Home

بجلی کے بلوں کے بارے میں عام لوگوں کا سب سے بڑا سوال یہی ہے کہ اگر کسی مہینے بجلی کم استعمال بھی ہو تو بل پھر بھی زیادہ کیوں آتا ہے؟؟

️ہمارا بجلی کا نظام کیسے ٹھیک ہو گا؟؟ (دوسری قسط)


بجلی کم استعمال ہونے کے باوجود بل زیادہ آنے کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ بدقسمتی سے ہمارے بل میں صرف استعمال شدہ یونٹس کی قیمت نہیں ہوتی بلکہ فکسڈ چارجز اور کیپیسٹی پیمنٹس بھی شامل ہوتی ہیں، اس لیے یونٹس کم ہونے کے باوجود بل زیادہ آتا ہے۔


آپ پوچھیں گے کہ فکسڈ چارجز اور capacity payments کیا ہوتی ہیں تو اس کا سیدھا سیدھا جواب یہ ہے۔
پاکستان میں حکومت کو بجلی پیدا کرنے والے نجی پاور پلانٹس یعنی Independent Power Producers یعنی آئی پی پیز کو جو ادائیگیاں کرنا پڑتی ہیں وہ بنیادی طور پر دو حصوں پر مشتمل ہوتی ہیں۔


1۔ Capacity Payments یعنی صلاحیت کی ادائیگی
(یعنی پاور پلانٹ کو صرف اس بات کی قیمت دینا کہ وہ بجلی پیدا کرنے کے لیے ہر وقت تیار رہے، چاہے اس سے بجلی لی جائے یا نہ لی جائے)۔ چنانچہ پچھلے مالی سال میں حکومت نے اس مد میں تقریباً 1800 ارب روپے ادا کیے ہیں۔


2۔ بجلی پیدا ہونے پر فیول کی ادائیگی
(یعنی جب پاور پلانٹ واقعی بجلی بناتا ہے تو اس میں استعمال ہونے والے ایندھن جیسے گیس، تیل یا کوئلے کی قیمت ادا کی جاتی ہے)۔ اس مد میں حکومت بجلی پیدا کرنے والے پاور پلانٹس کو سالانہ تقریباً 1200 ارب روپے ادا کر رہی ہے۔


یوں مجموعی طور پر حکومت کو پاور پلانٹس کو تقریباً 3000 ارب روپے سالانہ ادا کرنا پڑ رہے ہیں۔
قابلِ غور بات یہ ہے کہ اس میں Capacity Payments کا حصہ زیادہ یعنی تقریباً 1800 ارب روپے ہے، جبکہ فیول کی ادائیگی تقریباً 1200 ارب روپے ہے۔


یعنی بجلی کی پیداوار پر خرچ کم ہے جبکہ صرف پاور پلانٹس کو تیار رکھنے کی قیمت زیادہ ادا کی جا رہی ہے۔ گویا ہم نے ایسا سفید ہاتھی پال لیا ہے جس سے کام کم لیا جا رہا ہے مگر اس کے کھانے پینے کا خرچ مسلسل ادا کرنا پڑ رہا ہے۔


پاکستان میں بجلی کی زیادہ سے زیادہ طلب عموماً 26000 سے 30000 میگاواٹ کے درمیان رہتی ہے، جبکہ سردیوں میں یہ کم ہو کر تقریباً 20000 سے 22000 میگاواٹ رہ جاتی ہے۔ اس کے مقابلے میں ملک کی مجموعی نصب شدہ پیداواری صلاحیت تقریباً 43000 سے 45000 میگاواٹ تک پہنچ چکی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ پاکستان کے پاس تقریباً 15000 سے 17000 میگاواٹ اضافی صلاحیت موجود ہے جس کی ہر وقت ضرورت نہیں پڑتی، لیکن اس کے باوجود ہمیں اس کی قیمت ادا کرنا پڑ رہی ہے کیونکہ آئی پی پیز کے ساتھ طویل المدتی معاہدے کیے جا چکے ہیں۔


چونکہ یہ معاہدے عموماً تقریباً تیس سال کے لیے کیے جاتے ہیں، اس لیے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ پاکستان میں مختلف پاور پلانٹس کے معاہدے 2030 سے 2045 کے درمیان مختلف اوقات میں ختم ہوں گے۔ دوسرے لفظوں میں 2045 تک ہم اپنے بجلی کے بلوں پر ان معاہدوں کے بوجھ سے مکمل طور پر آزاد نہیں ہو سکیں گے۔ (مضمون جاری ہے، باقی اگلی قسط میں)

مزید مضامین

قومی تحقیقاتی سلسلہ | قسط 10موضوع: پاکستان کا بجلی کا نظام کیسے ٹھیک ہو گا[مہنگے بجلی کے بلوں ...

(اردو)

ہمارا بجلی کا نظام کیسے ٹھیک ہو گا؟؟ (قسط: 9) ▫️کیا واقعی پاکستان کی بجلی کی سالانہ ضرورت 40 ہز...

(اردو)

ہمارا بجلی کا نظام کیسے ٹھیک ہو گا؟ قسط: 8 پاکستان میں شوگر ملوں کے گنے کے پھوک سے چلنے والے پا...

(اردو)

ایک ہی پانی سے بننے والی بجلی: سرکاری اور نجی آئی پی پیز کے نرخوں میں دوگنا سے زائد فرق واضح نظر...

(اردو)

جب ہم نیوکلیئر پاور ہیں تو پھر ہم نیوکلیئر بجلی زیادہ مقدار میں کیوں نہیں بناتے؟ ▫️ایٹمی طاقت ...

(اردو)