Home

کیا بجلی کی تقسیم میں سرکاری اجارہ داری ختم ہ...

🔳 پاکستان کے پاور سیکٹر میں بڑی پیش رفت، نیپرا نے ’ڈی ایچ اے انرجی‘ کو ڈسٹری بیوشن لائسنس جاری کر دیا۔
ڈی ایچ اے انرجی کو پاکستان میں لائسنس یافتہ نجی بجلی کی ڈسٹری بیوشن کمپنیوں کے نئے ماڈل کا آغاز تصور کیا جا رہا ہے
یہ لائسنس بجلی کی تقسیم کے شعبے میں نجی ڈسٹری بیوشن کمپنیوں (Micro-DISCOs) کے تصور کو عملی شکل دینے کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے۔
اگر یہ ماڈل کامیاب ہو گیا تو ملک کے دیگر بڑے پرائیویٹ ڈویلپرز، انڈسٹریل اسٹیٹس (مثلاً Sundar Industrial Estate) اور بڑے کمرشل زونز بھی اپنے لائسنس حاصل کر کے سرکاری ڈسکوز پر انحصار نمایاں حد تک کم کر سکتے ہیں۔ جس سے قومی سطح پر مقابلے کا ماحول بنے گا۔
نیپرا کے اس اقدام سے امید پیدا ہوئی ہے کہ نجی ڈسٹری بیوشن کمپنیوں کے آنے سے بجلی کی خریداری بڑھے گی، لائن لاسز کم ہوں گے اور عوام کے بلوں پر کیپیسٹی چارجز، ریٹرن آن ایکویٹی (ROE) اور آئی پی پیز کی ادائیگیوں کا بوجھ بھی کم ہو سکے گا۔ اگر اس نوعیت کی مزید کمپنیاں مختلف علاقوں اور شعبوں میں آتی ہیں تو عوام کو بجلی کے بلوں میں خاصا ریلیف مل سکتا ہے۔🦋روشن کہیں بہار کے امکاں ہوئے تو ہیں۔
عوامی تحقیقاتی سلسلہ | قسط 44
موضوع: پاکستان کا بجلی کا نظام کیسے ٹھیک ہوگا؟
عنوان: کیا بجلی کی تقسیم میں سرکاری اجارہ داری ختم ہونے جا رہی ہے؟
🔺 جب ادارے حقائق کی فراہمی سے گریزاں ہوں تو سچ تک پہنچنے کی کوشش عوامی ذمہ داری بن جاتی ہے۔
تحریر و تحقیق: سید شایان
پاکستان کے پاور سیکٹر اور بجلی کی تقسیم کے روایتی نظام میں ایک اہم تبدیلی سامنے آئی ہے۔ نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (NEPRA) اسلام آباد نے ’ڈی ایچ اے انرجی سپلائی کمپنی (پرائیویٹ) لمیٹڈ‘ کو ملک میں بجلی کی تقسیم (Power Distribution) کا باضابطہ لائسنس جاری کر دیا ہے۔
نیپرا کی جانب سے 24 جولائی 2026 کو جاری کردہ لائسنس (نمبر: DL/11/2026) کے تحت یہ نئی کمپنی اگلے 20 سال، یعنی 30 ستمبر 2046 تک، اپنے مقررہ سروس ایریا میں بجلی کی ڈسٹری بیوشن اور سپلائی کے لیے قانونی طور پر مجاز ہوگی۔
ڈی ایچ اے انرجی، کمپنیز آرڈیننس 1984/کمپنیز ایکٹ 2017 کے تحت 2 مارچ 2017 سے رجسٹرڈ ہے، جس کا کارپوریشن نمبر 0106300 ہے۔اور اسے یہ لائسنس نیپرا ایکٹ 1997 کی دفعات 20 اور 21 کے تحت جاری کیا گیا ہے۔
یہ لائسنس غیر اجارہ دارانہ (Non-Exclusive) بنیادوں پر جاری کیا گیا ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ متعلقہ علاقوں میں روایتی سرکاری ڈسکوز، جیسے لیسکو یا کے الیکٹرک، کا اجارہ دارانہ حق برقرار نہیں رہے گا اور بجلی کی تقسیم کے شعبے میں مسابقت کی فضا پیدا ہوگی۔ اس اقدام سے من مانی، ناقص کارکردگی اور روایتی اجارہ داری کے خاتمے میں مدد ملے گی، جبکہ صارفین کو بہتر اور زیادہ مؤثر خدمات میسر آنے کی توقع ہے۔
یہ لائسنس نیپرا کی ان وسیع اصلاحات سے ہم آہنگ ہے جو CTBCM فریم ورک کے تحت بجلی کی مارکیٹ کو مرحلہ وار زیادہ مسابقتی بنانے کے لیے متعارف کرائی جا رہی ہیں۔
یہ لائسنس جاری کرنا دراصل نیپرا کے نئے مسابقتی نظام CTBCM کا حصہ ہے۔ CTBCM کا بنیادی مقصد موجودہ بجلی کے نیٹ ورک کو برقرار رکھتے ہوئے بجلی کی خرید و فروخت میں مرحلہ وار مقابلے (Competition) کا ماحول پیدا کرنا ہے۔ اس نظام کے تحت اہل بڑے صارفین (Bulk Power Consumers)، یعنی 1 میگاواٹ یا اس سے زیادہ لوڈ رکھنے والی بڑی صنعتیں، انڈسٹریل یونٹس، ڈیٹا سینٹرز، بڑے کمرشل کمپلیکس اور ایسی ہاؤسنگ اسکیمیں جو ایک ہی کنکشن یا مقام پر بڑی مقدار میں بجلی حاصل کرتی ہیں، مستقبل میں صرف اپنی مقامی ڈسٹری بیوشن کمپنی سے بجلی خریدنے کے پابند نہیں رہیں گے۔ وہ نیپرا کے قواعد کے مطابق کسی منظور شدہ سپلائر سے بھی بجلی خریدنے کا معاہدہ کر سکیں گے، جبکہ بجلی موجودہ تاروں، کھمبوں اور نیٹ ورک کے ذریعے ہی ان تک پہنچے گی۔
پاکستان میں بجلی کی تقسیم کا نظام طویل عرصے سے وفاقی حکومت کی 10 سرکاری ڈسٹری بیوشن کمپنیوں اور کراچی میں کے الیکٹرک تک محدود رہا ہے۔ تاہم بڑھتے ہوئے لائن لاسز، بجلی چوری، ناقص بلنگ اور کمزور ریکوری نے یہ واضح کر دیا ہے کہ موجودہ نظام میں بنیادی اصلاحات کی ضرورت ہے۔
اسی پس منظر میں نیپرا کی جانب سے ڈی ایچ اے انرجی سپلائی کمپنی کو بجلی کی تقسیم کا لائسنس جاری کیا جانا ایک اہم اور خوش آئند پیش رفت ہے۔ یہ فیصلہ اس روایتی اجارہ دارانہ نظام میں تبدیلی کی ابتدا ہے جس میں نجی شعبے کو بجلی کی تقسیم میں مؤثر کردار ادا کرنے کا موقع نہیں ملتا تھا۔
ہمارے تھنک ٹینک کی سفارشات میں بھی یہ تجویز شامل ہے کہ سرکاری ڈسکوز کی اجارہ داری مرحلہ وار ختم کی جائے اور نجی کمپنیوں کو محدود اور واضح علاقوں میں بجلی کی تقسیم، بلنگ اور ریکوری کی ذمہ داری دی جائے۔ چھوٹے سروس ایریاز میں کام کرنے والی کمپنیاں بجلی چوری اور لائن لاسز پر بہتر قابو پا سکتی ہیں اور صارفین کو زیادہ معیاری خدمات فراہم کر سکتی ہیں۔
ملک میں 100 سے زائد آئی پی پیز کی تنصیب کے بعد اصل ضرورت یہ ہے کہ موجودہ بجلی کو بہتر، شفاف اور مؤثر نظام کے ذریعے صارفین تک پہنچایا جائے۔ ڈسٹری بیوشن کے شعبے کو نجی کمپنیوں کے لیے کھولنا اسی اصلاحاتی عمل کا ایک اہم اور مثبت قدم ہے۔
نیپرا کے نئے مارکیٹ ماڈل CTBCM یعنی
‏(Competitive Trading Bilateral Contract Market)
فریم ورک کا بنیادی مقصد بجلی کے شعبے سے اجارہ داری (Monopoly) کا خاتمہ ہے، تاکہ خریداروں اور سوسائٹیوں کو مستقبل میں اپنی مرضی کا سپلائر اور ڈسٹری بیوٹر منتخب کرنے کا اختیار مل سکے۔ ڈی ایچ اے انرجی کو ڈسٹری بیوشن لائسنس کا اجرا اسی اصلاحاتی پالیسی کی ایک اہم کڑی ہے۔
اس سے قبل بھی مختلف ہاؤسنگ اسکیمیں اپنے علاقوں میں بجلی کا نظام سنبھالتی رہی ہیں، تاہم ڈی ایچ اے کا باضابطہ طور پر نیپرا کے تحت لائسنس یافتہ کمپنی کے طور پر سامنے آنا اس بات کا اشارہ ہے کہ اب بڑے ڈویلپرز روایتی سرکاری ڈسکوز پر انحصار کے بجائے خود ’مائیکرو ڈسکو‘ یا پرائیویٹ ڈسٹری بیوٹر کے طور پر کام کرنے کو ترجیح دے رہے ہیں۔
تاہم اس تبدیلی کا ایک دوسرا پہلو بھی ہے۔ اگر بلوں کی تقریباً 100 فیصد ادائیگی کرنے والے اور زیادہ بجلی استعمال کرنے والے کمرشل و رہائشی علاقے روایتی ڈسکوز کے نیٹ ورک سے نکل کر اپنی نجی ڈسٹری بیوشن کمپنیوں کے تحت آ جاتے ہیں تو لیسکو، فیسکو، آئسکو اور کے الیکٹرک جیسی بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کے ریونیو بیس پر اثر پڑ سکتا ہے۔
اس لیے ضروری ہوگا کہ اس تبدیلی کو مرحلہ وار اور ایک واضح ریگولیٹری فریم ورک کے تحت آگے بڑھایا جائے۔
اس پیش رفت کے بعد دیگر بڑے نجی ہاؤسنگ ڈویلپرز، کمرشل منصوبوں اور انڈسٹریل پارکس کی جانب سے بھی نیپرا سے اپنے مستقل ڈسٹری بیوشن لائسنس حاصل کرنے کے رجحان میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ اس طرح بجلی کی تقسیم کے شعبے میں مقابلہ بڑھے گا اور روایتی اجارہ داری کے خاتمے کی راہ ہموار ہوگی۔
اس نئی تبدیلی کو سمجھنے کے لیے پہلے اجارہ داری اور مسابقتی نظام کا فرق جاننا ضروری ہے۔ قارئین کی معلومات میں اضافے کے لیے میں مختصراً یہ وضاحت کرتا چلوں کہ پرانے نظام میں کسی بھی علاقے میں بجلی کی تقسیم کا اختیار صرف ایک کمپنی کے پاس ہوتا تھا۔ صارف کے پاس کوئی دوسرا متبادل نہیں ہوتا تھا۔ اس نظام کو اجارہ داری (Monopoly) کہا جاتا ہے۔
اب اس کے مقابلے میں نیا مسابقتی نظام (Competitive System) متعارف کرایا جا رہا ہے، جس میں دوسری لائسنس یافتہ کمپنیوں کو بھی بجلی کی تقسیم کے شعبے میں کام کرنے کا موقع ملے گا۔ اس سے کمپنیوں کے درمیان بہتر سروس، درست بلنگ، فوری فالٹ ریکوری اور جدید سہولتیں فراہم کرنے کا مقابلہ پیدا ہوگا۔
سادہ الفاظ میں، اجارہ داری میں صرف ایک کمپنی ہوتی ہے، جبکہ مسابقتی نظام میں ایک سے زیادہ کمپنیوں کے لیے کام کرنے کا راستہ کھل جاتا ہے۔
(جاری ہے، باقی اگلی قسط میں)
0
Views
99
11
تمام اقساط پڑھیے

مزید مضامین

قسط نمبر 43

🔳 آئی پی پی معاہدوں کی اصل شرائط تقریباً 25 سال تک عوام سے چھپائی گئیں۔

قسط نمبر 42

شاہد حسن خان کی سربراہی میں قائم اس ٹاسک فورس کے اراکین کے نام، جنہوں نے پاکستان میں نجی شعبے کے ذریعے بجلی کی پیداوار (IPPs) کی بنیاد رکھی، جس نے آنے والے وقتوں میں ملک کے پورے معاشی اور توانائی کے منظرنامے کو بدل کر رکھ دیا۔

قسط نمبر 41

🔳 پاکستان میں آئی پی پیز (IPPs) کے تصور کے خالق اور ابتدائی آئی پی پی معاہدوں کی شرائط تیار کرنے والے شاہد حسن خان سے انٹرویو (پارٹ تھری)

قسط نمبر 40

🔳 پاکستان میں آئی پی پیز (IPPs) لگانے کے تصور کے خالق شاہد حسن خان سے ایک انٹرویو

قسط نمبر 39

🔳طویل عرصہ پس منظر میں رہنے والے، پاکستان کی 1994 کی پاور پالیسی کے خالق (Architect) اور ملک میں نجی بجلی گھروں (IPPs) کے موجودہ ماڈل کی بنیاد رکھنے والے شاہد حسن خان سے میری ایک ڈرامائی ملاقات