Home
Image
پاکستان میں ایک ایسا نیا وفاقی قانون منظور ہوا ہے جس کے تحت بینکوں کو رہائشی قرضوں کی عدم ادائیگی پر گروی رکھے گئے گھر فروخت کرنے کے مکمل اختیارات دیے گئے ہیں۔
یہ قانون ہے۔
‏Financial Institutions (Recovery of Finances) (Amendment) Act, 2026
 
پاکستان میں ایک ایسا نیا وفاقی قانون منظور ہوا ہے جس کے تحت بینکوں کو رہائشی قرضوں کی عدم ادائیگی پر گروی رکھے گئے گھر فروخت کرنے کے مکمل اختیارات دیے گئے ہیں۔یہ قانون مکان مالکان کی تمام جائیدادوں پر لاگو نہیں ہوتا، بلکہ ہاؤسنگ فنانس کے لیے گروی رکھی گئی جائیدادوں سے متعلق ہے۔
 
اصل تشویش یہ ہے کہ اگر قرض لینے والے شخص کو مناسب قانونی تحفظ نہ ملا تو وہ مالی مشکلات کے باعث اپنے گھر سے محروم ہوسکتا ہے۔
 
اس قانون کی 3 انتہائی اہم شقیں یہ ہیں
 
1- عدالت کے ابتدائی حکم کے بغیر نیلامی: 
قانونی نوٹس اور مقررہ شرائط پوری ہونے پر بینک گھر کی نیلامی کرسکتا ہے۔

2- ڈپٹی کمشنر کے ذریعے قبضہ:

قانون انتظامیہ کو گروی جائیداد کا قبضہ بینک کے حوالے کروانے کا اختیار دیتا ہے۔

3- اعتراض کے لیے صرف 7 دن: 

نیلامی میں دھوکے کی بنیاد پر اسے منسوخ کروانے کی درخواست کے لیے 7 دن ہیں، اور درخواست گزار کو بقایا رقم کے 25 فیصد کے برابر رقم یا قابلِ قبول ضمانت دینا ہوگی۔
 
آخری 2 شقیں خاص طور پر سنجیدہ قانونی بحث کا تقاضا کرتی ہیں، کیونکہ مالی مشکلات میں مبتلا شخص کے لیے فوری ضمانت کا بندوبست مشکل ہوسکتا ہے۔
 
اس قانون کی منظوری سے پہلے اگر کوئی شخص بینک سے قرض لے کر اپنا مکان گروی رکھتا اور قرض واپس نہ کرتا تھا تو بینک کو مکان کا قبضہ حاصل کرنے کے لیے بینکنگ کورٹ کی مدد لینا پڑتی تھی۔ لیکن اب نئے قانون کے تحت بینک قانونی شرائط پوری کرنے کے بعد ڈپٹی کمشنر سے رابطہ کرسکتا ہے، جو انتظامیہ کی مدد سے مکان کا قبضہ بینک کو دلوا سکتا ہے۔ یعنی پہلے قبضہ دلوانے میں عدالت کا براہِ راست کردار تھا، لیکن اب مخصوص حالات میں عدالت کے الگ حکم کے بغیر بھی ڈپٹی کمشنر کے ذریعے مکان کا قبضہ حاصل کیا جاسکتا ہے۔
 
🌴زمینی حقائق
رئیل اسٹیٹ اور پراپرٹی کا کالم
0
Views
8
2

مزید زمینی حقائق

Image

Image

Image

Image

Image