Home
Image
⭕️ پیاز ٹماٹر چند روپے مہنگے ہو جائیں تو ہم مہنگائی کا ماتم شروع کر دیتے ہیں، پورے میڈیا اور سوسائٹی میں طوفان اٹھ کھڑا ہوتا ہے، لیکن جب زمین، پلاٹس اور مکانات کی قیمتیں راتوں رات دگنی یا تگنی 
 ہو جاتی ہیں، تو ہم خوشیاں کیوں مناتے ہیں؟
 
حالانکہ جائیداد کی بڑھتی ہوئی قیمتوں سے کروڑوں افراد براہِ راست متاثر ہوتے ہیں، خصوصاً وہ لوگ جن کے پاس نہ کوئی اضافی پلاٹ ہوتا ہے، نہ مکان اور نہ ہی جائیداد کی بڑھتی ہوئی قیمتوں سے مالی فائدہ اٹھانے کا کوئی موقع۔
آخر ایسا کیوں ہے کہ اشیائے ضروریہ کی مہنگائی ہمیں پریشان کرتی ہے، جبکہ جائیداد کی مہنگائی کو ہم خوشحالی اور ترقی کی علامت سمجھنے لگتے ہیں؟
 
ہمارے اس رویے کے پیچھے کئی اہم نفسیاتی، معاشرتی اور معاشی عوامل کارفرما ہیں۔ آئیے سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں کہ نفسیات اور معاشیات کی اصطلاحات میں اس طرزِ فکر کو کس طرح بیان کیا جاتا ہے۔
مشہور امریکی ماہرِ معاشیات ارونگ فشر (Irving Fisher) نے 1928ء میں اپنی کتاب The Money Illusion میں اس نفسیاتی اور معاشی رویے کا تفصیلی جائزہ لیا تھا۔ انہوں نے واضح کیا تھا کہ عام لوگ اکثر روپے کی ظاہری قیمت (Nominal Value) کو حقیقی قوتِ خرید (Real Purchasing Power) سمجھ بیٹھتے ہیں اور مہنگائی کے اثرات نظرانداز کر دیتے ہیں۔ معاشیات میں اس رجحان کو مالیاتی وہم (Money Illusion) کہا جاتا ہے۔
ارونگ فشر سے پہلے بھی کئی معاشی مفکرین اس تصور پر اپنے اپنے انداز میں بحث کر چکے تھے، جس کا ایک مختصر جائزہ ہم اپنے قارئین کی دلچسپی کے لیے پیش کر رہے ہیں۔
 
1- دولت ہونے کا وہم (Money Illusion)
معاشی نفسیات (Behavioral Economics) میں اس رجحان کو Money Illusion (دولت ہونے کا وہم) کہا جاتا ہے۔ انسان اکثر چیزوں کی حقیقی قوتِ خرید (Purchasing Power) کو سمجھے بغیر صرف ظاہری عددی اضافے (Nominal Value) کو اپنی خوشحالی سمجھ لیتا ہے۔
فرض کریں کسی کے پاس لاہور یا کسی بھی بڑے شہر میں ایک مکان ہے جس کی قیمت 50 لاکھ سے بڑھ کر 1 کروڑ روپیہ ہو گئی ہے۔ تو وہ کاغذوں میں دگنا امیر ہو گیا ہے، لیکن اگر اسی شہر میں باقی تمام مکانات، زمین اور اشیا کی قیمتیں بھی اسی تناسب سے بڑھی ہیں، تو وہ شخص اس رقم سے آج بھی وہی معیارِ زندگی خرید سکتا ہے جو وہ پہلے 50 لاکھ میں خرید سکتا تھا۔
ایسی صورت میں اس کی اصل دولت (Real Wealth) وہیں کی وہیں رہتی ہے اور حقیقی قوتِ خرید (Real Purchasing Power) میں کوئی اضافہ نہیں ہوتا، لیکن انسان کا نفسیاتی نظام صرف ’’1 کروڑ‘‘ کے بڑے عددی ہندسے کو دیکھ کر خوشی محسوس کرتا ہے۔ معاشی نفسیات (Behavioral Economics) میں یہ ایک تسلیم شدہ رجحان ہے کہ انسان اکثر حقیقی معاشی قدر کے بجائے ظاہری عددی اضافے کے وہم کا شکار ہو جاتا ہے۔
 
2۔ جائیداد نہ ہونے کے باوجود قیمتیں بڑھنے پر خوشی کیوں؟
‏(Aspirational Bias & Association)
علمِ نفسیات میں ایک تصور Aspirational Identification یا احساسِ وابستگی کا ہے۔ جن لوگوں کے پاس جائیداد نہیں بھی ہوتی، وہ بھی اس دوڑ میں شامل اس لیے ہوتے ہیں کیونکہ ہمارے معاشرے میں “پراپرٹی” کو کامیابی اور عزتِ نفس کا سب سے بڑا پیمانہ سمجھ لیا گیا ہے۔
لوگ یہ امید لگائے بیٹھتے ہیں کہ شاید کل کو وہ بھی اس نظام کا حصہ بن جائیں گے۔
اس کے علاوہ، اجتماعی سطح پر لوگ اپنے آپ کو امیر طبقے یا کامیاب رجحانات کے ساتھ جوڑنا پسند کرتے ہیں۔ پراپرٹی کے دام بڑھنے کو اجتماعی ترقی سمجھ لیا جاتا ہے، خواہ عام آدمی کے لیے چھت حاصل کرنا ناممکن ہی کیوں نہ ہو جائے۔
 
3- قیاس آرائی اور راتوں رات امیر بننے کا خواب (Speculative Fever & Gambling Psychology)
ہمارے معاشرے میں زمین اب صرف رہنے کی جگہ نہیں رہی، بلکہ یہ ایک بڑے ’جوا خانے‘ یا سرمایہ کاری کے بازار میں تبدیل ہو چکی ہے۔ جب کوئی شخص دیکھتا ہے کہ اس کے پڑوسی کا پلاٹ مہنگا ہو گیا ہے، تو اس کے اندر FOMO یعنی (Fear of Missing Out)، موقع ہاتھ سے نکل جانے کا خوف پیدا ہوتا ہے۔
لوگوں کی نفسیات یہ بن جاتی ہے کہ اگر آج قیمتیں بڑھ رہی ہیں تو کل وہ بھی اس بہتی گنگا میں ہاتھ دھو لیں گے۔ یہ دراصل اجتماعی قیاس آرائی (Speculation) ہے، جہاں ہر شخص خود کو منافع کمانے والا سمجھتا ہے، چاہے حقیقت میں وہ مہنگائی کی چکی میں ہی کیوں نہ پس رہا ہو۔
 
4- روزمرہ کی مہنگائی اور جائیداد کی مہنگائی کا فرق (Visible Inflation vs. Structural Inflation)
سبزی اور آٹے کی قیمتوں کا تعلق براہِ راست روزمرہ کے پیٹ بھرنے سے ہے، اس لیے وہ فوری تکلیف دیتی ہیں اور ان پر غصہ بھی فوراً باہر آتا ہے۔ اس کے برعکس، رئیل اسٹیٹ (پراپرٹی) کی قیمتوں کا بڑھنا عام آدمی کو پہلی نظر میں ایک ’’اچھی خبر‘‘ یا خوشحالی کا استعارہ لگتا ہے۔
لوگ یہ سمجھ ہی نہیں پاتے کہ زمین مہنگی ہونے کا مطلب اشیائے ضرورت کی تقریباً ہر چیز کا مہنگا ہونا ہے۔ گھروں اور دکانوں کے ہوشربا کرائے، بچوں کی تعلیم، علاج معالجے، گروسری، اشیائے ضروریہ اور کاروباری اخراجات سب اس سے متاثر ہوتے ہیں۔ یوں لوگ جائیداد کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کو خوشحالی کا آغاز سمجھ کر خوشیاں مناتے ہیں، حالانکہ وہ یہ نہیں جانتے کہ یہ جشن ان کی اپنی معاشی تباہی کا پیش خیمہ بھی بن سکتا ہے۔ ایسے جشن منا کر ہم ایک ایسی آگ کو ہوا دے رہے ہوتے ہیں جو بالآخر ہمارے اپنے ہی گھروں کو جلا دیتی ہے۔
 
🔺 زمینی حقائق: رئیل اسٹیٹ کا کالم
 
0
Views
2
0

مزید زمینی حقائق

Image

Image

Image

Image

Image