Home

زندگی میں پہلی مرتبہ میں نے اپنا بجلی کا بل انتہائی غور سے پڑھا تو کئی چونکا دینے والے حقائق میرے سامنے آئے۔

بجلی کے بلوں میں فکسڈ چارجز کے نام پر ہر ماہ آئی پی پیز (IPPs) کی ادائیگی کے لیے وصول کی جانے والی اربوں روپے کی رقم آخر کہاں جاتی ہے؟

لائن لاسز اور بجلی چوری کا نقصان بھی اگر بلوں کے ذریعے عوام کی جیب سے پورا کیا جا رہا ہے تو خسارہ کہاں سے پیدا ہو رہا ہے؟

جو لوگ یوٹیلیٹی بل کو سمجھے بغیر ادا کر دیتے ہیں وہ دراصل خسارے میں رہتے ہیں، کیونکہ ان بلوں کی رقم ہمارے پورے نظام کی شفافیت، اہلیت اور شرافت پر سنجیدہ سوال اٹھا رہی ہے۔


میرے بہت سے قارئین شکایت کرتے ہیں کہ میں طویل مضامین لکھتا ہوں۔ حقیقت یہ ہے کہ میری یہ تحریریں تفریح کے لیے نہیں بلکہ سنجیدہ موضوعات کا احاطہ کرتی ہیں۔ ان تحریروں کے پیچھے کئی کئی سالوں اور مہینوں کی تحقیق ہے، اس لیے اگر انہیں پڑھنے میں آپ کے قیمتی وقت کے پندرہ بیس منٹ خرچ بھی ہوں تو میں امید کرتا ہوں آپ اسے وقت کا ضیاع نہیں سمجھیں گے۔


🔸 آئیے اصل موضوع کی طرف بڑھتے ہیں۔
لاہور الیکٹرک سپلائی کارپوریشن یعنی لیسکو کی جانب سے مجھے موصول ہونے والے فروری 2026 کے بجلی کے بل کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ اس میں تین مختلف نوعیت کے واجبات شامل ہیں جن کی ادائیگی صارف کو کرنا ہوتی ہے۔


یہ سمجھنے کے لیے ہم ان واجبات کو تین حصوں میں تقسیم کرتے ہیں۔
پہلا حصہ بجلی کے اصل استعمال کی قیمت
دوسرا حصہ فکسڈ چارجز یعنی وہ مقررہ رقم ہے جو بجلی استعمال ہو یا نہ ہو، آپ کو ادا کرنی ہے
تیسرا حصہ حکومتی ٹیکسز اور مختلف سرچارجز
اب ہر حصے کو الگ الگ سمجھتے ہیں۔


🔸 پہلا حصہ: (بجلی کے اصل استعمال کی قیمت)
اس بل کے مطابق میں نے اس ماہ 333 یونٹ بجلی استعمال کی جس کی بنیادی قیمت 12,225.15 روپے بنتی ہے، یعنی فی یونٹ اوسط قیمت تقریباً 36.71 روپے پڑتی ہے۔ اس کے علاوہ Variable Fuel Price Adjustment 216.19 روپے اور Quarterly Tariff Adjustment 109.82 روپے شامل کیے گئے ہیں۔ یوں دونوں ایڈجسٹمنٹس ملا کر 326.01 روپے بنتے ہیں اور مجموعی طور پر استعمال شدہ بجلی کی رقم 12,551.16 روپے ہو جاتی ہے۔


اس بل کا ایک قابل توجہ پہلو یہ ہے کہ یہ فروری میں استعمال ہونے والی بجلی کا بل ہے مگر اس میں فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ دسمبر 2025 کی شامل ہے۔ یوں صارف ایک مہینے کی بجلی استعمال کرتا ہے مگر بل میں کسی دوسرے مہینے کی ایڈجسٹمنٹ شامل ہونے سے اصل قیمت کو سمجھنا مشکل کر دیا گیا ہے۔


🔸 دوسرا حصہ: (فکسڈ چارجز)
اس بل میں شامل 7500 روپے کے فکسڈ چارجز اس نظام کا حصہ ہیں جس کے تحت بجلی کے پاور پلانٹس اور آئی پی پیز کو کیپیسٹی ادائیگیاں کی جاتی ہیں۔ اسی وجہ سے صارفین سے sanctioned load کی بنیاد پر ہر ماہ ایک مقررہ رقم وصول کی جاتی ہے، چاہے بجلی کم استعمال ہو یا بالکل نہ ہو۔ چونکہ میرے کنکشن کا منظور شدہ لوڈ 8 کلو واٹ ہے، اس لیے تقریباً 937.5 روپے فی کلو واٹ کے حساب سے یہ فکسڈ چارجز 7500 روپے بنتے ہیں۔ بل سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ کنکشن MDI یعنی Maximum Demand Indicator نظام کے تحت چل رہا ہے، حالانکہ اس کے لیے مجھ سے کوئی باقاعدہ اجازت نہیں لی گئی۔


🔸 تیسرا حصہ:
اس حصے میں حکومت کی جانب سے مختلف ٹیکس اور سرچارجز شامل کیے گئے ہیں جن کی تفصیل یہ ہے:


‏ E.D (الیکٹرِسٹی ڈیوٹی): 185.02 روپے
(یہ صوبائی حکومت کا ٹیکس ہوتا ہے جو بجلی کے استعمال پر عائد کیا جاتا ہے۔ پنجاب میں یہ ٹیکس عموماً بجلی کے بل کی قابلِ ٹیکس رقم پر تقریباً 1.5 فیصد کے قریب وصول کیا جاتا ہے۔ اسی نوعیت کی الیکٹرِسٹی ڈیوٹی پاکستان کے دیگر صوبے بھی وصول کرتے ہیں)


جنرل سیلز ٹیکس (GST): 3797 روپے
(یہ حکومت کا عمومی سیلز ٹیکس ہے جو بجلی کی قیمت پر لگایا جاتا ہے اور عام صارف کو یہ رقم واپس نہیں ملتی)


انکم ٹیکس: 2892 روپے
(یہ بعض صورتوں میں ایڈوانس انکم ٹیکس سمجھا جاتا ہے جو ٹیکس ریٹرن میں ایڈجسٹ ہو سکتا ہے، لیکن نان فائلرز کے لیے عموماً واپس نہیں ہوتا)


اضافی ٹیکس (Extra Tax): 2110 روپے
یہ ٹیکس عام طور پر ان صارفین پر لگایا جاتا ہے جو سیلز ٹیکس نظام میں رجسٹرڈ نہیں ہوتے۔
عام طور پر نان فائلرز بھی اس میں شامل ہوتے ہیں۔


مزید ٹیکس (Further Tax): 844 روپے
یہ بھی اضافی سیلز ٹیکس کی ایک شکل ہے جو نان رجسٹرڈ صارفین سے وصول کیا جاتا ہے۔


ایف سی سرچارج (Financing Cost Surcharge): 1075.59 روپے
یہ بجلی کے شعبے کے مالی خسارے اور قرضوں کی ادائیگی کے لیے لیا جاتا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اسی بل میں تقریباً 7500 روپے کے فکسڈ چارجز بھی اسی نوعیت کے اخراجات پورے کرنے کے لیے وصول کیے جا رہے ہیں۔


فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ پر ٹیکس (Taxes on FPA): 115.27 روپے
یہ دراصل فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کی رقم پر لگایا جانے والا جنرل سیلز ٹیکس ہے۔


کل رقم (ٹیکسز): 11018.88 روپے
اب پورے بل کا بریک اپ یہ سامنے آتا ہے۔
1۔ 12,551.16 روپے بجلی کے اصل استعمال کی قیمت
2۔ 7,500 روپے فکسڈ چارجز ہیں جو آئی پی پیز کو دینے کے لیے وصول کیے جا رہے ہیں۔
3۔ 11,018.88 روپے حکومتی ٹیکسوں اور مختلف سرچارجز پر مشتمل ہیں۔
یوں اس بل کی کل رقم 31,072 روپے بنتی ہے۔


دوسرے لفظوں میں اس ماہ بجلی کے استعمال کی اصل قیمت ایڈجسٹمنٹس سمیت 12,551.16 روپے ہے، جبکہ باقی تقریباً 18,520.84 روپے مختلف ادائیگیوں، ٹیکسوں، سرچارجز اور فکسڈ چارجز کی صورت میں شامل ہیں۔

پالیسی سازوں نے جس محنت سے بجلی کے بلوں کے tariff structure کو ایک پیچیدہ labyrinth (بھول بھلیاں) میں بدل دیا ہے اور جسے پڑھ کر اچھا خاصا شخص بھی الجھتا ہی چلا جاتا ہے اور اصل سرا اس کے ہاتھ نہیں آتا۔ اگر وہی محنت وہ ہمارے ملک کے بجلی کے سسٹم کو شفاف اور درست کرنے پر صرف کرتے تو شاید آج یہ ملک ترقی کی کسی اور ہی شاہراہ پر کھڑا نظر آتا۔


🔸 بجلی کے بل کو غور سے پڑھنے کے بعد میرے ذہن میں دو بنیادی سوال پیدا ہوئے ہیں۔


جب حکومت ہر ماہ بجلی کے بلوں کے ذریعے آئی پی پیز کو ادا کی جانے والی رقوم صارفین سے وصول کر لیتی ہے تو پھر یہ کیوں کہا جاتا ہے کہ آئی پی پیز کو ادائیگیاں نہیں ہو سکیں۔ اگر رقم صارفین سے وصول ہو رہی ہے تو ادائیگی کے عمل میں رکاوٹ کہاں پیدا ہوتی ہے اور یہ رقم آخر جاتی کہاں ہے۔


وزارت توانائی بارہا کہتی ہے کہ لائن لاسز اور بجلی چوری کی وجہ سے ڈسٹری بیوشن کمپنیاں خسارے میں ہیں۔ لیکن بل کا جائزہ لینے سے معلوم ہوتا ہے کہ ان نقصانات کی رقم بھی بالواسطہ طور پر صارفین ہی سے وصول کی جا رہی ہے۔ پھر سوال یہ ہے کہ جب صارف یہ رقم ادا کر رہا ہے تو خسارہ آخر پیدا کہاں سے ہوتا ہے۔
افتخار عارف کا یہ شعر ہماری اسی صورتحال کی کس خوبصورتی سے ترجمانی کرتا ہے۔


مٹی کی محبت میں ہم آشفتہ سروں نے
وہ قرض اتارے ہیں جو واجب بھی نہیں تھے
(شاعر تو کامیاب رہا کہ قرضے اتار گیا، ہم جو قرضے اتار رہے ہیں وہ ہماری کئی نسلیں بھی نہیں اتار سکیں گی اگر یہ سسٹم برقرار رہا۔)
میں اپنے دو بنیادی سوالوں کو اٹھانے کے بعد آپ کے سامنے چند زمینی حقائق رکھنا چاہوں گا۔


مجھے ماہ فروری 2026 کا جو بل 31,072 روپے لیسکو نے بھیجا ہے اور جس کا تجزیہ یہ سامنے آیا ہے کہ بل میں بجلی کے اصل استعمال کی قیمت 12,551.16 روپے اور باقی رقم 18,520.84 روپے فکسڈ چارجز، ٹیکسوں اور سرچارجز پر مشتمل ہے۔ تو سیدھا سا ایک سوال اب یہ ہے کہ محض 12,500 روپے کی بجلی استعمال کرنے پر حکومت مجھ سے 18,500 روپے فکسڈ چارجز اور ٹیکسوں کی مد میں وصول کرتی ہے تو پھر کیسے کہا جا سکتا ہے کہ ایسی حکومت یا اس کا کوئی محکمہ خسارے میں ہو سکتا ہے؟


میں خود ایک اوسط درجے سے بھی کم کا صارف ہوں۔ مجھ جیسے لاکھوں صارفین ہوں گے جو اسی طرح کے بل ادا کر رہے ہوں گے، جبکہ لاکھوں ایسے بھی ہوں گے جن کے بل مجھ سے کہیں زیادہ اور لاکھوں ایسے بھی جن کے کم ہوں گے۔
لاہور الیکٹرک سپلائی کمپنی یعنی لیسکو کا دائرہ اختیار صرف میری ذات تک محدود نہیں کہ میں مسلسل اپنی ہی بات کرتا رہوں۔ اطلاعا عرض ہے کہ یہ ادارہ لاہور ڈویژن سے لے کر اوکاڑہ تک پھیلے ہوئے ایک وسیع علاقے کو بجلی فراہم کرتا ہے۔


یہ کمپنی پانچ اضلاع لاہور، شیخوپورہ، ننکانہ صاحب، قصور اور اوکاڑہ پر محیط ہے۔ لاہور ڈویژن کے چار اضلاع کے ساتھ اوکاڑہ جو ساہیوال ڈویژن کا حصہ ہے بھی اسی کمپنی کے تحت آتا ہے۔ اس کمپنی کے رجسٹرڈ بجلی کنکشنز کی تعداد تقریباً سڑسٹھ لاکھ (6,700,000) کے قریب ہے، جن میں گھریلو صارفین کے علاوہ تجارتی، صنعتی اور زرعی صارفین بھی شامل ہیں۔


اگر صرف ایک عام صارف کے بل سے 7500 روپے فکسڈ چارجز (آئی پی پیز کو دینے کے لیے) وصول کیے جا رہے ہیں تو اس رقم کو 67 لاکھ کنکشنز کے پیمانے پر دیکھا جائے تو صرف اسی مد سے ہر مہینے تقریباً 50 ارب 25 کروڑ روپے وصول ہونے چاہییں۔


اب اعتراض یہ کیا جا سکتا ہے کہ لیسکو سب سے ایک ہی طرح کے فکسڈ چارجز تو نہیں لے رہی تو آپ یہ حساب کیسے نکال رہے ہیں؟


مناسب بات ہے۔
یہ اعتراض بجا ہے کہ لیسکو تمام صارفین سے ایک ہی طرح کے فکسڈ چارجز وصول نہیں کرتی، اس لیے پورے نظام کو ایک ہی شرح پر نہیں پرکھا جا سکتا۔
نیپرا کی اسٹیٹ آف انڈسٹری رپورٹ 2024 کے مطابق 30 جون 2024 تک لیسکو کے کل کنکشنز 65 لاکھ 89 ہزار 130 تھے جن میں 56 لاکھ 76 ہزار 254 گھریلو، 7 لاکھ 25 ہزار 430 کمرشل، 92 ہزار 201 صنعتی، 71 ہزار 563 زرعی، 2 ہزار 843 پبلک لائٹنگ، 451 بلک سپلائی اور 20 ہزار 116 جنرل سروسز کنکشن شامل تھے۔


چونکہ ان مختلف کیٹیگریز کے sanctioned loads اور فکسڈ چارجز مختلف ہوتے ہیں اس لیے ہر صارف ایک ہی رقم ادا نہیں کرتا۔ تاہم اگر کم اور زیادہ فکسڈ چارجز کو ملا کر ایک محتاط اوسط تقریباً 5000 روپے فی کنکشن ماہانہ فرض کی جائے تو تقریباً 67 لاکھ کنکشنز پر اس مد میں ہر مہینے تقریباً 33 ارب 50 کروڑ روپے کی وصولی کا اندازہ بنتا ہے۔


تو بتائیے اب بھی کسی کو کوئی اعتراض ہے؟
اسی طرح میرے بل میں فنانسنگ کاسٹ سرچارج یعنی FC Surcharge کی مد میں 1,075.59 روپے وصول کیے گئے ہیں۔ اگر یہی رقم 67 لاکھ صارفین سے لی جائے تو اس مد میں ہر مہینے تقریباً 7 ارب 20 کروڑ روپے وصول ہو سکتے ہیں۔
میں اپنے کالم کی طوالت کی وجہ سے قصداً اس تجزیے میں بجلی کی اصل قیمت یا دیگر حکومتی ٹیکسوں جی ایس ٹی، ایکسٹرا ٹیکس، فردر ٹیکس، الیکٹرسٹی ڈیوٹی اور دیگر چارجز کو زیر بحث نہیں لا رہا بلکہ صرف دو مدوں یعنی فکسڈ چارجز اور فنانسنگ کاسٹ سرچارج (FC Surcharge) پر بات کر رہا ہوں، کیونکہ یہی وہ چارجز ہیں جنہیں بجلی کے نظام کے خسارے اور آئی پی پیز کو ادائیگیوں کے نام پر عوام سے وصول کیا جا رہا ہے۔


اگر فکسڈ چارجز کو محتاط اوسط کے ساتھ دیکھا جائے تو تقریباً 67 لاکھ کنکشنز پر لیسکو کو اس مد میں ہر مہینے تقریباً 33 ارب 50 کروڑ روپے وصول کرنے چاہییں، جبکہ FC Surcharge کی مد میں تقریباً 7 ارب 20 کروڑ روپے ماہانہ بنتے ہیں۔ یوں صرف انہی دو مدوں کو جمع کیا جائے تو یہ رقم ہر مہینے تقریباً 40 ارب روپے تک پہنچ جاتی ہے۔ جس کا سالانہ حجم تقریباً 480 ارب روپے بنتا ہے۔


(سوال یہ ہے کہ اگر صرف ایک ڈسٹری بیوشن کمپنی سے سالانہ تقریباً 480 ارب روپے کم از کم وصول کیے جا رہے ہیں، جبکہ اس کے علاوہ ملک میں مزید 9 ڈسٹری بیوشن کمپنیاں، کراچی الیکٹرک، اور آزاد کشمیر و گلگت بلتستان کے بجلی کے نظام بھی موجود ہیں، تو پھر یہ واضح کیا جائے کہ آئی پی پیز کو سالانہ مجموعی ادائیگی کتنی کرنی ہوتی ہے جس کے لیے عوام سے اتنی بڑی رقم مسلسل جمع کی جا رہی ہے؟)


اور حیرت کی بات یہ ہے کہ دوسری طرف قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے اجلاس میں وزیر خزانہ محمد اورنگزیب اس سال 14 فروری کو یہ بیان دیتے ہیں کہ پاکستان کی بجلی تقسیم کار کمپنیوں میں سب سے زیادہ نقصانات لاہور الیکٹرک سپلائی کمپنی (لیسکو) کو ہو رہے ہیں۔


اب سوال یہ ہے کہ جب صرف ایک بجلی کی ڈسٹری بیوشن کمپنی لیسکو سے ہر ماہ اتنی بڑی رقم آئی پی پیز (IPPs یعنی Independent Power Producers، نجی بجلی پیدا کرنے والے پاور پلانٹس) اور بجلی کے خسارے کے نام پر وصول کی جا رہی ہے، اور اسی ملک کا وزیر خزانہ اسی کمپنی کو ملک کی سب سے زیادہ خسارے میں جانے والی کمپنی قرار دے رہا ہے، تو پھر ہم عوام کے مسلسل خسارے کی یہ کہانی آخر کہاں جا کر تھمے گی؟


قارئین کرام! ابھی صرف لیسکو کے حوالے سے میں نے اپنا ادھورا تجزیہ آپ کے سامنے رکھا ہے۔ اگر میں اپنے اس تجزیے کو صرف لیسکو تک محدود نہ رکھوں بلکہ پورے پاکستان کے بجلی کے نظام کو دیکھنا شروع کروں تو جو منظر سامنے آئے گا اور جو تصویر اس کینوس پر بنے گی وہ ہم میں سے کتنوں کو پسند آئے گی؟


اپنے کالم میں طوالت کے باوجود پڑھنے والوں کو یہ بتانا ضروری سمجھتا ہوں کہ پاکستان میں بجلی کی تقسیم کے لیے 10 ڈسٹری بیوشن کمپنیاں یعنی DISCOs قائم ہیں۔


جن کے نام یہ ہیں
پشاور الیکٹرک سپلائی کمپنی (PESCO)
حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (HESCO)
سکھر الیکٹرک پاور کمپنی (SEPCO)
کوئٹہ الیکٹرک سپلائی کمپنی (QESCO)
ٹرائبل ایریاز الیکٹرک سپلائی کمپنی (TESCO)
اسلام آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (IESCO)
لاہور الیکٹرک سپلائی کمپنی (LESCO)
گوجرانوالہ الیکٹرک پاور کمپنی (GEPCO)
فیصل آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (FESCO)
ملتان الیکٹرک پاور کمپنی (MEPCO)


ان کے علاوہ کراچی میں کے الیکٹرک (K Electric) ایک علیحدہ نجی کمپنی ہے جو کراچی اور اس کے گرد و نواح کو بجلی فراہم کرتی ہے۔ اسی طرح آزاد کشمیر میں بجلی کا نظام آزاد کشمیر الیکٹرک ڈپارٹمنٹ کے ذریعے چلایا جاتا ہے، جبکہ گلگت بلتستان میں یہ انتظام واٹر اینڈ پاور ڈپارٹمنٹ گلگت بلتستان کے تحت ہے جو وہاں بجلی کی پیداوار اور ترسیل کا نظام سنبھالتا ہے۔


یہاں یہ بات واضح کرنا بھی ضروری ہے کہ میرے مضمون میں تمام اندازے کسی حتمی سرکاری آڈٹ کی طرح کی جگہ نہیں لیتے بلکہ یہ ایک تھنک ٹینک طرز کی ذہنی مشق ہے جس کا مقصد صرف یہ ہے کہ عام شہری بجلی کے بل کے نظام کو بڑے پیمانے پر سمجھ سکے۔ لیکن یہ مفروضے مکمل طور پر فرضی بھی نہیں ہیں بلکہ دستیاب اعداد اور سادہ حساب کی بنیاد پر لگائے گئے محتاط اندازے ہیں۔


اس طرح کی مشق کا مقصد تنقید برائے تنقید نہیں بلکہ لوگوں میں ایک اجتماعی شعور پیدا کرنا ہے تاکہ ہر وہ شہری جو ہر مہینے بجلی کا بل ادا کرتا ہے اسے یہ سمجھ آ سکے کہ اس نظام میں مجموعی طور پر کیا کچھ ہو رہا ہے۔


مزید مضامین

قومی تحقیقاتی سلسلہ | قسط 10موضوع: پاکستان کا بجلی کا نظام کیسے ٹھیک ہو گا[مہنگے بجلی کے بلوں ...

(اردو)

ہمارا بجلی کا نظام کیسے ٹھیک ہو گا؟؟ (قسط: 9) ▫️کیا واقعی پاکستان کی بجلی کی سالانہ ضرورت 40 ہز...

(اردو)

ہمارا بجلی کا نظام کیسے ٹھیک ہو گا؟ قسط: 8 پاکستان میں شوگر ملوں کے گنے کے پھوک سے چلنے والے پا...

(اردو)

ایک ہی پانی سے بننے والی بجلی: سرکاری اور نجی آئی پی پیز کے نرخوں میں دوگنا سے زائد فرق واضح نظر...

(اردو)

جب ہم نیوکلیئر پاور ہیں تو پھر ہم نیوکلیئر بجلی زیادہ مقدار میں کیوں نہیں بناتے؟ ▫️ایٹمی طاقت ...

(اردو)