وقت اصل سوال یہ تھا کہ بجلی کہاں سے آئے گی اور کتنی جلدی آئے گی۔ حکومت کے پاس پیسہ نہیں تھا، واپڈا نئے منصوبے لگانے کی پوزیشن میں نہیں تھا اور ملک مزید کئی سال انتظار نہیں کر سکتا تھا۔ آئی پی پیز نے اس خلا کو پُر کیا۔
شاہد حسن خان کے مطابق خرابی آئی پی پی ماڈل کے ابتدائی اور محدود استعمال میں نہیں تھی۔
اس وقت مقصد صرف بجلی کی فوری کمی پوری کرنا تھا۔
اصل مسئلہ بعد میں پیدا ہوا جب ضرورت کا درست اندازہ کیے بغیر 100 سے زائد آئی پی پیز لگائے گئے۔
بجلی کی طلب، ٹرانسمیشن کی صلاحیت اور تقسیم کے نظام کو ساتھ نہیں بڑھایا گیا۔
نتیجتاً پیداوار کی صلاحیت تو بڑھتی گئی مگر نظام اسے سنبھالنے کے قابل نہ رہا۔
یوں ایک محدود ضرورت کے لیے بنایا گیا ماڈل بعد میں آنے والی حکومتوں کی ناقص منصوبہ بندی کے باعث پورے بجلی کے نظام کا مسئلہ بن گیا۔
شاہد حسن خان کے مطابق مسئلہ آئی پی پی ماڈل کے ابتدائی اور محدود استعمال میں نہیں تھا، بلکہ بعد میں اسے ضرورت اور منصوبہ بندی کے بغیر ان گنت پاور پلانٹس لگانے میں تھا۔
انہوں نے کہا:
ہم نے یہ نہیں کہا تھا کہ ہر آنے والی حکومت اسی ماڈل کے تحت نئے پاور پلانٹس لگاتی چلی جائے۔ ہماری سفارش ایک مخصوص بحران کے لیے محدود مقدار میں بجلی حاصل کرنے اور محدود آئی پی پیز لگانے کی تھی۔ بعد میں بجلی کی حقیقی طلب، ٹرانسمیشن سسٹم کی صلاحیت، ایندھن کی قیمت، روپے کی قدر اور صارف کی استطاعت کو دیکھتے ہوئے فیصلے ہونے چاہییں تھے۔ جو نہیں کیے گئے۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر بعد کی حکومتیں بجلی کی طلب کے مطابق منصوبہ بندی کرتیں، ٹرانسمیشن اور ڈسٹری بیوشن نظام کو پیداواری صلاحیت کے ساتھ ساتھ بہتر بناتیں، لائن لاسز اور بجلی کی چوری پر قابو پاتیں اور بتدریج پن بجلی اور دوسرے مقامی ذرائع کی طرف جاتیں تو آج صورت حال مختلف ہو سکتی تھی۔
پاکستان میں تقریباً 45,000 میگاواٹ سے زیادہ بجلی پیدا کرنے کی نصب شدہ صلاحیت تو قائم کر دی گئی، لیکن ملک کے مختلف حصوں میں ٹرانسمیشن لائنوں، گرڈ اسٹیشنز اور ڈسٹری بیوشن نظام کی صلاحیت اسی تناسب سے نہیں بڑھائی گئی۔ نتیجہ یہ ہے کہ بجلی گھر موجود ہونے کے باوجود ان کی پوری پیداوار ہر وقت صارفین تک نہیں پہنچائی جا سکتی۔
یہ بالکل ایسا ہی ہے جیسے دیہی علاقوں میں بڑے پیمانے پر ڈیری فارمز قائم کرکے لاکھوں لیٹر دودھ پیدا کر لیا جائے، مگر اسے فارم سے فیکٹری اور پھر فیکٹری سے صارفین تک پہنچانے کے لیے مطلوبہ گاڑیاں، کولڈ اسٹوریج اور تقسیم کا نظام موجود نہ ہو۔ ایسی صورت میں دودھ کی پیداوار بڑھانے کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا اور اس کا ایک بڑا حصہ ضائع ہو جائے گا۔ اسی طرح بجلی پیدا کرنا کافی نہیں، اسے محفوظ اور مؤثر طریقے سے صارف تک پہنچانے کے لیے مضبوط ٹرانسمیشن اور ڈسٹری بیوشن نظام بھی ضروری ہے۔
انہوں نے مزید کہا:
لوڈشیڈنگ صرف بجلی کی مجموعی پیداواری صلاحیت کم ہونے کی وجہ سے نہیں ہوتی۔ بعض اوقات ایندھن دستیاب نہیں ہوتا، بعض پلانٹس تکنیکی خرابی کے باعث بند ہوتے ہیں، ٹرانسمیشن لائنیں بجلی منتقل نہیں کر سکتیں، ڈسٹری بیوشن کمپنیاں مطلوبہ وصولیاں نہیں کر پاتیں اور گردشی قرضے کے باعث ادائیگیوں کا سلسلہ رک جاتا ہے۔ ایسے میں ملک میں پاور پلانٹس موجود ہونے کے باوجود صارف تک بجلی نہیں پہنچتی۔
شاہد حسن خان کا کہنا تھا کہ آج عوام پر بجلی کے بھاری بلوں اور مختلف ٹیکسوں اور چارجز کا جو بوجھ ہے، اسے صرف 1994 کی پاور پالیسی سے منسوب کرنا درست نہیں۔
ان کے مطابق یہ صورت حال کئی دہائیوں کی ناقص منصوبہ بندی، ضرورت سے زیادہ آئی پی پیز (IPPs) لگانے، غیر متوازن معاہدوں، روپے کی قدر میں شدید کمی، درآمدی ایندھن پر مسلسل انحصار، بجلی چوری، لائن لاسز، کمزور وصولیوں اور سیاسی فیصلوں کا مجموعی نتیجہ ہے۔
انہوں نے کہا:
آئی پی پیز کا فائدہ یہ تھا کہ انہوں نے ایک ایسے وقت میں پاکستان کو فوری بجلی فراہم کی جب ریاست خود نئے منصوبے لگانے کی مالی صلاحیت نہیں رکھتی تھی۔ نقصان وہاں سے شروع ہوا جہاں ایک ہنگامی اور محدود حل کو مستقل نظام بنا دیا گیا اور اس کے ساتھ ضروری اصلاحات نہیں کی گئیں۔
(شاہد حسن خان کے مؤقف کا خلاصہ یہ ہے کہ آئی پی پی ماڈل نے ابتدائی طور پر ملک کو بجلی کے شدید بحران سے نکالنے میں اہم کردار ادا کیا، لیکن بعد میں ضرورت سے زیادہ پاور پلانٹس لگانے اور پاور سیکٹر میں بنیادی اصلاحات نہ ہونے کے باعث یہی نظام عوام کے لیے مہنگی بجلی اور کیپیسٹی پیمنٹس کے سنگین بحران میں تبدیل ہوگیا۔)
Great work sir, Thanks for sharing this informative article.
Very informative
Great work