Home
پبلشنگ کی تاریخ: 16 فروری, 2026
مطالعہ کا دورانیہ: ⏱ 6 منٹ
Image

نیٹ میٹرنگ کیوں محدود کی گئی اور نئے سولر صارفین اس سے فائدہ کیوں نہیں اٹھا سکیں گے؟

وزارتِ خزانہ نے ہوش اڑا دینے والے اعداد و شمار جاری کر دیے۔
سزا اسے مل رہی ہے جو سستی بجلی بنا رہا ہے، اور تحفظ اسے جو بجلی بنانے میں اربوں ڈبو رہا ہے۔

13 فروری کو وزارتِ خزانہ کی سالانہ اسٹیٹ اونڈ انٹرپرائزز (State Owned Enterprises) رپورٹ مالی سال 2025 جاری کی گئی۔


مالی سال 2025 میں SOEs کے مجموعی نقصانات 832.8 ارب روپے بتائے گئے ہیں جن میں پاور سیکٹر کا حصہ سب سے نمایاں ہے۔


پاکستان میں اس وقت چار بڑی سرکاری بجلی پیدا کرنے والی تھرمل جنریشن کمپنیاں یعنی GENCOs، جو Government Owned Generation Companies کہلاتی ہیں، وزارتِ توانائی پاور ڈویژن کے ماتحت کام کر رہی ہیں، اور چاروں ہی ہر سال کی طرح اس سال بھی شدید مالی خسارے میں ہیں۔


️جامشورو پاور کمپنی یعنی GENCO I (مقام جامشورو سندھ) کا حالیہ رپورٹ کے مطابق تقریباً 1.3 ارب روپے نقصان ظاہر کیا گیا ہے، جبکہ زمینی حقائق اس سے زیادہ خسارہ بتاتے ہیں۔ فرنس آئل پر انحصار اور پرانے یونٹس کی کم تھرمل ایفیشنسی %25 سے  %28 کے باعث 100 روپے کے ایندھن سے صرف 28 روپے کی بجلی بنتی ہے اور باقی توانائی ضائع ہو جاتی ہے۔


️سینٹرل پاور جنریشن کمپنی یعنی GENCO II (گڈو سندھ) کا خسارہ تقریباً 10.3 ارب روپے رہا۔ 747 میگاواٹ کمبائنڈ سائیکل یونٹ سستی بجلی کے لیے لگایا گیا تھا مگر بریک ڈاؤن اور انتظامی ناکامیوں کے باعث غیر مستحکم رہا۔ مقامی ماری گیس دستیاب ہونے کے باوجود کم افادیت اسے مہنگی بجلی میں بدل رہی ہے۔


️مظفر گڑھ میں GENCO III یعنی ناردرن پاور جنریشن کمپنی 1.5 ارب روپے کے حالیہ خسارے اور مجموعی 55 ارب روپے نقصانات کے ساتھ بحران کا شکار ہے۔ پرانی مشینری اور بلند لاگت کے باعث نجکاری کی کوششیں بھی کامیاب نہیں ہو سکیں۔


️لکھڑا پاور جنریشن کمپنی یعنی GENCO IV (مقام لکھڑا سندھ) تقریباً 1.1 ارب روپے خسارے میں رہی۔ پرانی کوئلہ ٹیکنالوجی اور کم افادیت اسے مسلسل مالی دباؤ میں رکھے ہوئے ہے


یہ وہ سرکاری پلانٹس ہیں جو اربوں روپے کی سرمایہ کاری، بھاری ایندھن خرچ اور انتظامی اخراجات کے باوجود مالی خسارے میں ہیں، جبکہ ایک عام شہری اپنی چھت پر سادہ سسٹم لگا کر کم لاگت بجلی پیدا کر کے منافع بھی کما رہا ہے۔


پاکستان میں جب ایک عام شہری اپنی چھت پر سولر سسٹم لگاتا ہے تو وہ دراصل ایک Distributed Generation یونٹ قائم کر دیتا ہے، جسے پالیسی سازوں کی زبان میں Rooftop Solar یا Microgeneration کہا جاتا ہے۔


اس کی ابتدائی سرمایہ کاری ذاتی ہوتی ہے، نہ کوئی حکومتی سبسڈی، نہ کوئی سرکاری قرض۔ اگر اس کے سولر سسٹم کی مجموعی لاگت کو اس کی اوسط 25 سالہ زندگی پر تقسیم کیا جائے تو اس کی لیولائزڈ کاسٹ عموماً 8 سے 10 روپے فی یونٹ کے درمیان آتی ہے، اور بعض حالات میں اس سے بھی کم۔ لیولائزڈ کاسٹ Levelized Cost of Electricity سے مراد سولر سسٹم کی وہ اوسط فی یونٹ لاگت ہے، جو اس منصوبے کی پوری عمر کے تمام اخراجات کو کل پیدا شدہ بجلی پر تقسیم کر کے نکالی جاتی ہے۔


اس کا مطلب یہ ہے کہ شہری اپنے سرمائے سے کم لاگت بجلی پیدا کر رہا ہے، جس کی marginal cost تقریباً صفر ہے کیونکہ سورج کی روشنی مفت ہے۔ اور دلچسپ بات یہ ہے کہ وہ یہی بجلی قومی گرڈ Power Grid کو تقریباً 18 سے 20 روپے فی یونٹ بیچ کر ایک معقول منافع بھی حاصل کر لیتا ہے۔


اس کے مقابلے میں سرکاری بجلی پیدا کرنے والی کمپنیاں یعنی GENCOs، جو Government Owned Generation Companies کہلاتی ہیں، ہزاروں کروڑ روپے کی لاگت سے قائم ہوتی ہیں اور زیادہ تر گیس یا فرنس آئل پر چلتی ہیں۔ ایندھن، آپریشن اور قرضوں کے سود سمیت ان کی لیولائزڈ کاسٹ عموماً 25 سے 35 روپے فی یونٹ رہتی ہے اور بعض حالات میں اس سے بھی بڑھ جاتی ہے۔ کم افادیت اور بلند فکسڈ اخراجات کے باعث یہ یونٹس 30 سے 50 روپے فی یونٹ لاگت پر بجلی فراہم کرنے کے باوجود خسارے میں رہتے ہیں


لطف کی بات یہ ہے کہ ان خسارے میں چلنے والی کمپنیوں کے ہزاروں ملازمین میں سے بیشتر کو اب بھی مفت بجلی فراہم کی جا رہی ہے، جبکہ سولر لگانے والے صارف سے ہر یونٹ کا مکمل حساب لیا جا رہا ہے۔ اور اگر GENCOs کے مالیاتی خسارے اور ان کی Efficiency کو دیکھیں تو پتہ چلتا ہے کہ یہ کمپنیاں اپنی کل صلاحیت کا صرف محدود حصہ پیدا کرتی ہیں مگر اخراجات مکمل وصول کیے جاتے ہیں۔


حقائق کے برعکس وزارتِ توانائی کے پاور ڈویژن نے نیٹ میٹرنگ ختم کر کے نیٹ بلنگ کا جواز اپنے مالی دباؤ اور سسٹم کے خسارے کو قرار دیا تھا، لیکن اب وزارتِ خزانہ کے اعداد و شمار بتا رہے ہیں کہ اصل وجہ سسٹم پر مالی دباؤ نہیں بلکہ کیپیسٹی پیمنٹس Capacity Payments کا وہ بوجھ ہے جو ناکارہ سرکاری پلانٹس اور آئی پی پیز IPPs کی وجہ سے بڑھ رہا ہے۔ جب شہری اپنی بجلی خود بناتا ہے تو گرڈ سے اس کی خریداری کم ہو جاتی ہے، جس سے حکومت کا وہ ریونیو کم ہوتا ہے جو اس نے ان بھاری بھرکم فکسڈ اخراجات کو پورا کرنے کے لیے صارفین سے وصول کرنا ہوتا ہے۔


اس کے برعکس پالیسی کا دباؤ اُن نجی سولر سرمایہ کاروں پر منتقل کیا گیا جو اپنی سرمایہ کاری سے کم لاگت بجلی پیدا کر رہے تھے، گرڈ پر بوجھ اور درآمدی ایندھن کی طلب کم کر رہے تھے۔ معاشی اعتبار سے زیادہ مناسب راستہ یہ تھا کہ ریاست اس ابھرتے ہوئے Distributed Generation ماڈل کو محدود کرنے کے بجائے اسے بہتر regulate کرتی، زیادہ facilitate کرتی اور اس کے لیے سازگار ماحول پیدا کرتی۔
 

0
Views
23
3

مزید زمینی حقائق

Image

ثابت کیا جاۓ کہ نیٹ میٹرنگ توانائی بحران کی اصل وجہ ہے. حکومت اعداد و شمار شائع کرے۔

پاکستان میں آج کل بجلی اور سولر کے معاملے پر جو بحث جاری ہے، اسے بہتر طور پر سمجھنے کے لیے ہمیں اسپین کے سولر بحران کا مطالعہ ایک اہم مثال فراہم کرتا ہے۔ یہ واقعہ آج بھی دنیا بھر کے پالیسی سازوں کے...


Image

مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ نیٹ میٹرنگ پالیسی میں تبدیلی پر چیئرمین نیپرا کو گرفتار کیا جائے

سینیٹر علی ظفر نے کہا کہ چیئرمین نیپرا کو سینیٹ میں طلب کیا جائے اور انہیں جیل بھیجا جائے، کیونکہ ان کے بقول وہ ایک خودمختار ریگولیٹر کے طور پر کام کرنے کے بجائے حکومتی ہدایات کے تحت فیصلے کر رہے ہ...


Image

اسلام آباد میں 80 ہزار سے زائد درختوں کی کٹائی کا معاملہ:

اسلام آباد میں پولن الرجی کے مسئلے کے خاتمے کے لیے اس وقت پیپر ملبری( جنگلی شہتوت) کے درختوں کی کٹائی ہر ایک بڑی اور متنازع مہم جاری ہے۔ اور عدالتی اور عوامی سطح پر بحث کا باعث بنی ہوئی ہے، کیونک...


Image

پائپ لائن گیس یا سلنڈر گیس؟

▫️ ہم ایک مضبوط پائپ لائن نیٹ ورک سے غیر محفوظ سلنڈر کلچر کی طرف کیوں جا رہے ہیں؟ ▫️ دنیا کے بیشتر ترقی یافتہ ممالک میں رہائشی گھروں کے اندر گیس سلنڈر رکھنا سخت ضابطوں کے تحت محدود یا عملاً ممنوع ...


Image

پنجاب میں شہروں کی زوننگ تبدیل کر کے دولت بنانے کا نیا کھیل: کس کو فائدہ، کس کو نقصان؟

ریذیڈنشل علاقوں کو کمرشل میں بدلنے کا کاروبار کون فیصلے کر رہا ہے؟ کون فائدہ اٹھا رہا ہے؟ اس کا شہر پر، ٹریفک پر، اور عام شہری پر کیا اثر ہو رہا ہے ایک رہائشی علاقے میں سرکاری و کمرشل دفاتر کا ق...


مصنف کے سب سے زیادہ پڑھے جانے والے آرٹیکلز

Article Image

سمجھدار قیادت گالی کا جواب کبھی طاقت یا سختی سے نہیں، عقلمندی سے دیتی ہے۔

لاہوری چاچا، ایک شخص نہیں، ایک استعارہ بن گیا ہے، ایک ایسا آئینہ جس میں بہت سے من چلے اور مایوس افراد اپنا چہرہ دیکھ رہے ہیں۔


Article Image

دریا کی زمین ۔ پہلی قسط

لاہور میں دریا کی زمین (River Bed) پر ہاؤسنگ اسکیمیں بنانے کا انکشاف ▫️پارک ویو سوسائٹی اور Ruda (راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی) کی منظور شدہ سوسائیٹیز کا مستقبل کیا ہے؟


Article Image

کیا قربانی جانوروں کی نسل کو خطرے میں ڈال رہی ہے یا ان کی افزائش میں مدد دیتی ہے؟

پاکستان میں ہر سال عید الاضحیٰ کے موقع پر لاکھوں جانور قربان کیے جاتے ہیں۔ سال 2024 میں، پاکستان ٹینرز ایسوسی ایشن کے مطابق تقریباً 68 لاکھ (6.8 ملین) جانور قربان کیے گئے، جن کی تفصیل درج ذیل ہے: