Home
پبلشنگ کی تاریخ: 18 فروری, 2026
مطالعہ کا دورانیہ: ⏱ 8 منٹ
Image

نیپرا کا اعلان: موجودہ سولر صارفین کے معاہدے اصل شرائط کے تحت مقررہ مدت تک برقرار

گورنمنٹ نے نئی سولر پالیسی پر عوام سے تجاویز طلب کر لیں۔ آپ بھی اس صفحے پر اپنی تجویز بھیج سکتے ہیں۔


پاکستان کے تمام ٹی وی چینلز پر نیپرا (NEPRA)، یعنی نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی، کی جانب سے باقاعدہ بیان جاری کیا گیا ہے کہ موجودہ نیٹ میٹرنگ صارفین کے ساتھ جو معاہدے طے ہوئے تھے، وہ اپنی اصل شرائط اور مقررہ مدت تک مؤثر اور برقرار رہیں گے، اور انہیں سابقہ ریٹ اور اسی سیٹلمنٹ طریقۂ کار کے تحت ادائیگی کی جاتی رہے گی۔


اس کے ساتھ نیپرا نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ سولر ریگولیشنز 2026 کے نئے مسودے پر عوام اور اسٹیک ہولڈرز سے 30 دن کے اندر تجاویز و آراء طلب کی گئی ہیں، جن کا جائزہ لے کر حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔
میں نے اپنے تھنک ٹینک کی جانب سے ایک مختصر پالیسی بریف (Policy Brief) تیار کیا ہے، جسے میں نیپرا (NEPRA) کو ارسال کرنے کا ارادہ رکھتا ہوں۔ اگر آپ اس موضوع پر کوئی سنجیدہ اور مدلل رائے رکھتے ہیں تو ضرور ارسال کریں۔ مناسب تجاویز کو شامل کر کے مؤقف کو مزید جامع بنایا جا سکتا ہے۔


نیپرا کو ارسال کیے جانے کے لیے تیار کردہ میرا مجوزہ مراسلہ حسبِ ذیل پیش ہے:
برائے
چیئرمین
نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (NEPRA)
اسلام آباد
موضوع
سولر ریگولیشنز 2026 کے مجوزہ مسودے پر اصولی مؤقف اور پالیسی تجاویز
محترم جناب،
نیپرا کی جانب سے موجودہ سولر صارفین کے معاہدوں کے تحفظ کی یقین دہانی کا ہم خیر مقدم کرتے ہیں۔ تاہم 2026 کے مجوزہ سولر پالیسی مسودے کے حوالے سے ہمارا تھنک ٹینک درج ذیل تکنیکی اور معاشی نکات پر اپنا مؤقف اور سفارشات پیش کرتا ہے:


⭕️ 1- پالیسی تبدیلی کا اثر بینکوں اور قرض لینے والوں پر

مؤقف

کسی بھی پالیسی میں تبدیلی کرتے وقت Policy Consistency یعنی تسلسل بہت اہم ہوتا ہے۔
نیٹ میٹرنگ سے نیٹ بلنگ کی اچانک تبدیلی صرف سولر لگانے والوں کا مسئلہ نہیں رہے گی، اس کا اثر بینکوں پر بھی پڑ سکتا ہے۔


گزشتہ چند سالوں میں بہت سے لوگوں نے بینک سے قرض لے کر یا اقساط پر سولر سسٹم لگائے ہیں۔ اُنہوں نے یہ حساب لگا کر سرمایہ کاری کی تھی کہ مخصوص شرح پر انہیں کتنی رقم واپس ملتی رہے گی۔


اگر اچانک برآمدی ریٹ کم کر دیا گیا تو اُن کی واپسی کی مدت بڑھ جائے گی، قسطوں کا دباؤ بڑھے گا، اور کچھ کیسز میں قرض کی ادائیگی مشکل بھی ہو سکتی ہے۔ اس سے بینکوں کے جاری اور زیرِ عمل فنانسنگ کیسز متاثر ہوں گے اور مالی نظام میں غیر ضروری بے یقینی پیدا ہو سکتی ہے۔


مثال
فرض کریں کسی صارف نے 15 لاکھ روپے کے سولر سسٹم کے لیے بینک سے 5 سے 7 سال کی مدت کا قرض لیا ہے، اور ماہانہ قسط کا حساب موجودہ نیٹ میٹرنگ ریٹرن پر مبنی ہے۔ اگر پے بیک پیریڈ دوگنا ہو جائے تو کیش فلو اسٹرکچر متاثر ہوگا، ڈیفالٹ رسک بڑھ سکتا ہے، اور بینک مستقبل میں اس شعبے کو ہائی رسک کیٹیگری میں ڈال سکتے ہیں۔ اس سے نہ صرف نئی فنانسنگ سست ہوگی بلکہ موجودہ پورٹ فولیو بھی دباؤ میں آ سکتا ہے۔


تجویز
کسی بھی پالیسی تبدیلی سے قبل نیپرا اور اسٹیٹ بینک کے اشتراک سے ایک تجزیہ جاری کیا جائے، جس میں درج ہو:
پاکستان میں سولر فنانسنگ کا مجموعی حجم
بینکنگ سیکٹر کا Exposure
ممکنہ ڈیفالٹ رسک کا تخمینہ


اور اگر پھر بھی تبدیلی ضروری ہو تو پہلے سے قرض لے کر لگائے گئے سسٹمز کو تحفظ دیا جائے، تاکہ عوام میں مالی عدم استحکام پیدا نہ ہو۔


⭕️ 2- نجی سولر سرمایہ کاری کو قومی منصوبہ بندی کا حصہ بنایا جائے


مؤقف
گزشتہ چند برسوں میں پاکستان میں بڑی تعداد میں سولر سسٹم درآمد اور نصب کیے گئے ہیں۔ اربوں ڈالر کی نجی سرمایہ کاری ہو چکی ہے، اور ہزاروں میگاواٹ صلاحیت گرڈ اور آف گرڈ دونوں صورتوں میں شامل ہو چکی ہے۔


یہ صرف چند گھروں میں رہنے والوں کا فیصلہ نہیں ہے، بلکہ ملک بھر میں لوگوں نے اپنی جمع پونجی لگا کر بجلی کے نظام کا بوجھ کم کرنے کی کوشش کی ہے۔ حکومت کو اس حقیقت کو تسلیم کرنا ہوگا اور اسے قومی توانائی پالیسی کا حصہ سمجھنا ہوگا۔


مثال
اگر ملک کی مجموعی بجلی طلب تقریباً تیس ہزار میگاواٹ کے قریب ہے، اور اس میں قابل ذکر حصہ نجی سولر سے آ رہا ہے، تو مستقبل کی منصوبہ بندی کرتے وقت اسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
البتہ یہ بھی درست ہے کہ سولر ہر وقت یکساں بجلی فراہم نہیں کرتا، اس لیے گرڈ کا استحکام، بیٹری اسٹوریج اور لوڈ مینجمنٹ کو ساتھ لے کر چلنا ضروری ہوگا۔


تجویز
نیپرا ایک واضح اور مستند قومی رپورٹ جاری کرے، جس میں:
ملک میں کل نصب شدہ سولر صلاحیت کی درست تصدیق کی جائے
گرڈ سے منسلک اور آف گرڈ صلاحیت کو الگ الگ دکھایا جائے
اور اس نجی سرمایہ کاری کو باقاعدہ قومی توانائی منصوبہ بندی میں شامل کیا جائے
اس سے پالیسی بھی حقیقت کے مطابق بنے گی اور سرمایہ کاروں کا اعتماد بھی برقرار رہے گا۔


⭕️ 3- گرڈ کے اخراجات کون اور کیسے ادا کرے گا، خرچ سب میں برابر کیسے تقسیم ہو


مؤقف
نیٹ میٹرنگ سے نیٹ بلنگ کی منتقلی کا ایک بنیادی جواز گرڈ اخراجات کی منصفانہ تقسیم بتایا جا رہا ہے۔ تاہم کسی بھی پالیسی تبدیلی سے قبل یہ واضح کیا جانا ضروری ہے کہ گرڈ کے مستقل اخراجات، کیپسٹی پیمنٹس، ٹرانسمیشن لاگت اور ڈسٹری بیوشن نقصانات کا حقیقی بوجھ کس سطح پر ہے۔


اگر مالی نقصان کی بنیادی وجوہات کیپسٹی پیمنٹس، لائن لاسز اور بلوں کی عدم وصولی ہیں، تو صرف نیٹ میٹرنگ صارفین کو ہدف بنانا مسئلے کا حل نہیں ہوگا۔


مثال
اگر بجلی کے نظام کا زیادہ خرچ اُن پاور پلانٹس کو دی جانے والی ادائیگیوں اور لائن لاسز کی وجہ سے ہے، تو صرف چند فیصد سولر صارفین کی قیمت کم کرنے سے مجموعی مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ اس سے نہ خسارہ ختم ہوگا اور نہ نظام متوازن ہوگا۔


الٹا یہ ہوگا کہ لوگ نئی سرمایہ کاری سے گھبرائیں گے، سولر لگانے کا رجحان کم ہوگا، اور مستقبل میں بجلی کا بوجھ دوبارہ حکومت اور صارفین دونوں پر آ جائے گا۔


تجویز
نیپرا سب سے پہلے مکمل اور صاف اعداد و شمار عوام کے سامنے رکھے۔ واضح بتایا جائے کہ:
بجلی کے نظام کا اصل مستقل خرچ کتنا ہے
سولر صارفین اس خرچ میں کتنا حصہ ڈالتے ہیں
اور کیپسٹی پیمنٹس اور لائن لاسز کا کتنا بوجھ ہے
اعداد و شمار سامنے آئیں گے تو فیصلہ بھی سمجھ میں آئے گا۔


اگر واقعی گرڈ کے خرچ کی وصولی ضروری ہے تو کوئی متوازن طریقہ نکالا جائے، مثلاً ایک مناسب مقررہ گرڈ فیس رکھی جا سکتی ہے۔ اچانک سولر کی قیمت کم کر دینا مسئلے کا حل نہیں ہے، بلکہ اس سے بے یقینی بڑھے گی۔


آخر میں ہم یہ واضح کرنا چاہتے ہیں کہ ہمارا مؤقف ایک متوازن اور شفاف پالیسی کی حمایت ہے۔ نیٹ میٹرنگ سے نیٹ بلنگ کی کسی بھی منتقلی کو اعداد و شمار، شفاف تجزیے اور مرحلہ وار حکمتِ عملی کے تحت نافذ کیا جانا چاہیے تاکہ صارفین، سرمایہ کاروں اور مالیاتی اداروں کا اعتماد برقرار رہے۔


ہم یہ بھی ضروری سمجھتے ہیں کہ حکومت اس جانب توجہ دے کہ بائی بیک ریٹ کا تعین صرف فیول کاسٹ یا Avoided Cost تک محدود نہ رکھا جائے، بلکہ ماحول کو ہونے والے فائدے اور کاربن میں کمی جیسے عوامل کو بھی مدنظر رکھا جائے۔


مزید یہ کہ پاکستان میں ہزاروں چھوٹی اور درمیانی کمپنیاں (SMEs) سولر انسٹالیشن سے وابستہ ہیں۔ پالیسی میں اچانک تبدیلی ان کمپنیوں کے دیوالیہ ہونے اور لاکھوں تکنیکی ماہرین کے بے روزگار ہونے کا سبب بن سکتی ہے۔


ہم امید کرتے ہیں کہ نیپرا عوامی مشاورت کے عمل کو سنجیدگی سے مدنظر رکھتے ہوئے ایک ایسی پالیسی ترتیب دے گی جو توانائی کے شعبے میں استحکام، شفافیت اور طویل المدتی پائیداری کو یقینی بنائے۔
ہمارا تھنک ٹینک مزید تکنیکی معاونت یا تفصیلی بریفنگ فراہم کرنے کے لیے بھی دستیاب ہے۔
والسلام

0
Views
26
4

مزید زمینی حقائق

Image

ثابت کیا جاۓ کہ نیٹ میٹرنگ توانائی بحران کی اصل وجہ ہے. حکومت اعداد و شمار شائع کرے۔

پاکستان میں آج کل بجلی اور سولر کے معاملے پر جو بحث جاری ہے، اسے بہتر طور پر سمجھنے کے لیے ہمیں اسپین کے سولر بحران کا مطالعہ ایک اہم مثال فراہم کرتا ہے۔ یہ واقعہ آج بھی دنیا بھر کے پالیسی سازوں کے...


Image

مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ نیٹ میٹرنگ پالیسی میں تبدیلی پر چیئرمین نیپرا کو گرفتار کیا جائے

سینیٹر علی ظفر نے کہا کہ چیئرمین نیپرا کو سینیٹ میں طلب کیا جائے اور انہیں جیل بھیجا جائے، کیونکہ ان کے بقول وہ ایک خودمختار ریگولیٹر کے طور پر کام کرنے کے بجائے حکومتی ہدایات کے تحت فیصلے کر رہے ہ...


Image

اسلام آباد میں 80 ہزار سے زائد درختوں کی کٹائی کا معاملہ:

اسلام آباد میں پولن الرجی کے مسئلے کے خاتمے کے لیے اس وقت پیپر ملبری( جنگلی شہتوت) کے درختوں کی کٹائی ہر ایک بڑی اور متنازع مہم جاری ہے۔ اور عدالتی اور عوامی سطح پر بحث کا باعث بنی ہوئی ہے، کیونک...


Image

پائپ لائن گیس یا سلنڈر گیس؟

▫️ ہم ایک مضبوط پائپ لائن نیٹ ورک سے غیر محفوظ سلنڈر کلچر کی طرف کیوں جا رہے ہیں؟ ▫️ دنیا کے بیشتر ترقی یافتہ ممالک میں رہائشی گھروں کے اندر گیس سلنڈر رکھنا سخت ضابطوں کے تحت محدود یا عملاً ممنوع ...


Image

پنجاب میں شہروں کی زوننگ تبدیل کر کے دولت بنانے کا نیا کھیل: کس کو فائدہ، کس کو نقصان؟

ریذیڈنشل علاقوں کو کمرشل میں بدلنے کا کاروبار کون فیصلے کر رہا ہے؟ کون فائدہ اٹھا رہا ہے؟ اس کا شہر پر، ٹریفک پر، اور عام شہری پر کیا اثر ہو رہا ہے ایک رہائشی علاقے میں سرکاری و کمرشل دفاتر کا ق...


مصنف کے سب سے زیادہ پڑھے جانے والے آرٹیکلز

Article Image

سمجھدار قیادت گالی کا جواب کبھی طاقت یا سختی سے نہیں، عقلمندی سے دیتی ہے۔

لاہوری چاچا، ایک شخص نہیں، ایک استعارہ بن گیا ہے، ایک ایسا آئینہ جس میں بہت سے من چلے اور مایوس افراد اپنا چہرہ دیکھ رہے ہیں۔


Article Image

دریا کی زمین ۔ پہلی قسط

لاہور میں دریا کی زمین (River Bed) پر ہاؤسنگ اسکیمیں بنانے کا انکشاف ▫️پارک ویو سوسائٹی اور Ruda (راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی) کی منظور شدہ سوسائیٹیز کا مستقبل کیا ہے؟


Article Image

کیا قربانی جانوروں کی نسل کو خطرے میں ڈال رہی ہے یا ان کی افزائش میں مدد دیتی ہے؟

پاکستان میں ہر سال عید الاضحیٰ کے موقع پر لاکھوں جانور قربان کیے جاتے ہیں۔ سال 2024 میں، پاکستان ٹینرز ایسوسی ایشن کے مطابق تقریباً 68 لاکھ (6.8 ملین) جانور قربان کیے گئے، جن کی تفصیل درج ذیل ہے: