پالیسی کے عملی نفاذ کے مرکزی بیوروکریٹ۔ انتظامی طاقت اور ریاستی مشینری ان کے ذریعے چل رہی تھی۔
وزارتِ پانی و بجلی کے سیکرٹری کی حیثیت سے سلمان فاروقی نے 1994 کی پاور پالیسی پر عمل درآمد میں مرکزی انتظامی کردار ادا کیا۔ وہ پاکستان کی انتظامی تاریخ کے بااثر ترین بیوروکریٹس میں شمار ہوتے ہیں۔
3۔ ایڈیشنل سیکرٹری پٹرولیم
Ministry of Petroleum and Natural Resources
نوٹ: اصل نوٹیفکیشن میں یہاں نام نہیں، صرف عہدہ درج ہے۔
لیکن ریکارڈ کے مطابق اکتوبر 1993ء میں ٹاسک فورس کے قیام کے وقت سید نصیر احمد وزارتِ پٹرولیم و قدرتی وسائل کے ایڈیشنل سیکرٹری انچارج تھے۔
ان کا کردار دو حوالوں سے اہم تھا: نجی پاور پلانٹس کے لیے فرنس آئل یا گیس کی فراہمی یقینی بنانا اور بجلی کے ٹیرف میں فیول انڈیکسیشن (Fuel Indexation) کے طریقۂ کار کی تیاری اور منظوری میں کردار ادا کرنا۔
4۔ چیئرمین واپڈا
نوٹ: اصل نوٹیفکیشن میں یہاں بھی نام درج نہیں، صرف عہدہ درج ہے۔
لیکن رپورٹ کے Annexure 1.2 میں Chairman WAPDA کے طور پر ممتاز حمید کا نام درج ہے۔
واپڈا کے چیئرمین کی حیثیت سے ممتاز حمید نے نجی پاور پلانٹس کے ساتھ پاور پرچیز ایگریمنٹس (PPAs) کے فریم ورک، ٹیک یا پے (Take or Pay) ماڈل اور قومی گرڈ کی اضافی بجلی سنبھالنے کی صلاحیت کے جائزے میں اہم کردار ادا کیا۔
5۔ ڈاکٹر گلفراز احمد
چیئرمین او جی ڈی سی
ان کا بنیادی کردار او جی ڈی سی کے چیئرمین کی حیثیت سے مقامی تیل و گیس کے ذخائر، گیس کی دستیابی اور نجی پاور پلانٹس کے لیے ممکنہ فیول سپلائی کے بارے میں تکنیکی مشاورت فراہم کرنا تھا۔ وہ ٹیرف یا پاور پرچیز معاہدوں کے براہِ راست ذمہ دار نہیں تھے۔
ڈاکٹر گلفراز احمد بعد میں نیپرا (NEPRA) کے بانی چیئرمین مقرر ہوئے اور پاکستان کے پاور سیکٹر کی ریگولیٹری پالیسی کی تشکیل میں اہم کردار ادا کیا۔ ان کی تقرری سے ظاہر ہوتا ہے کہ ٹاسک فورس کے اراکین کو بعد میں پالیسیوں پر عمل درآمد کے لیے بھی اہم ترین عہدے دیے گئے۔
6۔ اشفاق محمود، سینئر چیف انرجی، پلاننگ کمیشن
لانگ ٹرم انرجی پلاننگ کے ذمہ دار۔
انہوں نے طے کیا کہ پاکستان کو کتنی بجلی چاہیے اور کس ذریعے سے۔
اشفاق محمود اس ٹاسک فورس کے اہم ترین ٹیکنوکریٹس میں سے ایک تھے، جو بعد میں سیکرٹری پانی و بجلی کے اعلیٰ عہدے تک بھی پہنچے۔
بحیثیت سینئر چیف انرجی، ان کا کام یہ دیکھنا تھا کہ نجی شعبے کو دی جانے والی مراعات پاکستان کے پانی و بجلی کے پانچ سالہ ترقیاتی منصوبوں کے مطابق ہیں یا نہیں۔
انہوں نے اس بات کا فریم ورک تیار کرنے میں کردار ادا کیا کہ ملک کو اگلے 5 سے 10 سال میں کتنے میگاواٹ بجلی درکار ہوگی اور اس میں پن بجلی (Hydropower) اور ایندھن سے پیدا ہونے والی بجلی (Thermal Power) کا تناسب کیا ہونا چاہیے۔ واضح رہے کہ ہائیڈل (سرکاری) اور تھرمل (نجی) سمجھی جاتی ہے۔
7۔ ڈائریکٹر جنرل، پٹرولیم کنسیشنز
Director General, Petroleum Concessions
معاصر صنعتی ریکارڈز کے مطابق 1994 میں یہ عہدہ شاہد احمد کے پاس تھا، اگرچہ سرکاری پالیسی دستاویز میں صرف عہدہ درج ہے۔
انہوں نے آئی پی پیز کے لیے گیس اور فرنس آئل کی فراہمی، درآمد اور پٹرولیم کنسیشنز کے قانونی فریم ورک کو پاور پالیسی سے جوڑنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔
یہ عہدہ اس لیے اہم تھا کہ تیل و گیس کی تلاش اور نجی کمپنیوں کو بلاکس الاٹ کرنے کے معاملات اسی کے دائرۂ اختیار میں آتے تھے۔
8۔ زاہد مظفر (فنانشل ایکسپرٹ)
بین الاقوامی سرمایہ کاری کے ماہر۔
ڈالر انڈیکسیشن اور Return on Equity جیسے حساس فارمولے انہی کے دائرۂ کار میں آئے۔
زاہد مظفر آئل اینڈ گیس سیکٹر کے ایک انتہائی منجھے ہوئے فنانشل ایکسپرٹ اور انٹرنیشنل بزنس ڈویلپر تھے۔ بعد کے سالوں میں وہ او جی ڈی سی ایل کے چیئرمین اور وزارتِ پٹرولیم کے مشیر بھی رہے۔
ٹاسک فورس میں ان کی شمولیت کا بنیادی مقصد انٹرنیشنل فنانسنگ کا راستہ کھولنا تھا۔ وہ نجی شعبے اور بین الاقوامی مالیاتی اداروں، جیسے اوپیک اور آئی ایف سی، کے مابین فنانشل ماڈلنگ کو سمجھتے تھے اور ممکنہ طور پر انہوں نے ٹیرف کی ڈالر انڈیکسیشن اور سرمایہ کاروں کے منافع (Return on Equity) کے فارمولے کو بین الاقوامی سرمایہ کاری کے معیار کے مطابق ڈھالنے میں مدد کی۔
9۔ ایم آر زبیری
ایگزیکٹو وائس پریزیڈنٹ، کریسنٹ گروپ
انہوں نے تجویز کیا کہ پاکستانی نجی شعبہ کن شرائط پر اس ماڈل میں آئے گا۔
روایتی بیوروکریسی سے ہٹ کر شاہد حسن خان نے پاکستان کے بڑے نجی کاروباری گروپس کو بھی میز پر بٹھایا تاکہ وہ بتا سکیں کہ پاکستانی صنعت کار اور سرمایہ کار اس پالیسی سے کیا توقع رکھتے ہیں۔
کریسنٹ گروپ اس دور میں ٹیکسٹائل، فنانس اور انرجی کے شعبوں میں ایک بڑا نام تھا۔ ایم آر زبیری نے بحیثیت کارپوریٹ ایگزیکٹو اس بات کی نشاندہی کی کہ مقامی نجی شعبے کو بینکوں سے قرضے لینے (Debt to Equity Ratio) اور مقامی سطح پر فنڈز اکٹھے کرنے میں کن انتظامی رکاوٹوں کا سامنا ہے، جنہیں دور کرنا پالیسی کی کامیابی کے لیے ضروری تھا۔
10۔ ڈاکٹر اے رزاق داؤد
مینیجنگ ڈائریکٹر، ڈیسکون انجینئرنگ پرائیویٹ لمیٹڈ
ڈیسکون (Descon) کے سربراہ کی حیثیت سے انہوں نے نجی شعبے، خصوصاً انجینئرنگ اور تعمیرات، کی نمائندگی کی۔ بعد میں وہ مختلف حکومتوں میں وفاقی وزیر اور مشیرِ تجارت و سرمایہ کاری بھی رہے۔
11۔ تنویر اظہر
جنرل مینیجر، نیسپاک
بعد میں پاور پرچیز انفراسٹرکچر بورڈ (PPIB) کے پہلے سربراہ بنے، یعنی پالیسی بنانے کے بعد اس پر عمل درآمد بھی انہی کے سپرد ہوا۔
تنویر اظہر نیسپاک کے جنرل منیجر کی سطح تک پہنچنے والے ممتاز الیکٹریکل انجینئر اور توانائی کے ماہر تھے۔ انہوں نے 1991 میں پاکستان کے توانائی کے شعبے پر اہم کتاب The Quest for Power: Pakistan Policy Options for the Nineties لکھی۔ شاہد حسن خان نے انہیں ٹاسک فورس آن انرجی میں شامل کیا، جہاں انہوں نے نئی نجی بجلی پالیسی کی تیاری میں اہم کردار ادا کیا۔ بعد ازاں وہ پرائیویٹ پاور اینڈ انفراسٹرکچر بورڈ (PPIB) کے پہلے ڈائریکٹر جنرل مقرر ہوئے۔ شاہد حسن خان انہیں توانائی کے شعبے کا غیر معمولی ماہر سمجھتے تھے اور انہوں نے مجھے بھی ان کی یہ کتاب لازماً پڑھنے کا مشورہ دیا۔
12۔ داؤد بیگ
ممبر سیکرٹری، ٹاسک فورس
وزارتِ پانی و بجلی میں ایڈیشنل سیکرٹری پاور تھے۔ ٹاسک فورس کے ممبر سیکرٹری کی حیثیت سے اجلاسوں کا انعقاد، اراکین اور ورکنگ گروپس کے درمیان کوآرڈینیشن (Coordination) اور مختلف تکنیکی سفارشات کو یکجا کرکے حتمی رپورٹ کی تدوین و ترتیب میں اہم کردار ادا کیا۔
🔘 سب کمیٹیاں (Sub-Committees)
اس ٹاسک فورس کو مزید تین بڑی ٹیکنیکل کمیٹیوں میں تقسیم کیا گیا تھا تاکہ کام 6 ہفتوں کی ڈیڈ لائن میں مکمل ہو سکے:
1۔ پاور سب کمیٹی (Power Sub-Committee)
2۔ پرائیویٹ سیکٹر پارٹیسپیشن کمیٹی (Private Sector Participation Committee)
3۔ آئل اینڈ گیس سب کمیٹی (Oil & Gas Sub-Committee)
ان کمیٹیوں میں ورلڈ بینک (World Bank) اور ایشیائی ترقیاتی بینک (ADB) کے نمائندوں کو بھی بطور مبصر اور مشیر شامل کیا گیا تھا تاکہ فنانسنگ ماڈل کو بین الاقوامی بینکوں کے لیے “بینک ایبل” (Bankable) بنایا جا سکے، جس کا نتیجہ اسی امپورٹڈ فیول ماڈل کی صورت میں نکلا۔
ہر سب کمیٹی کے نمایاں ممبران کے نام یہ ہیں:
Very informative