زمینی حقائق: سید شایان کا کالم
روایتی طور پر دنیا بھر میں جائیداد کی قیمت اور قدر کا اندازہ “لوکیشن، لوکیشن، لوکیشن” کے اصول پر لگایا جاتا ہے، لیکن بدلتے ہوئے ماحولیاتی حالات اور پانی کے بڑھتے ہوئے بحران نے مستقبل کی ریئل اسٹیٹ کے معیار بالکل بدل دیے ہیں۔
مستقبل میں کسی پلاٹ یا رہائشی منصوبے کی قیمت کا تعین صرف لوکیشن، سڑکوں اور سہولتوں سے نہیں بلکہ پانی کی مسلسل دستیابی سے بھی ہوگا۔ جن علاقوں میں زیرِ زمین پانی تیزی سے کم ہو رہا ہے، وہاں رہائش کے اخراجات بڑھ سکتے ہیں، جس سے جائیداد کی قیمتیں متاثر ہو سکتی ہیں۔ پاکستان کی ریئل اسٹیٹ مارکیٹ میں یہ ایک اہم مگر نسبتاً نظرانداز کیا جانے والا پہلو ہے۔
پاکستان میں پانی کی قلت اب صرف ماحولیاتی مسئلہ نہیں بلکہ رہائشی اخراجات اور بنیادی سہولیات کا ایک اہم مسئلہ بھی بن رہی ہے۔
6 اکتوبر 2026 کی ڈان کی رپورٹ کے مطابق کلفٹن اور ڈیفنس کے رہائشیوں کا پانی کے ٹینکرز پر انحصار دن بہ دن بڑھ رہا ہے اور سرکاری ٹینکر سروس میں 2 سے 3 ماہ تک کی تاخیر کی شکایات عام ہیں، جبکہ بعض نجی ٹینکرز کی قیمت 12,000 روپے تک بتائی گئی ہے، یعنی ماہانہ 4 ٹینکر استعمال کرنے والے گھرانے کو صرف پانی پر 48,000 روپے خرچ کرنا پڑ رہے ہیں۔
اسی طرح اسلام آباد کی نجی ہاؤسنگ سوسائٹی “ڈاکٹرز ٹاؤن” کے رہائشیوں نے ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان (APP) کی 2023 کی رپورٹ میں شکایت کی کہ سوسائٹی کو پانی کے بل ادا کرنے کے باوجود انہیں 2,000 سے 4,000 روپے فی ٹینکر پانی خریدنا پڑتا ہے۔
رپورٹ میں پی ڈبلیو ڈی کے علاقے میں بھی پانی کی قلت کا ذکر ہے۔ 12 ستمبر 2022 کو روزنامہ ڈان نے انکشاف کیا کہ اسلام آباد کے سیکٹر I-14 اور I-16 میں پانی کی باقاعدہ سپلائی نہ ہونے اور زیرِ زمین پانی کی سطح گرنے کے باعث رہائشی نجی بورنگ اور ٹینکرز پر انحصار کر رہے ہیں، جن کی قیمت 3,500 سے 4,000 روپے فی ٹینکر تھی۔ مزید یہ کہ 19 جولائی 2026 کو اسلام آباد ٹریبیون نے سیکٹر H-13 کے رہائشیوں کی شکایات رپورٹ کیں کہ ٹیوب ویل خشک ہونے اور زیرِ زمین پانی کی سطح گرنے سے انہیں مہنگے ٹینکرز خریدنا پڑ رہے ہیں۔ یہ مثالیں ظاہر کرتی ہیں کہ گھر خریدتے وقت صرف پلاٹ کی قیمت اور لوکیشن نہیں بلکہ پانی کی مستقل دستیابی اور اس کے اخراجات بھی دیکھنا ضروری ہیں۔
مجھے خدشہ ہے کہ مستقبل میں وہ ہاؤسنگ سوسائٹیاں تیزی سے اپنی کشش اور اہمیت کھو دیں گی جہاں زیرِ زمین پانی کی سطح مسلسل گر رہی ہے یا پانی آلودہ ہوتا جا رہا ہے۔ اگر پینے کے صاف پانی کی مستقل فراہمی یقینی نہ بنائی گئی تو ایسی ہاؤسنگ سوسائٹیوں میں جائیداد کی قیمتیں متاثر ہو سکتی ہیں اور وقت گزرنے کے ساتھ وہاں سے آبادی کی نقل مکانی بھی شروع ہو سکتی ہے۔
آنے والے دنوں میں صرف ماحول دوست اور ماحولیاتی تحفظ پر مبنی ریئل اسٹیٹ (Eco-friendly & Sustainable Real Estate) کی مانگ میں اضافہ ہوگا۔ وہ ہاؤسنگ اسکیمیں جو واٹر مینجمنٹ، واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹس اور زیرِ زمین آبی وسائل کے تحفظ پر کام کریں گی، طویل المدت بنیادوں پر سب سے زیادہ محفوظ اور منافع بخش سرمایہ کاری ثابت ہوں گی۔
اس مضمون کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ پاکستان میں نئی ہاؤسنگ سوسائٹیوں میں پلاٹ خریدتے وقت پانی کی دستیابی اور خریدار کی طرف سے اس کی تکنیکی جانچ پڑتال کا کوئی رواج نہیں ہے، حالانکہ ملک کے مختلف شہروں میں زیرِ زمین پانی کی سطح مسلسل گرنے کے باعث یہ معاملہ نہایت اہم ہو چکا ہے۔
یہ ذمہ داری پلاٹ خریدنے والوں کے لیے بھی اتنی ہی ضروری ہے جتنی ہاؤسنگ سوسائٹیوں کے ڈویلپرز کے لیے۔ جب کوئی نئی ہاؤسنگ اسکیم بنائی جائے یا اس میں پلاٹ خریدا جائے تو درج ذیل پانچ بنیادی امور کی تصدیق ضروری ہے۔
1۔ زیرِ زمین پانی کی گہرائی (Water Table Depth): مقامی علاقے میں پانی کتنے فٹ کی گہرائی پر دستیاب ہے اور گزشتہ 5 سے 10 سال میں اس کی سطح میں کتنی کمی آئی ہے۔
2۔ پانی کا معیار (TDS Testing): پانی پینے کے قابل ہے یا کھارا اور سخت (Hard/Saline Water) ہے۔ اگر پانی میں حل شدہ مادوں کی مجموعی مقدار (Total Dissolved Solids، TDS) بہت زیادہ ہو تو واٹر فلٹریشن اور آر او (RO) پلانٹس کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔
3۔ ریچارج کا نظام: کیا سوسائٹی کے ماسٹر پلان میں بارش کے پانی کو ذخیرہ کرنے (Rainwater Harvesting) اور زیرِ زمین پانی کو ریچارج کرنے کے لیے مخصوص نظام شامل ہے؟
4۔ ڈرینیج کا نظام: کیا سوسائٹی میں بارش اور استعمال شدہ پانی کی نکاسی کے لیے مؤثر ڈرینیج (Drainage) کا انتظام موجود ہے؟
5۔ سوسائٹی کا اپنا واٹر سپلائی نیٹ ورک: سوسائٹی کے پاس اپنے ٹیوب ویل، واٹر فلٹریشن پلانٹس اور اوور ہیڈ واٹر ٹینکس کا کیا انتظام ہے؟
ان سہولتوں کی موجودگی سے خریداروں کا اعتماد بڑھے گا، پلاٹوں کی فروخت میں آسانی ہوگی اور ایسی ہاؤسنگ سوسائٹیوں کی طلب دوسری سوسائٹیوں کے مقابلے میں زیادہ ہو سکتی ہے۔ یہی سہولتیں مستقبل میں جائیداد کی بہتر مارکیٹ ویلیو کا سبب بھی بن سکتی ہیں، کیونکہ خریدار محض سستے پلاٹ کے بجائے پانی کی مستقل دستیابی اور کم رہائشی اخراجات کو بھی ترجیح دیں گے۔
ماحولیاتی تحفظ کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگائیے کہ دنیا کے تقریباً 200 ممالک ہر سال اقوام متحدہ کی عالمی ماحولیاتی کانفرنس (COP) میں شریک ہوتے ہیں، جہاں عالمی رہنما، حکومتی نمائندے اور ماہرین موسمیاتی تبدیلیوں، صاف پینے کے پانی، آب و ہوا اور ان کے مستقبل کے اثرات پر غور کرتے ہیں۔ اب ذرا سوچیے کہ جس مسئلے پر پوری دنیا اس قدر سنجیدہ ہے، پاکستان میں نئی ہاؤسنگ سوسائٹیوں کی منصوبہ بندی کرتے وقت اسے کتنی اہمیت دی جا رہی ہے؟
ہمارے مشترکہ خاندانی نظام میں زیادہ تر گھرانے 30 سے 40 سال تک اسی گھر میں رہتے ہیں۔ آج 2026 ہے، اس میں 40 سال شامل کریں تو 2066 بنتا ہے۔ کیا گھر یا پلاٹ خریدتے وقت ہم نے سوچا ہے کہ اس وقت تک زیرِ زمین پانی کی سطح، پانی کی دستیابی اور ماحولیاتی حالات کہاں پہنچ چکے ہوں گے؟
اسی لیے میں وفاقی اور صوبائی حکومتوں اور تمام ڈویلپمنٹ اتھارٹیز کے سامنے بار بار یہ سوال اٹھاتا ہوں کہ کسی ایسی نئی ہاؤسنگ سوسائٹی کی منظوری نہ دی جائے جس کے ماسٹر پلان میں پانی کی مستقل فراہمی، واٹر ٹریٹمنٹ، Rainwater Harvesting، Groundwater Recharge اور مؤثر Drainage کا قابلِ عمل انتظام موجود نہ ہو۔
میں نے لاہور، کراچی، اسلام آباد اور فیصل آباد کی ڈویلپمنٹ اتھارٹیز کے قواعد کا جائزہ لیا تو معلوم ہوا کہ ماحولیاتی تحفظ اور پانی کے انتظام سے متعلق قوانین اور ضوابط تو موجود ہیں، لیکن اصل سوال ان پر عمل درآمد اور مستقبل میں پانی کی مستقل دستیابی کا ہے۔
لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (LDA) کے Building and Zoning Regulations 2019 میں Rainwater Harvesting اور زیرِ زمین پانی کے ریچارج کی شرائط موجود ہیں۔
اسلام آباد میں کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (CDA) کے 2023 کے ضوابط کے تحت ہاؤسنگ سوسائٹیوں سے واٹر سپلائی، سیوریج ٹریٹمنٹ اور ماحولیاتی منظوری کا تقاضا کیا جاتا ہے۔
کراچی میں Sindh Environmental Protection Agency کے Environmental Assessment Regulations 2021 کے تحت ہاؤسنگ منصوبوں کی ماحولیاتی جانچ کا نظام موجود ہے،
جبکہ فیصل آباد ڈویلپمنٹ اتھارٹی (FDA) کے Building and Zoning Regulations 2020 میں Rainwater Harvesting اور Groundwater Recharge کی باقاعدہ شرائط شامل ہیں۔
اس کے باوجود بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا نئی ہاؤسنگ سوسائٹی کی منظوری دینے سے پہلے یہ بھی دیکھا جاتا ہے کہ اگلے 30 سے 40 سال تک وہاں پانی کہاں سے آئے گا؟ زیرِ زمین پانی کی سطح کتنی تیزی سے نیچے جا رہی ہے؟ پانی پینے کے قابل ہے یا نہیں؟ اور بڑھتی ہوئی آبادی کے لیے پانی کا انتظام کیسے ہوگا؟
میں نے چاروں شہروں کی ڈویلپمنٹ اتھارٹیز کے قوانین اور قواعد کا بہت غور سے جائزہ لیا، لیکن مجھے کہیں بھی ایسی کوئی شرط یا پابندی نظر نہیں آئی جس سے اطمینان ہو سکے کہ نئی ہاؤسنگ سوسائٹیوں میں آئندہ 30 سے 40 سال تک پانی کی فراہمی یقینی بنائی جائے گی۔
اوکاڑا اور ساہیوال کی زرعی بیلٹ سے لے کر فیصل آباد اور چنیوٹ کے صنعتی علاقوں تک زیرِ زمین پانی کا بحران سنگین ہوتا جا رہا ہے۔ ان علاقوں کے بعض حصوں میں پانی کا کھاراپن بڑھ رہا ہے اور TDS کی مقدار بھی مقررہ حدود سے تجاوز کر رہی ہے۔ لاہور کے بالخصوص جنوبی اور مشرقی علاقوں میں زیرِ زمین پانی کے بے تحاشا استعمال اور دریائے راوی میں پانی کے محدود بہاؤ کے باعث پانی کی سطح مسلسل گر رہی ہے، جبکہ بعض علاقوں میں سنکھیا (Arsenic) سمیت دیگر آلودگیوں کی موجودگی بھی تشویش کا باعث ہے۔
اسلام آباد میں بھی بڑھتی ہوئی آبادی، نئی ہاؤسنگ سوسائٹیوں اور ٹیوب ویلوں پر انحصار کے باعث زیرِ زمین پانی کے ذخائر دباؤ کا شکار ہیں۔ بلوچستان، بالخصوص کوئٹہ، ژوب اور گردونواح میں صورتحال مزید سنگین ہے، جہاں محدود بارشوں، ناکافی قدرتی ریچارج اور بے تحاشا ٹیوب ویلوں نے پانی کی سطح کو خطرناک حد تک نیچے پہنچا دیا ہے۔ دوسری جانب کراچی اور ٹھٹھہ کی ساحلی پٹی میں سمندری پانی کی زیرِ زمین میٹھے پانی میں مداخلت، پانی کی آلودگی اور سرکاری فراہمی کے ناکافی انتظامات نے شہریوں کی مشکلات بڑھا دی ہیں۔
ان حالات میں میرا بنیادی سوال یہ ہے کہ جب ملک کے بڑے شہروں میں زیرِ زمین پانی کی سطح مسلسل گر رہی ہے اور کئی علاقوں میں پانی پینے کے قابل بھی نہیں رہا تو ہم نئی ہاؤسنگ سوسائٹیوں کے نام پر شہروں کو مزید پھیلانے کی پالیسی پر کیوں قائم ہیں؟ کیا یہ زیادہ مناسب نہیں ہوگا کہ نئی ہاؤسنگ سوسائٹیوں کے بے تحاشا پھیلاؤ کے بجائے ہم عمودی رہائش (Vertical Housing) کو ترجیح دیں، موجودہ شہروں کے انفراسٹرکچر کو بہتر بنائیں، پانی کی فراہمی، سیوریج اور نکاسی آب کے نظام کو جدید بنائیں اور دستیاب وسائل کا زیادہ مؤثر استعمال کریں۔
اس مضمون کے ساتھ میں پاکستان کے چار بڑے شہروں، لاہور، کراچی، اسلام آباد اور کوئٹہ کا ایک تصوراتی گراف بھی شائع کر رہا ہوں، جس میں 2000 سے 2026 تک زیرِ زمین پانی کی گرتی ہوئی سطح کو علامتی انداز میں دکھایا گیا ہے۔ یہ گراف حقیقی پیمائشوں یا سال وار اعداد و شمار پر مبنی نہیں، بلکہ پانی کے بڑھتے ہوئے بحران کی سنگینی کو سمجھانے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ میری گزارش ہے کہ اپنے قیمتی وقت میں سے چند لمحے نکال کر اس تصویر میں پیش کیے گئے اس تصوراتی گراف کو غور سے دیکھیے۔ بہت کچھ آپ کی سمجھ میں خودبخود آ جائے گا۔