مطالعہ کا دورانیہ: ⏱ 9 منٹ
کل مطالعے کا دورانیہ: 7 منٹ 37 سیکنڈ (اب تک 46 قارئین نے یہ اردو مضمون پڑھا ہے)
ثابت کیا جاۓ کہ نیٹ میٹرنگ توانائی بحران کی اصل وجہ ہے. حکومت اعداد و شمار شائع کرے۔
پاکستان میں آج کل بجلی اور سولر کے معاملے پر جو بحث جاری ہے، اسے بہتر طور پر سمجھنے کے لیے ہمیں اسپین کے سولر بحران کا مطالعہ ایک اہم مثال فراہم کرتا ہے۔ یہ واقعہ آج بھی دنیا بھر کے پالیسی سازوں کے لیے ایک Cautionary Tale سمجھا جاتا ہے۔
2005 سے 2008 کے درمیان اسپین بجلی کی پیداوار میں تو خود کفیل تھا، لیکن گیس اور تیل کے لیے الجزائر، قطر اور نائجیریا پر انحصار کرتا تھا۔ اسی بیرونی انحصار کو کم کرنے اور توانائی میں خود مختاری حاصل کرنے کے لیے حکومت نے شمسی توانائی کو بڑے پیمانے پر سرکاری سرپرستی دینے کا فیصلہ کیا۔
اسی مقصد کے تحت سن 2007 میں اسپین کی حکومت نے ایک قانون جاری کیا جسے Royal Decree 2007 کہا جاتا ہے۔ اس کے ذریعے سولر توانائی کو سرکاری سرپرستی دی گئی اور “فیڈ اِن ٹیرف” (Feed in Tariff) مقرر کیا گیا، یعنی حکومت نے اعلان کیا کہ جو بھی سولر بجلی پیدا کرے گا، اس سے طے شدہ بلند قیمت پر ایک طویل مدت تک بجلی خریدی جائے گی۔ یہ قانونی ضمانت تھی جس نے عوام اور سرمایہ کاروں کو بڑی تعداد میں سولر کے شعبے کی طرف متوجہ کیا۔
اس اعلان کے بعد اسپین میں غیر معمولی ردعمل آیا۔ سرمایہ کاروں نے اسے ایک محفوظ اور منافع بخش موقع سمجھا کیونکہ حکومت خود خریدار تھی اور قیمت طے شدہ تھی۔ بینکوں نے بھی اعتماد کے ساتھ قرضے دینا شروع کیے کیونکہ کیش فلو یقینی سمجھا جا رہا تھا۔ بڑے سرمایہ کاروں، توانائی کمپنیوں اور کچھ زمین مالکان نے تیزی سے سولر منصوبے لگانے شروع کیے۔ حتیٰ کہ کچھ لوگوں نے قرض لے کر بنجر زمینوں پر سولر منصوبے قائم کیے۔ کہا جاتا ہے کہ اُس وقت دنیا بھر کے سرمایہ کاروں نے اسپین کا رخ اس لیے کیا کیونکہ حکومت جو ریٹ دے رہی تھی اُس کی وجہ سے سرمایہ کاری پر منافع، یعنی ROI، بہت زبردست بن رہا تھا۔
حکومت کی پالیسی کا نتیجہ یہ نکلا کہ سن 2008 میں اسپین تقریباً 2700 میگاواٹ شمسی بجلی حاصل کر کے دنیا میں سب سے زیادہ نئی سولر بجلی پیدا کرنے والا ملک بن گیا۔ البتہ مجموعی طور پر کل شمسی صلاحیت کے حساب سے وہ جرمنی اور جاپان کے بعد دنیا کا تیسرا بڑا ملک تھا۔ یہ اعداد و شمار اُس وقت یورپی فوٹو وولٹائک انڈسٹری ایسوسی ایشن اور انٹرنیشنل انرجی ایجنسی کی رپورٹس میں جاری کیے گئے تھے۔
لیکن اسی دوران سولر کی عالمی مارکیٹ بدل رہی تھی۔ جرمنی اور اسپین کی بلند سرکاری سپورٹ نے جب سولر کی طلب کو بڑھایا تو چین نے بڑے پیمانے پر سولر پینلز بنانا شروع کر دیے۔ پیداوار بڑھنے سے سولر پینلز کی لاگت اچانک تیزی سے کم ہونا شروع ہو گئی، اور یوں اسپین کی حکومت کے سامنے ایک نیا چیلنج آ گیا۔
مسئلہ یہ تھا کہ اسپین نے جو خریداری نرخ طویل مدت کے لیے مقرر کیے تھے وہ اُس وقت کی مہنگی ٹیکنالوجی کے مطابق تھے، مگر جب عالمی قیمتیں گر گئیں تو حکومت وہی پرانے بلند نرخ پر بجلی خریدتی رہی۔ یوں سولر لگانا سستا ہو گیا مگر حکومت کی ادائیگی مہنگے ریٹ پر جاری رہی۔
سولر میں سرمایہ کاری توقع سے زیادہ رفتار سے بڑھی، جبکہ حکومت اب ہر کسی سے بجلی نہیں خرید سکتی تھی۔ ملک کو جتنی بجلی کی ضرورت تھی، بجلی اس سے کہیں زیادہ پیدا ہو رہی تھی، اور یہیں سے اسپین ایک بڑے مالیاتی بحران کا شکار ہو گیا۔
ایک طرف سولر ٹیکنالوجی تیزی سے سستی ہو رہی تھی، تنصیب کے اخراجات کم ہو رہے تھے، اور نجی سرمایہ کار بڑے پیمانے پر اس شعبے میں آ رہے تھے۔ دوسری طرف حکومت نے طویل مدتی معاہدوں کے تحت بتیس سے پینتالیس سینٹ فی کلو واٹ گھنٹہ تک کے نرخ پر بجلی خریدنے کی گارنٹی دے رکھی تھی، اور عام صارفین کو بجلی تقریباً سات سے دس سینٹ فی کلو واٹ گھنٹہ کے درمیان فراہم کی جا رہی تھی۔ یعنی حکومت مہنگا خرید رہی تھی اور نسبتاً سستا بیچ رہی تھی۔ اس فرق کو پورا کرنے کے لیے یا تو سبسڈی دینا پڑتی تھی یا توانائی کے شعبے میں خسارہ بڑھتا تھا۔
نتیجہ یہی نکلا کہ خسارہ بڑھتے بڑھتے تقریباً اٹھائیس سے تیس ارب یورو تک جا پہنچا۔ یہی جمع شدہ فرق بعد میں ٹیرف ڈیفیسٹ (Tariff Deficit) کہلایا، اور پھر اسی ڈیفیسٹ کو بنیاد بنا کر حکومت نے پالیسی میں Retrospective Changes کیں۔ (Retrospective یعنی ایسا اقدام یا قانون جو ماضی پر لاگو کیا جائے، یعنی جو فیصلے پہلے ہو چکے ہوں ان پر بعد میں نئی شرائط لاگو کر دی جائیں)۔
ان تبدیلیوں کے تحت سبسڈی اسکیموں میں کٹوتی کی گئی اور بعض پرانے معاہدوں کی شرائط میں بھی ردوبدل کیا گیا۔ اس اقدام نے عوام اور سرمایہ کاروں کے اعتماد کو شدید دھچکا پہنچایا۔ متعدد کمپنیوں کو بھاری مالی نقصان اٹھانا پڑا، کئی منصوبے متاثر ہوئے، اور بین الاقوامی سطح پر قانونی تنازعات سامنے آئے۔
سرمایہ کاروں کا مؤقف تھا کہ ریاست نے طویل مدتی گارنٹی دی تھی جس کی بنیاد پر سرمایہ کاری کی گئی، لیکن بعد ازاں انہی شرائط کو تبدیل کر دیا گیا۔ نتیجتاً پالیسی استحکام پر سوالات اٹھے اور توانائی کے شعبے میں عدم اعتماد کی فضا پیدا ہوئی۔
پاکستان کے موجودہ حالات میں بھی اصل سوال یہی ہے کہ کیا خریداری اور فروخت کے نرخوں کے درمیان فرق کو طویل مدت تک برداشت کیا جا سکتا ہے؟ اور اگر نہیں، تو اس فرق کی منصفانہ تقسیم کیسے ہو؟
حکومت کا موقف یہ ہے کہ نیٹ میٹرنگ کے موجودہ نظام کی وجہ سے پاور سیکٹر پر مالی دباؤ بڑھ رہا تھا کیونکہ سولر صارفین سے بلند نرخ پر بجلی خریدی جا رہی تھی جبکہ گرڈ کے بنیادی اخراجات بدستور برقرار تھے، اور تقسیم کار کمپنیوں، یعنی ڈسکوز، کو اربوں روپے سالانہ نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔ اسی لیے نئے قواعد کے تحت خریداری نرخ میں نمایاں کمی کی گئی ہے۔
لیکن یہاں سوال یہ ہے کہ خسارہ کون سا؟
اسپین میں تو واضح طور پر ٹیرف ڈیفیسٹ موجود تھا، یعنی حکومت نے باقاعدہ حساب کتاب کے بعد یہ تسلیم کیا کہ وہ بجلی مہنگی خرید رہی ہے اور سستی بیچ رہی ہے، اور اس فرق کو توانائی کے شعبے کے قرض کی صورت میں ظاہر بھی کیا گیا۔
پاکستان کے معاملے میں حکومت کا مؤقف یہ ہے کہ نیٹ میٹرنگ کے تحت خریدی جانے والی بجلی اور گرڈ کے بنیادی اخراجات کے درمیان فرق پیدا ہو رہا ہے، جس سے پاور سیکٹر کے مالی توازن پر دباؤ پڑ رہا ہے۔
تاہم سوال یہ اٹھتا ہے کہ کیا اس فرق کو اسپین کی طرح کسی واضح اور علیحدہ ٹیرف ڈیفیسٹ کے طور پر پیش کیا گیا ہے؟
کیا اس کا مکمل اور شفاف مالی تخمینہ عوام کے سامنے رکھا گیا ہے؟
اگر خسارہ ہے تو وہ کہاں، کس کھاتے میں، اور کتنی مقدار میں موجود ہے؟ اور کیا وہ براہ راست نیٹ میٹرنگ سے پیدا ہو رہا ہے؟
اگر حکومت خسارے کی بات کرتی ہے تو سب سے پہلے یہ واضح ہونا چاہیے کہ وہ خسارہ کہاں درج ہے اور کس کھاتے میں موجود ہے۔ کیا نیٹ میٹرنگ سے پیدا ہونے والا فرق واقعی اتنا بڑا ہے یا اسے مجموعی پاور سیکٹر کے گردشی قرضے (Circular Debt)، کیپسٹی پیمنٹس (Capacity Payments) اور لائن لاسز (Line Losses) کے ساتھ ملا کر پیش کیا جا رہا ہے؟
عام اور مالی طور پر آسودہ شہری بھی آج بھاری بلوں کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں، گھروں اور دفاتر کے بل لاکھوں میں جا رہے ہیں۔ ایسے میں جب مزید خسارے کی بات کی جاتی ہے تو عوام فطری طور پر سوال اٹھاتے ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ انکم ہیڈز (Income Heads) اور ایکسپینس ہیڈز (Expense Heads) کی مکمل اور شفاف تفصیل عوام کے سامنے رکھی جائے تاکہ معلوم ہو کہ اصل مسئلہ کہاں ہے۔ واضح مالیاتی بریک ڈاؤن کے بغیر خسارے کا دعویٰ عوامی اعتماد بحال نہیں کر سکتا۔
پہلے حکومت اعداد و شمار کے ساتھ ثابت کرے کہ نیٹ میٹرنگ توانائی کے بحران کی بنیادی وجہ ہے۔ اگر واقعی ایسا ہے تو وہ تفصیلی ڈیٹا، سبسڈی کا بوجھ، کیپسٹی پیمنٹس، گرڈ اخراجات اور مالی خسارے کی مکمل تصویر عوام کے سامنے رکھے۔
اس کے بعد پبلک فورم، ماہرینِ توانائی، آڈیٹرز اور شہری نمائندے انہی سرکاری اعداد و شمار کی بنیاد پر تجزیہ کریں گے کہ بحران کی اصل وجہ کیا ہے۔ کیا مسئلہ واقعی نیٹ میٹرنگ ہے، یا پھر پالیسی سازی کی کمزوریاں، طویل المدتی معاہدوں کی شرائط، کیپسٹی پیمنٹس، لائن لاسز اور انتظامی بدعنوانی اس بحران کی جڑ ہیں۔
توانائی جیسے حساس شعبے میں فیصلے جذبات یا الزام تراشی سے نہیں بلکہ شفاف ڈیٹا، کھلی بحث اور ادارہ جاتی احتساب سے ہونے چاہئیں۔ اگر حکومت کا مؤقف درست ہے تو وہ اعداد و شمار سے ثابت ہوگا۔ اگر نہیں، تو سسٹم کے اندر موجود ساختی خرابیوں اور بدانتظامی کو تسلیم کرنا ہوگا
نیٹ میٹرنگ کو بحران کی بنیادی وجہ قرار دینے سے پہلے حکومت کو شفاف اور قابلِ تصدیق اعداد و شمار جاری کرنے چاہئیں۔ اگر واقعی کوئی ٹیرف ڈیفیسٹ یا مالی دباؤ موجود ہے تو اس کا مکمل بریک ڈاؤن عوام کے سامنے آنا چاہیے۔ بصورتِ دیگر صرف ایک طبقے کو ذمہ دار ٹھہرانا مسئلے کا حل نہیں بلکہ اصل ساختی خرابیوں سے توجہ ہٹانا ہے۔
بہت اہم اور بروقت تحریر۔ اگر نیٹ میٹرنگ واقعی بحران کی وجہ ہے تو حکومت واضح اور شفاف اعداد و شمار کے ساتھ ثابت کرے ورنہ اصل مسئلہ کہیں اور تلاش کرنا ہوگا۔
Thanks for sharing this.