کیا واقعی آئی پی پیز (IPPs) غیر ملکی کمپنیوں کی ملکیت ہیں کہ حکومت ان سے کیے گئے معاہدے منسوخ نہیں کر سکتی؟
ہمارا بجلی کا نظام کیسے ٹھیک ہو گا؟؟ (تیسری قسط)
ہماری حکومت اور وزارتِ توانائی کی طرف سے جو یہ تاثر دیا جاتا رہا ہے کہ اگر آئی پی پیز کے معاہدوں کو ختم کرنے کی بات کی گئی تو پاکستان کو بین الاقوامی مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا، اور یہ کسی بڑے عالمی بحران کا سبب بن جائے گا۔
مگر میری تحقیق کے مطابق حقیقت یہ ہے کہ پاکستان میں کام کرنے والے آئی پی پیز میں سے نوے فیصد
پاکستانی کاروباری گروپس کی ملکیت یا شراکت میں موجود ہیں۔ اس لیے یہ کہنا کہ یہ مکمل طور پر بین الاقوامی معاہدے ہیں اور ان پر نظرِ ثانی ممکن نہیں، حقیقت کی مکمل تصویر پیش نہیں کرتا۔
بعض منصوبوں میں چند غیر ملکی سرمایہ کاروں کو محدود حصص دے کر انہیں بین الاقوامی منصوبوں کا تاثر دیا گیا ہے، حالانکہ اصل ملکیت اور کنٹرول زیادہ تر ابتدا ہی سے مقامی کاروباری گروپس کے پاس رہا ہے۔
یہ بات درست ہے کہ 1994 میں آئی پی پیز پالیسی کے آغاز کے وقت پاکستان میں غیر ملکی سرمایہ کار بڑی تعداد میں شامل ہوئے تھے، مگر وقت گزرنے کے ساتھ ان میں سے اکثر اپنے حصص فروخت کر کے نکل گئے اور ان منصوبوں کی ملکیت بالآخر پاکستانی کمپنیوں کے پاس منتقل ہو گئی۔
اس قسط میں پاکستان کی بڑی Fossil Fuel Based IPPs (یعنی وہ نجی بجلی پیدا کرنے والی کمپنیاں جو کوئلے، گیس، آر ایل این جی، فرنس آئل یا دیگر فوسل ایندھن سے بجلی پیدا کرتی ہیں) کے نام پہلی مرتبہ ایک ہی جگہ جمع کر کے آپ کے سامنے پیش کیے جا رہے ہیں، تاکہ واضح طور پر دیکھا جا سکے کہ ملک کے بجلی کے موجودہ نظام کو اس سطح تک لانے میں ان پاکستانی کمپنیوں کا کیا اثر و رسوخ ہے۔
انہی پاکستانی کمپنیوں اور حکومت کے باہمی فیصلوں کے نتیجے میں بجلی کے بلوں میں فکسڈ چارجز اور FCA یعنی Fuel Cost Adjustment جیسے اضافی اخراجات شامل کیے گئے، جن کے ذریعے ہر صارف کے بل سے رقم جمع کر کے پاور کمپنیوں کو ادا کی جاتی رہی۔
آئیے ایک نظر ان کمپنیوں پر ڈالتے ہیں۔
1۔ Pak Gen Power (ملکیت: نشاط گروپ)
2۔ Nishat Power (ملکیت: نشاط گروپ)
3۔ Nishat Chunian Power (ملکیت: نشاط چونیاں گروپ)
4۔ Lalpir Power (ملکیت: نشاط گروپ)۔ یہ پاور پلانٹ ابتدا میں ایک امریکی کمپنی کے پاس تھا مگر 2007 میں نشاط گروپ نے اسے خرید لیا۔ ستمبر 2024 تک یہ حکومت کے ساتھ معاہدے کے تحت بجلی فروخت کرتا رہا، مگر آئی پی پیز اور مہنگی بجلی کے خلاف عوامی دباؤ کے بعد یہ معاہدہ ختم کر دیا گیا۔ حکومت کا مؤقف تھا کہ پرانے آئی پی پیز کے معاہدے عوام پر غیر معمولی مالی بوجھ ڈال رہے ہیں، اس لیے انہیں دوبارہ طے کیا جائے یا ختم کیا جائے۔ کمپنی کی طرف سے کہا گیا کہ اگر معاہدہ یکطرفہ ختم ہوا تو معاملہ انٹرنیشنل آربیٹریشن میں لے جایا جا سکتا ہے، جبکہ حکومت نے جواب دیا کہ ضرورت پڑنے پر ان معاہدوں اور ان سے حاصل ہونے والے مالی فوائد کی تحقیقات بھی کی جا سکتی ہیں۔ بعد ازاں حکومت نے تقریباً ساڑھے بارہ ارب روپے کی settlement ادا کی۔ اس وقت پلانٹ preservation mode میں رکھا گیا ہے اور کمپنی مستقبل میں اسے نئی بجلی مارکیٹ میں استعمال کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔
5۔ Hub Power Company (Hubco) (ملکیت: حبکو گروپ)
6۔ Narowal Energy (ملکیت: حبکو گروپ)
7۔ China Power Hub Generation Company (CPHGC) (ملکیت: حبکو گروپ اور چینی شراکت دار)
8۔ Thar Energy Limited (TEL) (ملکیت: حبکو گروپ اور شراکت دار)
9۔ ThalNova Thar Power (ملکیت: حبکو گروپ اور شراکت دار)
حبکو گروپ کے موجودہ چیئرمین ایم حبیب اللہ خان ہیں۔ ابتدا میں اس کمپنی کے بڑے حصص بھی غیر ملکی سرمایہ کاروں کے پاس تھے، ان کے جانے کے بعد حسین داؤد حبکو کے چیئرمین بنے۔ بعد ازاں ان کے تقریباً 15.7 فیصد حصص خرید کر ایم حبیب اللہ خان اس گروپ کے چیئرمین بن گئے، اور آہستہ آہستہ وہ آج پاکستان کے پانچ بڑے پاور منصوبوں کے مالک ہیں۔
10۔ Fauji Kabirwala Power Company (ملکیت: فوجی فاؤنڈیشن)
11۔ Foundation Power Company Daharki (ملکیت: فوجی فاؤنڈیشن)
12۔ Orient Power Company (ملکیت: اورینٹ گروپ)
13۔ Saba Power Company (ملکیت: صبا پاور کمپنی)
(ان دونوں پاور منصوبوں کے مالک ندیم بابر ہیں، جو عمران خان کے دور میں معاونِ خصوصی برائے پیٹرولیم رہے۔)
14۔ Kohinoor Energy Limited (ملکیت: سہگل گروپ)
15۔ Uch Power Limited (Uch I) (ملکیت: سفائر فائبرز 50٪ اور مائنڈ برج 50٪)
16۔ Uch II Power (ملکیت: سفائر فائبرز 50٪ اور مائنڈ برج 50٪)
17۔ Sapphire Electric Company Limited (ملکیت: سفائر گروپ 100٪)
18۔ TNB Liberty Power (ملکیت: لبرٹی گروپ)
19۔ Liberty Power Tech (ملکیت: لبرٹی گروپ)
20۔ Engro Powergen Qadirpur (ملکیت: اینگرو گروپ)
21۔ Lucky Electric Power (ملکیت: لکی گروپ)
22۔ Attock Gen Power (ملکیت: اٹک گروپ)
23۔ Atlas Power (ملکیت: اٹلس گروپ)
24۔ Saif Power (ملکیت: سیف گروپ)
25۔ Halmore Power Generation (ملکیت: ہالمور گروپ)
26۔ Gul Ahmed Energy (ملکیت: گل احمد گروپ)
27۔ Tapal Energy (ملکیت: ٹپال گروپ)
28۔ Rousch Power (موجودہ تحویل: حکومت پاکستان، NPPMCL)۔ یہ پلانٹ اس وقت مکمل طور پر فعال نہیں سمجھا جاتا، اس کا اصل معاہدہ ختم ہو چکا ہے اور یہ پرانے آئی پی پی ماڈل کے تحت باقاعدہ سپلائی نہیں دے رہا بلکہ محدود یا غیر فعال حالت میں ہے۔
29۔ Sahiwal Coal Power (ملکیت: Huaneng Shandong، چین)
30۔ Port Qasim Coal Power (ملکیت: چین اور قطر مشترکہ)
31۔ Engro Thar Coal Power (ملکیت: اینگرو گروپ اور شراکت دار)
32۔ Thar Coal Block I Power (ملکیت: Shanghai Electric، چین)
اگر ان 32 پاور پلانٹس کا مجموعی جائزہ لیا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ ان میں سے 28 پاور پلانٹس پاکستانی کاروباری گروپس کے کنٹرول میں ہیں۔ اس کے مقابلے میں صرف 4 پاور پلانٹس ایسے ہیں جن میں غیر ملکی خصوصاً چینی کمپنیوں کی اکثریتی ملکیت یا نمایاں سرمایہ کاری موجود ہے۔
مجھے تو حیرت اس بات پر ہے کہ ان 32 آئی پی پیز میں سے 28 پاکستانی کمپنیاں ہیں جبکہ صرف 4 غیر ملکی ہیں۔ حکومت پاکستان سالانہ 3000 ارب روپے ان کمپنیوں میں تقسیم کرتی ہے تو سادہ اوسط کے حساب سے ہر کمپنی کے حصے میں تقریباً 94 ارب روپے سالانہ آتے ہیں، اور اگر صرف 28 پاکستانی کمپنیوں کو دیکھا جائے تو یہ اوسط 100 ارب روپے سے بھی زیادہ ہو جاتی ہے۔
(یہ وضاحت ضروری ہے کہ یہ اوسط صرف ایک عمومی اندازہ ہے تاکہ مجموعی تصویر سمجھی جا سکے، اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ تمام آئی پی پیز کو برابر ادائیگیاں کی جاتی ہیں۔ حقیقت میں کیپیسٹی پیمنٹس ہر پاور پلانٹ کی پیداواری صلاحیت، معاہدے اور لاگت کے مطابق مختلف ہوتی ہیں۔ مثال کے طور پر 2015 سے 2024 کے دوران تقریباً 362 میگاواٹ کے لال پیر کو 52.081 ارب روپے اور تقریباً 365 میگاواٹ کے پاک جین کو 50.834 ارب روپے دیے گئے، جبکہ 1292 میگاواٹ کے حبکو کو اسی عرصے میں تقریباً 205.034 ارب روپے ادا کیے گئے، جس سے واضح ہوتا ہے کہ ادائیگی مکمل طور پر پلانٹ کی کیپیسٹی کے مطابق ہوتی ہے۔
مثال کے طور پر، حبکو کی کیپیسٹی لال پیر سے تقریباً 3.5 گنا زیادہ ہے، اور اس کی ادائیگی بھی اسی طرح تقریباً 4 گنا قریب ہے۔ یہ ڈیٹا سرکاری طور پر CPPA-G سے حاصل ہے۔)
ایسے میں یہ سوال اور بھی شدت سے ابھرتا ہے کہ اس پورے نظام کا اصل فائدہ کن کو پہنچ رہا ہے اور اس کا بوجھ مسلسل عام صارف کیوں اٹھا رہا ہے۔ ایک عام آدمی کی جیب سے نکالی گئی رقم کہاں جا رہی ہے اور ان وسائل سے کیسے یہ ‘آئی پی پیز’ بڑی بڑی جائیدادوں اور نئی نئی کمپنیوں کے مالک بن گئے۔
ان پاور کمپنیوں کے نام پر یہ محض ناانصافی نہیں بلکہ ایک واضح معاشی استحصال ہے، جو عوام کا کیا گیا ہے جس نے عام آدمی کو بری طرح متاثر کیا ہے۔
اگر اس پورے معاملے کی حقیقی اور غیر جانبدارانہ تحقیق مقصود ہو تو روایتی سرکاری کمیشن کافی نہیں ہوگا، بلکہ ایک ایسا آزاد اور شفاف نظام درکار ہے جس میں ماہرینِ معاشیات، توانائی کے ماہرین، آڈیٹرز، اور سول سوسائٹی کے نمائندے شامل ہوں اور جس کی کارروائی مکمل طور پر عوام کے سامنے ہو۔ جب تک تحقیق کا عمل مفادات سے آزاد اور کھلا نہیں ہوگا، نہ حقیقت سامنے آئے گی اور نہ ہی بجلی کے بلوں کا کوئی پائیدار حل نکل سکے گا۔
(باقی اگلی قسط میں)