مطالعہ کا دورانیہ: ⏱ 6 منٹ
اتنا پیسہ کما کر نقصان کیسے ہو سکتا ہے ؟؟
لاہور موٹر وے انٹرچینج جیسے بڑے گیٹ پر روزانہ ٹریفک کا حجم خاصا زیادہ ہوتا ہے، اس لیے یہاں ٹول کی وصولی بھی کروڑوں روپے میں ہو سکتی ہے۔ اگر اوسطاً چالیس سے پچاس ہزار گاڑیاں روزانہ گزرتی ہوں اور فی گاڑی اوسط ٹول پانچ سو سے سات سو روپے کے درمیان ہو تو یومیہ آمدن دو سے تین کروڑ روپے یا اس سے بھی زیادہ بن سکتی ہے۔
اگر ہم محتاط اندازہ لیں کہ صرف لاہور موٹر وے انٹرچینج پر اوسطاً روزانہ تقریباً ڈھائی سے تین کروڑ روپے ٹول جمع ہو رہا ہے تو ایک ماہ میں یہ رقم تقریباً پچھتر کروڑ سے نوے کروڑ روپے تک بن سکتی ہے۔ اگر یومیہ آمدن ساڑھے تین کروڑ روپے کے قریب ہو تو ماہانہ وصولی ایک ارب روپے سے بھی تجاوز کر سکتی ہے۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کے ایک اجلاس میں NHA (نیشنل ہائی وے اتھارٹی) نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا تھا کہ اس کے کل 211 ٹول پلازہ آپریشنل ہیں، جن میں 100 نیشنل ہائی ویز پر اور 111 موٹر ویز پر ہیں۔ تاہم حتمی عدد کی تصدیق سرکاری ریکارڈ سے ہی ممکن ہے۔
اس پر میرے ذہن میں یہ خیال آیا کہ اپنے قارئین کے سامنے ایک فرضی تجزیہ پیش کیا جائے، جو محض ذہنی مشق Brainstorming اور ابتدائی مفروضے یعنی Working Hypothesis کے طور پر ترتیب دیا جائے۔
اس کا مقصد کوئی حتمی دعویٰ کرنا نہیں بلکہ دستیاب معلومات کی بنیاد پر ایک معقول فریم ورک قائم کرنا ہے، تاکہ بعد ازاں پبلک فورمز جیسے نیشنل اسمبلی، سینیٹ یا بڑے تھنک ٹینکس مستند ڈیٹا، آڈٹ اور سرکاری رپورٹس کی روشنی میں اس پر مزید تحقیق اور جانچ کر سکیں۔
این ایچ اے NHA کے آپریشنل ٹول پلازہ کی تعداد تقریباً 211 بتائی گئی ہے۔ ممکن ہے اصل عدد میں چند کا فرق ہو، تاہم برین اسٹارمنگ کے لیے ہم اسی عدد کو بنیاد بنا کر ایک فرضی تخمینہ تیار کرتے ہیں تاکہ مجموعی مالی تصویر کو سمجھا جا سکے۔
اس مقصد کے لیے میں نے ٹول پلازوں کو تین درجوں میں تقسیم کیا ہے۔
پہلا درجہ میگا سٹی اور بڑے گیٹ، جیسے لاہور، کراچی، اسلام آباد، راولپنڈی اور چند انتہائی مصروف انٹرچینج، جہاں ٹریفک کا حجم مستقل طور پر زیادہ رہتا ہے اور ریونیو نسبتاً مستحکم ہوتا ہے۔
دوسرا درجہ بڑے صنعتی اور کمرشل کوریڈور، مثلاً فیصل آباد، گوجرانوالہ، سیالکوٹ، ملتان، پشاور، حیدرآباد، سکھر اور کوئٹہ کے قریب یا ان کے مرکزی روٹس پر واقع پلازہ، جہاں مسافر اور مال بردار ٹریفک دونوں شامل ہوتی ہے۔
تیسرا درجہ باقی تمام کم ٹریفک والے یا رورل کوریڈور کے ٹول پلازہ، جہاں آمدن نسبتاً کم مگر مسلسل ہوتی ہے۔
اس درجہ بندی کا مقصد بڑے شہروں کی کم از کم یقینی آمدن کو الگ کر کے باقی پلازوں کے لیے محتاط اوسط مقرر کرنا ہے، تاکہ ایک متوازن اور حقیقت پسندانہ مجموعی تخمینہ سامنے آ سکے۔
یہ طریقہ بڑے تھنک ٹینکس عالمی سطح پر ابتدائی مالیاتی ماڈلنگ میں اختیار کرتے ہیں، جہاں پہلے ایک منطقی خاکہ بنایا جاتا ہے اور بعد میں مستند ڈیٹا سے اس کی تصدیق کی جاتی ہے۔
اب اگر ہم ایک انتہائی محتاط مفروضہ یہ رکھ لیں کہ پہلی کیٹگری کے 15 ٹول پلازہ اوسطاً 2 کروڑ روپے روزانہ دیں تو یہ 30 کروڑ روپے روزانہ بنتے ہیں۔
دوسری کیٹگری کے 40 ٹول پلازہ اگر اوسطاً 60 لاکھ روپے روزانہ دیں تو یہ 24 کروڑ روپے روزانہ بنتے ہیں۔
اور تیسری کیٹگری کے باقی 156 ٹول پلازہ اگر اوسطاً 15 لاکھ روپے روزانہ دیں تو یہ 23 کروڑ 40 لاکھ روپے روزانہ بنتے ہیں۔
اس طرح مجموعی طور پر اس محکمے کو تقریباً 77 کروڑ 40 لاکھ روپے روزانہ حاصل ہو سکتے ہیں۔
اگر اسے مزید محتاط بنایا جائے اور پہلے درجے کو 1 کروڑ 50 لاکھ، دوسرے درجے کو 50 لاکھ اور تیسرے درجے کو 10 لاکھ کر دیا جائے تو مجموعہ تقریباً 57 کروڑ روپے روزانہ کے قریب آتا ہے۔
اگر نسبتاً زیادہ حقیقت پسندانہ مفروضہ لیا جائے اور پہلی کیٹگری 2 کروڑ 50 لاکھ، دوسری 70 لاکھ اور تیسری 20 لاکھ رکھی جائے تو مجموعہ تقریباً 93 کروڑ روپے روزانہ تک جا سکتا ہے۔
یعنی اس ماڈل کے مطابق پورے پاکستان میں NHA کے 211 ٹول پلازہ سے روزانہ ٹول وصولی کی ایک محتاط رینج تقریباً 57 کروڑ سے 93 کروڑ روپے کے درمیان بنتی ہے، جبکہ درمیانی اندازہ تقریباً 77 کروڑ 40 لاکھ روپے روزانہ بنتا ہے۔
اگر اسی 77 کروڑ 40 لاکھ روپے روزانہ کے اندازے کو سالانہ بنیاد پر دیکھا جائے تو یہ رقم 365 دنوں میں تقریباً 28,251 کروڑ روپے بنتی ہے، جو تقریباً 282 ارب 51 کروڑ روپے سالانہ کے برابر ہے۔
سادہ الفاظ میں، اس مفروضی حساب کے مطابق این ایچ اے NHA کو صرف گاڑیوں کے ٹول کی مد میں ہر سال تقریباً اٹھائیس ہزار دو سو اکاون کروڑ روپے، یعنی 282 ارب 51 کروڑ روپے سالانہ کی آمدن حاصل ہونی چاہیے۔
لیکن 13 فروری 2026 کو پاکستان کی وزارت خزانہ کی جانب سے جاری کردہ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق NHA یعنی نیشنل ہائی وے اتھارٹی کو سرکاری اداروں State Owned Enterprises میں سب سے زیادہ خسارے اور قرض کے بوجھ تلے دبا ہوا محکمہ قرار دیا گیا۔
وزارتِ خزانہ کی سالانہ State Owned Enterprises SOEs رپورٹ کے مطابق مالی سال 2024 تا 2025 میں نیشنل ہائی وے اتھارٹی NHA کو سب سے زیادہ نقصان ہوا، جو تقریباً 295 ارب روپے تک پہنچ گیا۔
ہمارے محتاط فرضی تخمینے کے مطابق صرف ٹول کی سالانہ آمدن تقریباً 28,251 کروڑ روپے، یعنی قریب 282 ارب روپے بنتی ہے، جبکہ وزارت خزانہ کی State Owned Enterprises رپورٹ مالی سال 2024 تا 2025 میں این ایچ اے NHA کا خسارہ تقریباً 295 ارب روپے بتاتی ہے۔
اصل سوال انہی دو اعداد کے درمیان موجود فرق کا ہے۔
واللہ اعلم بالصواب (اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ درست بات کیا ہے)