مطالعہ کا دورانیہ: ⏱ 6 منٹ
نیٹ میٹرنگ کیوں محدود کی گئی اور نئے سولر صارفین اس سے فائدہ کیوں نہیں اٹھا سکیں گے؟
13 فروری کو وزارتِ خزانہ کی سالانہ اسٹیٹ اونڈ انٹرپرائزز (State Owned Enterprises) رپورٹ مالی سال 2025 جاری کی گئی۔
مالی سال 2025 میں SOEs کے مجموعی نقصانات 832.8 ارب روپے بتائے گئے ہیں جن میں پاور سیکٹر کا حصہ سب سے نمایاں ہے۔
پاکستان میں اس وقت چار بڑی سرکاری بجلی پیدا کرنے والی تھرمل جنریشن کمپنیاں یعنی GENCOs، جو Government Owned Generation Companies کہلاتی ہیں، وزارتِ توانائی پاور ڈویژن کے ماتحت کام کر رہی ہیں، اور چاروں ہی ہر سال کی طرح اس سال بھی شدید مالی خسارے میں ہیں۔
یہ وہ سرکاری پلانٹس ہیں جو اربوں روپے کی سرمایہ کاری، بھاری ایندھن خرچ اور انتظامی اخراجات کے باوجود مالی خسارے میں ہیں، جبکہ ایک عام شہری اپنی چھت پر سادہ سسٹم لگا کر کم لاگت بجلی پیدا کر کے منافع بھی کما رہا ہے۔
پاکستان میں جب ایک عام شہری اپنی چھت پر سولر سسٹم لگاتا ہے تو وہ دراصل ایک Distributed Generation یونٹ قائم کر دیتا ہے، جسے پالیسی سازوں کی زبان میں Rooftop Solar یا Microgeneration کہا جاتا ہے۔
اس کی ابتدائی سرمایہ کاری ذاتی ہوتی ہے، نہ کوئی حکومتی سبسڈی، نہ کوئی سرکاری قرض۔ اگر اس کے سولر سسٹم کی مجموعی لاگت کو اس کی اوسط 25 سالہ زندگی پر تقسیم کیا جائے تو اس کی لیولائزڈ کاسٹ عموماً 8 سے 10 روپے فی یونٹ کے درمیان آتی ہے، اور بعض حالات میں اس سے بھی کم۔ لیولائزڈ کاسٹ Levelized Cost of Electricity سے مراد سولر سسٹم کی وہ اوسط فی یونٹ لاگت ہے، جو اس منصوبے کی پوری عمر کے تمام اخراجات کو کل پیدا شدہ بجلی پر تقسیم کر کے نکالی جاتی ہے۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ شہری اپنے سرمائے سے کم لاگت بجلی پیدا کر رہا ہے، جس کی marginal cost تقریباً صفر ہے کیونکہ سورج کی روشنی مفت ہے۔ اور دلچسپ بات یہ ہے کہ وہ یہی بجلی قومی گرڈ Power Grid کو تقریباً 18 سے 20 روپے فی یونٹ بیچ کر ایک معقول منافع بھی حاصل کر لیتا ہے۔
اس کے مقابلے میں سرکاری بجلی پیدا کرنے والی کمپنیاں یعنی GENCOs، جو Government Owned Generation Companies کہلاتی ہیں، ہزاروں کروڑ روپے کی لاگت سے قائم ہوتی ہیں اور زیادہ تر گیس یا فرنس آئل پر چلتی ہیں۔ ایندھن، آپریشن اور قرضوں کے سود سمیت ان کی لیولائزڈ کاسٹ عموماً 25 سے 35 روپے فی یونٹ رہتی ہے اور بعض حالات میں اس سے بھی بڑھ جاتی ہے۔ کم افادیت اور بلند فکسڈ اخراجات کے باعث یہ یونٹس 30 سے 50 روپے فی یونٹ لاگت پر بجلی فراہم کرنے کے باوجود خسارے میں رہتے ہیں
لطف کی بات یہ ہے کہ ان خسارے میں چلنے والی کمپنیوں کے ہزاروں ملازمین میں سے بیشتر کو اب بھی مفت بجلی فراہم کی جا رہی ہے، جبکہ سولر لگانے والے صارف سے ہر یونٹ کا مکمل حساب لیا جا رہا ہے۔ اور اگر GENCOs کے مالیاتی خسارے اور ان کی Efficiency کو دیکھیں تو پتہ چلتا ہے کہ یہ کمپنیاں اپنی کل صلاحیت کا صرف محدود حصہ پیدا کرتی ہیں مگر اخراجات مکمل وصول کیے جاتے ہیں۔
حقائق کے برعکس وزارتِ توانائی کے پاور ڈویژن نے نیٹ میٹرنگ ختم کر کے نیٹ بلنگ کا جواز اپنے مالی دباؤ اور سسٹم کے خسارے کو قرار دیا تھا، لیکن اب وزارتِ خزانہ کے اعداد و شمار بتا رہے ہیں کہ اصل وجہ سسٹم پر مالی دباؤ نہیں بلکہ کیپیسٹی پیمنٹس Capacity Payments کا وہ بوجھ ہے جو ناکارہ سرکاری پلانٹس اور آئی پی پیز IPPs کی وجہ سے بڑھ رہا ہے۔ جب شہری اپنی بجلی خود بناتا ہے تو گرڈ سے اس کی خریداری کم ہو جاتی ہے، جس سے حکومت کا وہ ریونیو کم ہوتا ہے جو اس نے ان بھاری بھرکم فکسڈ اخراجات کو پورا کرنے کے لیے صارفین سے وصول کرنا ہوتا ہے۔
اس کے برعکس پالیسی کا دباؤ اُن نجی سولر سرمایہ کاروں پر منتقل کیا گیا جو اپنی سرمایہ کاری سے کم لاگت بجلی پیدا کر رہے تھے، گرڈ پر بوجھ اور درآمدی ایندھن کی طلب کم کر رہے تھے۔ معاشی اعتبار سے زیادہ مناسب راستہ یہ تھا کہ ریاست اس ابھرتے ہوئے Distributed Generation ماڈل کو محدود کرنے کے بجائے اسے بہتر regulate کرتی، زیادہ facilitate کرتی اور اس کے لیے سازگار ماحول پیدا کرتی۔