’’وزیراعظم اپنا گھر پروگرام‘‘ بظاہر ایک عام آدمی کے لیے اپنا گھر حاصل کرنے کا سنہری موقع ہے۔ لیکن اصل حقائق کیا ہیں؟ ذرا غور سے سمجھیے۔
زمینی حقائق: سید شایان کا کالم
’’وزیراعظم اپنا گھر پروگرام‘‘ کی اصل کہانی یوں شروع ہوتی ہے کہ حکومت آپ سے کہتی ہے کہ اگر آپ کے پاس 10 لاکھ روپے ہیں تو آپ ایک کروڑ روپے کا گھر خرید سکتے ہیں۔ باقی 90 لاکھ روپے بینک آپ کو قرض دے گا، جسے آپ اگلے 20 سال تک آسان ماہانہ اقساط میں ادا کریں گے۔
اب زمینی حقائق کچھ یہ ہیں کہ اگر آپ نے 20 سال کے لیے قرض لیا تو پہلے 10 سال آپ کو 5 فیصد سالانہ مارک اپ کے حساب سے تقریباً 59,400 روپے ماہانہ قسط بنک کو ادا کرنا ہوگی۔
یوں پہلے 10 سال میں آپ بینک کو مجموعی طور پر 71 لاکھ 28 ہزار روپے ادا کر چکے ہوں گے، جس میں تقریباً 37 لاکھ 27 ہزار روپے مارک اپ اور 34 لاکھ روپے اصل قرض کی واپسی شامل ہوگی۔
اہم بات یہ ہے کہ 10 سال تک 71 لاکھ روپے سے زیادہ ادا کرنے کے باوجود اس وقت بھی آپ کے ذمے تقریباً 56 لاکھ روپے قرض باقی ہوگا۔
اور یوں قرض لینے والے کی آزمائش گیارہویں سال سے شروع ہوگی، جب حکومت کی 5 فیصد رعایتی شرح ختم ہو چکی ہوگی اور آپ کے باقی رہ جانے والے قرض، یعنی تقریباً 56 لاکھ روپے پر نئی شرحِ سود لاگو ہوگی، جس کا تعین بینکاری نظام میں کائبور (KIBOR) کی بنیاد پر کیا جاتا ہے۔
کائبور (KIBOR) بینکوں کے درمیان قرض دینے کی مارکیٹ شرحِ سود ہے، جو وقت کے ساتھ کم یا زیادہ ہوتی رہتی ہے۔
مثال کے طور پر آج 15 اکتوبر 2026 ہے اور گزشتہ روز، یعنی 14 اکتوبر کے اعداد و شمار کے مطابق ایک سالہ کائبور 12.74 فیصد تھا۔ اس میں بینک کا اضافی 3 فیصد مارجن شامل کریں تو ہاؤسنگ قرض کی مجموعی شرحِ سود 15.74 فیصد، یعنی تقریباً 16 فیصد بنتی ہے۔
اب ذرا سوچیے! اگر آج سے 10 سال بعد بھی کائبور (KIBOR) یہی رہا جو آج ہے تو آپ کے باقی تقریباً 56 لاکھ روپے کے قرض پر 16 فیصد سالانہ مارک اپ لاگو ہوگا۔ اس حساب سے آپ کی ماہانہ قسط، جو پہلے 59,400 روپے تھی، بڑھ کر تقریباً 94,000 روپے ہو جائے گی۔ یعنی آپ کو ہر ماہ تقریباً 34,600 روپے اضافی ادا کرنا ہوں گے۔
اور اگر اگلے 10 سال تک بھی کائبور کی شرح یہی رہتی ہے اور آپ ہر ماہ تقریباً 94 ہزار روپے قسط ادا کرتے ہیں تو اس حساب سے اگلے 10 سال میں آپ بینک کو مزید ایک کروڑ 12 لاکھ 80 ہزار روپے ادا کریں گے۔ یعنی پہلے 10 سال کے تقریباً 71 لاکھ 28 ہزار روپے ملا کر آپ 20 سال میں بینک کو مجموعی طور پر ایک کروڑ 84 لاکھ 8 ہزار روپے ادا کر چکے ہوں گے، جبکہ آپ نے قرض صرف 90 لاکھ روپے لیا تھا۔ اور یاد رکھیے، اس حساب میں آپ کے اپنے ابتدائی 10 لاکھ روپے شامل نہیں ہیں۔
یہ بات بھی اچھی طرح اپنے ذہن میں بٹھا لیجیے کہ یہ حساب صرف اس صورت میں درست ہوگا جب آج سے 10 سال بعد بھی بینکوں کی شرحِ سود تقریباً آج جتنی ہی ہوگی۔
اصل سوال یہ ہے کہ جب کسی کو معلوم ہی نہیں کہ 10 سال بعد کائبور (KIBOR) کیا ہوگا تو حکومت نے قرض لینے والے خاندان کو شرحِ سود میں غیر معمولی اضافے سے بچانے کے لیے کیا ضمانت دی ہے؟
میں نے اس مقصد کے لیے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے تاریخی KIBOR ریکارڈ کی بنیاد پر 2006 سے 2025 تک کے 20 مالی سالوں کی سالانہ اوسط شرحوں کا حساب کیا ہے۔
دستیاب ریکارڈ کے مطابق 2006 میں ایک سالہ KIBOR کی اوسط 9.69 فیصد تھی، جو 2009 میں بڑھ کر 14.75 فیصد ہوگئی۔ اس کے بعد شرح میں کمی بیشی آتی رہی، یہاں تک کہ 2017 میں سالانہ اوسط 6.40 فیصد تک آگئی۔ لیکن پھر حالات بدلے اور 2023 میں یہ اوسط 18.65 فیصد اور 2024 میں 21.87 فیصد تک پہنچ گئی۔ 2025 میں یہ کم ہو کر 13.70 فیصد رہ گئی۔
اب ان 20 سالوں کی تمام سالانہ اوسطوں کو جمع کرکے حسابی اوسط نکالیں تو KIBOR تقریباً 11.57 فیصد بنتا ہے۔ اس میں بینک کا 3 فیصد مارجن شامل کریں تو مجموعی شرحِ سود تقریباً 14.57 فیصد ہو جاتی ہے۔
اب آئیے، اس تاریخی اوسط کو وزیراعظم کے ہاؤسنگ قرضے پر لاگو کرکے دیکھتے ہیں۔ ایک شہری ایک کروڑ روپے کا گھر خریدتا ہے، اپنی جیب سے 10 لاکھ روپے ادا کرتا ہے اور باقی 90 لاکھ روپے بینک سے 20 سال کے لیے قرض لیتا ہے۔ پہلے 10 سال حکومت کی رعایتی شرح 5 فیصد کے حساب سے اس کی ماہانہ قسط تقریباً 59,396 روپے بنتی ہے۔ ان 10 سالوں میں باقاعدگی سے تمام اقساط ادا کرنے کے باوجود اس کے ذمے تقریباً 56 لاکھ روپے اصل قرض باقی رہتا ہے۔
اب اگر ابتدائی 10 سال کی رعایتی مدت ختم ہونے کے بعد شرحِ سود گزشتہ 20 سال کی تاریخی اوسط، یعنی KIBOR جمع بینک مارجن کے مطابق 14.57 فیصد ہو جائے اور باقی مدت میں اسی سطح پر برقرار رہے تو اس شخص کی ماہانہ قسط تقریباً 88,869 روپے ہو جائے گی۔ یعنی اسے ہر ماہ تقریباً 29,473 روپے اضافی ادا کرنا ہوں گے۔
اور اگر شرحِ سود 2024 کی سالانہ اوسط جیسی بلند سطح پر پہنچ جائے، جب KIBOR تقریباً 21.87 فیصد تھا، تو بینک کا 3 فیصد مارجن شامل کرکے مجموعی شرح 24.87 فیصد بنے گی۔ اس صورت میں باقی 10 سال کی ماہانہ قسط تقریباً ایک لاکھ 26 ہزار 882 روپے ہو سکتی ہے۔
یہاں بنیادی سوال یہ نہیں کہ آئندہ 10 سال میں شرحِ سود لازماً کتنی ہوگی، کیونکہ اس کی قطعی پیش گوئی کوئی نہیں کر سکتا۔ اصل سوال یہ ہے کہ حکومت نے گھر خریدنے والے خاندان کو ابتدائی رعایتی قسط تو بتا دی، لیکن کیا اسے یہ بھی پوری وضاحت سے بتایا ہے کہ رعایت ختم ہونے کے بعد تاریخی شرحِ سود کے مطابق اس کی قسط کتنی بڑھ سکتی ہے؟
کیونکہ ایک متوسط آمدنی والے خاندان کے لیے 59 ہزار روپے ماہانہ ادا کرنا، 89 ہزار روپے ادا کرنا اور ایک لاکھ 27 ہزار روپے ادا کرنا تین بالکل مختلف معاشی حقیقتیں ہیں۔
اور یہی اس پوری ہاؤسنگ اسکیم کا وہ پہلو ہے جسے ہر قرض لینے والے شہری کے سامنے قرض کے معاہدے پر دستخط کرنے سے پہلے واضح ہونا چاہیے۔
میں اپنے قارئین، حکومتی نمائندوں اور پالیسی سازوں کی توجہ کے لیے وزیراعظم کے ’’اپنا گھر پروگرام‘‘ کا ایک اشتہار شائع کر رہا ہوں، جسے میں نے سرکاری ویب سائٹ سے لیا ہے۔ اس میں پانچ لاکھ گھروں، 32 کھرب روپے کی فراہمی، 20 سال میں قرض کی واپسی اور پہلے 10 سال کے لیے 5 فیصد شرحِ سود کو بڑے پُرکشش انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ لیکن یہ نہیں بتایا گیا کہ 10 سال بعد قرض لینے والے خاندان کے ساتھ کیا ہوگا۔
حکومت کی ویب سائٹ پر صرف اتنا بتایا گیا ہے کہ 10 سال بعد مارکیٹ کی شرحِ سود لاگو ہوگی، لیکن یہ وضاحت نہیں کی گئی کہ اس سے ماہانہ قسط کتنی بڑھ سکتی ہے اور ایک عام خاندان یہ اضافی بوجھ کیسے برداشت کرے گا۔
سوال یہ ہے کہ کیا حکومت نے اگلے 10 سال کے مالی خطرات کا بھی جائزہ لیا ہے؟ کیا اسے اندازہ ہے کہ کتنے خاندان بڑھتی ہوئی اقساط ادا نہیں کر سکیں گے اور اپنے گھر سے محروم ہونے کے خطرے میں پڑ جائیں گے؟
آخر حکومتیں کسی اسکیم کے فائدے تو بڑے بڑے اشتہارات میں دکھاتی ہیں، لیکن اس کے ممکنہ نقصانات عوام کو اسی وضاحت سے کیوں نہیں بتاتیں؟ کیا یہ ناقص منصوبہ بندی ہے یا جان بوجھ کر صرف پُرکشش پہلو سامنے رکھا جاتا ہے؟ گھر خریدنے والا خاندان کوئی کاروبار نہیں کر رہا، بلکہ اپنی زندگی بھر کی جمع پونجی اور اگلے 20 سال کی آمدنی داؤ پر لگا رہا ہے۔ حکومت کی ذمہ داری صرف گھر دلوانا نہیں، بلکہ اسے مالی مشکلات کے باعث نیلام ہونے سے بچانے کا انتظام کرنا بھی ہے۔