Home

پاکستان کے پاور اور توانائی کے شعبے پر کتنے ق...

🔳 قرضے اور واجبات
پاکستان کے پاور اور توانائی کے شعبے پر قرضے اور مالی واجبات تقریباً 38.81 بلین ڈالر، یعنی تقریباً 107 کھرب 77 ارب روپے تک جا پہنچے ہیں ۔
عوامی تحقیقاتی سلسلہ | قسط 45
موضوع: پاکستان کا بجلی کا نظام کیسے ٹھیک ہوگا؟
عنوان: پاکستان کے پاور اور توانائی کے شعبے پر کتنے قرضے اور مالی واجبات ہیں؟ حقیقت کیا ہے؟
🔺 جب ادارے حقائق کی فراہمی سے گریزاں ہوں تو سچ تک پہنچنے کی کوشش عوامی ذمہ داری بن جاتی ہے۔
تحریر و تحقیق: سید شایان
اس قسط میں ہم واضح کریں گے کہ پاکستان کے پاور اور توانائی کے شعبے پر مختلف ممالک کے کتنے قرضے اور واجبات ہیں، ان رقوم کی اصل نوعیت کیا ہے، کون سی رقم باقاعدہ قرض ہے، کون سی رقم واجب الادا بقایا ہے، اور کن معاملات میں جرمانوں یا دیگر ادائیگیوں کا سامنا ہے۔
یہ تمام قرضے اور واجبات ایک ہی نوعیت کے نہیں ہیں۔ بعض رقوم باقاعدہ قرض ہیں، بعض بجلی، تیل یا گیس کی قیمت کے بقایاجات ہیں، جبکہ بعض ممکنہ جرمانوں یا قانونی اور کیے گئے معاہدوں کے دعوؤں سے متعلق ہیں۔
اس قسط میں ہم یہ بھی جائزہ لیں گے کہ پاکستان کے پاور اور توانائی کے شعبے کی Debt Sustainability کیا ہے، یعنی قرضوں اور واجبات کی ادائیگی کی صلاحیت تسلی بخش ہے یا تشویش ناک۔
ان قرضوں اور واجبات کو بنیادی طور پر تین حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔
1۔ قرضے:
وہ رقوم جو پاکستان نے مختلف ممالک یا مالیاتی اداروں سے قرض یا مالی سہولت کی صورت میں حاصل کیں اور جن کی واپسی ابھی باقی ہے۔
2۔ واجب الادا بقایاجات:
وہ رقوم جو پاکستان نے بجلی، تیل یا گیس خریدنے کے بدلے ادا کرنی ہیں، لیکن ابھی تک ادا نہیں کی گئیں۔
3۔ جرمانے اور ممکنہ واجبات:
وہ رقوم جو معاہدوں کی خلاف ورزی، منصوبوں میں تاخیر یا دیگر قانونی وجوہات کی بنا پر عائد ہو چکی ہیں یا مستقبل میں عائد ہو سکتی ہیں۔
اب آئیے، ملک بہ ملک جائزہ لیتے ہیں کہ پاکستان کے پاور اور توانائی کے شعبے پر کس ملک کے کتنے قرضے اور واجبات ہیں، ان کی اصل نوعیت کیا ہے، اور ان کا بوجھ قومی خزانے اور بالآخر ہم عوام پر کس طرح پڑتا ہے۔
چین
تقریباً 1.52 بلین ڈالر
(تقریباً 423 ارب روپے)
یہ رقم CPEC کے تحت قائم چینی پاور پلانٹس کی بجلی، کیپیسٹی پیمنٹس اور دیگر واجبات کی مد میں بتائی گئی ہے۔ مالی سال 2025-26 کے اختتام تک چینی پاور کمپنیوں کے بقایاجات تقریباً 423 ارب روپے تک پہنچ چکے تھے۔
ایران
ممکنہ جرمانہ: تقریباً 18 بلین ڈالر
(تقریباً 50 کھرب روپے)
بجلی کے پرانے بقایاجات: تقریباً 51 ملین ڈالر
(تقریباً 14 ارب 16 کروڑ روپے)
یہ رقم ایران پاکستان گیس پائپ لائن مکمل نہ کرنے کی صورت میں ایران کی جانب سے ممکنہ جرمانے اور بین الاقوامی ثالثی کے دعوے سے متعلق ہے۔ یہ کوئی موجودہ واجب الادا قرض نہیں بلکہ ممکنہ قانونی اور معاہداتی ذمہ داری ہے۔ یہ رقم ایران سے درآمد کی گئی بجلی کے بقایاجات سے الگ ہے۔
بجلی کے پرانے بقایاجات: تقریباً 51 ملین ڈالر
(تقریباً 14 ارب 16 کروڑ روپے)
2013 میں ایران سے درآمد کی گئی بجلی کے بقایاجات تقریباً 51 ملین ڈالر بتائے گئے تھے۔ یہ ایک پرانا عدد ضرور ہے، اس لیے موجودہ بقایاجات اس سے مختلف یا اسی کے لگ بھگ ہو سکتے ہیں۔
قطر
کیے گئے معاہدے کی ذمہ داری: تقریباً 5.6 بلین ڈالر
(تقریباً 15 کھرب 60 ارب روپے)
یہ رقم قطر سے 2025 سے 2031 کے دوران تقریباً 177 LNG کارگو خریدنے کے معاہدے کی ذمہ داری کا تخمینہ ہے۔ یہ پوری رقم فوری طور پر واجب الادا قرض نہیں بلکہ مستقبل میں LNG خریدنے کا معاہدے کا بوجھ ہے۔
پاکستان نے گیس کی کم طلب کے باعث قطر سے بعض LNG کارگو مؤخر کرنے اور معاہدے کی شرائط پر دوبارہ مذاکرات کیے ہیں۔ 2024 میں پانچ قطری کارگو ایک سال کے لیے مؤخر کیے گئے تھے۔
قطر کے ساتھ مجموعی LNG معاہدوں کی مالیت: تقریباً 16 بلین ڈالر
(تقریباً 44 کھرب 40 ارب روپے)
یہ پوری رقم موجودہ بقایا نہیں بلکہ طویل مدتی LNG معاہدوں کی مجموعی مالیت ہے۔
یہ روپے کی مالیت 1 امریکی ڈالر کو تقریباً 277.69 روپے شمار کرکے نکالی گئی ہے۔ جولائی 2026 میں ڈالر کی شرح تقریباً اسی سطح پر برقرار ہے۔
سعودی عرب
تقریباً 1.2 بلین ڈالر
(تقریباً 333 ارب روپے)
تیل کی مؤخر ادائیگی کی سہولت:
فروری 2025 میں سعودی فنڈ فار ڈویلپمنٹ نے پاکستان کو پٹرولیم مصنوعات کی درآمد کے لیے 1.2 بلین ڈالر کی مالی سہولت فراہم کی تھی۔ اس کے تحت پاکستان کو ہر ماہ تقریباً 100 ملین ڈالر کا تیل مؤخر ادائیگی پر فراہم کیا جانا تھا۔ یہ سہولت اپریل 2026 میں مکمل ہو گئی۔ اس لیے 1.2 بلین ڈالر کو موجودہ واجب الادا قرض قرار دینے سے پہلے یہ معلوم کرنا ضروری ہے کہ اس میں سے کتنی رقم واپس کی جا چکی ہے۔ سعودی عرب ACWA Power کی سرمایہ کاری اور مؤخر ادائیگی کی سہولیات کے ذریعے پاکستان کے توانائی کے شعبے کا ایک اہم مالی شراکت دار بھی رہا ہے۔
ترکی
پرانا ثالثی ایوارڈ: تقریباً 846 ملین ڈالر
(تقریباً 235 ارب روپے)
ترک کمپنی کارکے کارادینیز (Karkey Karadeniz) نے پاکستان کو کرائے کے بجلی گھر فراہم کرنے کا معاہدہ کیا تھا۔ منصوبہ تنازع کا شکار ہونے کے بعد کمپنی نے بین الاقوامی ثالثی سے رجوع کیا اور پاکستان کے خلاف تقریباً 846 ملین ڈالر کا ایوارڈ حاصل کیا تھا۔
تاہم 2019 میں پاکستان اور ترک کمپنی کے درمیان سمجھوتا ہو گیا اور پاکستان تقریباً ایک بلین ڈالر تک پہنچنے والی ادائیگی سے بچ گیا۔ اس لیے یہ رقم اب پاکستان پر واجب الادا قرض یا موجودہ مالی ذمہ داری نہیں ہے بلکہ ایک سابق ممکنہ مالی ذمہ داری تھی۔ جس کا ذکر اس موقعہ پر کرنا مجھے اہم دکھائی دیتا ہے کہ ممکن ہے اسے پڑھ کر اربابِ اختیار میں کوئی مستقبل کے لئیے اس ملک کے لئے کوئی لون پالیسی ہی بنا دے۔
متحدہ عرب امارات (UAE)
متحدہ عرب امارات پاکستان کو ADNOC اور دیگر اماراتی کمپنیوں کے ذریعے پٹرولیم مصنوعات فراہم کرتا ہے، تاہم جولائی 2026 تک ایسی کوئی مستند معلومات دستیاب نہیں ملتیں جن کی بنیاد پر پاور یا توانائی کے شعبے سے متعلق کسی مخصوص واجب الادا قرض یا بقایاجات کی رقم بیان کی جا سکے۔ اس لیے اس مرحلے پر UAE کے لیے کوئی حتمی مالی رقم شامل نہیں کی جا رہی۔
فرانس
205 ملین ڈالر
(تقریباً 57 ارب روپے)
فرانسیسی ترقیاتی ادارے AFD نے پاکستان کو NTDC کی ٹرانسمیشن لائنوں اور گرڈ اسٹیشنوں کے منصوبوں کے لیے 180 ملین یورو کا نرم قرض فراہم کیا۔ یہ منصوبے وہاڑی، عارف والا اور سیالکوٹ کے علاقوں میں بجلی کی ترسیل کا نظام بہتر بنانے کے لیے ہیں۔
جرمنی
تقریباً 31 ملین ڈالر
(تقریباً 8 ارب 60 کروڑ روپے)
جرمنی کے سرکاری ترقیاتی ادارے KfW نے پاکستان کے بجلی کے ترسیلی نظام کو جدید بنانے کے لیے تقریباً 27 ملین یورو کا قرض فراہم کیا ہے۔ یہ رقم نیشنل گرڈ کمپنی، سابقہ NTDC، کے گرڈ اسٹیشنوں میں جدید ٹیکنالوجی نصب کرنے اور بجلی کی ترسیل کے نظام کو زیادہ مستحکم اور مؤثر بنانے پر خرچ کی جائے گی۔
اس کے علاوہ مارچ 2026 میں KfW نے شمالی پاکستان میں پن بجلی اور قابلِ تجدید توانائی کے منصوبوں کے لیے 18 ملین یورو، تقریباً 20 ملین ڈالر، کی گرانٹ بھی دی ہے۔ چونکہ یہ گرانٹ ہے، اس لیے اسے پاکستان کے واجب الادا قرض میں شامل نہیں کیا جائے گا۔
یہ رقم جرمنی کی جانب سے پاکستان کے توانائی کے شعبے میں فراہم کیے گئے تمام قرضوں کا مجموعی بقایا نہیں بلکہ ایک مخصوص حالیہ منصوبے کے قرض کی مالیت ہے۔
جاپان
تقریباً 490 ملین ڈالر
(تقریباً 136 ارب روپے)
یہ رقم جاپان کے سرکاری ترقیاتی ادارے JICA کی جانب سے پاکستان کے پاور اور توانائی کے شعبے کے مختلف منصوبوں کے لیے فراہم کیے گئے رعایتی قرضوں کی مجموعی مالیت ہے۔ ان قرضوں سے پن بجلی، ٹرانسمیشن لائنوں، گرڈ اسٹیشنوں، لوڈ ڈسپیچ سسٹم اور بجلی کی ترسیل کے دیگر منصوبوں میں مالی معاونت فراہم کی گئی۔
اہم قرضوں کی تفصیل درج ذیل ہے۔
• غازی بروتھا ہائیڈرو پاور، مرحلہ اول: 20.000 ارب جاپانی ین
• غازی بروتھا ہائیڈرو پاور، مرحلہ دوم: 14.902 ارب جاپانی ین
• لوڈ ڈسپیچ سسٹم اپ گریڈ: 3.839 ارب جاپانی ین
• دادو خضدار ٹرانسمیشن سسٹم: 3.702 ارب جاپانی ین
• پنجاب ٹرانسمیشن لائنز اور گرڈ اسٹیشنز: 11.943 ارب جاپانی ین
• نیشنل ٹرانسمیشن لائنز اور گرڈ اسٹیشنز اسٹرینتھننگ: 23.300 ارب جاپانی ین
• اسلام آباد برہان ٹرانسمیشن لائن، مرحلہ اول: 2.665 ارب جاپانی ین
کل: تقریباً 80.351 ارب جاپانی ین
یہ رقم مختلف منصوبوں کے لیے منظور کیے گئے قرضوں کا مجموعہ ہے۔ ان میں سے بعض قرضوں کی اقساط واپس کی جا چکی ہوں گی، اس لیے موجودہ واجب الادا بقایا اس مجموعی رقم سے کم ہو سکتا ہے۔
🔳 خلاصہ
درج شدہ قرضے، مالی سہولیات اور واجبات: تقریباً 3.45 بلین ڈالر
اس میں چین کے پاور سیکٹر کے واجبات، سعودی عرب کی مالی سہولت، اور فرانس، جرمنی اور جاپان کے توانائی منصوبوں کے لیے فراہم کیے گئے قرضے شامل ہیں۔
واجب الادا بقایاجات: تقریباً 51 ملین ڈالر
ایران سے درآمد کی گئی بجلی کے پرانے بقایاجات، جن کی موجودہ رقم مختلف ہو سکتی ہے۔
پرانے معاہدوں کی تکمیل و پاسداری کی ذمہ داریاں: تقریباً 5.6 بلین ڈالر
قطر سے LNG کی باقی خریداری کے معاہدوں کی تخمینی مالیت۔
ممکنہ جرمانے اور قانونی ذمہ داریاں: تقریباً 18 بلین ڈالر
ایران پاکستان گیس پائپ لائن منصوبے سے متعلق ممکنہ جرمانہ اور بین الاقوامی ثالثی کا دعویٰ۔
ختم یا تصفیہ شدہ مالی ذمہ داری: تقریباً 846 ملین ڈالر
ترک کمپنی کارکے کارادینیز کا ثالثی ایوارڈ، جو 2019 کے تصفیے کے بعد پاکستان پر واجب الادا نہیں رہا۔
🔺 نتیجہ
دستیاب معلومات کے مطابق پاکستان کے پاور اور توانائی کے شعبے سے متعلق درج شدہ قرضوں، واجبات اور کیے گئے معاہدوں پر اٹھنے والے اخراجات کا مجموعہ تقریباً 9.10 بلین ڈالر بنتا ہے
(تقریباً 25 کھرب 27 ارب روپے)۔
اس کے علاوہ ایران پاکستان گیس پائپ لائن منصوبے سے متعلق تقریباً 18 بلین ڈالر کا ممکنہ جرمانہ ایک الگ قانونی اور مالی خطرہ ہے
(تقریباً 49 کھرب 98 ارب روپے)۔
یہ بھی واضح رہے کہ ان تمام رقوم کی نوعیت ایک جیسی نہیں۔ بعض رقوم قرض ہیں، بعض بقایاجات ہیں، بعض مستقبل کی معاہداتی ذمہ داریاں ہیں، جبکہ بعض صرف ممکنہ قانونی دعوے ہیں۔ اس لیے ان سب کو ایک ہی قسم کا قرض قرار دینا درست نہیں ہوگا۔
🔳 عالمی بینکوں، مالیاتی اداروں اور پاکستانی بینکوں کی پاور اور توانائی کے شعبے میں فنانسنگ
مختلف ممالک سے متعلق قرضوں، بقایاجات اور ممکنہ واجبات کے بعد اب ہم ان اداروں کی طرف آتے ہیں جنہوں نے پاکستان کے پاور اور توانائی کے منصوبوں کے لیے قرض اور فنانسنگ فراہم کی۔
اس فہرست میں چار عالمی مالیاتی ادارے شامل ہیں:
1۔ عالمی بینک
2۔ ایشیائی ترقیاتی بینک
3۔ ایشیائی انفراسٹرکچر انویسٹمنٹ بینک
4۔ اسلامی ترقیاتی بینک
پانچواں بڑا ذریعہ پاکستان کے 18 مقامی بینکوں کا کنسورشیم ہے، جس نے پاور سیکٹر کے گردشی قرض کی ادائیگی اور پرانے بینک قرضوں کی ری اسٹرکچرنگ کے لیے فنانسنگ فراہم کی۔
اس حصے میں ہم دیکھیں گے کہ پاکستان کے پاور اور توانائی کے شعبے کے لیے کن اداروں نے کتنی فنانسنگ فراہم کی، اس میں سے کتنی رقم قرض کی صورت میں ہے، اور ان قرضوں اور واجبات کی موجودہ پوزیشن کیا ہے۔
یہ وضاحت ضروری ہے کہ کسی منصوبے کے لیے منظور شدہ فنانسنگ اور موجودہ واجب الادا قرض ایک ہی چیز نہیں۔ منظور شدہ رقم کا کچھ حصہ ابھی جاری نہ ہوا ہو سکتا ہے، جبکہ جاری شدہ قرض میں سے بعض اقساط واپس بھی کی جا چکی ہوتی ہیں۔ اس لیے اصل بقایا قرض معلوم کرنے کے لیے جاری کی گئی رقم، واپس کی گئی اقساط، سود اور باقی واجبات کو الگ الگ دیکھنا ضروری ہے۔
عالمی بینک (World Bank)
منظور شدہ پاور فنانسنگ: تقریباً 4 بلین ڈالر
(تقریباً 11 کھرب 12 ارب روپے)
عالمی بینک نے پاکستان میں پن بجلی، قومی گرڈ، بجلی کی ترسیل، ڈسٹری بیوشن کمپنیوں، قابلِ تجدید توانائی اور بجلی کے نظام میں بہتری کے متعدد منصوبوں کے لیے فنانسنگ فراہم کی ہے۔
ان منصوبوں میں داسو ہائیڈرو پاور، تربیلا توسیعی منصوبے، بجلی کی تقسیم میں بہتری، نیشنل ٹرانسمیشن سسٹم کی جدید کاری، خیبر پختونخوا کے قابلِ تجدید توانائی منصوبے اور 375.9 ملین ڈالر کا Grid Stability Enhancement Project شامل ہیں۔
ایشیائی ترقیاتی بینک (ADB)
جاری توانائی فنانسنگ: تقریباً 2.4 بلین ڈالر
(تقریباً 6 کھرب 67 ارب روپے)
اس میں بجلی کی ترسیل، گرڈ اپ گریڈ، قابلِ تجدید توانائی، ڈسٹری بیوشن اور پاور سیکٹر اصلاحات کے منصوبے شامل ہیں۔
ایشیائی انفراسٹرکچر انویسٹمنٹ بینک (AIIB)
مجموعی منظور شدہ فنانسنگ: تقریباً 550 ملین ڈالر
(تقریباً 1 کھرب 53 ارب روپے)
اس میں تربیلا 5 ہائیڈرو پاور توسیعی منصوبے کے لیے 300 ملین ڈالر اور بالاکوٹ ہائیڈرو پاور منصوبے کے لیے 250 ملین ڈالر شامل ہیں۔ یہ دونوں منصوبے دیگر عالمی مالیاتی اداروں کے ساتھ مشترکہ فنانسنگ کا حصہ ہیں۔
اسلامی ترقیاتی بینک (IsDB)
مجموعی فنانسنگ: تقریباً 335 ملین ڈالر
(تقریباً 93 ارب روپے)
اس میں مہمند ڈیم اور ہائیڈرو پاور منصوبے کے لیے 180 ملین ڈالر اور CASA-1000 منصوبے سے متعلق 155 ملین ڈالر کی فنانسنگ شامل ہے۔
اسلامی ترقیاتی بینک کی پاکستان کے توانائی کے شعبے میں تاریخی مجموعی سرمایہ کاری تقریباً 9.3 بلین ڈالر رہی ہے، تاہم یہ پوری رقم موجودہ واجب الادا قرض نہیں بلکہ مختلف ادوار کے مکمل اور جاری منصوبوں پر مشتمل ہے۔
یہ بھی واضح رہے کہ آئی ایم ایف نے پاکستان کو پاور سیکٹر کے کسی مخصوص منصوبے کے لیے الگ قرض نہیں دیا۔ آئی ایم ایف کا قرض پاکستان کی مجموعی معاشی اور زرمبادلہ کی ضروریات کے لیے ہوتا ہے۔
البتہ آئی ایم ایف پروگرام کے تحت بجلی کے نرخ، سبسڈی، گردشی قرض، کیپیسٹی پیمنٹس اور پاور سیکٹر اصلاحات سے متعلق شرائط عائد کی جاتی ہیں۔
پاور سیکٹر کا تقریباً 6.35 بلین ڈالر
(تقریباً 17 کھرب 64 ارب روپے)
کا گردشی قرض آئی ایم ایف کا قرض نہیں بلکہ پاکستان کے اندر مختلف سرکاری اداروں، پاور کمپنیوں، بینکوں اور بجلی پیدا کرنے والی کمپنیوں کے باہمی واجبات ہیں۔
🔳 خلاصہ
🔘 چار عالمی مالیاتی اداروں کی نمایاں منظور شدہ اور جاری فنانسنگ: تقریباً 7.3 بلین ڈالر
(تقریباً 20 کھرب 27 ارب روپے)
🔘 18 پاکستانی بینکوں کے کنسورشیم کا پاور سیکٹر قرض اور ری اسٹرکچرنگ: تقریباً 4.41 بلین ڈالر
(تقریباً 12 کھرب 25 ارب روپے)
🔘🔘 عالمی مالیاتی اداروں کی فنانسنگ اور پاکستانی بینکوں کے قرض کا مجموعی حجم: تقریباً 11.71 بلین ڈالر
(تقریباً 32 کھرب 52 ارب روپے)
خلاصہ
مختلف ممالک سے متعلق قرضوں، بقایاجات اور مالی ذمہ داریوں کا مجموعہ تقریباً 9.10 بلین ڈالر ہے، جبکہ عالمی مالیاتی اداروں اور پاکستانی بینکوں کی فنانسنگ تقریباً 11.71 بلین ڈالر بنتی ہے۔
دونوں کو جمع کیا جائے تو مجموعی حجم تقریباً 20.81 بلین ڈالر
(تقریباً 57 کھرب 79 ارب روپے) بنتا ہے۔
اور اگر ایران پاکستان گیس پائپ لائن کا ممکنہ 18 بلین ڈالر جرمانہ بھی شامل کر لیا جائے تو مجموعی رقم تقریباً 38.81 بلین ڈالر ہو جاتی ہے۔
(تقریباً 107 کھرب 77 ارب روپے) تک پہنچ جاتا ہے۔ ایران پاکستان گیس پائپ لائن کا معاملہ اگر بات چیت یا قانونی تصفیے سے حل نہ ہوا تو یہ جرمانہ پاکستان پر عائد ہو سکتا ہے۔
ترکی کا 846 ملین ڈالر کا ثالثی ایوارڈ تصفیے کے بعد ختم ہو چکا ہے، اس لیے اسے اس مجموعے میں شامل نہیں کیا گیا۔
⭕️ حرفِ آخر
پاکستان کے پاور اور توانائی کے شعبے سے متعلق موجودہ اور مستقبل کی ممکنہ مالی ذمہ داریاں تقریباً 38.81 بلین ڈالر، یعنی تقریباً 107 کھرب 77 ارب روپے بنتی ہیں۔
اس قسط کے آغاز میں سوال اٹھایا گیا تھا کہ پاکستان کے پاور اور توانائی کے شعبے کی Debt Sustainability تسلی بخش ہے یا تشویش ناک۔
دستیاب اعداد و شمار کے مطابق اس شعبے کی موجودہ اور ممکنہ مالی ذمہ داریاں تقریباً 38.81 بلین ڈالر، یعنی 107 کھرب 77 ارب روپے بنتی ہیں۔ یہ بھی مکمل اعداد و شمار نہیں، بلکہ صرف دستیاب بڑی رقوم کا مجموعہ ہے۔
صرف ایک شعبے میں اتنا بڑا بوجھ واضح کرتا ہے کہ صورت حال تشویش ناک ہے۔ گزشتہ فنانسنگ کی ادائیگی بھی بجلی کے بلوں پر 3.6 فیصد سرچارج لگا کر عوام سے وصول کی جا رہی ہے۔ سوال یہ ہے کہ آئندہ یہ رقم کہاں سے آئے گی اور اس کا بوجھ کس پر ڈالا جائے گا؟
یہ مسئلہ صرف حکومت یا ماہرین تک محدود نہیں۔ ملک کے پڑھے لکھے طبقے اور سول سوسائٹی کو بھی اس پر سنجیدگی سے بات کرنی چاہیے۔
(جاری ہے۔ باقی اگلی قسط میں)
0
Views
70
7
تمام اقساط پڑھیے

مزید مضامین

قسط نمبر 44

🔳 پاکستان کے پاور سیکٹر میں بڑی پیش رفت، نیپرا نے ’ڈی ایچ اے انرجی‘ کو ڈسٹری بیوشن لائسنس جاری کر دیا۔

قسط نمبر 43

🔳 آئی پی پی معاہدوں کی اصل شرائط تقریباً 25 سال تک عوام سے چھپائی گئیں۔

قسط نمبر 42

شاہد حسن خان کی سربراہی میں قائم اس ٹاسک فورس کے اراکین کے نام، جنہوں نے پاکستان میں نجی شعبے کے ذریعے بجلی کی پیداوار (IPPs) کی بنیاد رکھی، جس نے آنے والے وقتوں میں ملک کے پورے معاشی اور توانائی کے منظرنامے کو بدل کر رکھ دیا۔

قسط نمبر 41

🔳 پاکستان میں آئی پی پیز (IPPs) کے تصور کے خالق اور ابتدائی آئی پی پی معاہدوں کی شرائط تیار کرنے والے شاہد حسن خان سے انٹرویو (پارٹ تھری)

قسط نمبر 40

🔳 پاکستان میں آئی پی پیز (IPPs) لگانے کے تصور کے خالق شاہد حسن خان سے ایک انٹرویو