مطالعہ کا دورانیہ: ⏱ 7 منٹ
کل مطالعے کا دورانیہ: 3 منٹ 18 سیکنڈ (اب تک 15 قارئین نے یہ اردو مضمون پڑھا ہے)
مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ نیٹ میٹرنگ پالیسی میں تبدیلی پر چیئرمین نیپرا کو گرفتار کیا جائے
سینیٹر علی ظفر نے کہا کہ چیئرمین نیپرا کو سینیٹ میں طلب کیا جائے اور انہیں جیل بھیجا جائے، کیونکہ ان کے بقول وہ ایک خودمختار ریگولیٹر کے طور پر کام کرنے کے بجائے حکومتی ہدایات کے تحت فیصلے کر رہے ہیں لیکن کسی ایک افسر کی قید (Jail) سے کیا یہ مسئلہ حل ہو جائے گا؟ نیٹ میٹرنگ کے معاملے کو جذبات کے بجائے سادہ منطق سے سمجھنا ضروری ہے۔
فرض کریں ایک محلہ ہے جہاں سب لوگ مل کر ایک پانی کا ٹینک لگاتے ہیں۔ اس ٹینک کو چلانے، پائپ لائن درست رکھنے اور موٹر کی مرمت اور maintenance کے لیے ہر گھر ماہانہ برابر رقم دیتا ہے۔ اب کچھ گھر اپنی ذاتی بورنگ کروا لیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہمیں اب محلے کے ٹینک کا پانی نہیں چاہیے، اس لیے ہم ادائیگی بھی بند کر دیں گے۔ لیکن پائپ سسٹم اپنی جگہ موجود ہے، ٹینک چل رہا ہے اور مرمت کا خرچ بھی جاری ہے۔ اگر وہ گھر مکمل ادائیگی بند کر دیں تو باقی گھروں پر خرچ بڑھ جائے گا اور انہیں نظام چلانے کے لیے زیادہ بل دینا پڑے گا۔
بالکل یہی صورتحال نیٹ میٹرنگ میں بنی۔ جو لوگ سولر لگا لیتے ہیں وہ دن میں اپنی بجلی خود پیدا کرتے ہیں، مگر رات کو گرڈ سے بجلی لیتے ہیں، خرابی یا بادل آنے کی صورت میں گرڈ پر انحصار کرتے ہیں اور پورا نظام ہر وقت ان کے لیے دستیاب رہتا ہے۔ اگر وہ گرڈ کے بنیادی اخراجات میں متناسب حصہ ادا نہیں کریں گے تو اس کا بوجھ دوسرے صارفین پر منتقل ہوتا ہے۔
اسی لیے عالمی ادارے جیسے انٹرنیشنل انرجی ایجنسی (IEA)، انٹرنیشنل رینیوایبل انرجی ایجنسی (IRENA) اور ورلڈ بینک بارہا یہ مؤقف دیتے رہے ہیں کہ پاکستان میں لوگ سولر ضرور لگائیں، لیکن گرڈ کے بنیادی اخراجات کسی نہ کسی شکل میں سولر صارفین سے بھی وصول کیے جائیں تاکہ گرڈ کا نظام مالی طور پر متوازن رہے ورنہ آگے چل کر حکومت اور صارفین دونوں کو اس کا نقصان پہنچے گا۔ چنانچہ وہی ہوا اور اب نیٹ میٹرنگ کی بجاۓ نیٹ بلنگ کا ماڈل سامنے لایا گیا ہے۔
ہماری رائے یہ ہے کہ سینیٹر علی ظفر کو سینیٹ میں نیپرا چیئرمین کی گرفتاری کے مطالبے کے بجائے یہ سوال کرنا چاہیے تھا کہ عالمی اداروں کی جو سفارشات حکومتِ پاکستان اور وزارتِ توانائی کو پالیسی رپورٹس اور فنانسنگ پروگراموں کے ذریعے موصول ہوتی رہی ہیں، اس کے بعد کیا حکومت نے باقاعدہ پالیسی فریم ورک تیار کیا؟ اور کیا نیپرا نے اسی فریم ورک کے اندر رہ کر ریگولیٹری فیصلے کیے؟
اگر پاکستان میں سنجیدہ اور پڑھے لکھے افراد، پالیسی فورمز، تھنک ٹینکس، یونیورسٹی ریسرچ گروپس، صحافتی تحقیقاتی پلیٹ فارمز، صنعتی اور کاروباری تنظیمیں، اور توانائی کے پالیسی ماہرین صرف تین بنیادی سوال حکومت کے سامنے رکھ دیں تو نہ صرف نیٹ میٹرنگ بلکہ پاکستان میں مجموعی توانائی کا بحران بھی قابلِ اصلاح ہو جائے گا۔
سوال نمبر 1:
کیا نیٹ میٹرنگ پالیسی بناتے وقت گرڈ کے فکسڈ اخراجات، یعنی ٹرانسمیشن، ڈسٹری بیوشن اور سسٹم کی دستیابی کی مستقل لاگت کی منصفانہ تقسیم کے لیے کوئی واضح اور پائیدار ماڈل تیار کیا گیا تھا؟ اگر سولر صارف گرڈ سے بیک اپ، بیلنسنگ اور نیٹ ورک کی سہولت مسلسل حاصل کرتا ہے تو اسے ان بنیادی اخراجات سے مکمل یا جزوی طور پر مستثنیٰ کیوں رکھا گیا؟ کیا پالیسی کے آغاز میں ہی یہ واضح نہیں کیا جانا چاہیے تھا کہ سولر صارف انرجی چارج میں کمی ضرور حاصل کرے گا، لیکن گرڈ کی دستیابی اور کیپیسٹی کے اخراجات میں اس کا متناسب حصہ برقرار رہے تاکہ نان سولر صارفین پر اضافی بوجھ منتقل نہ ہو؟
سوال نمبر 2:
کیا موجودہ ٹیرف اسٹرکچر، جسے کراس سبسڈی (Cross Subsidy) کہا جاتا ہے اور جس میں 100 یونٹ استعمال کرنے والے کو کم اور 1000 یونٹ استعمال کرنے والے سے زیادہ ریٹ لیا جاتا ہے، واقعی لاگت کی بنیاد پر ہے یا قیمتوں کو مصنوعی طور پر بگاڑ رہا ہے؟ کیا ایسا سادہ اور شفاف نظام نہیں بنایا جا سکتا جس میں سب صارفین اصل لاگت کے مطابق ادائیگی کریں اور اگر کسی طبقے کو ریلیف دینا ہو تو وہ براہِ راست سرکاری بجٹ سے دیا جائے، نہ کہ دوسرے صارف کے بل کے ذریعے؟
سوال نمبر 3:
لائن لاسز (Line Losses) کے نام پر جو رقم عام صارفین کے بلوں میں شامل کی جاتی ہے، کیا وہ واقعی صرف تکنیکی نقصان ہے یا اس میں بجلی چوری اور انتظامی بدعنوانی بھی شامل ہے؟ اگر نقصان ادارے کے اندر کی نااہلی یا کرپشن سے ہو رہا ہے تو اس کا بوجھ صارف کیوں اٹھائے، متعلقہ تقسیم کار کمپنی اور ذمہ دار افسران کیوں نہیں؟
نیٹ میٹرنگ کا مسئلہ سینیٹ یا اسمبلیوں میں جذباتی نعروں سے حل نہیں ہوگا۔ اگر ان تین سوالوں کے واضح، تحریری اور شفاف جواب سامنے آ جائیں تو نیٹ میٹرنگ کا تنازع بھی منطقی بنیاد پر حل ہو سکتا ہے اور توانائی کا پورا نظام زیادہ متوازن بنایا جا سکتا ہے۔
حکومت کا نیا اقدام، یعنی نیٹ میٹرنگ سے نیٹ بلنگ کی طرف جانا، گرڈ کے ریونیو میں وقتی توازن تو لا سکتا ہے، مگر اصل مسئلہ اس سے حل نہیں ہوگا۔ جب تک گرڈ کے فکسڈ اخراجات کی منصفانہ تقسیم کا واضح ماڈل نہیں بنتا، کراس سبسڈی کا پیچیدہ نظام سادہ اور شفاف نہیں ہوتا، اور بجلی چوری کو لائن لاسز کہہ کر انتظامی کمزوریوں کا بوجھ عوام کے بلوں پر ڈالا جاتا رہے گا، تب تک صرف پالیسی کا نام بدلنے سے توانائی کا بحران ختم نہیں ہوگا۔ مسئلہ نیٹ میٹرنگ نہیں، پورے نظام کے ڈیزائن اور گورننس کا ہے۔
پڑھنے والوں کی مزید معلومات کے لیے میں یہ بھی بتاتا چلوں کہ
پہلے پاکستان میں بجلی کا نظام زیادہ تر ایک ہی ادارے یعنی واپڈا کے پاس تھا۔ وہی بجلی بناتا تھا، وہی اسے بڑے گرڈ کے ذریعے آگے پہنچاتا تھا اور وہی صارفین تک تقسیم بھی کرتا تھا۔
اب پاکستان میں بجلی کا نظام ان بنڈل (Unbundling) ماڈل پر چلتا ہے، یعنی ایک ہی شعبے کے مختلف کام الگ الگ پانچ ادارے انجام دے رہے ہیں۔
1۔ بجلی کی پیداوار مختلف کمپنیوں کے ذریعے ہوتی ہے، جیسے واپڈا (جو اب صرف پن بجلی منصوبوں (Hydel) تک محدود ہے)، سرکاری جنریشن کمپنیاں (GENCOs) اور نجی بجلی گھر (IPPs)
2۔ بجلی کی ترسیل نیشنل گرڈ کے ذریعے نیشنل ٹرانسمیشن اینڈ ڈسپیچ کمپنی (NTDC) کرتی ہے۔
3۔ بجلی کی خرید و فروخت اور مالی تصفیے کا کام سنٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (CPPA-G) کرتی ہے۔
4۔ بجلی کی تقسیم اب تقسیم کار کمپنیاں یعنی ڈسٹری بیوشن کمپنیاں (DISCOs) صارفین تک بجلی پہنچاتی ہیں اور بل وصول کرتی ہیں۔
5۔ بجلی کے نرخ اور قواعد کی نگرانی نیپرا (National Electric Power Regulatory Authority) کرتی ہے۔
یہ تمام ادارے پالیسی کے لحاظ سے وزارتِ توانائی کے ماتحت کام کرتے ہیں۔