ہر سال جب وفاقی بجٹ پیش ہوتا ہے تو ملک بھر میں ایک نئی بحث شروع ہو جاتی ہے۔ حکومت کہتی ہے کہ معیشت بہتر ہوگی، کاروباری سرگرمیاں بڑھیں گی اور سرمایہ کاری میں اضافہ ہوگا۔ دوسری طرف کاروباری کمیونٹی کا کہنا ہوتا ہے کہ نئے ٹیکسوں اور حکومتی فیصلوں سے کاروبار مزید مشکلات کا شکار ہو جائے گا۔ لیکن آج ہمیں دیکھنا یہ ہے کہ بجٹ میں کیے گئے اعلانات کے بعد پاکستان کے رئیل اسٹیٹ سیکٹر میں کیا تبدیلی آئی ہے؟
اکثر لوگ مجھ سے پوچھتے ہیں کہ پاکستان کی رئیل اسٹیٹ مارکیٹ کیسی جا رہی ہے؟ کیا جائیداد کی خرید و فروخت بڑھ رہی ہے؟ کیا قیمتیں اوپر جا رہی ہیں؟ کیا سرمایہ کاری کا یہ مناسب وقت ہے یا ابھی انتظار کرنا چاہیے؟
میں سمجھتا ہوں کہ ان سوالوں کا جواب رئیل اسٹیٹ ایجنٹس کے دعووں، ہاؤسنگ سوسائٹیوں کے اشتہارات یا محض اندازوں سے نہیں بلکہ اعداد و شمار سے ملنا چاہیے۔
12 جون 2026 کو وفاقی بجٹ پیش ہوا۔ اس میں جائیداد کی خرید و فروخت پر ٹیکس کی اہم رعایتیں دی گئیں، جو یکم جولائی سے نافذ ہوئیں۔ اب بجٹ کو تقریباً چار ماہ اور اس کے نفاذ کو ساڑھے تین ماہ گزر چکے ہیں۔ آئیے دیکھتے ہیں کہ اس دوران پاکستان کی رئیل اسٹیٹ مارکیٹ میں کیا تبدیلی آئی ہے اور وہ اس وقت کہاں کھڑی ہے۔
پہلے یہ دیکھتے ہیں کہ اس بجٹ نے پاکستان کی رئیل اسٹیٹ مارکیٹ پر کیا اثرات ڈالے۔
اس بجٹ میں جائیداد فروخت کرنے والے ٹیکس دہندگان کے لیے ایڈوانس انکم ٹیکس کی شرح، جو پہلے جائیداد کی مالیت کے مطابق 4.5 سے 5.5 فیصد تھی، کم کرکے 2.75 فیصد مقرر کردی گئی۔ اسی طرح خریدار کے لیے پہلے 1.5 سے 2.5 فیصد تک ٹیکس تھا، جو کم کرکے 1.25 فیصد کردیا گیا۔
اس تبدیلی کو ایک مثال سے سمجھ لیجیے۔
فرض کریں ایک شخص 5 کروڑ روپے کا مکان فروخت کرتا ہے اور خریدار اور فروخت کنندہ دونوں فعال ٹیکس دہندگان ہیں۔ اگر جائیداد کی قابلِ ٹیکس مالیت بھی 5 کروڑ روپے ہو تو پہلے فروخت کنندہ کے لیے ایڈوانس انکم ٹیکس 22 لاکھ 50 ہزار روپے بنتا تھا، جو اب 13 لاکھ 75 ہزار روپے ہے۔ یعنی 8 لاکھ 75 ہزار روپے کی کمی۔
اسی طرح خریدار کا ایڈوانس انکم ٹیکس پہلے 7 لاکھ 50 ہزار روپے تھا، جو اب 6 لاکھ 25 ہزار روپے رہ گیا ہے۔ اس طرح دونوں فریقوں کے ایڈوانس ٹیکس کو ملا کر ایک ہی سودے میں 10 لاکھ روپے کی کمی آتی ہے۔
یہ معمولی رعایت نہیں۔ البتہ یاد رہے کہ یہ ایڈوانس انکم ٹیکس کا موازنہ ہے۔ اسٹامپ ڈیوٹی، رجسٹریشن، صوبائی ٹرانسفر فیس اور قابلِ اطلاق کیپیٹل گین ٹیکس اس سے الگ معاملات ہیں۔
اس کے علاوہ سیکشن 7E بھی ختم کردیا گیا، جس کے تحت بعض جائیدادوں کی فرضی آمدن پر ٹیکس عائد ہوتا تھا، خواہ ان سے حقیقی کرایہ حاصل نہ ہوتا ہو۔
اس بجٹ سے جو تبدیلی اعداد و شمار میں نظر آتی ہے اسے میں ایک مثال سے سمجھاتا ہوں
17 اگست 2026 کو سامنے آنے والی رپورٹس میں ایف بی آر کے اعداد کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ جولائی 2025 میں پاکستان میں تقریباً 60 ہزار جائیداد کے سودے ریکارڈ ہوئے تھے۔
اس کے مقابلے میں جولائی 2026 میں یہ تعداد تقریباً 90 ہزار تک پہنچ گئی۔
یعنی ایک ہی مہینے میں گزشتہ سال کے مقابلے میں 30 ہزار زیادہ سودے، جو 50 فیصد اضافہ ہے۔
یہ ایک اہم پیش رفت ہے۔ لیکن اس کا صحیح مطلب سمجھنا بھی ضروری ہے۔
یہ 90 ہزار سودے ایک ماہ یعنی صرف جولائی 2026 کے رپورٹ کردہ ہیں۔
جولائی کے دوران جائیداد کی خرید و فروخت پر سیکشن 236C اور 236K کے تحت مجموعی طور پر تقریباً 15 ارب 50 کروڑ روپے ایڈوانس انکم ٹیکس وصول ہونے کی اطلاع بھی ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ اگر جائیداد کے سودوں میں 50 فیصد اضافہ ہوا ہے تو کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ پاکستان کی رئیل اسٹیٹ مارکیٹ ایک نئے سنہرے دور میں داخل ہو گئی ہے؟
میرے نزدیک ایسا نتیجہ نکالنا جلد بازی ہوگی۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ سودوں کی تعداد بڑھنے اور جائیداد کی قیمتیں بڑھنے میں فرق ہے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ بعض خریدار اور فروخت کنندگان ٹیکس میں کمی کے انتظار میں اپنے سودے روکے ہوئے تھے اور نئی شرح نافذ ہوتے ہی انہوں نے رجسٹریاں کروا لیں۔
یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ ان سودوں میں رہائشی مکان کتنے تھے، پلاٹ کتنے تھے، تجارتی جائیدادیں کتنی تھیں اور کتنے سودے محض ملکیت کی منتقلی کے تھے۔
جب تک یہ تفصیلی اعداد دستیاب نہیں ہوتے، مارکیٹ کی مکمل بحالی کا دعویٰ نہیں کیا جاسکتا۔
یہاں ایک اور بات سمجھنا ضروری ہے۔ پاکستان کی رئیل اسٹیٹ کوئی ایک مارکیٹ نہیں بلکہ کئی الگ الگ مارکیٹوں کا مجموعہ ہے۔
کراچی میں اپارٹمنٹس، رہائشی مکانات، تجارتی عمارتوں اور خالی پلاٹوں کی طلب اور طرح کی ہے۔ لاہور میں ڈی ایچ اے، گلبرگ، جوہر ٹاؤن اور شہر کے مضافاتی علاقوں کی معاشی صورت حال ایک جیسی نہیں۔ اسلام آباد اور راولپنڈی میں بھی منظور شدہ نئے رہائشی منصوبوں، زیرِ تعمیر سوسائٹیوں اور محض فائلوں کی تجارت میں بہت فرق ہے۔
کسی علاقے میں قیمتیں بڑھ سکتی ہیں، جبکہ دوسرے علاقے میں خریدار نہ ملنے کے باعث جائیداد مہینوں فروخت نہیں ہوتی۔
اس لیے اگر کوئی شخص یہ دعویٰ کرتا ہے کہ پاکستان میں پراپرٹی کی قیمتیں 20 یا 30 فیصد بڑھ گئی ہیں تو اس سے پوچھنا چاہیے کہ کس شہر میں، کس علاقے میں، کس قسم کی جائیداد کی قیمت بڑھی ہے، اور یہ قیمت حقیقی فروخت کی ہے یا صرف اشتہار میں مانگی گئی رقم؟
میرے نزدیک پاکستان کی رئیل اسٹیٹ کا ایک بنیادی مسئلہ قابلِ اعتماد قومی اعداد و شمار کی کمی بھی ہے۔ ہمیں ایسا مستند نظام چاہیے جس سے ہر ماہ معلوم ہوسکے کہ کتنی جائیدادیں فروخت ہوئیں، ان کی مجموعی مالیت کیا تھی اور ملک کے کس شہر میں جائیداد کی خرید و فروخت بڑھی اور کہاں کمی واقع ہوئی۔